میرے مطابق

یسوع مسیح کی اذیتیں اور پاکستانی مسیحیوں کے دُکھ

yousaf benjamin

ان دنوں میں دنیا بھر کے مسیحی پاک ہفتہ کے مقدس ایام سے گزر رہے ہیں، یہ وہ دن ہیں جن میں مسیحی یسوع مسیح کی اُن تکلیفوں، کوڑوں اور اُس بھاری صلیب کو یاد کرتے ہیں جو انہوں نے انسانیت کی خاطر اپنے کندھوں پر اٹھائی۔ روزوں کے ان ایام کا آغاز فروری میں ہوا تھا اور اب پانچ اپریل کو منائی جانے والی عیدِ قیامت المسیح (ایسٹر) یعنی یسوع مسیح کا مُردوں میں سے زندہ ہونا، کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بسنے والے مسیحیوں کے لیے چالیس روزوں کا یہ دورانیہ محض ایک مذہبی مشق نہیں رہا، بلکہ یہ پاکستانی مسیحیوں کے وجود پر برستے کوڑوں کی جیتی جاگتی تصویر بن گیا ہے جو ریاست اور معاشرے کے بے رحم رویے آئے روز مسیحیوں پر برساتے رہتے ہیں۔ اِن مسیحیوں کے لئے پاک جمعہ اب صرف سال میں ایک بار نہیں آتا، بلکہ فروری اور مارچ میں رونما ہونے والے خونی واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے مسیحی ہر روز صلیب پر مصلوب ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں بسنے والے مسیحیوں کے لیے مارچ ہمیشہ ایک خونی مہینہ ثابت ہوا ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ مسیحیوں نے روزوں کے دوران مارچ ہی کے مہینے میں ہمیشہ گہرے دُکھ سہے ہیں۔ اسی مارچ میں مسیحی وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو قتل کیا گیا، مارچ کے انہی ایام میں لاہور میں جوزف کالونی کو راکھ کے ڈھیر میں بدلا گیا، اسی مہینے میں یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں میں ہونے والے دھماکوں نے عبادت گاہوں کو لہو رنگ اور درجنوں مومنین کو شہید کر دیا۔ مارچ ہی کے دوران گلشنِ اقبال پارک لاہور میں ایسٹر کی خوشیاں مناتے معصوم بچوں اور خاندانوں کو بارود کی نذر کر دیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ مارچ کا مہینہ مسیحیوں کے لئے آزمائش اور قربانیوں کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں ہر سال اِن کی خوشیوں کو ماتم میں بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس سال اسلام آباد میں ہزاروں مسیحیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے اعلانات روزوں کے ان ایام میں ہوئے۔ اسلام آباد کی مسیحی بستیوں میں بلڈوزر بھیجنے کے اعلانات ان ہزاروں خاندانوں کے لیے وہی کرب ہے جو یسوع مسیح نے اپنے آخری سفر کے دوران سہا تھا، جہاں ان کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور ہر طرف سے تضحیک کے پتھر برس رہے تھے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ اعلانات ان بستیوں کے بارے میں کیے گئے جن کے متعلق ایسا کہا جا رہا تھا کہ وہ ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ کیا ریاست کی ترقی کا راستہ ہمیشہ غریب کی جھونپڑی سے ہی گزرتا ہے؟ یہ اقدامات نہ صرف بے حسی کی انتہا ہیں بلکہ ان سے مسیحی برادری میں احساسِ بیگانگی اور شدید اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔

فروری سے شروع ہونے والے ان روزوں کے دوران سرگودھا میں مرقس مسیح اور لاہور میں افتخار مسیح کا قتل محض دو افراد کا قتل نہیں، بلکہ یہ اس ملک میں بسنے والے ہر مسیحی کے تحفظ کے خواب کا قتل ہے۔ ظلم کی انتہا یہاں ختم نہیں ہوئی، بلکہ گزشتہ دنوں ایک اور دلدوز واقعہ پیش آیا جس میں ایک مسیحی نوجوان کو چھریاں مار کر بیدردی سے قتل کر دیا گیا۔ جب معصوموں کا خون سڑکوں پر بہتا ہے اور منصف خاموش رہتے ہیں، تو یسوع مسیح کے وہ زخم یاد آتے ہیں جو انہیں سچائی کی پاداش میں دیے گئے۔ ان نوجوانوں کا لہو اس مٹی سے سوال کر رہا ہے کہ کیا ہماری وفاداری کا صلہ صرف تشدد ہے؟ کیا آئینِ پاکستان میں درج برابری کے حقوق صرف کتابوں کی حد تک محدود ہیں؟

پاک ہفتہ کے دوران ماریہ شہباز کے کیس نے مسیحیوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ جب وفاقی عدالتیں سرکاری ادارے نادرا کے سچے ریکارڈ کو جھٹلا کر ایک 13 سالہ بچی کو اس کے والدین سے چھین کر ایک اغوا کار کے حوالے کرتی ہیں، تو یہ مسیحی برادری کے منہ پر وہ طمانچہ ہے جو کبھی حق گوئی کی پاداش میں ہمارے نجات دہندہ کو مارا گیا تھا۔

فروری میں صوبہ پنجاب میں کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف پاس ہونے والے قوانین کو جس طرح مارچ میں وفاقی عدالتی فیصلے نے روندا، اس نے ثابت کر دیا کہ یہاں ملکی قانون نہیں بلکہ طاقتور کی مرضی چلتی ہے۔ جب ریاست کا ایک ستون (مقننہ) قانون بناتا ہے اور دوسرا ستون (عدلیہ) اسے مسترد کر دیتا ہے، تو عام شہری انصاف کے لیے کس کا دروازہ کھٹکھٹائے؟ ماریہ کے والدین آج اس ذہنی کرب میں مبتلا ہیں جہاں انہیں اپنی شہریت اور ریاست کی دی ہوئی شناخت ہی مشکوک لگنے لگی ہے۔

مسیحیوں نے اس وطن کی آبیاری اپنے خون سے کی، مگر اِنہیں ان احسانوں کا صلہ بے گھر کرنے، اغوا، قتل اور اِن کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی صورت میں مل رہا ہے۔ کیا پاکستان کے مسیحیوں کے نصیب میں صرف دکھ اور صلیب ہی لکھی ہے؟ اُمید ہے آنے والا ’ایسٹر‘ (یومِ قیامت المسیح یا یسوع مسیحی کا مُردوں میں سے زندہ ہونا حقیقی خوشی لائے گا۔ ایسا نہ ہو کہ مسیحی اسی طرح ’گڈ فرائیڈے‘ کی تاریکیوں میں مصلوب ہوتے رہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر کیک کاٹنا اور ہار پہنانا تب تک ایک ڈھونگ رہے گا جب تک ماریہ شہباز جیسی بیٹیاں اپنے گھروں کو واپس نہیں آتیں اور جب تک اِن کے گرجا گھروں اور بستیوں کو تحفظ نہیں ملتا۔ ہم تصویروں والی ہم آہنگی نہیں، بلکہ حقوق والی برابری چاہتے ہیں۔

ایوانوں میں بیٹھے منصفو! اور حاکمو! یاد رکھو کہ یسوع مسیح نے سچائی کے لیے جان دی تھی، اور سچ کبھی نہیں مرتا۔ آج جو کوڑے آپ مرقس، افتخار، ماریہ اور اسلام آباد کے بے گھر مسیحیوں کو مار رہے ہیں، ان کی گونج عرشِ الٰہی تک پہنچ چکی ہے۔ اگر آپ ان مقدس ایام میں انصاف نہیں دے سکتے، تو انہیں ”برابر کا شہری“ کہنے کا ڈھونگ بند کرو۔ انصاف کرو، ورنہ تاریخ آپ کے ہاتھ مسیحیوں کے خون سے رنگتی رہے گی، کیونکہ ایک ایسا ملک جہاں نادرا کا ریکارڈ اور پارلیمان کا قانون ایک مظلوم بچی کو تحفظ نہ دے سکے، وہاں عدل کا جنازہ ہر روز نکلے گا۔ افسوس کہ پاکستان میں معاشرتی رویے اور نظامِ عدل اب اُس مقام تک آن پہنچے ہیں جہاں سب کچھ تباہ و برباد ہونے والا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW