میرے مطابق

رشید مصباح : گمشدہ آدمی اور مرگِ محبت کے درمیان خطوط

zafar mansoor

رشید مصباح ( 1952۔ 2020 ) کو ہم سے بچھڑے چھ سال بیت گئے۔ وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا منظر نامہ بدل جاتا ہے۔ بس یادیں رہ جاتی ہیں۔

رشید مصباح سے میری آخری ملاقات 2019 ء میں پاک ٹی ہاؤس لاہور میں ہوئی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے زیر اہتمام معروف ترقی پسند ادیب اور شاعر اسرار زیدی کی یاد میں تعزیتی تقریب تھی۔ صدارت میرے ذمہ تھی۔ میں گوجرانوالہ سے پاک ٹی ہاؤس پہنچا تو رشید مصباح میرا انتظار کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ تقریب میں ابھی کچھ وقت تھا۔ لہذا ہم چائے کے لئے ایک الگ میز پر بیٹھ گئے۔ اس روز ان سے بہت سی باتیں ہوئیں، وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔ کیا معلوم تھا یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔

رشید مصباح سے میری پہلی ملاقات ستر کی دہائی کے آخر میں پاک ٹی ہاؤس میں ہوئی۔ ان سے یہ ملاقات وقت کے ساتھ علمی، ادبی اور فکری ہم آہنگی کے ساتھ ایک گہری دوستی میں تبدیل ہوتی گئی۔ اس دوران ایک مقامی کالج کے شعبہ تدریس میں بھی 7 سال ان کا ساتھ رہا۔

رشید مصباح کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ ایک بلند پایہ افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد، دانشور اور ماہرِ تعلیم تھے۔ حلقہ ارباب ذوق کے تنقیدی جلسوں میں ان کی گفتگو فکر کی گہرائی، تنقید کی کاٹ اور اظہار کی شفافیت کا مرقع ہوتی تھی۔

رشید مصباح نے پوری زندگی دو انتہاؤں کے درمیان زندگی گزاری۔ کچھ لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور کچھ نظریاتی یا ذاتی اختلافات کے باعث ان سے مخاصمت رکھتے تھے۔ ان کا رویہ بھی محبت کے جواب میں محبت اور مخاصمت کے جواب میں مخاصمت پر مبنی ہوتا تھا۔ ان میں منافقت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ سیدھے اور کھرے انسان تھے اور لگی لپٹی رکھے بغیر منہ پر سیدھی بات کرنے کے قائل تھے چاہے کوئی خوش ہو یا ناراض۔

ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر فیصل آباد سے حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور آئے اور پھر لاہور کے ہی ہو کر رہ گئے۔ ہیلی کالج پنجاب یونیورسٹی سے ایم کام مکمل کرنے کے بعد انہوں نے شعبہ تعلیم کو اپنایا۔ تدریس نے ان کے مزاج میں وقار، سنجیدگی اور علمی متانت پیدا کی۔ اس دوران ان کا ادبی سفر بھی بلا تعطل جاری رہا۔ 84۔ 1983 میں وہ حلقہ اربابِ ذوق لاہور کے جوائنٹ سیکرٹری اور 86۔ 1985 میں سیکرٹری منتخب ہوئے۔ اس دوران انہوں نے حلقے کے کئی یادگار اجلاس کروائے۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے مختلف مرکزی عہدوں پر بھی فائز رہے۔ یہ دونوں ادارے ان کی فکری تربیت گاہ بھی تھے اور عملی جدوجہد کا میدان بھی۔

رشید مصباح اردو ادب کے ان منفرد تخلیق کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے ترقی پسند فکر کو نہ صرف اظہار کا ذریعہ بنایا بلکہ اسے اپنے عہد کے سماجی و سیاسی تناظر میں نئی معنویت عطا کی۔ فیصل آباد کی دھرتی سے اٹھنے والا یہ قلم کار لاہور کے ادبی منظرنامے میں ایک معتبر آواز بن کر ابھرا۔

ان کے تین افسانوی مجموعے شائع ہوئے جو جدید اردو افسانے میں ایک الگ جہت کی علامت ہیں۔ پہلا مجموعہ ”سوچ کی داشتہ“ جدید لب و لہجے کا حامل فکری اظہاریہ ہے۔ اس میں انہوں نے کئی اہم فکری سوالات اٹھائے ہیں جس کے باعث یہ مجموعہ تادیر ادبی حلقوں میں زیرِ بحث رہا۔ دوسرا مجموعہ ”گمشدہ آدمی“ وجودی سوالات اور سماجی پیچیدگیوں کا گہرا مطالعہ ہے۔ اس میں انسان اپنی بنائی ہوئی دنیا میں ہی اجنبی اور مجسم سوال بن کر رہ جاتا ہے۔ تیسرا مجموعہ ”آکاس بیل“ معاشرتی تضادات اور سماجی کشمکش کا بیانیہ ہے، جہاں کردار محض فرد نہیں رہتا بلکہ اجتماعی دکھوں کا استعارہ بن جاتا ہے۔

ان کے ناولوں میں بھی ان کے موضوعات متنوع اور اسلوب انتہائی منفرد ہے۔ ان کا ناول ”چندن بائی“ عورت کی وجودی جدوجہد، سماجی جبر اور طبقاتی نظام کی تہہ در تہہ پرتوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ ان کا ناول ”مرگِ محبت کے درمیان خطوط“ ایک خطی بیانیہ ہے، جس میں محبت، موت، جدائی اور نظریاتی کشمکش ایک ساتھ سفر کرتی ہیں۔ یہ ناول جذبات اور نظریات کے درمیان انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو بڑی باریک بینی سے نیان کرتا ہے۔ بعض دوستوں کے نزدیک یہ ناول ان کی اپنی زندگی کی علامتی کہانی ہے۔

”تضادات“ ان کا تنقیدی مجموعہ ہے۔ اس میں انہوں نے سماجی، سیاسی اور ادبی تضادات کو مارکسی تناظر میں پرکھا ہے۔ یہ کتاب ان کے نظریاتی شعور اور ادبی بصیرت کا اہم حوالہ ہے۔

ان کا ایک قابل ذکر کارنامہ 90 کی دہائی میں کسی سرکاری مدد کے بغیر تن تنہا فیصل آباد میں تین روزہ ترقی پسند ادبی کانفرنس کا انعقاد تھا جس میں پورے پاکستان سے آئے ہوئے ممتاز ترقی پسند ادیبوں نے مختلف علمی، ادبی اور فکری موضوعات پر مقالے پیش کیے اور آخری روز ایک بھرپور اور یادگار مشاعرہ منعقد ہوا جس میں ملک کے نامور ترقی پسند شعراء نے شرکت کی۔ یہ ایک بھرپور، شاندار اور یادگار کانفرنس تھی۔

انہوں نے لاہور سے ایک ادبی، سماجی اور سیاسی پرچہ ”سائبان“ بھی جاری کیا۔ اس پرچے کے ذریعے انہوں نے ترقی پسند روایت کو نئی فکری سمت عطا کی۔ ان کی ادارت کا نمایاں پہلو نوجوان لکھنے والوں کو مواقع فراہم کرنا، ان کی ادبی تربیت، ادبی مباحث کی تشکیل اور جواں سال قلمکاروں میں نظریاتی استحکام پیدا کرنا تھا۔ ”سائبان“ محض ایک رسالہ نہیں تھا بلکہ باقاعدہ ایک فکری تحریک تھی۔

رشید مصباح نے اردو ادب کو فکری گہرائی، سماجی شعور، علامتی بیانیہ اور ادبی دیانت عطا کی۔ ان کی تحریریں سماجی تضادات، طبقاتی کشمکش، انسانی محرومیوں اور وجودی سوالات ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جو جدید اردو افسانے کی روایت میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے اپنے عہد کی نمائندہ فکری تحریروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ محض کہانی کار نہیں بلکہ سماج کے تضادات کو اجاگر کرنے والے قلمکاروں میں شامل تھے۔ ان کا نام اردو ادب میں حقیقت نگاری اور ترقی پسند فکر کا ایک روشن حوالہ ہے۔

ان کی زندگی کے آخری ایام کچھ احباب اور عزیز و اقارب کی ستم ظریفیوں، گھریلو تنازعات، طویل بیماری اور کاروباری نقصانات کے باعث پریشانی اور تنگدستی میں گزرے۔ یکے بعد دیگرے مسائل و مشکلات کے باعث وہ اندر سے مکمل طور ٹوٹ گئے تھے لیکن اس کے باوجود وقفے وقفے سے ادبی نشستوں اور سیاسی سرگرمیوں اور نظریاتی دوستوں کی محفلوں میں شریک ہوتے رہتے تھے۔

رشید مصباح بلاشبہ اپنے عہد کے ایک بڑے افسانہ نگار، نمایاں ناول نگار اور اہم نقاد تھے۔ اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ان کا نام ایک اہم قلمکار کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
KausarJamalJamal Jamal
KausarJamalJamal Jamal
5 hours ago

ایک کھرے ترقی پسند ادیب کو شاندار خراج عقیدت

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
✕
HumSub

FREE
VIEW