بلاگ

پنجاب بیوروکریسی: اختیارات کی جنگ ایوان تک

rana iqbal hassan

پنجاب کی بیوروکریسی اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں فائلوں کی گرد سے زیادہ اختیارات کی دھول اڑ رہی ہے۔ یہ تنازع اب صرف سیکریٹریٹ کے بند کمروں کی بات نہیں رہا بلکہ پنجاب اسمبلی کے ایوان تک جا پہنچا ہے جہاں ٹریژری بینچوں سے بھی سوال اٹھایا گیا کہ وفاقی افسران کی صوبائی پوسٹوں پر مسلسل تعیناتی وزیر اعلیٰ کے آئینی اختیار کو کہاں تک محدود کر رہی ہے۔ اس ساری کشیدگی کا نقطہ آغاز ایک کھلا خط بنا جسے ایک پی ایم ایس افسر نے چیف سیکریٹری کے نام لکھا۔ وہ افسر تین سال سے افسر آن اسپیشل ڈیوٹی تھا اور اس نے نہ صرف اپنی پوسٹنگ کا مطالبہ کیا بلکہ بیوروکریٹک نظام کی بنیادوں پر آئینی سوالات بھی اٹھا دیے۔ اس خط نے وہ پردہ چاک کر دیا جس کے پیچھے کئی سالوں سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پروونشل مینجمنٹ سروس کے درمیان ایک خاموش مگر گہری جنگ جاری تھی۔

پنجاب میں بیوروکریسی کے ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کاغذ پر اور عمل میں کیا فرق ہے۔ کاغذ پر کوٹے کا نظام موجود ہے۔ گریڈ سترہ سے اکیس تک پی ایم ایس کا کوٹا ہے جبکہ گریڈ بائیس مکمل طور پر پی اے ایس کے لیے مخصوص ہے۔ پنجاب میں سترہ سے بائیس گریڈ تک پانچ ہزار کے قریب افسران ہیں جن میں چار سو پچاس کے لگ بھگ پی اے ایس اور بارہ سو پی ایم ایس شامل ہیں۔ پی ایم ایس کا حصہ تعداد میں زیادہ ہے لیکن اختیار کے لحاظ سے معاملہ الٹ ہے۔ عملاً صوبے کے سب سے اہم عہدے پی اے ایس کے پاس ہیں۔ اس وقت صوبے کے اسی فیصد کمشنر اور سیکریٹری پی اے ایس ہیں۔ ستر فیصد سے زائد اضلاع میں ڈپٹی کمشنر گریڈ اٹھارہ کے پی اے ایس افسر ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کی سطح پر بھی پی اے ایس کی ترجیح دیکھی جا رہی ہے۔ پی ایم ایس افسران کا شکوہ یہی ہے کہ ان کا کوٹا پورا نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق گریڈ سترہ سے اکیس تک کی بہت سیٹیں یا تو خالی پڑی ہیں یا انہیں پی اے ایس افسران سے پر کر دیا گیا ہے۔ پی ایم ایس ایسوسی ایشن بارہا کہہ چکی ہے کہ سروس رولز پر سختی سے عمل کیا جائے اور صوبائی افسران کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

اس تنازعے کو مزید ہوا اس وقت ملی جب صوبائی سلیکشن بورڈ ایک سال سے زائد عرصے تک نہیں بلایا گیا۔ اس بورڈ کا کام پی ایم ایس افسران کی اگلے گریڈ میں ترقیوں کی منظوری دینا ہے۔ بورڈ کے نہ ہونے سے درجنوں افسران کی ترقیاں لٹک گئیں۔ پی ایم ایس کا الزام ہے کہ بورڈ کی سربراہی چیف سیکریٹری کرتے ہیں جو خود پی اے ایس سے ہوتے ہیں اور بورڈ میں پی ایم ایس کی نمائندگی صرف ایک رکن تک محدود ہے۔ اس عدم توازن کی وجہ سے فیصلے پی اے ایس کے حق میں جاتے ہیں۔ دوسری طرف پی اے ایس کا موقف یہ ہے کہ ان کی ٹریننگ کا دائرہ وسیع ہے اور وہ قومی و بین الاقوامی سطح کے معاملات کو بہتر سمجھتے ہیں اس لیے سینئر انتظامی عہدوں پر ان کی موجودگی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کو مربوط رکھنے کے لیے وفاقی کیڈر کا صوبوں میں کردار اہم ہے۔

حالیہ دنوں میں ایک اور اقدام نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ حکومت نے ایک سو ایک ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کی نئی سیٹیں بنا دیں اور اتنی ہی سیکشن افسر کی پوسٹیں ختم کر دیں۔ سرکاری موقف یہ پیش کیا گیا کہ ای فائلنگ کے دور میں سیکشن افسر کی روایتی ضرورت کم ہو گئی ہے اور اب نوجوان پی ایم ایس افسران کو فیلڈ میں بھیج کر اسکولوں ہسپتالوں اور دیگر سرکاری اداروں کی مانیٹرنگ کا کام لیا جائے گا۔ لیکن پی ایم ایس کی قیادت اسے ایک منصوبہ بند سازش قرار دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ایم ایس افسران کو ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر بنا کر انہیں فیلڈ کی مصروفیات میں الجھا دیا جائے گا تاکہ سیکریٹریٹ اور پالیسی سازی والی کلیدی پوسٹیں پی اے ایس کے پاس رہیں۔ یہاں سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا صوبائی کیڈر کو جان بوجھ کر فیصلہ سازی سے دور رکھا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں وہ کھلا خط سامنے آیا جس نے معاملے کو مزید سنگین کر دیا۔

سینئر پی ایم ایس افسر طارق محمود اعوان نے چیف سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں اپنی تین سالہ او ایس ڈی کی مدت کا حوالہ دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود انہیں جان بوجھ کر پوسٹنگ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے چیف سیکریٹری کی اپنی تعیناتی کو بھی آئین کے آرٹیکل دو سو چالیس بی اور پی سی ایس ایکٹ انیس سو چوہتر کے تحت غیر آئینی قرار دیا۔ خط کے آخر میں انہوں نے کرسٹوفر مارلو کے ڈرامے ڈاکٹر فاسٹس کا حوالہ دے کر طاقت کے غلط استعمال پر تنبیہ بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں قبضے کو قانون مان لیا گیا ہے جس کی نہ کوئی اخلاقی اور نہ قانونی حیثیت ہے۔

یہ خط محض ایک افسر کی ذاتی شکایت نہیں تھا بلکہ اس نے پورے نظام کے آئینی جواز پر سوال اٹھا دیا۔ اسمبلی میں یہ معاملہ اس وقت مزید بڑا ہو گیا جب اراکین نے مطالبہ کیا کہ ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے جو یہ جانچے کہ وفاقی افسران کی صوبائی پوسٹوں پر تعیناتی کی آئینی بنیاد کیا ہے اور کیا اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی وفاق کا اس طرح مداخلت کرنا جائز ہے۔ پی ایم ایس کی طرف سے ایسوسی ایشن آف ایڈمنسٹریٹو فیڈرلزم بھی سرگرم ہے جس نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر کہا کہ وفاقی افسران کو صرف وفاقی فہرست کے معاملات تک محدود رکھا جائے۔ ان کا موقف ہے کہ اٹھارہویں ترمیم نے وفاق اور صوبوں کے قانون ساز انتظامی اور مالی اختیارات کو واضح طور پر الگ کر دیا ہے اور کسی بھی قسم کی تجاوز اس وفاقی ڈھانچے کو عملاً مرکزیت کی طرف دھکیل رہی ہے۔

یہ سارا تنازع دراصل دو مختلف فلسفوں کا تصادم ہے۔ ایک طرف وہ نظریہ ہے جو مرکزیت اور ایک مربوط وفاقی سروس کو ملک کے استحکام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ دوسری طرف وہ مطالبہ ہے جو اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری اور مقامی کیڈر کے حقوق پر زور دیتا ہے۔ پی ایم ایس افسران خود کو صوبے کا بیٹا کہتے ہیں جو مقامی مسائل کو بہتر جانتے ہیں جبکہ پی اے ایس افسران اپنے آپ کو قومی ویژن کا امین قرار دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب تک کوٹے پر عمل درآمد شفاف نہیں ہو گا اور ترقیوں کے نظام میں تاخیر رہے گی یہ کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھتی رہے گی۔ او ایس ڈی کلچر نے پہلے ہی درجنوں افسران کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیا ہے اور اب نئی پوسٹوں کی تخلیق نے پرانے زخموں کو کرید دیا ہے۔

پنجاب کی گورننس کے لیے یہ جنگ مہنگی پڑ سکتی ہے کیونکہ جب انتظامیہ خود اندرونی لڑائی میں الجھ جائے تو عوامی خدمت پیچھے رہ جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سروس رولز کو واضح کیا جائے، پروموشن بورڈ کو باقاعدہ کیا جائے اور کوٹے پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ اہلیت اور قانون کے مطابق فیصلے ہوں نہ کہ کیڈر کی بنیاد پر۔ بصورت دیگر یہ کولڈ وار مزید گرم ہوتی جائے گی اور اس کا نقصان بالآخر عام شہری کو اٹھانا پڑے گا جو ایک بہتر اور تیز تر انتظامی نظام کا منتظر ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW