بلاگ

دہشت گردی : ڈسکورس کی تحلیل

Aziz Ali Dad

اِس میں کوئی شک نہیں کہ گیارہ ستمبر کا حملہ القاعدہ کے وابستہ لوگوں کا تھا جو مسلمان تھے۔ مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کسی انسانی گروہ کی جدید دہشت گردی کو اُس کے تشخص کا جوہر بنا دیا جاتا ہے۔ اور ایسے گروہوں کی ساری تاریخ اِسی جوہر کے ذریعے بیان کیا جاتی ہے۔ یہی معاملہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہونے والے دہشت گردی کے ساتھ ہو رہا جہاں اِس کو قبل جدیدیت کے قرون وسطیٰ کے سوچ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اس فکری رویہ کو دنیا اور پاکستان کے لبرل مکتب فکر نے من و عن اپنایا ہے۔ دہشت گردی کے اِس غالب ڈسکورس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ آج دہشت گردی جن مظاہر کو ہم دیکھ رہے ہیں وہ کسی ایک نسلی، مذہبی گروہ کے ماضی کے کسی متروک نظریے سے نہیں بلکہ جدیدیت اور مابعد الجدیت کے پیدا شدہ حالات سے جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے ڈاکٹر فیصل دیوجی موجودہ دور کی دہشت گردی کے جنم کو مابعد الجدیدیت اور اس سے پیدا ہونے والے حالات میں تلاش کرتا ہے۔ فیصل دیوجی اپنی اہم اور منفرد کتاب ’جہاد کے نظارے : عسکریت پسندی، اخلاقیات اور جدیدیت‘ (Landscapes of Jihad: Militancy، Morality and Modernity) میں اس ڈسکورس کو مسترد کرتے ہیں جو القاعدہ کی سربراہی میں اُبھرنے والی اسلام پسندوں کی عالمی عسکریت پسندی کو جدیدیت سے قبل یا قرون و سطیٰ کے اسلام کے متعلق خیالات سے جوڑتے ہیں۔ دیوجی کے مطابق یہ نقطہ نظر اِس لیے غلط ہے کیونکہ یہ اُن گہری تاریخی تبدیلیوں جیسے کہ سرد جنگ کا خاتمہ اور عالمگیریت کے اثرات کو نظر انداز کر دیتا ہے جنھوں نے دنیا بھر کا سیاسی، سماجی و ثقافتی منظرنامہ بدل کر رکھ دیا ہے۔

تاریخی شواہد بھی ڈاکٹر دیوجی کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عصر حاضر کی تشدد پسندی اور دہشت گردی کی تحریکیں جدیدیت کی پیداوار ہیں۔ جدیدیت کے ابتدائی دور کی پرتشدد اور دہشت گردانہ تحریکیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے سیاسی ہی تھیں۔ ایڈمنڈ برک وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے فرانسیسی انقلاب کے نتیجے میں برپا ہونے والے ’دورِ دہشت‘ Reign of Terror) ) میں وحشت برپا کرنے والوں کے لئے ’دہشت گرد‘ (terrorist) کا لفظ استعمال کیا۔ لہٰذا یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ جدید دہشت گردی کا جنم جدیدیت ہی کی کوکھ سے ہوا ہے۔ اسی طرح ہم جدید ریاست کو تشدد سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ تشدد دراصل اس ریاست کا ایک اساسی آلہ ہے۔ جدیدیت اور جدید ریاست کا آغاز فرانسیسی انقلاب کے ساتھ ہی ہوا تھا، اور اسی کے ساتھ ہی ’عظیم دہشت‘ (Great Terror) اور خاص طور پر میکس ملین روبسپئر کے اس بیانیے کا بھی آغاز ہوا جس میں نیکی اور فضیلت کے فروغ کے لیے ’دہشت‘ کو ناگزیر قرار دیا گیا تھا۔ اِسی طرح بیسویں صدی میں پیدا ہونے والے مسلح تحریکوں مثلاً صیہونی دہشت گرد گروپس ارگُن اور لیہی، امریکی کُوکس کلان، افریکن نیشنل کارنگریس اُمکھونٹو ویسزوہوئی، آئرلینڈ میں آئی آر اے، سری لنکا کے تامل ٹائیگرز، یوروگوئے کے ٹُوپاروس، مغربی جرمنی کے ریڈ آرمی، اٹلی کے ریڈ بریگیڈ اور امریکہ کے ویدرمین سب ہی جدیدیت کے پیدا کردہ ہیں۔

ان سب حقائق کے باوجود طاقت کے بیان کردہ ڈسکورس جس میں جوہریت مرکزی نقطہ ہے نے ہمیں یہ باور کروا دیا کہ اسلامسٹ دہشت گردی کی جڑیں چودہ سو سال پرانی ہیں۔ اِس لیے اسلامزم پر پچھلے پچیس سال میں جو علم پیدا ہوا ہے اور دہشت گردی کے تدارک کے لئے جو اقدامات اُٹھائے گئے ہیں وہ جوہریت پر مبنی نقطہ نظر کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ اِس طرز فکر کی رُو سے تشتدد دین اسلام کا جوہر ہے۔ لہٰذا اِس سے پیدا ہونے والی منطقی سوچ یہ ہو گی کہ اسلام کا ہر مظہر اور مسلمانوں کا ہر عمل اِسی جوہر کی عکاسی کرے گا۔ اسی سوچ پر مبنی علم اور تجزئیات اسلام اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں۔ یہ وہ ڈسکورس ہے جس کو مشرف دور میں پاکستانی لبرل طبقے نے ایسے ہی قبول کیا جس طرح سے انیس سو اسی کی دہائی میں مذہبی جماعتوں نے افغان جہاد کے امریکی ڈسکورس کو اپنایا تھا۔ فکری سطح پر یہ نقب زنی اِس لئے کی گئی تاکہ جدید دور کے طاقت پر مبنی نظام اور لبرل ازم کی سیاسی اور معاشی بے اطمینانیوں سے جنم لینے والی جدید دہشت گردی کے پیچھے موجود پوشیدہ وجوہات اور محرکات پردہ ڈالا جا سکے۔ پاکستان میں باقاعدہ طور پر اسلام پسندوں کی عسکریت پسندی اور عوام میں مذہبی شدت پسندی کے متعلق تحقیق کے لئے مختلف اداروں، گروہوں اور افراد کو فنڈنگ کر کے باقاعدہ مضامین لکھوائے گئے تحقیقی پراجیکٹس شروع کیے گئے، کتابیں چھپوائی گئی اور کانفرنسیں منعقد کی گئیں جہاں امن اور صوفی اسلام کو اُجاگر کیا گیا۔ اِسی لیے تو مشرف دور میں چوہدری شجاعت کی سیادت میں صوفی طریق کی ترویج کے لئے The Naitonal Council for Promotion of Sufism قائم کیا گیا۔ مگر یہ ساری تحقیقات اور ادارے صرف طاقت کے تقاضوں اور خواہشات کی ہی تشفی کر پائے، مگر دہشت گردی کے معاملے اور معمے کے متعلق علم و تفہیم دینے سے قاصر رہے۔

دہشت گردی کے اس علمی کاروبار کے برخلاف دنیا میں کچھ ایسے سکالرز بھی ہیں جنھوں نے طاقت کی علمی اِملا کو مسترد کرتے ہوئے جدید مسلم پسندوں کی عسکریت پسندی اور بنیادی پرستی پر اہم علمی کام کیا۔ ان میں بوبی سید، روژینا رُوبِن اور فیصل دیوجی وغیرہ ہیں۔ ڈاکٹر دیوجی تو ایسے دعووں کو یکسر مسترد کرتا ہے جو مسلم پسندوں کی عسکریت پسندی کو اسلامی نِہِلزم کا بے معنی عمل قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر فیصل دیوجی اسلام پسندی بشمول القاعدہ کی عسکریت پسندی کی نئی اقسام اور صورتوں کے جنم کو کسی بہشت زریں میں تلاش کرنے کی بجائے موجودہ دور کی عالمی سیاست میں تلاش کرتا ہے۔ اُن کے مطابق القاعدہ جیسی تنظیموں کی عسکریت پسندی کوئی بے معنی عمل نہیں ہے بلکہ ایک پیغام ہے۔ وہ اپنی کتاب ’انسانیت کا متلاشی دہشت گرد: عسکریت پسند اسلام اور عالمی سیاست‘ (The Terroist in Search of Humanity: Militant Islam and Global Politics) میں دعویٰ کرتے ہیں کہ عالمی سماج کے پاس فی الوقت ایسے سیاسی ادارے موجود نہیں ہیں جو اس طرح کی نئی نوع کی سیاست کو کوئی نام دے سکے اور القاعدہ جیسی تنظیموں کو اپنے نظام میں سما سکیں۔ اِس ادارہ جاتی اور معنی کے خلا میں القاعدہ جیسی تنظیمیں عالمی سیاست میں اپنے طور طریقے سے اپنے لئے مقام اور اپنا معنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ عالمی اُفق پر غیر مغربی تناظر میں اُبھرنے والے سیاسی تصورات اور تحریکیں دستیاب سیاسی تصورات اور اداروں کے فکری سرمائے اور ادارہ جاتی سمجھ سے تجاوز کر رہے ہیں۔

بادی النظر میں دہشت گردی کے لفظ کو ایک خاص رُجحان کو دُنیا سے ختم کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا، مگر یہ دنیا کو بہتر بنانے کی بجائے ابتر صورتحال کا سبب بن رہا ہے۔ اِس کے نتائج ہم عالمی، علاقائی اور ملکی سطح پر آئے روز دیکھتے ہیں۔ زیادہ دور نہیں ہمارے پڑوس ملک ایران میں ملک کی اعلیٰ سطح کی قیادت کو مذاکرات کے میز پر ہی اڑا دیا گیا۔ غزہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ نازی ہولوکاسٹ سے کم نہیں۔ جنوبی لبنان کو ملیامیٹ کر دیا گیا۔ حال ہی میں جنوبی لبنان کے علاقے نباتیہ کو مٹانے کے لئے اتنے طاقتور دھماکے کیے کہ اِس کے نتیجے میں 1۔ 4 ریکٹر سکیل کا زلزلہ پیدا ہوا۔ مگر مجال ہے دنیا کا ضمیر اَس انسانی زلزلے سے ہلا ہو۔ یہ سب کچھ اِس لیے ممکن ہوا ہے کیونکہ اسرائیل کی اُس پالیسی کو مغربی طاقتوں کی مکمل تائید حاصل ہے جس کے ذریعے ایک خاص انسانی گروہ کو دہشت گردی کے نام پر اخلاقیات اور قانون سے مستثنیٰ قرار دے کر انسانی آبادیوں کو بقول آگامبین ”غیر انسانی خطے“ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ اسرائیل کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ انسانوں کے ساتھ حیوانوں والا سلوک کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینیوں کو آملیک قرار دیا۔ بائبل میں آملیک اسرائیلیوں کے وہ دشمن ہیں جن کے مرد و زن، بچوں اور جانوروں کو تباہ کرنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ اِسی طرح اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی فلسطینیوں کو انسانی حیوان قرار دے کر غزہ میں خون ریزی کا جواز فراہم کیا۔ بظاہر یہ بیانات دیوانوں کی بڑھکیں لگتی ہیں، مگر حقیقت میں اِن بیانات کے پیچھے ایک جدید ڈسکورس کارفرما ہے جس کو جدید اور قابل اذہان نے اس کے لیے تیار کیا ہے تاکہ اپنے سے مختلف انسانوں کو انسانیت سے گرا کر ہولناک سبق سکھا سکیں۔ یعنی اس دیوانگی کے پیچھے سوچی سمجھی ترکیب ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دہشت گردی کے متعلق طاقت کی تشکیل کردہ ڈسکورس کو اپنا کر ایک ایسا ذہنی ماحول تیا ر کیا گیا ہے جس میں ہم کسی بھی واقعے کو اس کی میرٹ کی بجائے نظریاتی عینک سے دیکھتے ہیں۔ یوں ہم عالمی معاملات کے متعلق فہم کم اور غلط فہمی زیادہ حاصل کرتے ہیں۔ اب ہمارا کسی بھی معاملے کے متعلق تجزیہ، تحلیل اور تحریر و تفہیم کی خواہش سے زیادہ نظریاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے عالمی ڈسکورس کو قبول کر لیا ہے۔ اب اِس طرح ہی کے ڈسکورس کو زیر استعمال لاتے ہوئے یمن میں حوثیوں کو دہشت گردی کے نام سے کرائے کے فوجیوں کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی کُلیے کے تحت عالمی طاقتیں، تھنک ٹینکس، دانشور طبقہ اور میڈیا ہاؤسز حوثیوں کو ایران کے پراکسی شیعہ قرار دیتے ہیں۔ اور ہم پاکستان میں اِس ڈسکورس کو قبول کر کے حوثیوں کو اُن الفاظ میں ہی بیان کرتے ہیں جن کو طاقت کی فکری فیکٹریوں میں تیار گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حوثی باغیوں کا سعودی عربیہ سے تنازع خمینی کے انقلاب ایران سے پرانا ہے۔ وہ یمن کے ایسے باغی ہیں جو ملک کی اُس مجموعی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جس کے مطابق آل سعود نے یمن کے تین شمال مغربی صوبوں پر سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے مختصر عرصے بعد قبضہ کیا تھا۔ حوثی اثنا عشری شیعہ نہیں ہیں۔ بلکہ زیدی مذہب کے پیروکار ہیں۔ وہ وہابی اسلام کی طرح لفظ پرست نہیں ہیں اور نہ ہی ایران کے ولایت فقیہ کے پیروکار ہیں۔ اِس کے برعکس وہ اسلامی فکر میں خرد افروزی کے اولین مکتب فکر معتزلہ کے افکار کو ماننے والے ہیں۔ زیدیہ فرقہ شیعی اسلام کا وہ فرقہ ہے جو فقہی اعتبار سے سُنی اسلام کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ امام شافعی کے فقہ اور زیدیوں کے تصورات میں بہت ساری مشترکات ہیں۔ اسی سبب زیدیوں کو سُنی اور شیعہ اسلام کے درمیان پُل بھی کہا جاتا ہے۔

یمن کی حوثی تحریک میں صرف حوثی قبیلہ ہی نہیں، بلکہ یمن کے دیگر قبائل بھی ان کی مسلح جدوجہد کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یہ جزیرۃ العرب کے ممالک میں واحد تحریک ہے جس کی جڑیں عوام میں پیوست ہیں۔ اگر یہ تحریک کامیاب ہوتی ہے تو خلیج کی بادشاہتوں کو شدید خطرہ لاحق ہو گا کیونکہ وہاں کے حکمران خاندانوں کے علاوہ دوسرے گروہوں اور قبیلوں کو بندوق کی نوک پر سرنگوں رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیج کے سارے بادشاہ ایک ایسے ملک کے عوام کے خلاف حملہ آور ہوئے ہیں جو خود اُن کی پابندیوں کے سبب بھوک اور افلاس کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کے بادشاہوں نے اپنے اقدار کے دوام کے لئے عرب ممالک کے سیکولر رہنماؤں اور نظاموں کو ختم کر دیا۔ عراق میں صدام کو پھانسی لگانے کے بعد کرائے کے لڑاکوں کو داعش کی شکل میں سامنے لایا گیا۔ بعد میں القاعدہ کی فرنچائز شام میں کھولی گئی۔ آپ عراق، شام، لبنان، لیبیا اور غزہ کو ہی دیکھ لیں۔ وہاں کس قسم کے لوگوں کو ہٹا کر کس قبیل کے لوگوں کو مسلط کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یمن کے معاملے میں اِس طرح کے بہت سارے باریک نکات، مختلف عناصر، عوامل اور محرکات کو غالب ڈسکورس کے نظریاتی نقطہ نظر کی وجہ سے نظرانداز کر کے پاکستانی قوم کو ایک جھوٹے بیانئے میں محصور رکھا جا رہا ہے۔ یمن میں علاقائی اور عالمی پابندیوں اور ناکہ بندیوں کی وجہ سے چار لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے ہیں اور ملک کی بڑی آبادی بھوک، بربادی اور بیماری کا سامنا کر رہی ہے۔ مگر ہمارے تجزیہ نگار اور مفکرین پابندیوں کی وجہ سے رونما ہونے والے انسانی المیہ سے دانستہ طور پر نابلد رہتے ہیں کیونکہ طاقت کی زبان اور علم نے ہمیں اندھا اور ذہنی طور پر اپاہج بنا دیا ہے۔ اس لیے ہمارے تجزیہ کار، دانشور، صحافی اور ماہرین طاقت کی زبان کو اپناتے ہوئے یمن کی جنگ کو فرقہ ورانہ رنگ دیتے ہیں۔ جنگ میں دولت بہت ہے۔ اس کے مقابلے میں امن تہی دامنی کا شکار ہے۔ جنگ میں بہت پیسہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ ایک صنعت بن چکی ہے۔ اور جنگوں کی خدمت میں پالیسیاں، ڈسکورس اور علم تیار کیا جاتا ہے۔ جنگ کی اِس جدید صنعت پر اروندھتی رائے نے نقد کرتے ہوئے صحیح کہا ہے کہ پہلے جنگ کے لیے ہتھیار تیار کیے جاتے تھے مگر اب ہتھیار کے لیے جنگ تیار کی جاتی ہے۔ اور جنگ کو تیار کرنے کا سب سے بڑا خام مال دہشت گردی کا عالمی ڈسکورس ہے جس کو دانشور اور رائے عامہ تیار کرنے والے میڈیا ادارے پیدا کرتے ہیں۔

اب دہشت گردی کا ڈسکورس عالمی اور علاقائی سطح پر تباہی مچانے پاکستان میں پہنچ کر جمہوریت اور جمہوری حقوق سلب کرنے لگا ہے۔ دہشت گردی کی تعریف اور بیانیہ اب پاکستان کی بچی کچی جمہوریت کو بھی نگل رہا ہے۔ ہمارے سامنے ہی طالبان کے متعلق ریاستی اور علمی تصورات طاقت کی ضروریات کے تحت تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ کبھی گُڈ اور بیڈ طالبان تو کبھی ظالم طالبان اور کبھی فتنہ الخوارج۔ اب تو خیبر پختونخوا میں طالبان کے خطرے کے نام پر جمہوری طور پر منتخب صوبائی حکومت کو ختم کیا گیا ہے۔ یوں جمہوری اصول میں استثنا پیدا کر کے جمہوریت کو قتل کر دیا گیا۔ عوام کو جمہوری حقوق سے ِمحروم کرنے کا عمل انسانی معاشرے کو ’غیر انسانی خطے‘ میں تبدیل کرنے کا پہلا قدم ہے۔ عالمی سطح پر بھی آج دہشت گردی کے نام پر انسانوں کو قانونی اور سیاسی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دہشت گردوں سے زیادہ پالیسی سازوں، یونیورسٹی پروفیسروں، تجزیہ کاروں اور تھنک ٹینک سے لیس جدید ریاستیں ہی آزادی کے نام پر آزادی اظہار پر سب سے زیادہ قدغنیں عائد کر رہے ہیں۔ اِس کا عملی مظاہرہ ہمیں آج کل مغرب میں نظر آ رہا ہے جہاں دہشت گردی کے قوانین کے نام پر لوگوں کو زبردستی خاموش کرایا جا رہا ہے۔ یہ دُنیا کا ایک مضحکہ خیز قانون ہے جہاں ریاستیں ایک سیاسی نعرہ ”دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہو گا“ لگانے پر قانون اپنے ہی شہریوں کو دہشت گردی کی حمایت کرنے کے الزام میں جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ جبکہ اسرائیل کی ریاست ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے چھ گُنا زیادہ گولہ بارود غزہ پر برسا کر مہذب قوموں کی فہرست میں شامل رہتی ہے۔ یہ تناقضات ایک چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ دہشت گردی کا لفظ اب دنیا کے پیچیدہ معاملات کو سمجھانے اور سُلجھانے کی بجائے دُنیا کو مزید تشدد میں اُلجھا رہا ہے۔

آج اکیسویں صدی میں جو جنگ و جدل ہو رہی ہے، وہ کسی مذہب کے نام پر نہیں بلکہ اُس نئے مذہب کے نام پر ہو رہی ہے جس کے کوئی فکری خد و خال نہیں ہیں بلکہ ایک نعرہ ہے جس کے نام پر حکمران طبقہ انسان سوز فیصلے اور جنگیں شروع کرتا ہے۔ وہ مذہب ہے دہشت گردی جس کی تعریف طاقت نے بیان کی ہے ناکہ معروضی حقیقت نے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں اسلامزم کے خطرے کو خلیجی ممالک، پاکستان و ہندوستان سے لے کر سعودی عرب کے حکمران، وسطی ایشیائی ممالک کے آمر حاکم، اسرائیل و اُردن سے لے کر مغرب کے حکمران اور امریکی سیاستدان سب اپنے نظام اور حکمرانی کو جواز فراہم کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

جرمن فلسفی میکس ویبر جدیدیت کی فکر اور عمل میں پوشیدہ اِس مہلک پہلو کو بہت پہلے ہی پہچان چکے تھے۔ جدیدیت پر اپنی تنقید میں میکس ویبر نے بصیرت کے ساتھ خبردار کیا تھا کہ سماج کی ایک مخصوص عقلی نقطہ نظر سے تنظیم و ڈسپلن انسانوں کو غیر انسانی نظاموں اور قوانین کا قیدی بنا دے گی۔ جس کی وجہ سے جدید ریاستیں ’لوہے کے پنجرے ”میں تبدیل ہو جائیں گی۔ جدیدیت پر اندھے اعتماد کی وجہ سے ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ لبرل ازم کی فتح ہمیں لبرل مُسرت کی دائمی جنت میں لے جائے گی۔ مگر یہ ایک خام خیالی ہے۔ اِس صدی کا آغاز گوٗانتاناموبے، بگرام، غزہ اور ابو غریب سے ہوا تھا۔ اب پورے کے پورے ممالک، معاشروں، انسانی گروہوں کو لبرل ناکہ و نان بندی، پابندی اور انسانیت کے زمرے سے خارج کر کے اور زمین و ثقافت دونوں انسانی وجود و پہچان مٹایا جا رہا ہے۔ یہاں پورے کے پورے سماج کو حراستی کیمپوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اور یہ انسانیت سوز اقدامات انسانیت اور تہذیب کو دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے نام پر کیا جا رہے ہیں۔

اگر ہمیں دہشت گردی کی سیاست اور پالیسی کو سمجھنا ہے تو ہمیں وہ تکلیف دہ سوالات اٹھانے ہوں گے جن کی جدید علمیات اور ریاستیں اجازت نہیں دیتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہم اپنے اندر تجزیہ و تحلیل کر کے باہر دیکھنے کی بجائے ہم اپنے ذہنوں کو طاقت کے پیدا کردہ وصولی علم، ٹی وی اینکرز کی رائے، پالیسی سازوں، طاقت کے خدمتگار دانشوروں، تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے سازشی نظریات سے بھر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم حالاتِ حاضرہ میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہم کسی بھی معاملے کو واقعے کو طویل تاریخی زمان اور مکان میں دیکھنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ نتیجتاً ہم آنے والے حالات کے خد و خال پہچانے سے قاصر ہیں۔ یوں ہم دائمی طور پرایک منحوس دائرے کے چکر میں پھنس کر فکری مغالطے اور عملی غلطیاں دہراتے رہتے ہیں۔ آج کی دُنیا اپنی موجودہ اخلاقی دیوالیہ پن، سیاسی دلدل، انسانیت سوز جنگوں اور نفسیاتی یاس سے تب تک باہر نہیں نکل سکتی ہے جب تک ہم اُن غالب علمیاتی، میڈیائی، سیاسی، نفسیاتی اور فوجی ڈسکورس سے جنم لینے والے تصورات کو چیلنج اور تبدیل نہ کریں جو ہمارے دل و دماغ اور سماج و ریاست پر حاوی ہیں۔ ہم اپنی دنیا کو تباہی سے تب ہی بچا سکتے ہیں جب ہم طاقت کی عطا کی ہوئی زبان اور اس سے پیدا ہونے والی فکر و نظر سے نجات حاصل کر لیں اور انسانوں کے خوابوں، ارمانوں اور خدشات کو اُن کے ثقافتی و وجودی نشیمن میں بیٹھ کر سُنیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Ali Ahmad Jan
Ali Ahmad Jan
5 hours ago

 جنگ میں دولت بہت ہے۔ اس کے مقابلے میں امن تہی دامنی کا شکار ہے۔ جنگ میں بہت پیسہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ ایک صنعت بن چکی ہے۔ اور جنگوں کی خدمت میں پالیسیاں، ڈسکورس اور علم تیار کیا جاتا ہے. کی خوب کہا ہے کہ پہلے جنگ کے لئے ہتھیار بنائے جاتے تھے اب ہتھیار کے لئے جنگ ۔ واہ مزہ آیا

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
✕
HumSub

FREE
VIEW