پاکستان۔ سامراج اور ترقی کا ادھورا خواب
جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو سوائے مایوسی اور بکھرے خوابوں کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ اسی مایوسی کے عالم میں یہاں کا نوجوان طبقہ ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اس مایوسی کی وجوہات تاریخی، ساختیاتی، سیاسی اور سب سے بڑھ کر معاشی ناہمواری میں پیوستہ ہیں۔
پاکستان کی آزادی میں حضرت قائداعظم اور مسلم لیگ نے مادی خوشحالی کے بہت سے سہانے خواب دکھائے۔ اور ہم عوام الناس ان خوابوں کے اسیر ہو کر نعرے لگانے لگ گئے ”لے کے رہیں گے پاکستان اور بن کے رہے گا پاکستان“ ۔ پاکستان بن گیا۔ ہم عوام کو نہیں پتہ تھا کہ پاکستان بنانے والی کلاسز اور سامراج کے پاکستان کے ساتھ کون سے معاشی اور مادی مفادات پیوستہ ہیں۔ ہم نے ”دے مار تے ساڈھے چار“ کے مصداق لاکھوں لوگوں کا خون ناحق بہا کر اور لاکھوں لوگوں کی سرحدوں کے آرپار در بدری کروا کر وطن عزیز حاصل کر لیا۔ لیکن آج تک وہ خواب حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے جس کا وعدہ قائداعظم اور مسلم لیگ نے کیا تھا۔ اسی لیے فیض صاحب نے کہا تھا
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
سحر کا مطلب تھا روٹی، کپڑا اور مکان لیکن سپیدہ سحر طلوع نہ ہوا۔ اس کے طلوع ہونے کے لئے کچھ مخصوص بنیادی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور انہی بنیادی اجزاء کو اپنا محور بنا کر یورپی ممالک نے ترقی کی ہے۔ ترقی کا یہی پیمانہ دوسرے کے لئے بھی اہم ہے۔
جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے مادی ذرائع پیداوار، آلات پیداوار، آلات پیداوار کی مستقل بہتری اور سب سے بڑھ کر ثقافتی ترقی کی معراج ضروری امر ہیں۔ سترہویں صدی کے وسط میں برطانیہ، ہالینڈ، فرانس اور جرمنی سرمایہ داری اور صنعتی ترقی کے دور میں انہی چیزوں کے جلو میں داخل ہوئے۔ رفتہ رفتہ ان ممالک کی نیشنل بورژوازی کا مفاد یہ بن گیا کہ اپنے ملک کے مادی ذرائع پیداوار کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کے ذرائع پیداوار پر بھی قبضہ کر لیں۔ اس سوچ نے ان ممالک کو سرمایہ داری سے سامراج کا روپ دھارنے کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑا دیا۔ سامراج نے صنعت اور بینکنگ کو جوڑ کر خام مال پیدا کرنے والے ممالک کے استحصال کے لئے متحدہ محاذ بنا لیا یعنی مختلف استحصالی اداروں کو وجود دیا۔ یہ استحصالی ڈرامہ آج تک جاری و ساری ہے۔ بقول ہیکل مغربی سامراجی ممالک سالانہ تقریباً 11 ٹریلین ڈالر ترقی پذیر ممالک سے اینٹھ کر لے جاتے ہیں جو سامراجی ممالک کی جی ڈی پی کا 25 فیصد بنتا ہے۔
پاکستان کے بننے میں اسی سامراج۔ یہاں کے مقروض جاگیر داروں۔ یوپی سی پی کی پڑھی لکھی مسلمان کلاس۔ سوشلسٹ بلاک۔ برصغیر اور مشرقی ایشیا میں قومی اور سوشلسٹ تحریکوں کے خوف نے پاکستان بننے کو حقیقت بنا دیا۔ اس پر زاہد چوہدری، ڈاکٹر اشتیاق احمد اور لارڈ ویول نے سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔ آج کے موجودہ پاکستان میں مسلم لیگ جاگیر داروں اور سرداروں کی پارٹی تھی اور لیاقت علی خان ان کا نمائندہ تھا۔ حکومت چلانے والے یوپی، سی پی کے پڑھے لکھے لوگ تھے اور ان کا نمائندہ حضرت قائداعظم تھے۔ اس کا اظہار زبان کے مسئلہ پر کھل کر سامنے آیا بلکہ یوں کہیں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ایک بنیاد بھی بنا۔ فوج یہاں کی سب سے منظم اور سب سے طاقت ور قوت تھی اور یہ سامراج کی براہ راست نمائندہ تھی جس کا اظہار اکتوبر 1947 ء کی کشمیر جنگ میں ہو گیا۔
پاکستان اگست 1947 ء میں بن گیا لیکن اوپر بیان کردہ مادی اور معاشی ترقی کی بنیادیں اشرافیہ کے مفادات کی اسیر ہو گئیں اور پاکستان ترقی کے سفر پر گامزن نہ ہو سکا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہر بندہ ملک سے ہجرت کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ کیوں نہ ہو۔ جب یہاں کی اشرافیہ خود یورپ اور امریکہ کے پاسپورٹس لیے بیٹھی ہو تو 60 فیصد سے زیادہ عوام جو غربت میں زندگی گزار رہی ہے کیا ان کے لئے خوشحالی کے خواب دیکھنا شجر ممنوعہ ہے۔
پروفیسر جیفری سیکس بتاتے ہیں کہ برطانیہ کی ترقی کا آغاز تیرہویں صدی سے شروع ہوا جب راجر بیکن نے تجربیت کی بنیادیں استوار کیں۔ اس طریقہ کار نے سوچنے کی نئی جہتوں کو وا کرنا شروع کیا۔ پھر سترہویں صدی میں فرانسس بیکن۔ گیلیلیو۔ نیوٹن اور جیمز واٹ جیسے لوگوں نے تجربیت کو صنعت کے ساتھ جوڑ کر وہ بنیادیں مہیا کر دیں جس سے صنعتی ترقی کا گھوڑا سرپٹ دوڑنے لگا اور پھر وہ سب کچھ ہوا جسے انسانی تاریخ نے صنعتی انقلاب، انسانی استحصال، کلونیل ازم، نیو کلونیل ازم، سامراجیت اور انسانی استحصال کے ساتھ ساتھ ممالک کے من حیث المجموع استحصال کو دیکھا۔ اس پر کارل مارکس، فریڈرک اینگلز، نکولائی بخارن، جیفری فریڈن اور پروفیسر جیفری سیکس نے سیر حاصل گفتگوئیں کی ہیں۔
برطانیہ کے معاشی تاریخ دان ای۔ اے۔ ریگلی نے واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ زرعی یا ”آرگینک“ معیشت نے صنعتی یا ”انرجی رچ“ معیشت کو راستہ دیا جو ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بنی۔ پاکستان بدقسمتی سے پہلی اسٹیج پر بیٹھا ہوا نچلی اوسط آمدنی والا ملک بن کر رہ گیا ہے۔ کیونکہ اس نے جان بوجھ کر ترقی کی ٹرین کو چھوڑ دیا تھا۔
ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن ویزمین بتاتے ہیں کہ صنعتی ترقی اپنے میں موجود جرثوموں کے ذریعے مزید صنعتی ترقی کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس سے جدت طرازی پروان چڑھتی ہے۔ اسے وہ ”ری کمبیننٹ گروتھ“ کا نام دیتے ہیں۔
پروفیسر جیفری سیکس اس ساری گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ کسی ملک کی ترقی کے لئے ثقافتی ترقی بہت ضروری ہے۔ یہ ثقافتی ترقی تجربیت اور سائنسی سوچ کی آبیاری سے تعمیر نو کو ممکن بناتی ہے۔ انسانی وسائل کو انسانی سرمایہ میں تبدیل کرنے کے لئے سائنسی بنیادوں پر استوار تعلیم کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ جاپان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی تباہ حال معیشت کو انسانی سرمایہ کی بنیاد پر دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں بدل دیا۔
پاکستان ایک ڈومینین ملک کے طور پر آزاد ہوا۔ گویا پہلے دن سے ہی یہ اپنی پالیسی بنانے میں آزاد نہ تھا۔ جس کا واضح اعلان حضرت قائداعظم کے گورنر جنرل کے حلف نامہ میں ہوا۔ اس پر مستزاد یہ کہ حضرت قائداعظم نے 1947 ء میں ایک امریکی صحافی مارگریٹ بورک وائٹ کو انٹرویو میں پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے امریکہ پر انحصار کا برملا اعلان کیا۔ اور کہا کہ پاکستان کی نسبت امریکہ کو پاکستان کی زیادہ ضرورت ہے۔ قائداعظم صاحب بائی پولر ورلڈ کا حوالہ دے رہے تھے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد کشکول لے کر امریکہ کے پاس پہنچ گئے۔ اس کے لئے کیا کیا جتن کیے اور بمشکل 10 لاکھ ڈالر ملے۔ اونٹ کے منہ میں زیرہ۔ اس طرح کی سوچ اور ماحول عالمی سامراجی کمپنیوں کو اپنے سامراجی پنجے گاڑنے کے لئے مطلوبہ ضروری ماحول مہیا کر دیتا ہے۔ جس سے ترقی کے سہانے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ یہی کچھ پاکستان میں گزشتہ 79 سالوں سے ہو رہا ہے۔
معاشی اور سماجی ترقی کے لئے تعلیم بہت ضروری ہے۔ لیکن اس تعلیم کی بنیاد سائنسی طریقہ تعلیم پر استوار ہونا اس سے بھی ضروری ہے۔ یہ طریقہ کار سوال کو جنم دیتا ہے۔ اور سوال جدت کا جرثومہ ہے۔ سوال نہ سامراج کو بھاتا ہے نہ جاگیرداروں کو اور نہ ہی جاگیردارانہ سوچ کے حامل سماج کو پسند ہے۔ لہذا ہم نے پہلے دن سے ہی اس طریقہ تعلیم کی بیخ کنی کا بیڑا اٹھا لیا تھا جس کا نتیجہ تعلیمی تنزلی اور نام نہاد 60 فیصد شرح خواندگی سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کے قیام کے 79 سالوں میں شرح خواندگی میں اضافہ صرف 45 فیصد ہوا ہے جو خطہ کے دوسرے ممالک کی نسبت بہت ہی کم ہے۔ ثقافتی ترقی سوچ کے دھاروں کو نئی نئی جہتیں عطا کرتی ہے جس کے بغیر سماج اور ممالک ترقی نہیں کر سکتے۔ اور ثقافتی ترقی کے بغیر ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان ممالک کا مکمل انحصار سامراج، اس کے اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پیداوار کی کھپت تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ آج کا پاکستان ایک صارف سماج کا روپ دھار چکا ہے۔ اس صارفیت کا فائدہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور یہاں کے گماشتہ طفیلی سرمایہ داروں کو ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صنعتی ترقی کے سورج کو طلوع ہی نہیں ہونے دینا چاہتے۔ اسی صارفیت کے لئے وہ قرضوں پر قرضے لیے جا رہے ہیں۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ بجٹ کا 43 فیصد کے قریب قرضوں، 16 فیصد دفاع، 47 فیصد صوبوں جبکہ 25 کروڑ عوام کی ترقی کے لئے صرف 5 فیصد استعمال ہو رہا ہے۔ اشرافیہ کو ہر طرح کی مراعات دی گئی ہیں۔ اس کے برخلاف عوام بلاواسطہ ٹیکس کے بوجھ سے غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں۔
الغرض سامراج۔ سامراجی کمپنیوں، سامراج کی گماشتہ کلاسز، جاگیرداروں اور سرداروں نے پاکستان میں انسانی وسائل کو انسانی سرمایہ میں بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ الٹا اس کے خلاف کام کیا۔ جس کی وجہ سے پاکستان آج ایک ترقی پذیر اور اوسط آمدنی والا ملک بن کر رہ گیا ہے اور اس کے مادی ذرائع دنیا کی ملٹی نیشنل کمپنیاں لوٹ کر لے جا رہی ہیں اور اسی لوٹ کھسوٹ کے خلاف بلوچستان۔ خیبر پختون خواہ۔ گلگت بلتستان۔ اور کشمیر میں بے چینی بلکہ تحاریک پروان چڑھ رہی ہیں۔ ان سب تحاریک کا مرکزی نقطہ ہی یہ ہے کہ ان کے وطنوں کے مادی اور ثقافتی وسائل پر ملکی اور بین الاقوامی استحصالی طاقتوں نے جو شب خون مار رکھا ہے اس سے اپنے وطنوں اور ہم وطنوں کو آزاد کروائیں اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں۔ لوٹ کھسوٹ معاشی ناہمواری۔ تعلیمی تنزلی اور اقتصادی زوال کو پروان چڑھاتی ہے۔ جس سے صنعتی ترقی کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ جدت طرازی سماج سے پرواز کر جاتی ہے۔ اس ساری صورتحال کا فائدہ سامراج، اس کے حواری گماشتوں کو تو پہنچتا ہے جو کہ پاکستان میں ہر کسی کو نظر آ رہا ہے لیکن عوام بھوک، ننگ اور غربت کی چکی میں پس جاتے ہیں۔ یہی معاشی، معاشرتی، سیاسی، ثقافتی ناہمواریاں پاکستان کے خواب کی تعبیر اور روشن سحر کو روکے ہوئے ہیں۔ بقول ساحر لدھیانوی
خبر نہیں کہ نگار سحر کی حسرت میں
تمام رات چراغ وفا پہ کیا گزری


Very good