میرے مطابق

ہمدم دیرینہ سے ملاقات اور شاعری سے توبہ

dr asghar yazdani

بچپن میں بچوں کے رسالے باقاعدگی سے پڑھنے کا از حد شوق تھا۔ شاعری کا چسکا بھی یہیں سے پڑا۔ چھوٹے چھوٹے شعر، ننھی منی نظمیں لکھتے اور کبھی کسی رسالے کو بھیج دیتے۔ اور کہیں نہ چھپتیں تو ماہنامہ ”نور“ میں تو ضرور چھپ جاتیں۔ ایک دفعہ کسی کی اچھی غزل پڑھی تو انھی خیالات کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر غزل کہنے کی کوشش کی۔ مڈل سکول میں ہمارے اُردو کے استاد نے کاپی میں کچھ اشعار لکھے دیکھے تو بہت خوش ہوئے، پوچھا: ”شعر کیسے بنا لیتے ہو؟“ ہم نے سچ سچ بتا دیا۔ ہمارے استاد توارد اور سرقہ جیسے الفاظ و اصطلاحات سے یقیناً واقف ہوں گے، مگر بچوں کی دل جوئی ان کا خاصا تھا؛ لہٰذا اشعار کی از حد تعریف کی۔

میٹرک میں بڑا زور مار کر دو چار غزلیں کہیں تو کسی ستم ظریف نے شاعری کی اصلاح کا مشورہ دیتے ہوئے ایک استاد شاعر سے ملوا دیا۔ جنت مکانی، ان استادِ مکرم نے ہماری غزلوں کو ردّ کرتے ہوئے شاعری سے تائب ہونے کا مشورہ دیا۔ ہم نے ہامی تو بھر لی، مگر اندر کھاتے استاد بدل کر شاعری جاری رکھنے کا عزم کر لیا۔ ردّ شدہ غزلیں اس وقت کے دستیاب سب سے بہترین اور قابلِ قدر سامع، اپنے کلاس فیلو اور بہترین دوست غلام مرتضیٰ کو سنائیں تو اس نے واہ واہ سے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اس مشقّت کا صلہ ہم نے اسے کون آئس کریم کھلا کر دیا۔

مرتضیٰ میرا ہم جماعت اور بہت مخلص دوست تھا، مگر رج کے نالائق اور بلا کا ضدی! کلاس ٹیسٹ ہوتے تو یہ صرف اُردو میں ہی پاس ہوتا اور سب سے کم نمبر بھی اسی کے ہوتے تھے۔ ہماری قدرِ مشترک یہ تھی کہ ہمیں نقلیں اتارنے کا چسکا تھا۔ نقل کس کی اتارنی ہے، کوئی تخصیص نہیں تھی۔ کلاس فیلو، استاد، دکاندار، جس کی آواز یا چال ڈھال میں کوئی تھوڑی سی انفرادیت نظر آتی، ہمارا نشانہ بن جاتا۔ ظاہر ہے اس فن کے اظہار کی بہترین جگہ دوستوں کی منڈلی ہوا کرتی، جب ہمارے یار بیلی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے تو ہماری حوصلہ افزائی ہوتی۔ سب سے زیادہ داد اس استاد کی نقل اتارنے پر ملتی جو کُٹ کٹاپے میں یکتا تھے۔ مرتضٰی کو ایک دن نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے کلاس میں ہی ایک استاد کی نقل اتارنے کا مظاہرہ شروع کر دیا، قہقہوں کا شور سن کر اتفاق سے وہی استاد ڈنڈے سمیت ادھر آ نکلے۔ بس پھر استاد مکرم نے ڈنڈوں سے وہ داد دی، کہ نہ پوچھیے۔ مرتضیٰ کو موٹر سائیکلوں کا ہنر سیکھنے کا بہت شوق تھا، حالانکہ گھر میں خوشحالی تھی مگر نہ جانے کیوں مرتضیٰ سکول کا کام کرنے کی بجائے سارا وقت گھر کے قریب ایک موٹر سائیکل مکینک کی دکان پر بیٹھا خدائی خدمت گار بنا رہتا۔

مرتضیٰ کا گھر شہر میں تھا اور میں روزانہ گاؤں واپس آ جاتا۔ چھٹی کے بعد لاری اڈے کی طرف جاتے ہوئے مرتضیٰ کا گھر رستے میں پڑتا تھا۔ لہٰذا اس کے گھر تک ہم اکٹھے آتے تو مرتضیٰ کی امی جی دروازے میں کھڑی انتظار کر رہی ہوتی تھیں۔ مرتضیٰ اپنی امی کو باجی جان کہہ کر بلاتا تھا۔ ہم ایک ساتھ باجی جان کو سلام کرتے۔ میں رخصت ہونے لگتا تو باجی جان پیار دینے کے بہانے پاس بلاتیں اور پھر زور سے میرا بازو پکڑ کر ٹھنڈا شربت، کبھی دودھ سوڈا پلاتیں۔ ایک ہی بات اکثر کہتیں کہ بیٹا مرتضیٰ کو بھی کہا کرو، پڑھائی میں جی لگائے۔ مرتضیٰ کبھی کبھی آدھی چھٹی کے وقت گھر کھانا کھانے چلا جاتا۔ ایک دن آدھی چھٹی کے وقت مجھے کہنے لگا، آؤ، کھانا کھانے گھر چلیں۔ میں نے انکار کر دیا تو مرتضیٰ بھی گھر نہ گیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا، باجی جان کہتی ہیں، آدھی چھٹی کے وقت کھانا کھانے آؤ تو اکٹھے آیا کرو ورنہ اکیلے مت آنا۔ مجھے سچ مچ احساس ہوتا تھا کہ باجی جان مرتضیٰ سے زیادہ نہیں تو اتنا ہی پیار مجھے کرتی ہیں۔ مرتضٰی کے ابا جی ایک فیکٹری میں منیجر تھے۔ دسویں کے بورڈ کے امتحان میں چند دن ہی باقی تھے کہ اچانک ایک دن حادثے میں مرتضٰی کے ابا جی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹا تو مرتضیٰ نے پڑھائی چھوڑ کر موٹر سائیکلوں کا کام باقاعدہ سیکھنا شروع کر دیا۔ میٹرک کے بعد ایسا چھٹا لگا کہ سب دوست مختلف سمتوں میں بکھر گئے۔ کسی کو خبر تھی نہ غرض کہ کون کہاں پڑھ رہا ہے یا کیا کر رہا ہے۔

پچھلے ہفتے لاہور میں رات کے وقت گھومتے پھرتے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک دو بے مقصد سی چیزیں خریدیں تو کاؤنٹر پر بیٹھے سفید بالوں والے شخص نے پیسے لیتے اور بقایا رقم واپس کرتے ہوئے مجھے جس توجہ سے بغور دیکھا، تو مجھے اس کی وجہ پوچھنی پڑی۔ اس شخص نے جواباً ایک دو ایسے سوال کیے کہ ہم فوراً بغلگیر ہو گئے۔ یہ مرتضیٰ تھا! میں نے اجازت چاہی مگر مرتضٰی کی پرانی ہٹ دھرمی کی عادت کے سامنے بے بس ہو گیا۔ مرتضیٰ اپنی لگژری گاڑی میں بٹھا کر ایک ریستوران پر لے آیا۔ ہم نے کھانا کھایا اور گھنٹوں دنیا بھر کی باتیں کیں۔ شروع میں ہم نے ایک دوسرے سے وہی روایتی سوالات کیے جو دہائیوں سے بچھڑے دوست ملنے پر ایک دوسرے سے کرتے ہیں : ”بھابھی کیسی ہیں؟ بچے کتنے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟“

مرتضیٰ نے بات ابا کی وفات سے شروع کی اور جب 2014 ء میں باجی جان کی وفات کا ذکر کیا تو ہم دونوں کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔ تھوڑی خاموشی کے بعد مرتضیٰ نے دو منٹ میں کم و بیش پینتالیس سالہ سفرِ زندگی کے نشیب و فراز گول مول کر کے بیان کیے اور بات موجودہ خوشحالی پر لا ختم کی۔ اس سارے سفر میں حیران کن بات یہ تھی کہ کاروبارِ حیات میں مرتضیٰ نے باجی جان کے اصرار پر پرائیویٹ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور بی اے کرنے کے پانچ چھ سال بعد حوصلہ کر کے اسلامیہ یونیورسٹی سے پرائیویٹ ایم اے اُردو کا امتحان بھی تھرڈ ڈویژن میں پاس کر لیا۔ مزید حیرت کی بات یہ کہ وہ اپنی نظموں کا مجموعہ ”ادھورے خواب کا ڈر“ شائع کر کے ہر ایرے غیرے کو مفت بانٹ چکا تھا۔ ان انکشافات کے بعد مرتضیٰ نے بے چینی سے پوچھا: ”تیری شاعری کا کیا حال ہے؟“ میں نے شرمندہ ہوئے بغیر اس کی بات کو شعوری طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اسے پھر ماضی میں دھکیل دیا اور پوچھا: ”تجھے تو موٹر سائیکل مکینک بننے کا شوق تھا، وہ کام کیوں چھوڑ دیا؟“

مرتضیٰ نے کہا: وہ چاچا جی، جس کی دکان پر میں وقت ضائع کیا کرتا تھا، مجھ سے دسیوں کام لیتا تھا۔ بیٹا! گھر سے برف لا دو، کھانا گرم کروا دو۔ مگر ابا کی وفات کے بعد جونہی میں نے باقاعدہ شاگردی شروع کی تو اس کے اندر کا استاد باہر آ گیا۔ قدم قدم پر ڈانٹ، بات بات پر گالی۔ کتّا، کہنا تو استاد کا معمول بن گیا تھا۔ میں رات کو تھکا ہارا بستر پر سونے لگتا تو یہ سوچ کر میری آنکھوں سے آنسو نکل آتے کہ ابا مجھے پیار سے ککو بلایا کرتے تھے، مگر اب ککو کتا بن گیا۔ دکان پر جاتے دوسرا تیسرا دن تھا، استاد نے موٹر سائیکل مرمت کرنے کے دوران پانا اور دس کی چابی لانے کا کہا۔ چابیوں کے گچھے میں نمبر پڑھنے میں مصروف تھا کہ زور کی گالی پڑی۔ جلدی میں دو چابیاں لے کر استاد کے پاس بھاگا آیا۔ استاد نے دس نمبر چابی پکڑ کر دوسری میرے گٹوں پر دے ماری اور کہا: آئندہ وہی اوزار لانا جس کی ضرورت ہو، فالتو اوزار لانا جرم سمجھو۔ استاد جی کوئی موٹر سائیکل ٹھیک کرتے تو کھڑی موٹر سائیکل کو ریس دے کر ’زوں زوں‘ کی بلند آوازوں سے چیک کرتے۔ ایک دن میں نے بھی ایسا ہی کیا تو زن سے استاد کا چانٹا گدی میں پڑا، اور ساتھ ہی ایک غلیظ سی گالی دے کر بولے : ”کتے کے بچے، ذرا ہولے ہولے۔ پہلے معمولی ریس دیا کرو اپنی اوقات کے مطابق۔ یک دم بے اوقاتے ہو جاتے ہو، بے شرم! یہ سیدھی سیدھی گالی ابا کو تھی، بس اس دن مکینکی سے دل ایسا کھٹا ہوا کہ میں نے اس کام کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا۔

اب مرتضیٰ نے بڑے اشتیاق سے پھر میری شاعری سے متعلق جاننا چاہا۔ بولا: ”تم خالی پیریڈ میں جھوم جھوم کر غزلیں سناتے تھے، سناؤ کوئی مجموعہ شائع ہوا؟“ اب میرے پاس آئیں بائیں شائیں کرنے کا کوئی بہانہ نہیں تھا۔ میں نے اسے کالج کے دور میں شاعری کے دو استادوں کا حال سناتے ہوئے کہا کہ پہلے استاد سے توہم نے جلد چھٹکارا پا لیا تھا کیونکہ وہ غلطی کی نشاندہی عجیب انداز میں کرتے تھے۔ پہلی دفعہ ایک قطعہ دکھایا تو بولے : ”کیا مصیبت ہے کہ دونوں اشعار میں ایک ایک رکن زائد ہے، یہ کتنے شرم کی بات ہے۔“ ایک مرتبہ غزل دکھائی تو عروضی غلطی تو کوئی نہ نکالی مگر اصلاح کرتے ہوئے خوب برسے : ”ابھی ابتدا ہے، خیالات اپنی حیثیت کے مطابق باندھو، مجنوں و فرہاد بننے کا خبط ذہن سے نکال دو۔“ اس کے بعد میں نے ہمیشہ کے لیے استاد جی کے پاس آنا جانا چھوڑ دیا۔

مرتضیٰ نے سنتے ہی بے وقوفوں کی طرح بے اختیار اتنی زور سے قہقہہ لگایا کہ میرے بالکل سامنے والی میز پر بیٹھی دونوں خوبصورت لڑکیاں پاؤں پٹختی ہوئی دور جا بیٹھیں۔ میں نے اسے بے تکلفی سے ڈانٹتے ہوئے کہا: ”بیہودہ انسان! آہستہ، پاگل ہو گیا ہے کیا؟“ مرتضیٰ بولا: ”یار! موٹرسائیکلوں والے میرے ظالم استاد اور تیرے شاعری کے اس استاد میں انیس بیس کا بھی فرق نہیں ہے۔ اس نے اضافی چابی لانے پر مجھے گالی دی تھی اور تیرے استاد نے اضافی رکن پر اور۔“ اس سے پہلے کہ مرتضیٰ ریس زیادہ دینے کی اپنی غلطی کو میرے جوش جذبات کے مماثل قرار دے کر میری اوقات یاد دلاتا، میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور بتایا کہ شاعری کی اصلاح کے لیے میرے کالج کے ایک استاد نے شہر کے ایک ایسے معمر شخص سے ملوایا جو اپنے نام کے ساتھ ’حکیم‘ لکھتے تھے، مگر باقاعدہ کوئی مطب وغیرہ نہیں تھا۔ کوئی نسخہ پوچھنے آ جاتا تو کتاب سامنے رکھ کر نقل کر دیتے۔ شعر کہتے تھے اور عروض کے ماہر ہونے کے دعویدار تھے۔ ان کا تکیہ کلام تھا: ”یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔“

بعد میں پتا چلا کہ وہ پورے حکیم تھے نہ پورے شاعر۔ نحیف و نزار تھے اور کچھ عرصے سے انھیں نسیان کا عارضہ بھی لاحق تھا۔ خود کہا کرتے تھے، نسیان سے تو نپٹا جا سکتا۔ شکر ہے، اللہ نے خفقان سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ مجھے تو خیر جلد اندازہ اس لیے ہو گیا تھا کہ بات کرتے ہوئے اکثر طب و عروض کی اصطلاحات ان سے گڈ مڈ ہو جاتی تھیں۔ ایک دن میں نے پانچ اشعار کی غزل لکھ کر دکھائی تو بولے : ”طلاء سے گریز کرو، طلاء خفی ہو یا طلاء جلی، نا مناسب ہے۔“ یہ الزام مجھے عجیب سا لگا۔ کچھ دیر سوچ کر میں نے کہا: ”کہیں آپ ’ایطاء‘ کی بات تو نہیں کر رہے؟“ بولے : ”یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔“ ایک دن کہنے لگے : ”متحرک اجزاء کی پہچان میں آپ غلطی کر جاتے ہو۔“ میں نے کہا: ”یعنی متحرک ارکان؟“ بولے : ”یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔“ ایک دفعہ سکتے اور قبض پر بات کرتے ہوئے ایسا بھٹکے کہ گویا بہتر بیماریاں گنوا کر ہی دم لیں گے۔ میں نے شعری نقص کی طرف توجہ مبذول کروائی تو فوراً بولے : ”یہی تو میں کہہ رہا تھا، قبض کا مطلب ہے ایک رکن میں سے کسی حرف کو گرا دینا، جیسے ’مفاعیلن‘ کو ’مفاعلن‘ کر دینا۔“ اکثر حشو کے ذکر میں پیٹ کی اندرونی بیماریاں زیر بحث آ جاتیں۔

میرے دماغ میں عروض کی اصطلاحات ابھی پختہ نہیں ہوئی تھیں کہ حکیم صاحب کی منتشر خیالی کے باعث بہت سی طبی اصطلاحات خواہ مخواہ زبان پر چڑھ گئیں۔ یوں آہستہ آہستہ میری زبان سے بھی ’بحرِ جوارش‘ ، ’بحرِ کمونی‘ اور ’معجونِ متقارب‘ جیسی خرافات سرزد ہونے لگیں۔ ایک دن اچانک افسوس ناک اعلان سنا کہ حکیم صاحب نماز کے دوران حرکتِ قلب بند ہو جانے سے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اس مردِ آزاد کی وفات، میری شاعری کا اختتامیہ ثابت ہوئی۔ یونیورسٹی میں عادتاً یا شرارتاً کچھ نظمیں کہی ہوں گی، مگر باقاعدہ شعر گوئی اور شاعری کے استادوں سے پکی توبہ کر لی۔

مرتضیٰ نے فخریہ انداز میں کہا: ”تو پھر میں ٹھیک نہیں رہ گیا؟ شاعری بھی کی، مجموعہ بھی چھاپا مگر کسی استاد کو ہوا نہیں لگنے دی۔“ میں نے پوچھا: ”کیا آپ کے اس مجموعے میں ساری آزاد نظمیں ہیں؟“ مرتضیٰ کہنے لگا: ”ان چکروں میں نہیں پڑتے، بس جو من میں آیا، لکھ مارا۔ ہر کسی کو مفت کتاب دی، لہٰذا سب نے بے حد و حساب تعریف کی، مجھے بتا اور کیا چاہیے۔“

گفتگو کے دوران ضدی مرتضیٰ نے ہر وہ چیز کھانے کے لیے منگوائی جس سے مجھے ڈاکٹروں نے منع کر رکھا ہے۔ مرتضیٰ نے اپنی دو چار نظموں کے نام بتائے :ستارے کی موت، خواب نگر کی کرچیاں، میرا دشمن میرا آقا، جانور نما انسان، تنکوں کا محل، اک بار پھر ہنسو، کڑکتی دھوپ کی ٹھنڈک۔ قریب تھا کہ مرتضٰی کوئی نظم سنانی شروع کرتا، ریستوران کے ایک بابو نے معذرت خواہانہ انداز میں توجہ دلائی کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق ریستوران بند کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ یوں مرتضیٰ کی بے لگام شاعری سے میرے مولا نے عین وقت پر بچا لیا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW