میرے مطابق

دو دریاؤں کے سنگم پر واقع تحصیل جلالپور پیر والا کو ضلع کا درجہ دیا جائے

Shah Nawaz siyal

کسی بھی علاقے کی پسماندگی کو ناپنے کا سب سے بڑا پیمانہ اس کا اپنے ضلعی مرکز سے جغرافیائی فاصلہ ہوتا ہے جلالپور پیروالا ضلع ملتان کی آخری سرحد پر واقع ہے جس کا شہر سے فاصلہ تقریباً 88 کلومیٹر دور ہے یہ طویل سفر عوام کے لیے روزمرہ کی ایک کٹھن معاشی اور جسمانی سزا ہے زمین کا ریکارڈ حاصل کرنا ہو، کچہری کا کوئی معاملہ ہو یا کوئی معمولی سرکاری دستاویز، یہاں کے عام شہری کو اپنی پوری دیہاڑی اور خطیر رقم صرف کر کے ملتان جانا پڑتا ہے یہ فاصلہ جلالپور پیروالا کے شہریوں کو انتظامی طور پر مفلوج کر دیتا ہے اور ان کا یہ مطالبہ بالکل حق بجانب ہے۔

ملکی قوانین اور انتظامی اصولوں کے تحت کسی بھی تحصیل کو ضلع کا درجہ دینے کے لیے رقبہ اور آبادی بنیادی اکائیاں ہوتی ہیں جلالپور پیروالا اس وقت آبادی کے لحاظ سے ملتان کا دوسرا بڑا شہر اور گنجان آباد ترین علاقہ بن چکا ہے جس کا انسانی حجم لاکھوں نفوس پر مشتمل ہے اتنی بڑی آبادی کو محض ایک تحصیل کے محدود بجٹ اور اختیارات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا مروجہ گورننس کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے یہاں کے مضافاتی قصبے خود کو تحصیل کا درجہ دینے کی تمام تر قانونی و جغرافیائی شرائط پوری کرتے ہیں جب تک ان ذیلی شہروں کو تحصیل بنا کر جلالپور پیروالا کو ضلع نہیں بنایا جاتا تب تک فنڈز کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں ہو گی۔

طبی سہولیات کے حوالے سے جلالپور پیروالا کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لاکھوں کی آبادی کے لیے یہاں صرف ایک تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) ہسپتال موجود ہے جو اس بڑے انسانی حجم کی طبی ضروریات کے لیے کسی طور کافی نہیں ہے حادثات یا کسی بھی طبی ایمرجنسی کی صورت میں مریض کو ملتان ریفر کیا جاتا ہے سڑکوں کے ناقص انفراسٹرکچر اور 88 کلومیٹر کے طویل فاصلے کی وجہ سے متعدد تشویشناک مریض ملتان کے ہسپتالوں تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں دم توڑ جاتے ہیں۔

جلالپور پیروالا کا جغرافیائی محل وقوع ماحولیاتی اور قدرتی آفات کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے یہ شہر دریائے چناب اور دریائے ستلج کے سنگم پر واقع ہے جس کے باعث یہ علاقہ سالانہ بنیادوں پر شدید سیلابی خطرات کی زد میں رہتا ہے گزشتہ سال کا سیلاب اس بات کا گواہ ہے کہ ہنگامی صورتحال میں ضلعی ہیڈکوارٹر ملتان سے فوری امدادی ٹیموں، کشتیوں اور خوراک کی فراہمی میں وقت لگا ہے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) ضلعی ہیڈکوارٹر دور ہونے کی وجہ سے بروقت ریسکیو آپریشن شروع کرنے میں مسائل پیش آئے ہیں جلالپور پیروالا کو ضلعی ہیڈکوارٹر بنانے سے یہاں مستقل بنیادوں پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کا قیام ممکن ہو سکے گا جو سیلاب کے دنوں میں غریبوں کی بقا کا ضامن ہو گا۔

کمیونٹی پولیسنگ اور امن و امان کا قیام براہِ راست ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس کی بروقت نگرانی سے جڑا ہوتا ہے ضلعی مرکز ملتان سے طویل فاصلہ ہونے کی وجہ سے جلالپور پیروالا کے مضافاتی اور سرحدی علاقوں میں جرائم کی روک تھام ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے پولیس کے اعلیٰ حکام کے لیے اتنے دور دراز علاقوں کی روزانہ کی بنیاد پر موثر نگرانی کرنا انتہائی مشکل امر ہے جب تک یہاں ایک آزاد ضلعی پولیس کا نظام (DPO آفس) قائم نہیں ہوتا تو امن و امان کی صورتحال کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانا ممکن نہیں ہو گا۔ ضلعی حیثیت حاصل ہونے سے سیکیورٹی کے اداروں کا دائرہ کار وسیع اور مضبوط ہو جائے گا جس سے عام شہریوں کو تحفظ کا احساس ملے گا۔

جلالپور پیروالا کا بنیادی ڈھانچہ، خصوصاً اندرونی اور لنک سڑکیں، اس وقت دگرگوں صورتحال کا شکار ہیں جو معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ زیر زمین پانی کی خرابی کے باعث شہر اور اس کے گردونواح میں پینے کے صاف پانی کا شدید بحران جنم لے چکا ہے جس سے مقامی آبادی ہیپاٹائٹس اور پیٹ کی دیگر بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔

تحصیل سطح پر فنڈز کی محدود دستیابی کے باعث ان بڑے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہیں ہے جب یہ علاقہ ایک مستقل ضلع بنے گا تو اسے صوبائی ترقیاتی پروگرام سے براہِ راست فنڈز ملیں گے جن سے صاف پانی اور سڑکوں کی تعمیر جیسے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں گے۔

موٹر وے (M۔ 5 ) کا جلالپور پیروالا سے گزرنا اور یہاں ایک اہم لنک کا قائم ہونا اس علاقے کا سب سے بڑا معاشی ٹرننگ پوائنٹ ہے اس روڈ نیٹ ورک نے جلالپور پیروالا کو پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے مرکزی تجارتی راستے سے جوڑ دیا ہے جس سے یہاں زرعی اور صنعتی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں تاہم اس معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے یہاں کارپوریٹ دفاتر، چیمبر آف کامرس اور ضلعی سطح کی ریگولیٹری اتھارٹیز کی ضرورت ہے اگر اس تجارتی حب کو ضلعی درجہ دے دیا جائے تو یہ علاقہ نہ صرف اپنی محرومیاں دور کرے گا بلکہ پورے جنوبی پنجاب کے لیے ایک نیا معاشی انجن بن کر ابھرے گا۔

اس سے ملحقہ دیگر بڑے ذیلی شہروں اور قصبات کی تقدیر بھی اس سے جڑی ہوئی ہے اس مجوزہ ضلع کے اندر کئی ایسے گنجان آباد تجارتی مراکز اور قصبے موجود ہیں جو تمام تر شرائط پوری کرتے ہوئے نئی تحصیلیں بننے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں ان ذیلی شہروں کو تحصیل کا درجہ دینے سے مجموعی انتظامی ڈھانچہ نچلی سطح تک پہنچ جائے گا جس سے عام دیہات تک حکومت اور انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی یہ ماڈل پنجاب کے دیگر نو تشکیل شدہ اضلاع میں انتہائی کامیاب ثابت ہو چکا ہے۔

تحصیل جلالپور پیر والا کو ضلعی درجہ ملنے کے بعد پسماندہ ترین علاقوں کی معاشی اور سماجی حالت یکسر بدل جائے گی یہاں سڑکوں کا جال بچھ جائے گا ہسپتالوں کا معیار بہتر ہو گا اور امن و امان کا نظام بحال ہو جائے گا جلالپور پیروالا کی دھرتی بھی اسی آئینی اور انتظامی حق کی طلبگار ہے یہ حق کوئی غیر منطقی مطالبہ نہیں ہے بلکہ اس علاقے کے لاکھوں انسانوں کا وہ بنیادی حق ہے جو ان سے طویل عرصے سے اوجھل ہے اس علاقے کا ہر بوڑھا، جوان اور کسان اس حقیقت سے واقف ہو چکا ہے کہ اب ضلعی حیثیت کے بغیر ان کے مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں رہا۔

وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ صوبے بھر میں یکساں ترقی اور عوامی گورننس کی بہتری کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہیں جلالپور پیروالا کے عوام اس وقت انتہائی امید بھری نظروں سے صوبائی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ اس پسماندہ ترین علاقے کو ضلع کا درجہ دینا یہاں کے لاکھوں شہریوں کا جائز قانونی اور انسانی حق ہے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مخلصانہ درخواست ہے کہ وہ جلالپور پیر والا کے معاشی تحفظ، سیلابی خطرات اور صحت کے بحران کا نوٹس لیتے ہوئے اسے فوری طور پر ایک نیا ضلع بنانے کا اعلان کریں یہ فیصلہ یہاں کی تاریخ میں عوامی فلاح و بہبود کا ایک لازوال باب ثابت ہو گا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW