میرے مطابق

کیا آپ مر چکے ہیں؟

aabida ali

چین میں حالیہ دنوں ایک موبائل ایپ ”Are You Dead؟“ (چینی نام: Sileme) کا وائرل ہونا محض کسی تکنیکی جدت یا انفرادی سہولت کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ جدید سرمایہ دارانہ معاشرے میں انسانی رشتوں کے زوال، سماجی تنہائی اور اجتماعی نظام کے انہدام کی ایک گہری علامت ہے۔ اس ایپ کا بنیادی مقصد اکیلے رہنے والے افراد کی زندگی کی نگرانی ہے : اگر صارف مخصوص مدت میں ”چیک اِن“ نہ کرے تو ایپ خودکار طور پر اس کے قریبی رابطوں کو اطلاع بھیج دیتی ہے۔

بظاہر یہ ایپ ایک حفاظتی سہولت معلوم ہوتی ہے، مگر سماجی سائنس اور تنقیدی نظریات کی روشنی میں یہ ایک نہایت خوفناک حقیقت کو آشکار کرتی ہے :

ایسا معاشرہ جہاں انسان کے زندہ ہونے کی تصدیق بھی ڈیجیٹل نظام اور سبسکرپشن ماڈل کے ذریعے کی جاتی ہو۔

تحقیقی اعداد و شمار اس بات کی واضح تصدیق کرتے ہیں کہ چین میں تنہا رہنے کا رجحان محض انفرادی طرزِ زندگی کا انتخاب نہیں رہا، بلکہ ایک ساختی (Structural) سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ سماجی و آبادیاتی مطالعات کے مطابق 2030 تک چین میں تقریباً 200 ملین افراد ایک۔ شخصی گھرانوں میں رہ رہے ہوں گے۔ شہری علاقوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شادی، خاندان اور طویل مدتی رشتوں سے دور ہو رہی ہے، جبکہ بزرگ آبادی کا نمایاں حصہ یا تو مکمل طور پر اکیلا ہے یا صرف شریکِ حیات کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔

یہ تبدیلیاں کسی اخلاقی یا ثقافتی کمزوری کا نتیجہ نہیں، بلکہ طویل اوقاتِ کار، شدید مسابقتی ملازمتیں، رہائشی بحران، اور خاندانی نظام کی معاشی بنیادوں کے کمزور ہونے جیسے عوامل کی پیداوار ہیں، جو براہِ راست سرمایہ دارانہ پیداوار کے ڈھانچے سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے :

آج کا انسان تاریخ کے کسی بھی دور سے زیادہ آن لائن جڑا ہوا ہے، مگر اسی تناسب سے سماجی طور پر زیادہ تنہا بھی ہے۔

تحقیقی مطالعات کے مطابق سوشل میڈیا نے رشتوں کی گہرائی کو کم اور ان کی نمائش کو بڑھا دیا ہے۔ ”کمیونٹی“ اب ایک ڈیجیٹل تصور بن چکی ہے، جس کا حقیقی باہمی تعاون اور عملی ربط سے تعلق کمزور ہو چکا ہے۔ نتیجتاً انسان ”اکیلا رہنے“ سے بھی زیادہ خطرناک مرحلے، یعنی تنہائی محسوس کرنے (Loneliness) کا شکار ہو رہا ہے۔

چین کی یہ ایپ اسی تنہائی کو ”منیج“ کرنے کی کوشش ہے، مگر کسی گہرے سماجی مسئلے کا حل محض ایک تکنیکی آلے کے ذریعے تلاش کرنا بذاتِ خود اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان اب تک بظاہر ایک مضبوط خاندانی اور اجتماعی معاشرت کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے، مگر شہری مراکز میں رونما ہونے والی تبدیلیاں قابلِ غور ہیں۔ بڑے شہروں میں نوجوانوں کی انفرادی رہائش میں اضافہ ہو رہا ہے، معاشی دباؤ کے باعث خاندان سکڑ رہے ہیں، سوشل میڈیا تعلقات کو سطحی بنا رہا ہے، اور ذہنی دباؤ، اضطراب اور سماجی بے گانگی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

اگرچہ پاکستان اس مرحلے تک نہیں پہنچا جہاں ”Are You Dead؟“ جیسی ایپس کی سماجی ضرورت محسوس کی جائے، مگر موجودہ ساختی حالات اسی سمت اشارہ کرتے ہیں۔ خصوصاً اگر معاشی ناہمواری اور شہری تنہائی کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔

مارکسسٹ نقطۂ نظر اس مسئلے کو فرد کی نفسیات نہیں، بلکہ معاشی ڈھانچے کی پیداوار سمجھتا ہے۔ سرمایہ داری ہر انسانی مسئلے کو منڈی کے ایک نئے موقع میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ ایپ انسانی عدم تحفظ کو فروخت کرتی ہے، سماجی رشتوں کی جگہ ڈیجیٹل الرٹ فراہم کرتی ہے، اور زندگی و موت جیسے بنیادی انسانی تجربات کو بھی ڈیٹا پوائنٹس میں بدل دیتی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام فرد کو خاندان سے الگ، کمیونٹی سے کٹا ہوا اور مسلسل مقابلے میں مصروف رکھتا ہے۔ نتیجتاً انسان اجتماعی تحفظ سے محروم ہو کر اپنی بقا کے لیے ایپس، سروسز اور منڈی پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرہ اخلاقی نہیں، بلکہ ساختی طور پر خوفناک بن جاتا ہے۔

اس بحران کا حل انفرادی نہیں، بلکہ اجتماعی ہے۔ ریاستی سطح پر بزرگوں، تنہا افراد اور مزدوروں کے لیے مضبوط سماجی تحفظ، کمیونٹی سینٹرز اور مشترکہ رہائش کے منصوبے، کم اوقاتِ کار اور بہتر اجرت، اور رہائش، صحت اور ذہنی صحت کو منڈی سے نکال کر عوامی حق بنانا ناگزیر ہے۔

انسان بنیادی طور پر ایک سماجی وجود ہے۔ کوئی ایپ، کوئی الگورتھم اس خلا کو پُر نہیں کر سکتا جو اجتماعی زندگی کے خاتمے سے پیدا ہوتا ہے۔

چین کی ”Are You Dead؟“ ایپ ایک تکنیکی سہولت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ جدید سرمایہ دارانہ سماج کے اس مرحلے کی علامت ہے جہاں انسان کے زندہ ہونے کی تصدیق بھی ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے آتی ہے۔ اگر پاکستان اور دیگر معاشرے اس تجربے سے سبق نہ سیکھا، تو تنہائی، اجنبیت اور ڈیجیٹل نگرانی ہماری آئندہ سماجی حقیقت بن سکتی ہے

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW