میرے مطابق

گمشدہ فلسفہ

Shah Nawaz siyal

معاشرے کی فکری اور روحانی سمت متعین کرنے میں منبر و محراب کا کردار ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پلیٹ فارم کو خالصتاً اخلاقیات اور انسانی اقدار کی ترویج کے لیے وقف کیا جائے۔ تاریخی طور پر جب بھی مذہبی بیانیے کو سیاسی یا فرقہ ورانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے تو معاشرے میں تقسیم اور عدم برداشت کی لہر نے جنم لیا۔ ایک ذمہ دار ریاست میں مذہبی رہنماؤں کا بنیادی فریضہ معاشرے کو نفرتوں سے پاک کرنا اور کردار سازی پر توجہ دینا ہے یورپ میں عہدِ جلالت کے بعد جب کلیسا اور عوامی اخلاقیات کے دائرہ کار وضع کیے گئے تو معاشرتی خلفشار میں واضح کمی آئی۔ چنانچہ پاکستان میں بھی منبر و محراب کو تفرقہ بازی کے بجائے صرف اور صرف اخلاقی اور تمدنی اصلاح کا مرکز بننا ہو گا۔

پاکستانی سیاست کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں اکثر ذاتی اور جماعتی مفادات کو قومی سلامتی اور معاشی استحکام پر فوقیت دی جاتی رہی ہے ایک پائیدار تمدنی میثاق کے تحت سیاست دانوں کو اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے صرف اور صرف قومی مفاد کے محور پر سیاست کرنی ہوگی ترقی یافتہ جمہوری ممالک جیسے کہ برطانیہ یا امریکہ میں شدید ترین سیاسی اختلافات کے باوجود قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معاشی بقا کے معاملات پر تمام سیاسی دھڑے ایک پیج پر ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اس نہج پر لانے کے لیے سیاسی قیادت کو دھرنوں، احتجاجوں اور سڑکوں کو بلاک کرنے کی روش ترک کر کے پارلیمان کو حقیقی فیصلوں کا مرکز بنانا ہو گا۔ جب سیاست دان ذاتی مفاد سے اوپر اٹھیں گے تو عام شہری میں بھی حب الوطنی کا جذبہ پروان چڑھے گا۔

کسی بھی قوم کا دانشور اور ادیب اس کا فکری رہنما ہوتا ہے لیکن اگر وہ مقامی مسائل کو سمجھنے کے لیے مسلسل مغربی موازنے اور درآمد شدہ نظریات کا سہارا لے تو تخلیقی بانجھ پن جنم لیتا ہے پاکستانی دانشوروں، مفکروں اور ادیبوں کو اب اپنی مٹی سے جڑا ہوا، مقامی ثقافت اور تمدنی اقدار کا حامل ادب تخلیق کرنا ہو گا جو نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑے۔ روس کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ٹالسٹائی اور دستوفیسکی جیسے ادیبوں نے مغربی لبرل ازم کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی مٹی کے مسائل کو اجاگر کر کے قوم کی فکری آبیاری کی ہے۔ پاکستان کو ایسے فکری سرمائے کی ضرورت ہے جو احساسِ کمتری کا خاتمہ کرے اور نوجوانوں کو ایک خوددار اور خود انحصار قوم بننے کی ترغیب دے۔

ریاستی اور دفاعی اداروں کا سخت، آزمودہ اور غیر سمجھوتہ شدہ ڈسپلن کسی بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہوتا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس ڈسپلن کو عام آدمی کی تربیت کا رول ماڈل بنایا جائے۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے دوسری جنگِ عظیم اور داخلی بحرانوں کے بعد اپنے شہریوں کی تربیت کے لیے ادارہ جاتی نظم و ضبط اور لازمی فوجی یا قومی تربیت کے ماڈلز کو اپنایا ہے۔ جب ایک عام شہری وقت کی پابندی، قانون کی پاسداری اور فرائض کی انجام دہی کا یہ نظم و ضبط اپنے اندر پیدا کرے گا تو معاشرے سے افراتفری کا خود بخود خاتمہ ہو جائے گا۔ حقوق کا شور مچانے والے ہجوم کو ایک منظم قوم میں تبدیل کرنے کے لیے یہ ادارہ جاتی نظم و ضبط بہترین نسخہ ہے۔

نئی نسل کی رگوں میں نظم و ضبط اور حب الوطنی کو شامل کرنے کا واحد پائیدار راستہ نظامِ تعلیم اور نصاب کی بنیاد پرست اصلاح ہے ہمیں ایک ایسا یکساں تعلیمی نصاب وضع کرنا ہو گا جس میں جدید سائنسی شعور، اعلیٰ اخلاقی پاسداری اور قانون کی بلا تفریق حکمرانی کے تصورات کو یکجا کیا گیا ہو۔ سنگاپور کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے لی کان یو کی قیادت میں اپنے نصاب کو سائنسی خطوط پر استوار کیا اور نسلی و لسانی تفریق کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے جب نئی نسل بچپن سے ہی قانون کا احترام اور سائنسی سوچ کو اپنے خون میں شامل پائے گی تو معاشرے میں موجود طبقاتی، لسانی اور مسلکی خلیج ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی اور ایک ہم آہنگ نسل تیار ہوگی۔

ماضی میں ریاست نے ہمیشہ ایک نرم اور شفیق ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات اور مصالحت کو ترجیحات میں شامل رکھا، جس کا فائدہ اٹھا کر مختلف مذہبی، سیاسی اور لسانی گروہوں نے جب چاہا دھرنے دیے اور سڑکیں بلاک کیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ”سب سے پہلے پاکستان کے بیانیے پر سختی سے عمل کرتے ہوئے ریاست اپنی رٹ قائم کرے اور بلا تفریق قانون کا نفاذ کرے۔ قانون کی حکمرانی کا اصول یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاست کسی بھی دباؤ گروپ کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکے۔ جرمنی اور فرانس جیسے یورپی ممالک میں عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے مظاہروں اور دھرنوں کی حدود قانون کے تحت انتہائی سخت رکھی گئی ہیں جس کی خلاف ورزی پر فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

ملک کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے، انتشار پھیلانے والے اور وطن مخالف عناصر اب کسی رعایت یا مذاکرات کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ ریاست کی بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ایسے تمام عناصر، جو بیرونی اشاروں پر ملک میں بدامنی پھیلاتے ہیں، ان کا علاج صرف اور صرف بلا امتیاز آپریشنز اور قانون کا آہنی ہاتھ ہے تاکہ ان کا مکمل قلعہ قمع کیا جا سکے۔ سوات اور وزیرستان میں ماضی کے کامیاب آپریشنز (جیسے آپریشن ضربِ عضب اور رد الفساد) اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب ریاست حتمی فیصلہ کر لے تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو جاتا ہے امن صرف طاقت کے توازن اور قانون کی برتری سے ہی ممکن ہے کمزوری یا مسلسل نرمی سے ریاستیں اندرونی طور پر کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔

معاشرے کا وہ طبقہ جو مروجہ تعمیری کاموں سے جی چراتا ہے یا کام چوری کا عادی ہے وہ بہت جلد داخلی اور خارجی وطن مخالف قوتوں کے ہاتھوں کا آلہ کار بن جاتا ہے بے روزگاری اور فکری خالی پن انسان کو منفی سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں اس لیے ریاست کو سستی اور کاہلی کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے سخت اقتصادی اور سماجی ضوابط نافذ کرنے ہوں گے چین نے اپنے معاشی انقلاب کے دوران لیبر ڈسپلن کو انتہائی سختی سے لاگو کیا جہاں ہر شہری کے لیے قومی پیداوار میں حصہ ڈالنا لازمی قرار دیا گیا تھا پاکستان کو بھی اپنی افرادی قوت کو ہنر مند بنا کر تعمیری کاموں پر لگانا ہو گا تاکہ نوجوان نسل کسی بھی منفی یا ملک دشمن پروپیگنڈے کا شکار ہو کر دھرنوں اور جلاؤ گھیراؤ کا حصہ نہ بن سکے۔

اگر پاکستان آج ان فکری، تعلیمی اور عملی اصلاحات کو یکجا کر کے نافذ کر دیتا ہے تو اگلے تیس سالوں میں ایک ایسا فکری اور عملی راستہ ہموار ہو گا جو ہر قسم کے انتشار کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا اس طویل المیعاد حکمتِ عملی کے نتیجے میں ایک ایسی قوم تیار ہوگی جس کی پہچان کوئی فرقہ، مسلک یا علاقہ نہیں بلکہ صرف اور صرف پاکستانیت ہوگی۔ ملائیشیا نے اپنے ویژن 2020 کے تحت اسی طرح کی طویل المیعاد منصوبہ بندی کی اور کامیابی حاصل کی ہے جب داخلی انتشار ختم ہو گا اور قانون کی بلا تفریق حکمرانی قائم ہوگی تو پاکستان نہ صرف معاشی طور پر خود کفیل ہو گا بلکہ دنیا میں ترقی کی آخری سیڑھی تک پہنچ کر ایک باوقار عالمی طاقت کے طور پر ابھرے گا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW