کالم۔

فتوے مر رہے ہیں

hashir irshad

نیل ڈی گراس ٹائی سن نے کہا تو خدا کے تصور کے بارے میں تھا کہ یہ تصور انسان کی اس لاعلمی کا مظہر ہے جو روز بہ روز کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بات قریباً ہر اس تصور پر لاگو ہوتی ہے جو نامعلوم کی سرحد کے آس پاس مقیم ہے۔ انسان کی زندگی اس نیلی گیند پر بہت مختصر ہے۔ بہت کچھ ہم نے کھوج لیا ہے اور بے حد و بے شمار ابھی ہماری تشریح سے باہر ہے لیکن ہمارا ذہن یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ہر شے آج ہی معلوم کے دائرے میں نہیں آ سکتی۔

یہ نامعلوم خوف کی دکان کا سب سے اچھا سودا ہے۔ ہر دور میں اس کو بیچنے کے لیے لوگ رہے ہیں، ادارے بنے ہیں، کلٹ تک تشکیل پا گئے ہیں۔ کبھی یہ کام نجومی کرتے رہے، کبھی کاہن تو کبھی درباری عالم جو بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتانے پر مامور تھے۔ نامعلوم کی تشریح کرتے کرتے بات لوگوں سے بڑھ کر ادارہ جاتی تشکیل تک پہنچ گئی۔ اسے کلیسا کہہ لیجیے کہ منبر، بات ایک ہی ہے۔

جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ شعور اجتماعی منجمد نہیں رہتا۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ سیکھتا ہے۔ علم نامعلوم کو مٹاتا چلا جاتا ہے۔ یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ جو ادارے اور جو لوگ علم کے ساتھ آگے بڑھے، وہ زندہ رہے، وہ زندہ رہیں گے۔ جو ادارے اور لوگ جامد رہے اور جنہوں نے علم کو باہر کھڑا رکھا، وہ وقت کے قبرستان میں ایک کتبہ بن کر رہ گئے، شاید اپنے مداحین کی تکریم کے قابل، مگر فیصلہ سازی کے قابل ہر گز نہیں۔ آج ہمارے مفتی اور ان کے فتوے بھی اسی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں وقت کا قبرستان ان کا کتبہ تیار کر رہا ہے۔

فتوی کہنے کو تو رائے ہے لیکن جبہ و دستار اسے حکم بنا کر پیش کرتا ہے۔ اور ایسے احکامات کی اب جدید دنیا میں جگہ نہیں ہے۔ کسی بھی مذہب کے فتوے کی کہیں کوئی جگہ نہیں ہے۔ مسئلے غسل اور مباشرت سے آگے نکل آئے ہیں۔ اب مسئلے ہیں کرپٹو کرنسی کے، مالیاتی انسٹرومنٹس کے، مصنوعی ذہانت کے، ٹیکنالوجی کے، نظام شمسی سے آگے کھوجی جانے والی کائنات کے، بائیو سائنسز کے، جینیاتی تغیر کے۔ ہزاروں سال پرانے منجمد فلسفے اس دنیا کو نہ سمجھ سکتے ہیں نہ اس پر فیصلے صادر کر سکتے ہیں۔

مجھے اس پر شک نہیں کہ عقیدے کو قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف اشخاص اور ادارے شاید واقعی یہ سمجھتے ہوں کہ وہ کوئی اہم ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ اسی لیے وہ خم ٹھونک کر فتاوی جات کے دفاع میں اتر آتے ہیں۔ لیکن ان کے استدلال نہ اب منطقی رہے ہیں نہ متعلق رہے ہیں۔

مثال کے طور پر وہ آج بھی یہی کہتے ملتے ہیں کہ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کیا ممکن ہے، پر یہ نہیں بتاتی کہ کیا کرنا چاہیے۔ جینیاتی تدوین ممکن ہے، پر کیا انسانی جنین میں تبدیلی اخلاقی ہے؟ مصنوعی ذہانت ممکن ہے، پر کیا اسے جنگ میں استعمال کرنا چاہیے؟ وہ بار بار یہی سوال اخلاق کی لاٹھی کی ٹیک لگائے دہراتے ہیں۔ اس میں بھی شبہ نہیں کہ یہ اخلاقی سوالات ہیں اور مذہب صدیوں سے اخلاقیات کی زبان بولتا بھی آیا ہے۔ اس اعتراض میں بہ ظاہر وزن بھی ہے۔ لیکن ذرا اسے کنگھالیے تو حقیقت مختلف ہے۔

میں ان کے بولنے کے حق پر قدغن کا قائل نہیں چاہے ان کی بات سے مکمل غیر متفق رہوں۔ ترقی یافتہ معاشرے بھی مذہبی روایت سے مکمل طور پر بے نیاز نہیں ہیں، وہ مختلف اخلاقی روایات پر بات سنتے ہیں۔ مذہبی روایات کے علم برداروں کو بھی اپنی رائے رکھنے کا موقع دیتے ہیں۔ پھر فرق کہاں ہے۔ تو سمجھ لیجیے کہ سوال مذہب کی رائے سننے کا نہیں، مذہب کے فیصلے کو حتمی اور لازمی قرار دینے کا ہے، یہ ہے فرق۔

ذرا ترقی یافتہ دنیا کا نقشہ دیکھیے۔ آئرلینڈ، جو گزشتہ صدی تک ویٹیکن کے سب سے زیادہ فرمانبردار ممالک میں شمار ہوتا تھا، نے 2015 ء میں ریفرنڈم کے ذریعے ہم جنس شادی کو قانونی حیثیت دی اور 2018 ء میں اسقاط حمل پر پابندی ختم کی۔ کیتھولک کلیسا نے دونوں مواقع پر شدید مخالفت کی، جلوس نکالے، بشپوں نے خطبے دیے، مگر رائے شماری کا نتیجہ اس کے برعکس آیا۔

برطانیہ میں انسانی تولید اور جنین سے متعلق ہر بڑا فیصلہ، آئی وی ایف سے لے کر جینیاتی تدوین تک، ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی نامی ایک سائنسی و قانونی ادارہ کرتا ہے، آرچ بشپ آف کینٹربری کا دفتر نہیں۔ ان کے پاس کوئی مسیحی نظریاتی کونسل نہیں ہے۔

جنوبی کوریا میں 2005 ء کے مشہور سٹیم سیل کلوننگ سکینڈل کی تحقیقات سائنسی جائزہ کمیٹیوں نے کیں، کسی بدھ مت کے راہب یا عیسائی پادری کو اس عمل میں کوئی کردار نہیں دیا گیا حالانکہ ملک میں دونوں مذاہب کے پیروکار موجود ہیں۔

چین میں جب 2018 ء میں سائنسدان ہی جیانکوئی نے انسانی جنین میں جینیاتی تدوین کر کے دنیا کو حیران کیا تو اس پر مذمت کسی مفتی یا راہب کی طرف سے نہیں، عالمی سائنسی برادری اور بائیو ایتھکس کے ماہرین کی طرف سے آئی، اور بالآخر سزا بھی ایک عدالت نے دی، کسی مذہبی عدالت نے نہیں۔

جاپان کا خلائی ادارہ جیکسا ہو یا امریکہ کا ناسا، نظام شمسی سے آگے کا سفر کسی شیخ الاسلام یا چیف ربی کی اجازت کا محتاج نہیں رہا۔

اب اسی نقشے کا دوسرا رخ دیکھیے۔ فرق بھی تو سمجھنا ہے۔

ایران کے آئین میں ایک آئینی نگہبان کونسل باقاعدہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی منظور کردہ کسی بھی قانون کو، خواہ وہ سائنسی پالیسی ہی کیوں نہ ہو، شرعی بنیاد پر مسترد کر دے۔

افغانستان میں طالبان نے خواتین سائنسدانوں، طالبات اور جامعات کو تعلیم کے دروازے سے باہر نکال دیا، گویا مستقبل کی سائنس سے آدھی آبادی کو خود ہی خارج کر دیا۔ دلیل کہاں سے آئی، مذہب کی تشریح سے۔

ہمارے اپنے ملک میں پولیو ویکسین پر برسوں فتوے صادر ہوتے رہے، اسے مغرب کی سازش اور مسلمانوں کی نسل کشی کا منصوبہ قرار دیا گیا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ وہی بچے جو ایک قطرے سے زندگی بھر کی معذوری سے بچ سکتے تھے، وہیل چیئر پر بیٹھ گئے، اور وہ صحت کارکن جو یہ قطرے پلانے گھر گھر گئے، ان میں سے بہت سوں نے اپنی جان سے ہاتھ دھو دیے۔

اور اب شیخ الاسلام نے کرپٹو کرنسی کو حرام قرار دے دیا ہے، البتہ یہ لکھ لیجے کہ کہانی موڑ لے گی، جلد ہی لے گی، ملاقاتیں شروع ہو گئی ہیں۔ مجھے یقین کامل ہے کہ کرپٹو کا شرعی بورڈ زیر تعمیر ہے۔ حرام سے حلال کا سفر کچھ مراعات کی مار ہے۔

ادھر ال سلواڈور جیسے چھوٹے اور غریب ملک نے 2021 ء میں بٹ کوائن کو قانونی کرنسی تسلیم کیا تو یہ فیصلہ اس کی معیشت اور خزانے کی وزارت نے کیا، کسی چرچ یا مسجد سے اجازت لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ کسی وزیر کو کسی پادری کے در پر حاضری نہیں دینی پڑی۔

بات سادہ ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں عقیدہ اور پیشوا اس لیے غیر متعلق نہیں ہوئے کہ وہاں مذہب ختم ہو گیا، کلیسا اب بھی آباد ہیں، آئرلینڈ میں لوگ اب بھی چرچ جاتے ہیں، امریکہ اور برطانیہ میں مذہبی جذبہ آج بھی زندہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ ان معاشروں نے دو دائروں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ ایک طرف عقیدہ اور نجی اخلاقیات کا دائرہ ہے، دوسری طرف علم، پالیسی اور سائنسی فیصلوں کا دائرہ۔

پیشوا کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی جماعت کو نصیحت کرے، یہ حق نہیں کہ وہ جینیاتی تحقیق پر پابندی کی قرارداد پاس کرا سکے۔ جہاں یہ لکیر نہیں کھینچی گئی، وہاں آج بھی نجومی ہیں، کاہن ہیں۔ ہم انہیں مفتی کہتے ہیں۔ وہی توہم پرستی ہے بس اصطلاحات بدل گئی ہیں۔

یہ لکیر جو نہیں کھینچی گئی، اس کا سب سے بھاری نقصان ہمیشہ اسی کمزور طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے جو نہ فتویٰ دیتا ہے نہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کا نقصان اس بچی کا ہے جو پولیو کے قطرے سے محروم رہ کر عمر بھر کے لیے ٹانگ گھسیٹنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس کا نقصان اس صحت کارکن کا ہے جو بچوں کو بیماری سے بچانے نکلتی ہے اور کبھی واپس نہیں لوٹتی۔ اس کا نقصان اس افغان طالبہ کا ہے جو ڈاکٹر بننا چاہتی ہے اور سکول کے دروازے سے واپس بھیج دی جاتی ہے۔ اس کا نقصان اس نوجوان سرمایہ کار کا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ عربی اصطلاحات سے بھری دستاویز پر دستخط ہونے سے سٹے بازی کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا نقصان اس پوری نسل کا ہے جو یہ سیکھنے کے بجائے کہ مصنوعی ذہانت اور جینیاتی سائنس کے دور میں کیسے آگے بڑھنا ہے، یہ سیکھنے میں الجھی رہتی ہے کہ فلاں نئی ایجاد جائز ہے یا ناجائز۔

ترقی یافتہ دنیا میں مذاہب اور عقیدے اور ان کے ٹھیکے دار اب سائنس، ٹیکنالوجی اور مالیاتی نظام کی فیصلہ سازی سے باہر ہو چکے ہیں۔ صرف اسلام نہیں، عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت، سب کے لیے لکیر کھینچ دی گئی ہے۔

کسی راہب نے جاپان کی روبوٹکس پالیسی نہیں بنائی، کسی ربی نے اسرائیل کی ٹیکنالوجی برآمدات پر ویٹو نہیں کیا، کسی پنڈت نے بھارت کے چاند مشن پر فتویٰ صادر نہیں کیا۔ یہ سب مذاہب آج بھی اپنے پیروکاروں کے دلوں میں زندہ ہیں، عبادت گاہیں آباد ہیں، تہوار منائے جاتے ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی اب یہ طے نہیں کرتا کہ لیبارٹری میں کیا ہونا چاہیے۔ مالیاتی انسٹرومنٹس کیسے تشکیل پانے چاہئیں۔ تحقیق کی دنیا کی سمت کیا ہونی چاہیے۔ یہی وہ فرق ہے جو کسی معاشرے کی ترقی اور پسماندگی کے درمیان اصل حد بندی کرتا ہے۔

اس کے برعکس جو دنیا ابھی تک ترقی سے خوفزدہ ہے، جو جہالت کی اسیر ہے، جو توہمات میں جکڑی ہوئی ہے، وہاں آج بھی فتوے سب سے اہم ہیں اور فتوے دینے والے ملکی پالیسی میں دخیل۔ اس دنیا میں اب بھی ٹی وی چینلز پر فتوے بازی کے پروگرام سب سے مقبول ہیں، اس دنیا میں ہر نئی ایجاد پر پہلے یہ بحث ہوتی ہے کہ یہ جائز ہے یا نہیں، حلال ہے یا حرام ہے۔ یہ فیصلہ مفتیان کرتے ہیں کہ کیا استعمال ہو سکتا ہے اور کسے رد کرنا ہے۔ تاوقتیکہ رد شدہ شے ان کی اپنی ضرورت نہ بن جائے۔ اس کے بعد تاویلات کی منڈی سجتی ہے اور کل کا حرام نئے ریپر میں حلال قرار پاتا ہے۔

اس چلن سے، اس طریق سے، اس دستور زندگی سے فتوے کی صداقت یا افادیت ثابت نہیں ہوتی۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ معاشرہ ابھی وہاں کھڑا ہے جہاں باقی دنیا صدیوں پہلے کھڑی تھی۔ جمود کے جوہڑ میں کوئی نئی فصل نہیں اگتی۔

سادہ سی بات ہے۔ دنیا اب کہانیوں، روایات اور قصوں پر نہیں چلتی۔ اب تسخیر کائنات کا دور ہے اور اس دور میں کوئی مفتی خلا میں نہیں گیا، کسی عالم دین نے کوئی ویکسین ایجاد نہیں کی، کسی شیخ الحدیث نے کوئی مائیکرو چپ نہیں بنائی۔ جس دن ہمارا معاشرہ یہ بات سمجھ لے گا کہ فتوے کی جگہ عبادت گاہ کی چار دیواری سے باہر نہیں ہے۔ اس دن شاید ہم بھی اس فہرست میں شامل ہو جائیں جہاں عقیدہ اور علم متصادم نہیں۔ فی الحال تو ہم فتوی کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں، حالانکہ اب فتوی ہی اصل مسئلہ ہے۔

Facebook Comments Box

حاشر ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔
Subscribe
Notify of
guest
5 Comments
سید محمد زاہد
Dr. Zahid Syed Muhammad
1 day ago

فتویٰ رائے ہےحکم نہیں

سید محمد زاہد
Dr. Zahid Syed Muhammad
1 day ago

مذہب عقیدہ اور اخلاقیات تک محدود ہے۔۔

Ishrat
Ishrat
1 day ago

فتوے کبھی نہیں مر سکتے۔۔۔۔یہ ہمیشہ زندگی رہیں گے ۔کچھ زمانے بعد ایسے فتوے سننے کو ملیں گے ۔
1.کیاعورت کےلئے روبوٹ رکھنا جائز ہے؟
2۔جائز ہے۔3.جائز نہیں ہے ۔4.کراہت کے ساتھ جائز ہے۔5.ولی کی اجازت سے رکھ سکتی ہے۔6.ایک سے زیادہ رکھنا جائز نہیں ۔7.روبوٹ انسان نہیں مشین ہے۔ایک رکھے یا دس ۔ایک ہی گنا جائے گا ۔

Ishrat
Ishrat
1 day ago

8.اگر شوہر تحفے میں دے تو قبول کرنا جائز مگر استعمال نہ کرنے پر گناہگار نہیں ہوگی۔9.اگر کچھ شرپسند رشتےدار لڑکی کو شادی پر روبوٹ تحفے میں دیں تو ایسا تحفہ قبول کرنا جائز نہیں۔واپس کرنا ہوگا۔
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے

chaudhry columbus Khan
chaudhry columbus Khan
1 day ago

آپس نے لکھا ہے:َ
"سادہ سی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی مائیکرو چپ نہیں بنائی۔ جس دن ہمارا معاشرہ یہ بات سمجھ لے گا کہ فتوے کی جگہ عبادت گاہ کی چار دیواری سے باہر نہیں ہے۔ اس دن شاید ہم بھی اس فہرست میں شامل ہو جائیں جہاں عقیدہ اور علم متصادم نہیں۔ فی الحال تو ہم فتوی کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں، حالانکہ اب فتوی ہی اصل مسئلہ ہے۔”

پہلے تو آپ کے اس ارشاد پر فتویٰ کا انتظار کرتے ہیں

Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW