طاقت کا کلچر: پرانی فلم، نیا جھگڑا

سوشل میڈیا پر ایک چھوٹے سے پرانے ویڈیو کلپ نے طاقت اور کلچر پر ایک نیا جھگڑا کھڑا کر دیا ہے۔ کہہ لیجیے مسئلہ تو پرانا ہے مگر نئے لوگ اس میں اپنی تازہ توانائیوں کے ساتھ کود پڑے ہیں۔ جس فورم پر یہ مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے وہاں کسی موضوع پر ڈھنگ سے بات قدرے مشکل ہو جاتی ہے کہ ایک اگر آپ کو ایک سمت متوجہ کر رہا ہوتا ہے تو دوسرا دوسری طرف اور اصل موضوع اسی کھینچا تانی میں قضا ہو جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ میں وہاں سے کنی کاٹ کر یہاں آ گیا ہوں۔ جس ویڈیو کلپ کی میں بات کر رہا ہوں، اس میں آپ مسعود اشعر، اشفاق سلیم مرزا اور کشور ناہید کو اس خاکسار کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں ؛ گویا تب مسعود اشعر اور اشفاق سلیم مرزا نا صرف بقید حیات تھے ؛ کسی نہ کسی بہانے ان سے مکالمہ رہتا تھا۔ اس اجلاس میں بیٹھے ہم پاکستان کی تہذیب و ثقافت کو موضوع بنائے ہوئے تھے اور جب مکالمہ ہو چکا اور سوال و جواب کا مرحلہ آیا تو حاضرین میں اگلی نشستوں پر تشریف فرما محترمہ طاہرہ عبداللہ نے میری ایک بات پکڑ کر تیکھا سا سوال داغ دیا۔ چونکہ اس سوال کا مخاطب میں تھا لہٰذا سب میری طرف دیکھنے لگے، کہ لو، اب جواب دو۔ یہ وڈیو کلپ اسی تند سوال اور فوری سوجھنے والے جواب پر مشتمل ہے۔ طاہرہ عبداللہ کا سوال تھا کہ ”حمید شاہد صاحب کہہ رہے تھے کہ تمام کلچر اچھے ہوتے ہیں، تو کاروکاری کا کلچر بھی کیا اچھا ہوتا ہے؟“
میں نے سب کو اپنی طرف متوجہ پایا تو ادبدا کر کہا ”نہیں“ ، پھر سنبھلا اور وضاحت کی کہ طاقتور کا کلچر اصل کلچر نہیں ہوتا۔ اور یہ کہ کیا ہمارے یہاں جو وڈیرے کا رواج دیا ہوا کلچر ہے، اسے اس علاقے کے سارے لوگوں نے ایک سماجی قدر کے طور پر تسلیم کر لیا؟ اسے عوام نے دل سے تسلیم نہیں کیا، نفرت موجود ہے ان کے اندر۔ بس ان میں ہمت نہیں ہے کہ وہ اس کی مزاحمت میں کھڑے ہوں ؛ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ اور اپنی بات ان جملوں پر ختم کی کہ جو سماجی سطح پر خوش دلی سے تسلیم نہ ہو پائے، اسے کلچر نہیں کہتے۔ ساتھ ہی ایک جذباتی سا جملہ نتھی کر دیا اور حاضرین سے داد سمیٹ لی کہ جس چیز کو عوام رد کر رہے ہیں آپ اسے کیسے کلچر کہہ سکتے ہیں؟ ’سوشل میڈیا پر سوال جواب کا یہ جذباتی متحرک تصویری پارچہ گردش میں آیا تو جہاں کچھ لوگ میری تائید میں آگے بڑھے، وہیں یہ نشان زد کرنے والے بھی آ گئے کہ ”حضور! آپ نے انتہائی جذباتی انداز میں جواب دیا۔ حقیقت کی نظر سے دیکھیں گے تو وڈیرا شاہی اور طاقت کلچر کا حصہ نظر آئے گی۔“
لیجیے صاحب! میں نے لمبا سانس لے لیا، جذباتی فضا سے نکل آیا ہوں لہٰذا، اس جھگڑے میں پڑنے سے پہلے یہ آنکنے کے جتن کرلیتے ہیں کہ کسی سماج میں کسی کلچر کی تشکیل کیسے ہوتی ہے؟ اس باب میں جو میں سمجھ پایا ہوں وہ یوں ہے کہ کلچر کسی معاشرے کے عقائد، اقدار، رسوم و رواج، زبان، فنون، طرزِ زندگی اور اجتماعی رویّوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہ اچانک وجود میں نہیں آتا بلکہ مختلف عوامل کے باہمی اثر سے تشکیل پاتا ہے، جیسے ماضی کے تجربات، تاریخی واقعات اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات۔ ہمارے جیسے سماج میں مذہبی تعلیمات، روزگار، پیداوار اور وسائل کی تقسیم بھی لوگوں کے معمولات اور رویوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس میں تعلیم کے مواقع اور ذرائع ابلاغ کو بھی شامل کر لیں کہ یہ نئی اقدار اور تصورات کو فروغ دے رہے ہوتے ہیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی کہ اقتدار کے مراکز اور سماجی ادارے بھی اس میں دخیل ہیں اور یہ طے کرنے میں جتے رہتے ہیں کہ کون سی اقدار قابلِ قبول ہیں اور کون سی ناقابلِ قبول۔ تو یوں ہے کہ ایسے میں جو کلچر بہ ظاہر ہمارے سامنے ہوتا ہے، ہم بہ سہولت یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ اس میں کتنا حصہ کس کا ہے، کتنا حصہ سماجی سطح پر بہ رضا قبولیت والا ہے اور کتنا اکراہ تام کے ساتھ کلچر میں داخل ہوا ہے۔
اب سوال یہ ہو سکتا ہے کہ طاقتیں یعنی پاور اسٹریکچرز اور کلچر کا باہمی رشتہ کیا ہے۔ یہاں طاقت سے مراد سیاسی، معاشی، سماجی یا فکری اختیار رکھنے والے افراد اور ادارے ہیں۔ یہ طاقتیں ثقافت کو مختلف طریقوں سے متاثر کرتی ہیں۔ مثلاً دیکھا گیا ہے کہ بالا دست قوتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے کچھ اقدار اور نظریات کو معمول یا معیاری بنا کر پیش کرتی ہیں اور پھر تعلیم، میڈیا اور قانون کے ذریعے مخصوص رویّوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ بعض اوقات اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے معاشرتی رتبوں اور تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے مخصوص ثقافتی تصورات کو فروغ دیا جاتا ہے۔ طاقت کے یہ حیلے اور ہتھکنڈے کچھ مدت کے لیے موثر بھی رہتے ہیں مگر دیکھا گیا ہے کہ ایک وقت ضرور آتا ہے جب عوامی سطح پر طاقت کے منفی کلچر کو رد کیا جاتا ہے۔ عوام مختلف طریقوں سے اس منفی کلچر کو چیلنج کرتے ہیں۔ انہی کے اندر موجود لوگوں کی مدد سے تعلیم، تحقیق اور تنقیدی سوچ سے طاقت کے غلط استعمال کو پہچاننے میں مدد ملنے لگتی ہے۔ ادیب، شاعر، فنکار اور صحافی معاشرتی نا انصافیوں کو بے نقاب کرنے لگتے ہیں۔ عوامی احتجاج، شہری تحریکیں اور سیاسی سماجی تنظیمیں منفی کلچر کے عناصر سے دست برداری کا مطالبہ کرتی ہیں۔ سماج کے اندر متبادل ثقافتی بیانیے کی تحریکیں جنم لیتی ہیں اور لوگ مساوات، انصاف، شفافیت اور انسانی حقوق پر مبنی نئی ثقافتی اقدار کے فروغ کی جانب قدم بڑھا دیتے ہیں۔ جب بڑی تعداد میں لوگ منفی رویّوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں تو طاقت کا منفی کلچر کمزور پڑنے لگتا ہے۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ کلچر ایک متحرک عمل ہے جو تاریخ، اعتقادات، معیشت، تعلیم اور طاقت کے باہمی تعامل سے تشکیل پاتا ہے۔ طاقتور طبقات ثقافت پر اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن عوام بھی شعور، تعلیم، فن، جمہوری جدوجہد اور اجتماعی مزاحمت کے ذریعے طاقت کے منفی کلچر کو رد کر کے ایک زیادہ منصفانہ اور انسانی ثقافت تشکیل دے سکتے ہیں اور دیتے بھی ہیں۔
یاد رہے کہ کوئی بھی معاشرہ ظلم، جبر، استحصال کے بنائے ہوئے ضابطوں کو خوشدلی سے کلچر کے طور پر قبول نہیں کرتا۔ تاہم یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ معاشرے بعض اوقات بظاہر ظلم، جبر اور استحصال پر مبنی ضابطے بھی کلچر کا حصہ نظر آتے ہیں لیکن یہ نہ تو قبولیت ہے اور نہ ہمیشہ حقیقی رضامندی یا اخلاقی جواز کی علامت ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی نظام طویل عرصے تک قائم رہے تو لوگ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جو چیز ابتدا میں غیر معمولی یا ظالمانہ محسوس ہوتی ہے، وہ وقت گزرنے کے ساتھ فطری یا روایتی نظر آنے لگتی ہے۔ غلامی، نسلی امتیاز، ذات پات اور عورتوں کے حقوق کی تاریخی محرومیاں اس کی مثالیں ہیں۔ کئی معاشروں میں یہ سب صدیوں تک کلچر کا حصہ سمجھی جاتی رہیں۔ تاہم یہاں ایک اہم فرق ہے کہ کسی رویے کا ثقافتی طور پر رائج ہونا اس کے اخلاقی طور پر درست ہونے کی دلیل نہیں بنتا۔ جو اخلاقی طور پر نادرست ہو اسے ایک نہ ایک روز ثقافت کے منفی عنصر کے طور پر نشان زد ہونا ہی ہوتا ہے۔ اور جب ایسا ہو جاتا ہے تو اس کے رد ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
تسلیم کہ طاقت کلچر کی تشکیل پر اثر انداز ہوتی ہے، لیکن طاقت کلچر کی واحد خالق نہیں ہوتی۔ انسان کے اندر اور معاشرے کے اندر کچھ ایسی قوتیں بھی موجود ہوتی ہیں جو طاقت کے مقابلے میں کھڑی رہتی ہیں، جیسے انسانی ضمیر، اخلاقی، مذہبی اور روحانی تعلیمات، عقل اور تنقیدی شعور، ظلم اور جبر کا ذاتی تجربہ، محبت اور ہمدردی کے فطری جذبات وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں جبر کے ساتھ مزاحمت بھی پیدا ہوتی رہتی ہے اور سچ اور انصاف ہی کلچر کے مستقل عناصر رہتے ہیں۔
یاد رہے ظلم اپنے اندر ایک تضاد رکھتا ہے۔ ظالم بھی اکثر اپنے ظلم کو انصاف کہہ کر پیش کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انصاف کا تصور اتنا بنیادی ہے کہ ظالم بھی اس سے مکمل انکار نہیں کر سکتا۔ کوئی حکمران یہ نہیں کہتا کہ وہ ظلم کر رہا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ وہ امن قائم کر رہا ہے یا قانون کی پاسداری میں اقدامات لے رہا ہے۔ کہہ لیجیے انصاف ایک ایسا اخلاقی معیار ہے جس کی سماجی حیثیت طاقت سے زیادہ گہری ہے۔
سماجی مفکرین اکثر کہتے ملیں گے کہ کلچر دو سطحوں پر کام کرتا ہے۔ ایک کلچر موجود طاقتوں کا بنایا ہوا ہوتا ہے جو رائج رسوم، اداروں اور اقدار میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب کہ دوسرا اخلاقی تنقید کا کلچر ہوتا ہے جو انہی رسوم اور اقدار کا جائزہ لیتا اور ان پر سوال اٹھاتا رہتا ہے۔ اگر صرف طاقت ہی سب کچھ ہوتی تو دنیا میں کبھی اصلاحی تحریکیں پیدا نہ ہوتیں، نہ انبیاء آتے، نہ فلسفی، نہ مصلحین، نہ انقلابی اور نہ ہی ادیب اور شاعر ہوتے۔
کہنا یہ ہے کہ میرے محترم معترض کی بات بھی پھینک دینے والی نہیں ہے ؛ طاقت کلچر پر اپنا رُسوخ رکھتی ہے، مگر یہ مکمل طور پر اس کی مالک نہیں بن سکتی۔ انسان میں سچ، انصاف اور ہمدردی کی خواہش بار بار ایسے ثقافتی نظاموں کو چیلنج کرتی ہے جو ظلم پر قائم ہوں۔ اسی لیے تاریخ صرف طاقتوروں کی کہانی نہیں ہے ان لوگوں کی کہانی بھی ہے جنہوں نے طاقت کے مقابلے میں سچ اور انصاف کا پرچم بلند رکھا۔ اس لحاظ سے سچ، انصاف اور ہمدردی محض ثقافتی مصنوعات نہیں بلکہ وہ معیارات ہیں جن کی مدد سے انسان خود اپنے کلچر کا محاسبہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظلم وقتی طور پر کلچر بن سکتا ہے، لیکن ہمیشہ کے لیے اخلاقی جواز حاصل نہیں کر سکتا۔
میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ انسانی فطرت نہ مکمل طور پر نیکی ہے اور نہ مکمل طور پر بدی۔ انسان کے اندر دونوں امکانات موجود ہیں۔ سلیم احمد کی ایک غزل کا مطلع ہے :
خیر کا تجھ کو یقیں ہے اور اس کو شر کا ہے
دونوں حق پر ہیں کہ جھگڑا صرف پس منظر کا ہے
اور پس منظر میں موجود یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ معاشرہ قائم رکھنے والی قوتیں یعنی اعتماد، تعاون، سچائی، انصاف اور ہمدردی وغیرہ زیادہ بنیادی نوعیت کی ہیں۔ انہی کے سہارے انسانی زندگی چلتی ہے۔ ظلم اور جبر وقتی طور پر طاقت پیدا کر سکتے ہیں، لیکن پائیدار معاشرہ تعمیر نہیں کر سکتے۔ اسی لیے بہت سے فلسفی اور مذہبی مفکرین یہ کہتے ملتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں خیر کی استعداد اصل ہے، جبکہ ظلم اور بگاڑ اس استعداد سے انحراف یا اس کے غلط استعمال کی صورتیں ہیں۔
