بلاگ

ڈالرکریسی سے آزادی کا وقت ہوا چاہتا ہے

ibrahim kumbhar

امریکہ گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے سے دنیا کو جس ڈالر کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھا، اب دنیا بتدریج اس گرفت سے آزاد ہوتی دکھائی دے رہی ہے، اور عالمی معیشت کئی حوالوں سے خودمختاری اور آزادی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ طاقت، اختیار اور غلبہ ایسی چیزیں ہیں جو تاریخ میں ہمیشہ بدلتی رہی ہیں، انسانی تاریخ عروج و زوال، ٹوٹ پھوٹ، ازسرِنو تعمیر، تباہی اور پھر دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ دنیا ہمیشہ کے لیے امریکی طاقت کے سامنے سر جھکائے رکھے گی۔ امریکہ نہ برطانیہ سے بڑا ہے اور نہ ہی روم اور یونان جیسی قدیم طاقتوں سے زیادہ مضبوط ہے۔

یہ سب وقت کا کھیل ہے کیونکہ ہر دور میں دنیا کسی نہ کسی طاقت کو دیکھتی ہے اور اس کے سامنے جھکتی ہے، لیکن وہی طاقتیں جو کبھی دوسروں کو جھکاتی تھیں، وقت گزرنے کے ساتھ خود صف میں کھڑی نظر آتی ہیں، جیسا کہ برطانیہ اور اسپین کے ساتھ ہوا ماضی میں دنیا کو جھکاتی تھیں آج خود کسی کے آگے جھکی ہوئی ہیں۔

اس پورے عالمی نظام کے پیچھے اصل قوت معیشت ہوتی ہے، کیونکہ معاشی اتار چڑھاؤ افراد، گروہوں اور ممالک کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ امریکی معیشت کا انحصار بنیادی طور پر ڈالر پر ہے، اور یہی ڈالر نصف صدی سے زائد عرصے سے دنیا پر اپنی جڑیں مضبوط کیے ہوئے تھا اور عالمی مالیاتی نظام پر حکمرانی کرتا رہا، مگر اب حالات اس کے برعکس سمت میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بارٹر سسٹم کے بعد جب کرنسی کا نظام آیا تو ابتدا سکوں سے ہوئی، اور اب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل کرنسی کی طرف بڑھ رہی ہے، جو خود عالمی ریزرو کرنسی کے موجودہ نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔ تاہم ڈیجیٹل کرنسی کے دور حاٰضر پر بحث کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم امریکی ڈالر کے نظام میں آنے والی تبدیلیوں اور اس کے پس منظر کو سمجھیں کہ یہ نظام کس طرح دنیا پر غالب آیا اور اس نظام کو کیا چینلج ہیں اور وہ چینلج کس مرحلے پر ہے۔

ہم اس سلسلے کی ابتدا 1971 سے کرتے ہیں، جب رچرڈ نکسن نے بریٹن ووڈز معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کیا، برٹن ووڈز معاہدے کے تحت ڈالر کو سونے کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا، لیکن نکسن کے فیصلے کے بعد ڈالر کو سونے سے الگ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں اس کی قدر میں گراوٹ شروع ہو گئی۔ ڈالر کو مستحکم رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے مگر وہ موثر ثابت نہ ہو سکے، چنانچہ ڈالر کی قدر کو سہارا دینے کے لیے ایسی چیز کی تلاش شروع ہوئی جو پوری دنیا کی بنیادی ضرورت ہو اور جس کے ساتھ ڈالر کو اس طرح جوڑا جا سکے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن جائیں۔ اسی دوران 1973 میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جب اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ چھڑ گئی جسے یومِ کپور جنگ کہا جاتا ہے، اس جنگ کے دوران تیل کی سپلائی متاثر ہوئی اور عالمی منڈی میں تیل کی شدید کمی کے باعث اس کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔ اس بحران نے امریکہ کو یہ سمجھنے کا موقع فراہم کیا کہ ڈالر کو کس چیز کے ساتھ جوڑنا زیادہ موثر ہو گا، اور وہ چیز تیل تھی۔ چنانچہ امریکہ نے اپنے نمائندے ہینری کسنجر کو سعودی عرب بھیجا، جہاں شاہ فیصل اور امریکی قیادت کے درمیان مذاکرات ہوئے اور بالآخر 1974 میں نکسن اور شاہ فیصل کے مابین ایک اہم معاہدہ طے پایا جس کے تحت سعودی عرب نے یہ قبول کیا کہ وہ اپنا تیل صرف امریکی ڈالر میں فروخت کرے گا، جبکہ اس کے بدلے امریکہ نے اسے سیکیورٹی، اسلحہ اور فوجی تربیت فراہم کرنے کی ضمانت دی۔ یہ معاہدہ ابتدا میں صرف سعودی عرب تک محدود تھا لیکن بعد میں خلیج کے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو گئے، اور یوں پیٹرو ڈالر سسٹم وجود میں آیا۔

اس معاہدے کے بعد دنیا کے ہر ملک کے لیے یہ لازم ہو گیا کہ وہ تیل خریدنے سے پہلے ڈالر کا بندوبست کرے، جس کے نتیجے میں ڈالر عالمی ریزرو کرنسی بن گیا اور دنیا کے تمام ممالک نے اپنے زرِمبادلہ کے ذخائر ڈالرز میں رکھنا شروع کر دیے۔ اس طرح ایک ہی معاہدے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بڑا فائدہ ہوا، کیونکہ امریکہ دنیا کی ضرورت کے مطابق بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے ڈالر چھاپتا رہا، جبکہ اگر کوئی چھوٹا ملک اسی طرح نوٹ چھاپنے کی کوشش کرتا تو اسے معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑتا۔ ایک بڑی معیشت پوری دنیا ڈالرز کے لیے جھولی پھیلائے کھڑی ہے، امریکہ کو اس پرنٹنگ سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا اب بھی امریکہ پر چالیس ٹریلن ڈالرز کا قرضہ ہے مجال ہے کوئی پرواہ ہو اس وقت جنگ کی وجہ سے مہنگائی کے کچھ اثرات ہوئے لیکن وہ اتنے برے بھی نہیں۔ امریکہ اور سعودیہ کا 1974 کا یہ معاہدہ پچاس سال تک جاری رہا اور بالآخر 2024 میں اپنی مدت پوری کر گیا، جس کے نتیجے میں سعودی حکومت دوبارہ اس پوزیشن میں آ گئی ہے کہ وہ تیل کسی بھی کرنسی میں فروخت کر سکتی ہے۔

سعودی عرب نے 2024 میں یہ اعلان بھی کیا کہ وہ تیل کی فروخت کے لیے دیگر ممالک کی کرنسیوں کو بھی قبول کرے گا، اور اس کے بعد اس نے پاکستان، بھارت، یورپ کے بعض ممالک، جاپان اور چین کو ان کی مقامی کرنسیوں یا چینی یوآن میں تیل فروخت کرنا شروع کر دیا۔ سعودی عرب کا یہ اقدام درحقیقت پیٹرو ڈالر سسٹم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، اور اس پر مزید اثرات ایران کی جنگ سے پڑے، جہاں ایران نے یوآن میں تیل خریدنے والوں کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے، بلکہ اعلان کیا کہ ہرمز سے اس کا گزر ممکن ہو گا جو تیل کی ادائیگی اور ٹول ٹیکس یوآن میں کرے گا۔ جس سے پیٹرول ڈالر کا نظام پیٹرو یوآن میں بدل گیا۔

امریکہ کے لیے ایک اور چیلنج یہ ہے کہ اس نے اپنے عرب اتحادیوں کا موثر انداز میں دفاع نہیں کیا، جس کے باعث ان کا اعتماد کمزور ہوا ہے، اور یہ صورتحال خود پیٹرو ڈالر نظام اور امریکی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ لیکن ان تمام معاملات میں ان گیارہ ممالک کا اتحاد جو کہ برکس کہلاتا ہے وہ اس ڈالر کے نظام کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آ چکا ہے، اس اتحاد میں چین، روس، برازیل، سعودی عرب، ایران، بھارت، جنوبی افریقہ، انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا شامل ہیں۔ اس اتحاد کے ممالک نے یہ طے کیا ہے کہ وہ اپنی باہمی تجارت اور مالی لین دین مقامی یا متبادل کرنسیوں میں کریں گے اور ڈالر پر انحصار کم کریں گے۔ اب ان کو کوئی روک نہیں سکتا۔

مزید برآں، ان ممالک نے روایتی بینکنگ نظام سوئفٹ کے متبادل نظام اپنانا شروع کر دیا ہے اور ایم برج جیسے نئے پلیٹ فارمز میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کے ذریعے بغیر کسی تیسرے فریق کے مالی لین دین ممکن ہو رہا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی اور خودکار مالیاتی نظام بھی اس تبدیلی کو تیز کر رہے ہیں، کیونکہ یہ ایسے طریقہ کار متعارف کروا رہے ہیں جن میں لین دین خودکار اور آزادانہ انداز میں مکمل ہو سکتا ہے، جس سے روایتی پابندیاں کمزور پڑ رہی ہیں۔

یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا آہستہ آہستہ نہ صرف ڈالر کے نظام سے نکل رہی ہے بلکہ مالیاتی خودمختاری کی طرف بھی بڑھ رہی ہے، اور 2025 تک برکس کے تحت اربوں ڈالر کے مساوی لین دین ڈالر کے بغیر ہو چکا ہے جس میں مزید اضافے کے امکانات موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کی کرنسی پر عالمی اعتماد میں کمی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے، جو مستقبل میں ڈالر کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک طرف پیٹرو ڈالر سسٹم خطرے میں دوسری طرف ڈی ڈالرائزیشن خود ایک بڑا مسئلہ ہے ، ڈی ڈالرائیزیشن کس طرح ہو رہی ہے وہ کسی اور موقعہ پر بیان کریں گے۔

Facebook Comments Box

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW