عوام کی جائیداد، کارپوریٹ کی حکومت اور سوئی ہوئی پارلیمنٹ

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک میں ارکانِ اسمبلی کی مراعات، تنخواہوں میں اضافے یا شاہی پروٹوکول کی بات آئی، تو ایوان میں موجود تمام نظریاتی اختلافات پلک جھپکتے میں غائب ہو گئے۔ گھنٹوں ایک دوسرے پر تنقید کرنے والے سیاست دان اچانک متفق نظر آنے لگے اور بل چند منٹوں میں، بغیر کسی سنجیدہ بحث کے، منظور ہو گیا۔ لیکن جب معاملہ ایک عام پاکستانی کے بنیادی حقوق، اس کی نجی املاک کے تحفظ اور اس کی جیب پر ممکنہ بوجھ کا ہو، تو ہماری قومی اسمبلی اکثر ایسی ”ربڑ اسٹیمپ“ بن جاتی ہے جس کا کام صرف طاقتور حلقوں اور کارپوریٹ مفادات کی فائلوں پر مہر لگانا رہ جاتا ہے۔
حالیہ ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026“ اسی عوامی بے حسی اور پارلیمانی غفلت کی ایک تشویش ناک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ قومی اسمبلی سے انتہائی خاموشی اور عجلت میں منظور کیے جانے والے اس بل نے شہری حقوق، نجی املاک اور ریاستی اختیارات کے بارے میں کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس کی بعض شقیں ٹیلی کام کمپنیوں کو ایسے غیر معمولی اختیارات فراہم کر سکتی ہیں جو نجی املاک کے مالکان کے حقوق اور اختیارات کو محدود کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
بل کی بعض شقیں پڑھ کر تشویش پیدا ہوتی ہے۔ اگر کوئی کمپنی آپ کے علاقے میں انٹرنیٹ کی تاریں بچھانا چاہتی ہے یا کسی مقام پر موبائل ٹاور نصب کرنا چاہتی ہے اور کوئی شہری اپنی نجی زندگی، سیکیورٹی یا صحت سے متعلق خدشات کی بنیاد پر اعتراض کرتا ہے، تو اسے بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پانچ کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید کی سزا جیسی سزاؤں کی شقوں نے عوامی سطح پر شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بل کو شہری آزادیوں اور نجی ملکیت کے حقوق کے تناظر میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس عوامی اہمیت کے حامل بل کی منظوری کے دوران پارلیمنٹ میں اس کی متعدد شقوں پر وہ تفصیلی بحث نظر نہیں آئی جو ایسے حساس قانون کا تقاضا تھی۔ ہمارے منتخب نمائندے کروڑوں روپے کی گاڑیاں، مفت پٹرول، سرکاری مراعات اور بے شمار سہولتیں تو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے حاصل کرتے ہیں، لیکن جب قانون سازی جیسے بنیادی فرض کی باری آتی ہے تو اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوامی مفاد ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ بحث کے مجموعی ماحول سے یہ تاثر ملا کہ بل کے ممکنہ اثرات اور اس کی قانونی پیچیدگیوں پر خاطر خواہ غور نہیں کیا گیا۔
کسی نے یہ بنیادی سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 24 ہر شہری کو اس کی ملکیت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، تو پھر اس بل کی بعض شقیں اس آئینی حق سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہیں؟ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر کسی تنازعے کی صورت میں عدالتی نگرانی محدود ہو جائے اور فیصلہ سازی کا اختیار انتظامی افسران کے ہاتھ میں مرتکز ہو جائے، تو اس سے اختیارات کے توازن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
وزارتِ آئی ٹی اب میڈیا اور عوامی دباؤ کے بعد یہ وضاحت پیش کر رہی ہے کہ متنازع جرمانے عام شہریوں کے لیے نہیں بلکہ بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز یا اداروں کے لیے تجویز کیے گئے تھے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر بل کی زبان اور اصطلاحات میں اس وضاحت کو پہلے دن سے واضح کیوں نہیں کیا گیا؟ آخر ایسی ابہام پیدا کرنے والی قانون سازی کی ضرورت ہی کیا تھی جس نے پورے ملک میں نجی املاک اور شہری حقوق کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی؟
حقیقت یہ ہے کہ جب ارکانِ اسمبلی قوانین کو مکمل باریک بینی سے پڑھے اور سمجھے بغیر منظور کرتے ہیں تو اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اصل قانون سازی منتخب ایوانوں کے بجائے طاقتور مفاداتی حلقوں کے زیرِ اثر ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں کارپوریٹ اداروں، بیوروکریسی اور دیگر با اثر گروہوں کے لیے اپنے مفادات کے مطابق قانون سازی پر اثرانداز ہونا آسان ہو جاتا ہے۔
اگر الیکٹرانک میڈیا پر سینئر صحافی اس معاملے کو نہ اٹھاتے اور سوشل میڈیا پر عوام اس کے مختلف پہلوؤں پر سوالات نہ کرتے، تو شاید یہ بل مزید پیش رفت کے مراحل سے بھی خاموشی سے گزر جاتا۔ یہی عوامی ردِعمل تھا جس نے اس قانون کے مختلف پہلوؤں کو قومی بحث کا موضوع بنایا اور متعلقہ حکام کو وضاحتیں پیش کرنے پر مجبور کیا۔
یہ پورا واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں، بلکہ مسلسل عوامی نگرانی، سوال اور احتساب کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر عوام خود بیدار نہ ہوں، قانون سازی کے عمل پر نظر نہ رکھیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہ کریں، تو طاقتور حلقے ہمیشہ خاموشی کو اپنی طاقت میں تبدیل کرتے رہیں گے۔
عوام کو اب یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ان کے حقوق کا تحفظ صرف ایوانوں میں بیٹھے نمائندوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک باشعور اور بیدار معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ جمہوریت میں خاموش شہری اکثر کمزور شہری بن جاتا ہے، جبکہ سوال کرنے والا شہری ہی اپنے حقوق کا حقیقی محافظ ثابت ہوتا ہے۔
