بلاگ

اقتدار کی ہوس، جغرافیے کی بساط اور آئین کا قتلِ عمد

nadeem ahmed farooqi

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اقتدار کے ایوانوں میں زلزلے آتے ہیں، یا حکمران طبقہ اپنے وجود کو خطرے میں محسوس کرتا ہے، تو آئین کی کتاب کو ایک نئی جراحی کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ ابھی چھبیسویں آئینی ترمیم کی گرد پوری طرح نہیں بیٹھی کہ پسِ پردہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا ایک نیا پنڈورا باکس کھولنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ لیکن اس بار معاملہ صرف عدلیہ کی آزادی یا انتظامی امور تک محدود نہیں بلکہ اس مجوزہ ترمیم کے ذریعے پاکستان کے جغرافیے، صوبائی خودمختاری اور وفاق کی بنیادوں پر کلہاڑی چلانے کا ایک خطرناک منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ جن چونکا دینے والے نکات کو نہایت رازداری کے پردوں میں چھپایا جا رہا ہے، ان میں نئے صوبوں کا قیام اور کراچی و گوادر جیسے معاشی و تزویراتی مراکز کو صوبوں سے الگ کر کے وفاق کے براہِ راست کنٹرول میں دینا شامل ہے۔ یہ تجاویز وفاقِ پاکستان کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں کراچی اور گوادر کو وفاقی قلمرو میں شامل کرنے کی اس مہم جوئی کی۔ کراچی، جو پاکستان کا معاشی انجن ہے اور پورے ملک کا پیٹ پالتا ہے، طویل عرصے سے اسلام آباد کے حکمرانوں کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے۔ اسی طرح گوادر، جو بلوچستان کا مستقبل اور سی پیک کا مرکزی دروازہ ہے، اسے صوبائی دائرۂ اختیار سے نکال کر ایک ”خصوصی وفاقی زون“ بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ تجویز مضحکہ خیز بھی ہے اور تزویراتی طور پر بھیانک بھی۔ کیا اسلام آباد کے مقتدر حلقے یہ بھول گئے ہیں کہ 1971 کا سانحہ کیوں ہوا تھا؟ مشرقی پاکستان کی محرومی کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ ان کے وسائل پر مرکز قابض تھا۔ آج ایک بار پھر سندھ اور بلوچستان کے سب سے قیمتی اثاثوں پر وفاق کا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سندھ کے عوام کراچی کو اپنے وجود کا حصہ مانتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے عوام پہلے ہی گیس اور دیگر معدنی وسائل کے حوالے سے وفاق کے رویّے پر نالاں ہیں۔ اگر گوادر کو بلوچستان سے الگ کیا گیا تو وہاں سلگتی ہوئی چنگاری ایک ایسے لاوے میں بدل سکتی ہے جسے قابو کرنا موجودہ حکمرانوں کے بس کی بات نہیں رہے گی۔ یہ اقدام صوبائی خودمختاری کی ضمانت دینے والی تاریخی اٹھارہویں ترمیم کو عملاً بے اثر کرنے کا ایک چور دروازہ ہے۔

اس بھیانک کھیل کو چھپانے کے لیے ”نئے صوبوں کا قیام“ بطور سیاسی لالی پاپ یا رشوت پیش کیا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب (سرائیکی صوبہ) اور خیبر پختونخوا کے ہزارہ بیلٹ کو صوبہ بنانے کی دیرینہ تحاریک کو اس ترمیم کا حصہ بنا کر عوامی ہمدردیاں سمیٹنے اور اتحادیوں کو بلیک میل کرنے کی حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے۔ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام بذاتِ خود کوئی بری بات نہیں، اور دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں جب بھی یہ کارڈ کھیلا جاتا ہے، اس کے پیچھے نیک نیتی کے بجائے سیاسی مصلحت اور نمبر گیم کا کھیل ہوتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام طویل عرصے سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، لیکن انہیں صوبہ تب یاد آتا ہے جب وفاق میں حکمران اتحاد کو آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہ نئے صوبے بنانے کی کوئی مخلصانہ کوشش نہیں بلکہ کراچی اور گوادر پر قبضے کے منصوبے کو ہضم کروانے کے لیے ایک کڑوی گولی پر چڑھائی گئی چینی کی تہہ ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ موجودہ سیاسی ساخت میں ممکن بھی ہے؟ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 239 واضح طور پر کہتا ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ، میں دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔ موجودہ حکومت کی حالت یہ ہے کہ وہ ایک عام قانون پاس کروانے کے لیے بھی بیساکھیوں کی محتاج نظر آتی ہے۔ کراچی پر شب خون مارنے کی اجازت پاکستان پیپلز پارٹی کبھی نہیں دے گی، کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب سندھ میں اس کی سیاست کا مستقل خاتمہ ہو گا۔ دوسری طرف بلوچستان کی کوئی بھی جماعت، خواہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں، گوادر کی سودے بازی پر دستخط نہیں کرے گی۔

مزید برآں، آئین کی رو سے اگر کسی ترمیم کے نتیجے میں کسی صوبے کی حدود تبدیل ہوتی ہوں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ کیا پنجاب اسمبلی یا خیبر پختونخوا اسمبلی موجودہ سیاسی انتشار کے ماحول میں اس نوعیت کی کسی ترمیم کو آسانی سے منظور ہونے دیں گی؟ جواب واضح ہے : ”ہرگز نہیں“ ۔

پھر اس سیاسی ہنگامہ خیزی کا مقصد کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم اور اس کے گرد بُنا جانے والا بیانیہ دراصل ایک ”سیاسی پریشر ٹول“ ہے۔ حکومت اور اس کے پیچھے کھڑی مقتدر قوتیں ملک کے سیاسی درجۂ حرارت کو بڑھا کر اتحادیوں کو قابو میں رکھنا اور اپوزیشن کو دفاعی پوزیشن پر لانا چاہتی ہیں۔ جب معیشت وینٹی لیٹر پر ہو، مہنگائی عوام کا کچومر نکال چکی ہو، اور سیکیورٹی کی صورتحال دن بہ دن ابتر ہو رہی ہو، ایسے میں جغرافیائی لکیریں کھینچنا اور صوبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنا دانشمندی نہیں بلکہ سیاسی خودکشی ہے۔

مقتدر حلقوں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ پاکستان کا استحکام وفاق کو مضبوط بنانے میں ہے، صوبوں کو کمزور کرنے میں نہیں۔ کراچی اور گوادر پاکستان کے بازو ہیں ؛ اگر آپ ان بازوؤں کو مرکز کے خنجر سے کاٹنے کی کوشش کریں گے تو پورا جسم مفلوج ہو جائے گا۔ آئین کے ساتھ یہ کھلواڑ بند ہونا چاہیے۔ اگر حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت کی اخلاقی اور قانونی طاقت موجود نہیں تو اسے ایسے مہم جوئی پر مبنی اقدامات سے باز رہنا چاہیے جو ملک کو کسی نئے جغرافیائی اور سیاسی بحران کی طرف دھکیل دیں۔ پاکستان مزید کسی سیاسی تجربے یا جغرافیائی جراحی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ آئین کو اس کی اصل روح کے مطابق چلنے دیا جائے، نہ کہ اسے اقتدار کی ہوس مٹانے کا ذریعہ بنایا جائے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW