سائنس و ٹیکنالوجیکالم۔

روح کیا ہے؟ انسان کے سب سے قدیم سوال کی داستان

dr suhail zubairy

اگر آپ سے اچانک یہ سوال پوچھا جائے کہ ”آپ کون ہیں؟“ تو شاید آپ فوراً اپنا نام بتا دیں گے۔ اگر دوبارہ پوچھا جائے کہ ”نام تو آپ کے والدین نے رکھا تھا، لیکن آپ حقیقت میں کون ہیں؟“ تو شاید آپ کہیں کہ میں ایک انسان ہوں۔ لیکن اگر سوال مزید گہرا ہو جائے اور کہا جائے کہ ”آپ کا جسم تو ہر لمحہ بدل رہا ہے، پھر وہ کون سی چیز ہے جو بچپن سے بڑھاپے تک ایک ہی رہتی ہے اور جسے آپ ’میں‘ کہتے ہیں؟“ تو جواب دینا آسان نہیں رہتا۔

یہی وہ سوال ہے جس نے ہزاروں برس سے انسان کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔

ہم سب روزمرہ گفتگو میں بے اختیار ایسے جملے بولتے ہیں جن پر شاید کبھی غور نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں، ”میرا جسم“ ، ”میرا دماغ“ ، ”میرے ہاتھ“ ، ”میری آنکھیں“ ۔ لیکن اگر جسم، دماغ اور ہاتھ سب ”میرے“ ہیں، تو پھر یہ ”میں“ کون ہے جو ان سب کا مالک ہے؟

یہ سوال اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان۔

قدیم انسان جب کسی عزیز کو مرتے ہوئے دیکھتا تھا تو اسے محسوس ہوتا تھا کہ ابھی چند لمحے پہلے یہی جسم زندہ تھا، بات کر رہا تھا، ہنس رہا تھا، کھیل رہا تھا، منصوبے بنا رہا تھا، لیکن اچانک کچھ ایسا ہوا کہ وہی جسم بے جان ہو گیا۔ جسم تو وہی تھا، دل بھی موجود تھا، دماغ بھی اپنی جگہ تھا، ہاتھ پاؤں بھی سلامت تھے، مگر کوئی ایسی چیز جا چکی تھی جس کے بغیر جسم محض گوشت اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گیا تھا۔

وہ چیز کیا تھی؟

تقریباً ہر تہذیب نے اس سوال کا ایک ہی جواب دیا۔ انسان کے اندر ایک ایسی حقیقت موجود ہے جو جسم سے مختلف ہے۔ کسی نے اسے روح کہا، کسی نے نفس، کسی نے جان، اور کسی نے شعور۔ نام بدلتے رہے، لیکن سوال وہی رہا۔

روح کا تصور کیوں پیدا ہوا؟

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ روح کا تصور ابتدا میں مذہبی عقیدے کے طور پر پیدا نہیں ہوا تھا، بلکہ ایک فلسفیانہ اور انسانی مسئلے کے جواب کے طور پر سامنے آیا۔

قدیم انسان دو ایسی حقیقتوں سے حیران تھا جن کی وضاحت اس کے لیے ممکن نہ تھی۔
پہلی حقیقت موت تھی۔

زندگی اور موت کے درمیان آخر فرق کیا ہے؟ ایک زندہ انسان چلتا پھرتا ہے، سوچتا ہے، فیصلے کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، جبکہ موت کے چند لمحوں بعد وہی جسم بالکل خاموش ہو جاتا ہے۔ اگر جسم وہی ہے تو پھر زندگی کہاں گئی؟

دوسری حقیقت خواب تھے۔

جب انسان سوتا ہے تو اس کا جسم بستر پر پڑا رہتا ہے، لیکن خواب میں وہ دور دراز شہروں کی سیر کرتا ہے، برسوں پہلے مر جانے والے لوگوں سے باتیں کرتا ہے، خوفزدہ ہوتا ہے، خوش ہوتا ہے، دوڑتا ہے، کبھی کبھی اڑنے بھی لگتا ہے۔ جاگنے کے بعد اسے یقین ہوتا ہے کہ اس نے واقعی یہ سب دیکھا تھا۔

قدیم انسان نے سوچا کہ شاید جسم سے الگ کوئی ایسی ہستی ہے جو سوتے وقت بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے اور موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ یہی خیال رفتہ رفتہ روح کے تصور میں ڈھل گیا۔

دنیا کی تقریباً ہر قدیم تہذیب میں روح کا تصور کسی نہ کسی صورت موجود تھا۔

قدیم مصر میں یہ عقیدہ تھا کہ انسان کی شخصیت صرف جسم تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئی روحانی اجزا ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ لاشوں کو حنوط کرتے تھے تاکہ مرنے کے بعد روح دوبارہ اپنے جسم کو پہچان سکے۔

ہندوستان میں ویدوں اور اپنشدوں نے آتما کا تصور پیش کیا۔ ان کے مطابق انسان کی اصل حقیقت اس کا جسم نہیں بلکہ آتما ہے، جو نہ پیدا ہوتی ہے اور نہ فنا ہوتی ہے۔ وہ بار بار مختلف جسموں میں جنم لیتی ہے، یہاں تک کہ حقیقتِ مطلق سے جا ملتی ہے۔

لیکن روح کے تصور کو سب سے زیادہ منطقی اور فلسفیانہ شکل قدیم یونان میں ملی، جہاں پہلی مرتبہ یہ سوال مذہبی کہانیوں سے نکل کر عقل و استدلال کے میدان میں داخل ہوا۔

افلاطون سے پہلے یونان میں مذہب دیومالائی کہانیوں پر قائم تھا۔ زیوس، ہیرا، اپالو، ایتھینا اور دوسرے دیوتا انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے ذمہ دار سمجھے جاتے تھے۔ لوگ ان کی خوشنودی کے لیے قربانیاں پیش کرتے اور انہی سے بارش، جنگ میں کامیابی اور اچھی فصلوں کی دعا کرتے تھے۔ لیکن پانچویں اور چوتھی صدی قبل مسیح میں چند فلسفیوں نے ایک بالکل مختلف راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کائنات منظم ہے تو یقیناً اس کے پیچھے بھی کوئی عقلی اصول ہونا چاہیے۔ اس طرح پہلی مرتبہ انسانی تاریخ میں مذہبی روایت کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ تحقیق کا آغاز ہوا۔

ان فلسفیوں میں سب سے نمایاں نام افلاطون کا ہے۔

افلاطون کے نزدیک انسان صرف گوشت پوست کا جسم نہیں بلکہ ایک ابدی روح بھی رکھتا ہے۔ لیکن وہ روح آخر آئی کہاں سے؟ اور مرنے کے بعد کہاں جاتی ہے؟ اس سوال نے افلاطون کو اپنی پوری فلسفیانہ زندگی میں مصروف رکھا۔ ان کا جواب اتنا غیر معمولی تھا کہ اس نے مغربی فلسفے، عیسائی الٰہیات، اسلامی فلسفے اور بعد کے صوفیانہ افکار، سب پر گہرا اثر ڈالا۔

افلاطون کے مطابق ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہ اصل حقیقت نہیں بلکہ ایک سایہ ہے۔ اصل حقیقت ایک اور عالم ہے، جسے وہ عالمِ مثال (World of Forms) کہتے ہیں۔ اسی عالم میں ہماری روحوں کا اصل وطن ہے۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کیا ہماری روح اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی موجود تھی؟

اگر فلسفے کی تاریخ میں صرف ایک سوال منتخب کرنا ہو جس نے دو ہزار سال سے زیادہ عرصے تک انسان کے ذہن کو اپنی گرفت میں رکھا، تو وہ شاید یہی ہو گا: ”ہم حقیقت کو کیسے جانتے ہیں؟“

ہم روزانہ اپنے اردگرد بے شمار چیزیں دیکھتے ہیں۔ درخت، پہاڑ، دریا، انسان، جانور، ستارے اور بے شمار دوسری اشیاء۔ لیکن کیا یہی سب کچھ حقیقت ہے؟ یا ان سب کے پیچھے کوئی اور گہری حقیقت پوشیدہ ہے؟

افلاطون کا جواب حیران کن تھا۔

انہوں نے کہا کہ جس دنیا کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، وہ اصل حقیقت نہیں بلکہ اصل حقیقت کا صرف ایک دھندلا عکس ہے۔ یہ بات پہلے پہل عجیب معلوم ہوتی ہے، لیکن افلاطون نے اسے ایک نہایت خوبصورت مثال سے سمجھایا۔

فرض کیجیے ایک بڑھئی لکڑی سے ایک کرسی بناتا ہے۔ چند برس بعد وہ کرسی پرانی ہو جاتی ہے، ٹوٹ جاتی ہے اور آخرکار ختم ہو جاتی ہے۔ اگر دنیا کی ہر کرسی ایک نہ ایک دن ختم ہو جاتی ہے، تو پھر ہم ”کرسی“ کو پہچانتے کیسے ہیں؟

جب بھی ہم کسی نئی کرسی کو دیکھتے ہیں، فوراً جان لیتے ہیں کہ یہ کرسی ہے، خواہ اس کا رنگ، شکل یا سائز کچھ بھی ہو۔

یہ پہچان کہاں سے آئی؟

افلاطون کے مطابق ہمارے ذہن میں ”کرسی“ کا ایک کامل تصور موجود ہے۔ دنیا کی ہر کرسی اسی کامل تصور کی ایک نامکمل نقل ہے۔

یہی بات مثلث پر بھی صادق آتی ہے۔ کوئی ریاضی دان تختۂ سیاہ پر جتنی بھی احتیاط سے مثلث بنائے، اس کی لکیریں کبھی بالکل سیدھی نہیں ہوتیں اور زاویے بھی کامل نہیں ہوتے۔ لیکن جب ہم جیومیٹری پڑھتے ہیں تو ہم ایک ایسی کامل مثلث کے بارے میں سوچتے ہیں جو اس دنیا میں کہیں موجود نہیں۔

تو پھر وہ کامل مثلث کہاں ہے؟

افلاطون کے مطابق وہ اس مادی دنیا میں نہیں بلکہ ایک اور عالم میں موجود ہے۔ انہوں نے اس عالم کو عالمِ مثال (World of Forms) کا نام دیا۔ اس عالم میں ہر چیز اپنی کامل ترین صورت میں موجود ہے۔ وہاں کامل مثلث ہے۔ کامل دائرہ ہے۔ کامل خوبصورتی ہے۔ کامل انصاف ہے۔ کامل نیکی ہے۔ اور ہماری دنیا میں جو کچھ موجود ہے، وہ انہی کامل حقیقتوں کے ادھورے عکس ہیں۔

افلاطون کے نزدیک سب سے بلند ”فارم“ یا مثال خیرِ مطلق (The Form of the Good) ہے۔ جس طرح سورج کی روشنی کے بغیر ہماری آنکھیں کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتیں، اسی طرح خیرِ مطلق کے بغیر نہ علم ممکن ہے اور نہ حقیقت کی پہچان۔ یہ محض ایک فلسفیانہ تصور نہیں تھا۔ افلاطون سمجھتے تھے کہ پوری کائنات اسی ابدی اور غیر متغیر حقیقت پر قائم ہے۔

لیکن اس نظریے نے فوراً ایک اور سوال پیدا کیا۔

اگر یہ عالمِ مثال واقعی موجود ہے تو ہمیں اس کا علم کیسے ہوتا ہے؟ ہم نے کامل انصاف، کامل حسن یا کامل دائرہ کبھی دیکھا ہی نہیں، پھر بھی ہم ان کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

یہاں افلاطون نے اپنے فلسفے کا سب سے جرات مندانہ دعویٰ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ انسان دراصل اس دنیا میں کوئی نئی چیز نہیں سیکھتا۔ ہم صرف یاد کرتے ہیں۔ یہ نظریہ نظریۂ تذکر (theory of recollection) کہلاتا ہے۔ افلاطون کے مطابق ہماری روحیں جسم میں آنے سے پہلے عالمِ مثال میں رہتی تھیں۔ وہاں انہوں نے تمام کامل حقیقتوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ جب روح جسم میں داخل ہوئی تو وہ اس علم کو مکمل طور پر بھول گئی، لیکن اس کی دھندلی یاد باقی رہی۔ اسی لیے جب ہم کوئی ریاضیاتی حقیقت دریافت کرتے ہیں، یا حسن، انصاف اور سچائی کے کسی اعلیٰ تصور کو سمجھتے ہیں، تو حقیقت میں ہم کوئی نئی چیز حاصل نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ اپنی بھولی ہوئی یاد کو دوبارہ زندہ کر رہے ہوتے ہیں۔

افلاطون کی نظر میں تعلیم کا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں تھا۔ تعلیم کا اصل مقصد روح کو اس کی بھولی ہوئی حقیقت یاد دلانا تھا۔ یہ تصور بعد کی صدیوں میں بے حد موثر ثابت ہوا۔ عیسائی مفکرین نے اسے اپنے مذہبی فلسفے میں جگہ دی، اسلامی فلسفیوں نے اس پر غور کیا، اور صوفیاء نے بھی بارہا اس خیال کا اظہار کیا کہ انسان کی روح کسی بلند تر حقیقت سے جدا ہو کر اس دنیا میں آئی ہے اور اپنی اصل کی طرف لوٹنے کی آرزو رکھتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں میں بار بار یہ خیال سامنے آتا ہے کہ انسان اس دنیا میں مکمل اجنبی محسوس کرتا ہے، گویا اسے کسی کھوئے ہوئے وطن کی تلاش ہو۔ افلاطون اس احساس کی یہی تعبیر کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ہمارا اصل وطن یہی مادی دنیا نہیں بلکہ عالمِ مثال ہے، اور فلسفہ دراصل اس گم شدہ وطن کی تلاش کا نام ہے۔

لیکن افلاطون کا یہ نظریہ سب کو قبول نہ تھا۔

ان کے اپنے سب سے ذہین شاگرد نے اس سے اختلاف کیا۔ اس شاگرد کا نام ارسطو تھا۔ افلاطون کی موت کے بعد ارسطو نے اپنے استاد کے فلسفے پر غور کیا۔ وہ افلاطون سے محبت اور احترام رکھتے تھے، لیکن ایک اہم سوال پر انہوں نے اختلاف کیا۔

کیا واقعی روح ایک ایسی ہستی ہے جو جسم سے الگ موجود ہے؟
یا روح دراصل جسم ہی کی ایک کیفیت ہے؟
یہ سوال اتنا بنیادی تھا کہ آنے والے دو ہزار برس تک فلسفہ اسی کے گرد گھومتا رہا۔

ارسطو کا مزاج افلاطون سے مختلف تھا۔ افلاطون کی نظر آسمانوں پر تھی؛ ارسطو کی نظر زمین پر۔ افلاطون کامل حقیقتوں کی تلاش میں تھے، جبکہ ارسطو فطرت کا مشاہدہ کرتے تھے۔ وہ جانوروں، پودوں، انسانی جسم، حرکت، موسم اور کائنات کی ہر چیز کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ فلسفے کی بنیاد صرف قیاس پر نہیں بلکہ مشاہدے پر بھی ہونی چاہیے۔

اسی لیے انہوں نے روح کے بارے میں بھی ایک مختلف نظریہ پیش کیا۔

ارسطو نے کہا کہ اگر کسی لکڑی کے ٹکڑے سے ایک کشتی بنائی جائے تو کشتی کی حقیقت صرف لکڑی نہیں ہوتی۔ لکڑی تو خام مال ہے۔ اصل چیز وہ ترتیب، وہ ساخت اور وہ مقصد ہے جس نے لکڑی کو کشتی بنا دیا۔

اسی طرح اگر کانسی کو پگھلا کر ایک مجسمہ بنایا جائے تو کانسی مادہ ہے، لیکن مجسمے کی اصل شناخت اس کی صورت اور ترتیب ہے۔

ارسطو نے کہا کہ یہی اصول انسان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ انسان صرف گوشت، ہڈیوں، خون اور اعصاب کا مجموعہ نہیں۔ ان سب کو زندگی دینے والا اصول ہی روح ہے۔ انہوں نے روح کو جسم کی صورت (Form of the Body) قرار دیا۔ یہ جملہ پہلی نظر میں مشکل معلوم ہوتا ہے، لیکن ایک مثال سے بات واضح ہو جاتی ہے۔

فرض کیجیے آپ کے سامنے ایک کلہاڑی رکھی ہے۔ کلہاڑی لوہے اور لکڑی سے بنی ہے، لیکن اگر اس میں کاٹنے کی صلاحیت ہی نہ رہے تو کیا وہ واقعی کلہاڑی ہے؟ ارسطو کہتے ہیں کہ اس کی ”کلہاڑی پن“ (axe ness) ہی اس کی اصل حقیقت ہے۔

اسی طرح ایک زندہ جسم اور ایک مردہ جسم میں ظاہری فرق بہت کم ہوتا ہے، لیکن ایک میں زندگی ہے اور دوسرے میں نہیں۔ یہی زندگی بخش اصول ارسطو کے نزدیک روح ہے۔

اس نظریے کی بنیاد پر انہوں نے روح کو تین درجوں میں تقسیم کیا۔

سب سے پہلی روح نباتاتی روح ہے۔ یہ پودوں میں بھی موجود ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے پودا غذا حاصل کرتا ہے، بڑھتا ہے اور اپنی نسل کو آگے بڑھاتا ہے۔

اس سے بلند درجہ حیوانی روح کا ہے۔ جانور نہ صرف بڑھتے ہیں بلکہ دیکھتے، سنتے، حرکت کرتے، خوف محسوس کرتے اور خواہشات رکھتے ہیں۔

انسان میں یہ دونوں صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک تیسری اور منفرد صلاحیت بھی ہے۔ یہ ہے عقل۔

ارسطو کے مطابق انسان کی امتیازی خصوصیت اس کی عقلی روح ہے، جس کے ذریعے وہ استدلال کرتا ہے، سائنس ایجاد کرتا ہے، اخلاقیات پر غور کرتا ہے، فنونِ لطیفہ تخلیق کرتا ہے اور اپنے وجود کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے۔

یہاں تک تو افلاطون اور ارسطو کسی حد تک ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں، لیکن پھر دونوں کے راستے جدا ہو جاتے ہیں۔ افلاطون کے نزدیک روح جسم سے پہلے بھی موجود تھی اور جسم کے بعد بھی زندہ رہے گی۔ ارسطو اس بارے میں بہت محتاط تھے۔ ان کے نزدیک روح کو جسم سے مکمل طور پر الگ ہستی سمجھنا درست نہیں تھا۔ وہ روح کو زندہ جسم کی فعلیت (actuality) یا زندگی کا اصول سمجھتے تھے۔ جس طرح بینائی آنکھ کی فعلیت ہے اور دیکھنے کی صلاحیت کے بغیر آنکھ صرف ایک عضو رہ جاتی ہے، اسی طرح روح کے بغیر جسم صرف مادہ رہ جاتا ہے۔

یہ نظریہ بعد میں بہت اثر انگیز ثابت ہوا، کیونکہ اس نے پہلی مرتبہ روح کو ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کیا جو جسم کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے، نہ کہ صرف اس میں عارضی طور پر قید ایک مسافر کی حیثیت سے۔

یہی تصور بعد کی حیاتیات پر بھی اثر انداز ہوا۔
لیکن ایک سوال پھر بھی باقی رہا۔

اگر روح صرف جسم کی فعلیت ہے، تو انسان اپنے وجود کا شعور کیسے حاصل کرتا ہے؟
جب میں کہتا ہوں ”میں سوچ رہا ہوں“ تو یہ ”میں“ کون ہے؟
کیا یہ صرف دماغ کی سرگرمی ہے؟
یا میرے اندر کوئی ایسی حقیقت بھی موجود ہے جو جسمانی احساسات سے ماورا ہے؟

یہ وہ سوال تھا جس کا سب سے موثر جواب اسلامی دنیا کے ایک عظیم فلسفی نے گیارہویں صدی میں دیا۔ انہوں نے ایک ایسا فکری تجربہ پیش کیا جسے فلسفے کی تاریخ میں آج تک ایک اہم مقام حاصل ہے۔ یہ تجربہ اتنا گہرا تھا کہ کئی سو سال تک مسلم اور غیر مسلم دنیا میں اس کے مضمرات پر بحث جاری رہی۔

وہ مسلم فلسفی کون تھا؟ اور اس نے اس اہم سوال کا جواب کس طرح دیا؟ یہ اگلے مضمون میں۔

Facebook Comments Box

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Naheed Qureshi
Naheed Qureshi
10 hours ago

وہ جو کہا گیا کہ پہلے روح تھی پھر وہ مجسم ہوئی۔
وہ جو یوم الست کو ایک مرتبہ مجسم روحیں میدان میں جمع کی گئیں
اور سوال و جواب ہوئے۔
کیا یہ سب کچھ انہیں مفکرین کی سوچ کو لکھا گیا تھا؟

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW