بلاگ

توانائی کے تحفظ اور پائیدار ترقی کا سستا ذریعہ

Muhammad Faisal lahore

پاکستان کو کئی برس سے توانائی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ تیزی سے بڑھتی آبادی، صنعتی ترقی اور بجلی کی طلب میں اضافے نے ملک میں توانائی کے وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ روایتی طور پر پاکستان بجلی پیدا کرنے کے لیے زیادہ تر معدنی ایندھن جیسا کہ تیل، گیس اور کوئلے پر انحصار کرتا رہا ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے نقصان دہ ہونے کے ساتھ مہنگے بھی ہیں۔

ایسے حالات میں ہوا سے حاصل کی جانے والی توانائی ملک میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک موثر اور پائیدار ذریعہ ہو سکتی ہے۔ یہ ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی ہے جو نہ صرف پاکستان کو درپیش بجلی بحران پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ اس سے معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔

ہوا سے حاصل کی جانے والی توانائی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ قابل تجدید ہوتی ہے اور قدرتی طور پر مسلسل دستیاب رہتی ہے۔ پاکستان میں خاص طور پر صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے اس مقصد کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ تقریباً 180 کلومیٹر پر پھیلے ان علاقوں میں ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اگر پاکستان ایسے علاقوں میں ہوائی توانائی کے پلانٹ نصب کرے تو درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

ہوائی توانائی کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ اس کی بدولت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی آتی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی رفتار سست کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے (یو این ای پی) کے مطابق، پاکستان کا شمار 10 ایسے ممالک میں ہوتا ہے جو سیلاب، شدید گرمی اور خشک سالی جیسے موسمیاتی خطرات سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

معدنی ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے عمل میں بڑی مقدار میں کاربن اور دیگر نقصان دہ گیسیں فضا میں شامل ہو جاتی ہیں جو عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ اس کے برعکس ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے ایندھن جلانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور ماحول کے لیے مضر گیسیں خارج نہیں ہوتیں۔

اگرچہ ہوائی توانائی کے پلانٹ کی تعمیر کے ابتدائی اخراجات زیادہ ہو سکتے ہیں لیکن طویل مدتی طور پر یہ توانائی کے حصول کا نہایت کم خرچ ذریعہ ہے۔

جب ایک مرتبہ ہوائی چکیاں (ونڈ ٹربائن) نصب ہو جائیں تو بجلی پیدا کرنے کی لاگت نسبتاً کم ہو جاتی ہے کیونکہ ہوا ایک مفت قدرتی وسیلہ ہے۔ علاوہ ازیں، ان کی دیکھ بھال اور انہیں چلانے کے اخراجات بھی روایتی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع کی نسبت کم ہوتے ہیں۔ اس طرح ملک میں توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان کو اکثر بجلی کی کمی کا سامنا رہتا ہے جس سے گھریلو زندگی، کاروبار اور صنعتیں برابر متاثر ہوتی ہیں۔ تیل اور گیس کی درآمد پر زیادہ انحصار ملک کو عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور رسد کی غیر یقینی صورتحال سے پیدا ہونے والے معاشی خطرات سے دوچار کر دیتا ہے۔ ہوائی توانائی کی بدولت مقامی سطح پر بڑی مقدار میں بجلی پیدا کر کے توانائی کی فراہمی کو زیادہ مستحکم اور قابل بھروسا بنایا جا سکتا ہے۔

ہوائی توانائی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ ونڈ فارمز کی تعمیر، تنصیب اور دیکھ بھال کے لیے ماہر افرادی قوت درکار ہوتی ہے جس سے انجینئروں، تکنیکی عملے اور مقامی مزدوروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے منصوبے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی متوجہ کرتے ہیں جس سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔

اس توانائی کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ اس کے لیے پانی کی ضرورت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ روایتی تھرمل پاور پلانٹ کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں ہوائی توانائی ایک ایسا متبادل فراہم کرتی ہے جو قیمتی آبی وسائل کو محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

عموماً ونڈ فارم کھلے دیہی یا کم ترقی یافتہ علاقوں میں قائم کیے جاتے ہیں جس سے علاقائی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔ ان کی تعمیر کے ساتھ سڑکیں، بجلی کی ترسیلی لائنیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے بھی ترقی پاتے ہیں۔ نتیجتاً، مقامی آبادی کو بہتر سہولیات ملتی ہیں، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور نچلی سطح پر معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

موزوں جغرافیائی خصوصیات اور ہوائی گزرگاہوں کی بدولت پاکستان کے پاس اس توانائی کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اگر بجلی کے اس ذریعے پر سرمایہ کاری کی جائے تو ماحول دوست، قابل بھروسا اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی جانب نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW