ڈاکٹر ماہ نور کی جُھلستی جِلد، سسکتے خواب اور مردانہ تسلط
کراچی کے آغا خان ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ کے اندر ادویات کی تیز بو بھی جلی ہوئی جلد کے ہولناک تعفن کو چھپا نہیں پا رہی۔ صاف ستھری سفید چادر پر لیٹی 29 سالہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے آنسو تھم نہیں رہے۔ وہ اپنے اس شاندار کیریئر کا سوگ منا رہی ہیں جو محض چند سیکنڈوں میں خاکستر کر دیا گیا۔
ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کی اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کی راہ میں قبائلی اور سماجی بندشوں کی ہمالیائی رکاوٹیں حائل ہیں، وہاں ماہ نور کا ایک میڈیکل سرجن کے طور پر ابھرنا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔
پھر 6 جون کی منحوس دوپہر آئی۔ ماہ نور سول ہسپتال کوئٹہ کی لائبریری میں بیٹھی تھیں، جب ہسپتال کے لفٹ آپریٹر ہمایوں شاہ نے اُن کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔ ایک دلدوز اور چیختی ہوئی پکار نے لائبریری کے سکوت کو چاک کر دیا، کیونکہ اس جلا دینے والے مائع نے ان کے جسم کا 13 فیصد حصہ جھلسا دیا تھا اور ایک آنکھ کی بینائی کو 30 فیصد تک دھندلا دیا تھا۔
اگرچہ حملہ آور اسی دن ”پولیس مقابلے“ میں مارا گیا، لیکن اس نے اپنا خوفناک مقصد حاصل کر لیا۔ اُس نے ایک نوجوان خاتون کے خون پسینے سے کمائے گئے مستقبل کو اچانک تڑپا دینے والے اندھیرے میں دھکیل دیا۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ارم ارشاد کے مطابق ”تیزاب پھینکنے کا مقصد شاذ و نادر ہی جان لینا ہوتا ہے ؛ اسے جان بوجھ کر اس لیے چنا جاتا ہے تاکہ عورت کا چہرہ بگاڑ دیا جائے، اسے بدصورت کر دیا جائے۔ جب ایک عورت کسی کے کہے پر عمل کرنے سے انکار کر دیتی ہے، تو تیزاب پھینکنا پدرشاہی غلبے اور مردانہ تسلط کو دوبارہ حاصل کرنے کی ایک پرتشدد کوشش ہوتی ہے، ایک ایسی ذہنیت جو کہتی ہے ’اگر تم میری نہیں، تو تمہارا کوئی مستقبل نہیں‘ ۔
پیشہ ورانہ شعبوں میں خواتین کی شمولیت کے خلاف گہری نفرت اور حسد کی یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کا شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو روزانہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال کے شعبہ امراضِ قلب میں خدمات سرانجام دینے والی نرس روما مریم کہتی ہیں، ”ہمیں صرف کام کرنے کا حق حاصل کرنے کے لیے اپنے خاندانوں، اپنے پڑوسیوں اور گہرے سماجی تعصبات سے لڑنا پڑتا ہے“ ۔
سول ہسپتال کوئٹہ میں طبی عملہ میں شدید غم و غصہ پل رہا ہے۔ ’ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے طبی خدمات معطل کیں تو بلوچستان حکومت کی جانب سے درجنوں ڈاکٹرز کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے آفس سیکرٹری ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کہتے ہیں، ”یہ بنیادی ادارہ جاتی سیکیورٹی کی مکمل ناکامی ہے۔ ہم مجرمانہ غفلت برتنے پر ہسپتال کی انتظامی قیادت کی فوری برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم اس وقت تک کام پر واپس نہیں آئیں گے جب تک کہ ہمارے فرنٹ لائن عملے کو ’ہیلتھ کیئر سروس پرووائیڈرز سیکیورٹی ایکٹ‘ کے تحت قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا“ ۔
اس سانحے پر سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتیں بھی رنجیدہ ہیں۔ دُخترانِ پولوس کی سسٹر ثوبیہ عاشق کہتی ہیں، ”زندگیاں بچانے والے طبی عملے کو ایسے نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جُرم ہے“ ۔ فدائینِ بے داغ مریم کی جماعت سے وابستہ فادر اکمل پطرس کہتے ہیں، ”آپ چاہے جتنے مرضی سیکورٹی گارڈز رکھ لیں، جب تک ہم فعال طور پراس مردانہ تسلط کی ذہنیت کا خاتمہ نہیں کرتے جو خواتین کو برابر کے پیشہ ور افراد کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرتی ہے، ہماری کام کی جگہیں کبھی محفوظ نہیں ہوں گی“ ۔
ملک میں کوئی بھی شخص بغیر کسی روک ٹوک کے تیز اثر تیزاب خرید سکتا ہے۔ سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین کہتے ہیں، ”چونکہ ریاست کے پاس کیمیکلز کی تقسیم کا کوئی سخت لائسنسنگ نظام نہیں ہے، اس لیے کوئی بھی ظالم محض پانچ سو روپے میں زندگی تباہ کر دینے والا ہتھیار خرید سکتا ہے۔
ایسڈ سروائیورز فاونڈیشن کے مطابق پاکستان میں اب بھی سالانہ 150 سے 200 کے قریب تیزاب کے حملے رپورٹ ہوتے ہیں۔ 2012 میں عبید چنائے کی آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ”سیونگ فیسز“ نے اس اہم مسئلہ کو عالمی سطح پر اُجاگر کیا مگر اس کے خلاف موثر قانون سازی نہ ہو سکی۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے المیہ کو سال 2024۔ 2025 کے قومی سروے کے اعداد و شمار کے تناظر میں دیکھا جائے تو ملک میں خواتین کی شرحِ خواندگی صرف 51 % سے 54 % کے درمیان ہے، جو مردوں کی 73 % سے زائد کی شرحِ خواندگی سے بہت پیچھے ہے۔
لیبر فورس کے حالیہ سروے کے مطابق ملک میں ہر چار میں سے تقریباً تین اہل خواتین سخت ثقافتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں اور معاشی زندگی سے مکمل طور پر باہر ہیں۔
ماہ نور ان نایاب خواتین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ان قومی اعداد و شمار اور سماجی بیڑیوں کو چیلنج کیا تھا۔ لیکن ملک کا طبی ادارہ ایک سینئر پروفیشنل کو تحفظ فراہم نہیں کر سکا تو یہ پاکستان کے روایتی خاندانوں کے لئے ہولناک اور واضح پیغام ہے۔
ماہ نور ناصر کو کسی سیاسی ہمدردی کے کھوکھلے الفاظ کی ضرورت نہیں ؛ ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جو اپنی اس جلا دینے والی ذہنیت اور مردانہ تسلط کا علاج کرنے کے لیے تیار ہو، تاکہ جب کوئی معصوم بچی درسی کتاب کھولے، تو اس کے خوابوں پر تیزاب نہیں، پھول نچھاور کیے جائیں۔


It was horrible act, and it means that no professional working woman is safe in any environment. Acid sales to individuals should be immediately banned.