کائناتی چیلنج۔ شکایات سے تدارک تک

انسان نے جب سے شعور کی گہرائیوں کو چھوا ہے، تب سے وہ اپنے وجود اور اس بے انتہا کائنات کے اسرار کو سلجھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ انسانی ذہن میں اکثر یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر کائنات کا خالق سب کچھ پہلے سے ہی مکمل، آراستہ اور تیار (ریڈی میڈ) کر کے عطا کر دیتا، تو زندگی کس قدر آسان ہوتی! نہ بھوک ہوتی، نہ بیماری، نہ موسم کی سختی اور نہ ہی کوئی قدرتی آفت۔
لیکن گہرائی سے جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی ”مکمل سہولت“ اور ”بغیر محنت کے حصول“ دراصل انسانی ارتقا کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتے۔ مشکلات، بیماریاں، دکھ اور ماحولیاتی چیلنجز کوئی عذاب یا رکاوٹ نہیں ہیں، بلکہ یہ انسانی وجود کو تراش کر ہیرا بنانے والے اوزار ہیں۔ اگر کائنات میں سب کچھ کسی رکابی میں پروسا مل جاتا، تو انسان کبھی بھی آج کی فکری، ذہنی اور جسمانی عظمت کو حاصل نہ کر پاتا۔
حیاتیات اور طبیعیات کے بنیادی قوانین واضح کرتے ہیں کہ زندگی نام ہی مسلسل حرکت، کشمکش اور ماحول سے جدوجہد کا ہے۔ اگر ہر چیز آسان ہوتی، تو سائنسی طور پر انسان کا وجود ہی ناممکن ہو جاتا۔
طبیعیات کا ایک بہت بڑا قانون ہے جسے ہم انحطاط (Entropy) کا قانون کہتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق، کائنات میں موجود ہر بند نظام قدرتی طور پر زوال، بگاڑ اور جمود کی طرف جاتا ہے، جب تک کہ اس پر باہر سے توانائی یا طاقت نہ لگائی جائے۔ زندگی البتہ کھلا نظام ہے جو ماحول سے توانائی حاصل کر کے مقامی سطح پر ترتیب پیدا کرتی ہے، جبکہ مجموعی طور پر کائنات میں انحطاط بڑھاتی رہتی ہے۔
اگر انسان کو ہر چیز بغیر محنت کے مل جاتی تو :
الف۔ انسان اپنے جسم اور دماغ کو استعمال کرنا بند کر دیتا۔
ب۔ جب توانائی کا تبادلہ اور استعمال بند ہوتا ہے، تو حیاتیاتی نظام تیزی سے زوال کی طرف جاتا ہے۔
ج۔ ہمارے جسمانی اعضا نسل در نسل کمزور ہوتے جاتے، اور بالآخر انسانی نسل کا حیاتیاتی خاتمہ ہو جاتا۔
جدید تحقیق، جیسے جرمی انگلینڈ کا انہدام پذیر ساختوں (Dissipative Structures) کا نظریہ، بتاتا ہے کہ زندگی خود انحطاط کے بڑھاؤ کے عمل سے ابھرتی ہے۔ چیلنجز اور توانائی کے بہاؤ ہی پیچیدگی اور ارتقا کو ممکن بناتے ہیں۔ لہٰذا، بقا کے لیے مسلسل محنت طبیعیات کی وہ مجبوری ہے جو ہمیں زندہ رکھتی ہے۔
سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی دماغ کسی پتھر کی طرح جامد نہیں ہے، بلکہ یہ ایک لچکدار عضو کی مانند ہے۔ جب انسان کسی نئے مسئلے کا سامنا کرتا ہے، تو اس کا دماغ نئے راستے تلاش کرنے کے لیے اعصابی روابط (Neural Connections) بناتا ہے۔ اس عمل کو ”نیورپلاسٹیسٹی“ کہا جاتا ہے۔
الف۔ اگر انسان کی زندگی مشکلات سے خالی ہوتی، تو دماغ کو کبھی بھی کوئی پلاننگ، سوچ بچار یا تخلیقی کام کرنا ہی نہ پڑتا۔
ب۔ چیلنجز کی عدم موجودگی میں انسان کا دماغ مکمل طور پر سست پڑ جاتا، جس کے نتیجے میں ہم آج بھی کسی غار میں رہنے والے ابتدائی جاندار کی طرح بالکل سادہ ہوتے۔
تمام علوم، سائنسی دریافتیں، خلائی سفر اور فلسفہ صرف تبھی پیدا ہوئے جب دماغ کو چیلنجز ملے۔ کارول ڈویک کی نمو یافتہ طرز فکر (Growth Mindset) والی تحقیق مزید واضح کرتی ہے کہ جو افراد چیلنجز کو سیکھنے کے مواقع سمجھتے ہیں، وہ زیادہ لچکدار، تخلیقی اور کامیاب ہوتے ہیں۔
ارتقا کی سب سے بڑی طاقت ”طبیعی انتخاب“ ہے۔ جب ماحول تبدیل ہوتا ہے اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں، تو جانداروں کے جینز خود کو اس سخت ماحول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ج۔ اگر ماحول شروع سے ہی مکمل طور پر سازگار، پرسکون اور آسان ہوتا، تو جینیاتی تبدیلی اور موافقت کا عمل رک جاتا۔
د۔ ارتقا کے رکنے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی نسل میں نئی خصوصیات، نئی صلاحیتیں اور سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت کبھی پیدا ہی نہ ہو پاتی۔
فلسفے کی تاریخ میں یہ سوال ایک بہت اہم مقام رکھتا ہے۔ نامور فلسفیوں نے انسان کی تکلیف اور مشکلات کو زوال کے بجائے روحانی اور شعوری بلندی کا وسیلہ قرار دیا ہے۔
مذہبی فلسفی جان ہِک نے ایک نہایت شاندار بحث پیش کی، جسے وہ ”روح سازی“ کہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دنیا انسان کے لیے کوئی تفریح گاہ نہیں ہے جہاں صرف لذت حاصل کرنی ہے، بلکہ یہ ایک ایسا مدرسہ ہے جہاں انسان اپنے اخلاقی اور روحانی کردار کو سنوارتا ہے۔
اگر دنیا میں کوئی تکلیف، غربت، دکھ یا بیماری نہ ہوتی تو :
الف۔ ہم کبھی بھی ”صبر“ کا مطلب نہ سمجھ پاتے، کیونکہ صبر کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
ب۔ ہمارے پاس ”بہادری“ کا کوئی تصور نہ ہوتا، کیونکہ بہادری دکھانے کے لیے کوئی خوف یا چیلنج ہی موجود نہ ہوتا۔
ج۔ ”سخاوت اور قربانی“ جیسی سدا بہار خصوصیات مٹ جاتیں، کیونکہ جب ہر کسی کے پاس سب کچھ ہوتا تو کسی کو دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔
اس لیے، تکلیف انسانی روح کو پگھلا کر اس سے سونا تیار کرنے والی بھٹی ہے۔ ہِک کا یہ نظریہ یونانی فسلفی ایرینیوس سے متاثر ہے اور آج بھی فلسفۂ مذہب میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
سارتر اور دیگر وجودی فلسفیوں کی نظر میں انسان کا اصل جوہر اس کا ”آزاد ارادہ (Free Will)“ ہے۔ انسان اپنے فیصلوں کی بدولت ہی پہچانا جاتا ہے۔
الف۔ اگر سب کچھ ”ریڈی میڈ“ مل جاتا، تو انسان کے پاس کسی بھی چیز کا انتخاب کا راستہ ہی نہ ہوتا۔
ب۔ جہاں انتخاب نہ ہو، وہاں اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ یوں انسان ایک آزاد وجود کے بجائے اس کھلونے کی طرح بن جاتا جس کی تمام چابیاں پہلے ہی گھومی ہوئی ہوں۔
چیلنجز انسان کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپنا راستہ چن کر اپنی تقدیر خود لکھے۔
جرمن فلسفی فریڈرک نطشے نے کہا تھا: ”جو چیز ہمیں مار نہیں سکتی، وہ ہمیں مزید مضبوط بناتی ہے“ ۔ ان کی نظر میں سچی خوشی آرام دہ زندگی گزارنے میں نہیں، بلکہ اپنی اندرونی طاقت کو پہچان کر مشکلات پر غالب آنے میں ہے۔ اگر زندگی ہر قسم کی تکلیف سے پاک ہوتی، تو انسان کبھی بھی اپنے اندر چھپے ہوئے ”عظیم انسان“ کو ظاہر نہ کر پاتا۔
سوویت لیڈر ولادیمیر لینن کے مشہور جملے ”اطمینان موت ہے“ کو اگر ہم سیاسی، سماجی اور نفسیاتی تناظر میں دیکھیں، تو معلوم ہو گا کہ یہ ایک اٹل سچ ہے۔
انسانی نفسیات میں جب ایک فرد اپنے حالات پر 100 فیصد مطمئن ہو جاتا ہے، تو اس کی پیش رفت رک جاتی ہے۔
جب انسان خود کو مکمل طور پر پرامن اور مطمئن محسوس کرتا ہے، تو اس کے اندر کا ”تجسس“ مر جاتا ہے۔ تجسس ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو کائنات کی وسعتیں تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
جو قومیں مکمل اطمینان کی حالت میں آ گئیں، وہ ذہنی جمود کا شکار ہو کر تاریخ کے صفحات سے مٹ گئیں۔ انسانی نفسیات کام ہی تب کرتی ہے جب اسے کسی بہتری کی امید یا کسی ادھورے پن کا احساس ہوتا ہے۔
دنیا کے تمام عظیم شاہکار۔ خواہ وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری ہو، مائیکل اینجلو کا آرٹ ہو یا آئن سٹائن کا نظریہ۔ سب ایک خاص قسم کی ”اضطراب“ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر یہ عظیم دماغ اپنے وقت کے علم، معاشرے اور حالات پر مطمئن ہو جاتے، تو آج انسانی تاریخ انتہائی سادہ ہوتی۔ بے چینی انسان کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہے۔
جب معاشرے میں کوئی بیماری، قدرتی آفت (جیسے زلزلہ، سیلاب یا قحط) آتی ہے، تو اکثر لوگ جذباتی ہو کر خدا کی ہستی یا اس کے انصاف پر شکوہ کرتے ہیں۔ آئیے اس پہلو کو منطقی اور عقلی بنیادوں پر پرکھیں کہ کیا یہ شکایت کرنا درست ہے؟
کائنات کسی مخصوص جذبے کے تحت نہیں، بلکہ اٹل اور غیر جانبدار قوانین پر چلتی ہے۔
الف۔ آگ کا کام جلانا ہے، وہ یہ نہیں دیکھتی کہ ہاتھ کسی معصوم بچے کا ہے یا کسی مجرم کا۔
ب۔ زلزلے کا کام زمین کی پلیٹوں کی حرکت کی وجہ سے توانائی خارج کرنا ہے۔ اگر خدا ہر بار کسی معصوم کو بچانے کے لیے طبیعیات کے قوانین بدلتا رہے، تو کائنات میں مکمل ابتری پیدا ہو جائے گی۔
ج۔ انسان کو عقل اسی لیے دی گئی ہے کہ وہ ان قوانین کو سمجھے، خود کو ان سے بچانے کا راستہ تلاش کرے، نہ کہ قانون بدلنے کی فضول شکایت کرے۔
کئی آفات اور نقصانات جنہیں ہم ”خدا کا عذاب“ سمجھ کر شکایتیں کرتے ہیں، وہ دراصل انسان کے اپنے لالچ اور نا انصافی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب انسان دریاؤں کے راستوں کو روک کر وہاں غیر قانونی عمارتیں بنائے گا، تو سیلاب آنے پر نقصان لازمی ہو گا۔ اس میں قصور انسان کے لالچ کا ہے، نہ کہ پانی کا۔
آج پوری دنیا گرمی اور موسم کی سختی محسوس کر رہی ہے۔ یہ سب انسان کی جانب سے جنگلات کی کٹائی، کارخانوں کے زہریلے دھوئیں اور بے لگام صنعتی ترقی کا نتیجہ ہے۔ اس میں خدا کو قصوروار ٹھہرانا سراسر غیر منطقی ہے۔
انسان کے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ ہم کائنات کی مکمل تصویر کو نہیں دیکھ سکتے۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص صرف مٹی کے اوپر بیج کا گلنا اور ٹوٹنا دیکھے، تو وہ سمجھے گا کہ بیج پر بڑا ظلم ہو رہا ہے۔ لیکن اگر وہ اس پورے عمل کو دیکھے، تو اسے معلوم ہو گا کہ اس بیج کے ٹوٹنے سے ہی ایک بڑا پھل دار درخت جنم لینے والا ہے۔ زندگی میں موجود دکھ اور تکلیفیں بھی ہمارے سامنے محض ایک حصہ ہوتی ہیں، لیکن کائناتی کھیل میں ان کے پیچھے کوئی بڑا ارتقائی مقصد چھپا ہوتا ہے۔
کچھ ایسے اہم رخ بھی ہیں جن پر عام طور پر انسانوں کا دھیان بہت کم جاتا ہے، لیکن وہ ہماری فکری پرواز کے لیے انتہائی ضروری ہیں :
کائنات میں ہر چیز اپنی ضد کی وجہ سے ہی پہچانی جاتی ہے۔
جیسے کہ اگر دنیا میں بڑھاپا یا بیماری نہ ہوتی، تو ہم ”صحت“ کی قیمت کو کبھی نہ سمجھ پاتے۔
اور اگر موت کا تصور نہ ہوتا، تو زندگی کے ہر لمحے کی وہ اہمیت اور خوبصورتی نہ ہوتی جو آج ہے۔
دکھ اور بیماریاں دراصل وہ سیاہ دھبے ہیں جو ہمیں سفید روشنی کے سچے معنی اور نعمت کا احساس دلاتی ہیں۔
اگر سب کچھ تیار مل جاتا، تو انسان مکمل طور پر خود غرض بن جاتا، کیونکہ اسے کبھی بھی کسی دوسرے انسان کی ضرورت یا مدد کی حاجت نہ پڑتی۔
جب کوئی آفت آتی ہے یا کوئی شخص سخت بیمار ہوتا ہے، تو معاشرے میں ”ہمدردی، ایثار، قربانی اور انسانیت“ کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔
یہ دکھ ہی ہیں جو انسان کو ایک دوسرے سے دل کے رشتے کے ذریعے جوڑتے ہیں۔ تکلیفیں ہمیں پتھر بننے سے روکتی ہیں اور ہمارے اندر جذبات کی نفاست کو برقرار رکھتی ہیں۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس پوری حقیقت کو سمجھنے کے بعد انسان کا عملی کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا وہ محض شکوے کرتا رہے یا کوئی بہتر راستہ اختیار کرے؟
جب بیماریاں آئیں، تو ہمیں رونے اور تقدیر کو کوسنے کے بجائے، میڈیکل سائنس میں تحقیق کو تیز کرنا چاہیے۔ کینسر اور دیگر خطرناک بیماریوں کے علاج انسان نے صرف اس لیے دریافت کیے ہیں کیونکہ اس نے بیماریوں کے چیلنج کو قبول کیا۔
ہمیں ان چیزوں پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں (جیسے زلزلے یا موت کو روکنا) ۔ اس کے بجائے، ہمیں ان چیزوں پر توجہ دینی چاہیے جو ہم کر سکتے ہیں : ماحول کو صاف رکھنا، زلزلے سے محفوظ جدید عمارتیں تعمیر کرنا، اجتماعی سماجی امدادی نظام کو مضبوط بنانا۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی غلطیوں کا ملبہ خدا یا تقدیر پر ڈالنا بند کرے۔ جب ہم اپنی ذمہ داری قبول کریں گے، تب ہی ہم خود کو سدھارنے اور ارتقا کا سفر تیزی سے طے کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
یہ کائنات کوئی ایسا بنا بنایا گھر نہیں ہے جہاں ہمیں صرف ایک آرام دہ مسہری پر محو استراحت ہونا ہے۔ یہ کائنات ایک تعمیراتی موقع ہے، جہاں ابھی بہت کچھ بننا ہے اور ہم اس کی تعمیر میں ایک معمار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اگر خدا انسان کے لیے سب کچھ پہلے سے تیار کر کے رکھ دیتا، تو انسان کا وجود ایسا ہوتا جیسے کوئی تنکا پانی میں پڑا ہو۔ بغیر کسی مقصد اور حرکت کے۔ مشکلات، دکھ، بیماریاں اور ارتقائی چیلنجز دراصل وہ ستون ہیں جن پر انسانی وجود کا محل کھڑا ہے۔
شکایتوں کا دفتر بند کر کے، اپنے حصے کی جدوجہد کو جاری رکھنا اور ہر مشکل کو ایک نئے ارتقائی زینے کے طور پر استعمال کرنا ہی اشرف المخلوقات ہونے کا اصل ثبوت ہے۔ ہمارا ارتقا تبھی جاری رہے گا جب ہم ہر کامیابی کے بعد آگے بڑھنے کی تڑپ رکھیں گے، کیونکہ سچ مچ ”اطمینان موت ہے اور جدوجہد ہی زندگی ہے۔“
