بلاگ

پاکستان کے سینیٹیشن ورکرز :ساختی جبر، سماجی امتیاز اور ریاستی بے حسی کا زندہ المیہ

aabida ali

سینیٹیشن ورکر ہماری گلیوں، سڑکوں اور شہروں کو صاف رکھتے ہیں کیا ہم اُن انسانوں کے لیے بھی وہی وقار، تحفظ اور انصاف چاہتے ہیں جو ہمارے لیے روزانہ یہ خدمات فراہم کرتے ہیں؟ پاکستان کے تناظر میں یہ سوال محض خدمات کے اعتراف کا نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی و ریاستی بحران پر غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے ایک ایسا بحران جس میں سینیٹیشن ورکرز نہ صرف معاشی استحصال بلکہ ساختی جبر، سماجی امتیاز اور قانونی بے توجہی کا شکار ہیں

پاکستان میں سینیٹیشن ورکر ہونا محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی و معاشی جبر ہے جو تاریخ، طبقہ، مذہب اور ریاستی ترجیحات کے باہمی امتزاج سے تشکیل پاتا ہے۔ پاکستان میں سینیٹیشن ورکرز کی بڑی تعداد کی عمر 15 سے 60 سال کے درمیان ہے، جبکہ نصف سے زائد افراد بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ یہ تعلیمی محرومی انہیں بہتر روزگار کے مواقع سے دور رکھتی ہے اور غربت و استحصال کا ایک ایسا چکر قائم کرتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (قومی کمیشن برائے انسانی حقوق) ، ایمنسٹی انٹرنیشنل (بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم) اور دیگر تحقیقاتی رپورٹس یہ واضح کرتی ہیں کہ سینیٹیشن ورکرز کی ایک بڑی تعداد ریاستی پالیسی سازی میں عملاً ”غیر مرئی“ ہے۔ ان کے حالاتِ کار، تعداد اور حقوق سے متعلق کوئی جامع اور قابلِ اعتماد ڈیٹا موجود نہیں، جو اس افسوسناک حقیقت کا غماز ہے کہ یہ طبقہ ادارہ جاتی ترجیحات میں شامل نہیں۔

عالمی ادارہ محنت کے مطابق ہر مزدور کو محفوظ ماحول، مناسب اجرت اور سماجی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ پاکستان کا آئین بھی زندگی اور مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت زندگی کے حق اور آرٹیکل 25 کے تحت قانون کے مساوی تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، لہٰذا سینیٹیشن ورکرز کو ان بنیادی حقوق سے محروم رکھنا آئینی تقاضوں کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ آئے دن صفائی کرنے والے مزدور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے حادثاتی اموات کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ مزدور اکثر معاشی مجبوری کے تحت ایسے کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جو نہ صرف خطرناک بلکہ جان لیوا ہوتے ہیں۔ گٹروں میں اترنا، زہریلی گیسوں کا سامنا کرنا، اور بغیر کسی تربیت یا حفاظتی اقدامات کے کام کرنا ان کے روزمرہ کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان میں صفائی کا شعبہ اب بھی ایسے غیر محفوظ طریقوں پر انحصار کر رہا ہے جنہیں عالمی سطح پر متروک قرار دیا جا چکا ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی مخصوص قانون موجود نہیں گٹر کی مینول صفائی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دے یا سینیٹری ورکرز کے حقوق کا جامع تحفظ فراہم کرے۔ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ محض انفرادی حادثات نہیں بلکہ ایک منظم اور ساختی ناکامی کا نتیجہ ہیں، جہاں ریاست اور ادارے مزدوروں کی جان کے تحفظ میں مسلسل ناکام نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان کی قومی پالیسی اب فرسودہ ہو چکی ہے، جبکہ صوبائی سطح پر یا تو ایسی پالیسیاں سرے سے موجود نہیں، یا پھر ان کی منظوری اور موثر عمل درآمد تاحال التوا کا شکار ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اب تک کسی جامع اور یکساں صوبائی فریم ورک کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث صفائی کے شعببے سے منسلک محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ایک غیر مربوط اور کمزور ڈھانچے کے تحت ہو رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل (بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم) اور دیگر تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق صفائی کا پیشہ پاکستان میں محض معاشی نہیں بلکہ گہرے سماجی تعصبات سے جڑا ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اقلیتوں کے لیے مختص نوکریوں کا بڑا حصہ یا تو خالی رہتا ہے یا پھر جو آسامیاں پُر کی جاتی ہیں ان میں تقریباً 80 فیصد غیر مسلم افراد کو کم اجرت والے صفائی کے کام تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ یہ عمل ”ذات کی بنیاد پر درجہ بندی“ کو تقویت دیتا ہے، جہاں مخصوص برادریوں کو گندگی اور ”ناپاک“ سمجھے جانے والے کاموں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ امتیاز کی یہ شکل صرف مسیحیوں تک محدود نہیں بلکہ سندھ میں ہندو دلت برادری اور بعض مسلم ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اسی طرح کے تعصب اور سماجی علیحدگی کا سامنا کرتے ہیں۔ کئی صورتوں میں انہیں الگ بستیوں میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور ان کے ساتھ سماجی میل جول محدود رکھا جاتا ہے۔ ٹھیکہ داری کے نظام نے صفائی کارکنان کے استحصال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت مزدوروں کو غیر رسمی بنیادوں پر رکھا جاتا ہے، جس کے باعث وہ مستقل ملازمت، سوشل سکیورٹی، طبی سہولیات اور ریٹائرمنٹ فوائد سے محروم رہتے ہیں۔ اکثر انہیں کم از کم اجرت سے بھی کم معاوضہ دیا جاتا ہے، اور کسی حادثے کی صورت میں نہ مناسب معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی قانونی تحفظ۔

اس تناظر میں ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک جامع پالیسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا ہے، جس کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ صفائی کے شعبے سے وابستہ کارکنان کو دیگر مزدور طبقات کی طرح مکمل قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ مجوزہ پالیسی اقدامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ صفائی کارکنان کی ملازمت کو باقاعدہ (ریگولرائز) کیا جائے، انہیں کم از کم اجرت کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے، اور لونگ ویج یعنی ”باوقار اجرت کی“ کے حصول کے لیے واضح حکمتِ عملی وضع کی جائے۔ مزید برآں، سوشل سکیورٹی، صحت کی سہولیات، اور ریٹائرمنٹ فوائد کی فراہمی کو لازمی قرار دیا جائے۔ کام کے دوران حادثات کی صورت میں مناسب معاوضہ، صحت و سلامتی کے موثر انتظامات، اور خطرناک کاموں خصوصاً گٹروں کی صفائی کے لیے مشینوں کے استعمال کو یقینی بنانا بھی اس پالیسی کے کلیدی نکات میں شامل ہے۔ اس سے نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے بلکہ اس پیشے کو زیادہ محفوظ اور باوقار بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ہزاروں ورکرز اب بھی بغیر حفاظتی آلات کے کام کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ ہر سال متعدد اموات زہریلی گیسوں اور غیر محفوظ حالات کے باعث رپورٹ ہوتی ہیں جن میں سے کئی واقعات سرکاری ریکارڈ کا حصہ بھی نہیں بن پاتے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ریاست فوری، مربوط اور سنجیدہ اقدامات کرے، ورکرز ہمارے شہروں کی صحت اور بقا کے ضامن ہیں، مگر خود ایک ایسے نظام میں زندہ ہیں جو انہیں نظرانداز کرتا ہے، غیر محفوظ بناتا ہے اور وقار چھین لیتا ہے۔ جب تک ریاست اپنی ترجیحات کو ازسرِ نو ترتیب نہیں دیتی، قوانین کو موثر نہیں بناتی، اور سماج اپنے تعصبات کا سامنا نہیں کرتا تب تک یہ المیہ جاری رہے گا۔ کیونکہ صفائی صرف گلیوں کی نہیں، بلکہ ہمارے نظام، پالیسیوں اور اجتماعی ضمیر کی بھی ضروری ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW