بلاگ

ایران امریکہ کشیدگی اور پاکستان کی ثالثی

muhammad asad solangi

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی امن کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی یہ صورتحال صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا، خصوصاً پاکستان جیسے خطے کے اہم ملک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کا بطور ثالث سامنے آنا نہایت اہم اور بروقت قدم ہے، جو اس کی ذمہ دارانہ خارجہ پالیسی اور عالمی امن کے لیے سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

اس حساس مرحلے پر پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی حکمتِ عملی اور بصیرت نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔ ان کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف ملکی سلامتی کو یقینی بنایا بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک متوازن اور موثر کردار ادا کیا۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور عالمی سطح پر ساکھ نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوایا ہے۔

پاک فوج ہمیشہ سے صرف سرحدوں کی محافظ نہیں رہی بلکہ مشکل عالمی حالات میں ایک ذمہ دار ادارے کے طور پر بھی سامنے آئی ہے۔ چاہے اقوامِ متحدہ کے امن مشن ہوں یا علاقائی تنازعات میں توازن برقرار رکھنا، پاکستان کی فوج نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ایران امریکہ کشیدگی میں بھی یہی پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹریٹجک سوچ پاکستان کی ثالثی کو مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہے۔

دوسری جانب، اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت حکومت میں شامل نہیں، لیکن اس کی سیاسی اور نظریاتی میراث اس قومی بیانیے کا حصہ ضرور ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خارجہ پالیسی، جس میں مسلم دنیا کو قریب لانے اور عالمی سطح پر خودمختار کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا، آج بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ہمیشہ مذاکرات، مفاہمت اور امن کو ترجیح دی۔

آج بلاول بھٹو زرداری اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کو جنگی محاذ آرائی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہی سوچ دراصل پاکستان کی موجودہ ثالثی پالیسی میں بھی جھلکتی ہے، جو ایک تسلسل کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی ایک دور کی پیداوار۔

ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست رابطے نہ ہونے کے باعث پاکستان کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ سفارتی اور دفاعی تعلقات، اور دوسری طرف ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور مذہبی و ثقافتی روابط۔ یہ وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو ایک منفرد پوزیشن دیتے ہیں۔ اس میں پاک فوج کی سکیورٹی گارنٹی اور قیادت کی حکمتِ عملی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس ثالثی سے پاکستان کو کیا حاصل ہونا چاہیے؟

سب سے پہلے، پاکستان کو اپنی عالمی ساکھ کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان اس بحران کو کم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ ایک بڑی سفارتی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ اس میں پاک فوج کی قیادت، خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

دوسرا، پاکستان کو اس موقع کو معاشی فوائد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ امریکہ سے تجارتی رعایتیں، عالمی مالیاتی اداروں میں سہولتیں، اور ایران کے ساتھ توانائی منصوبوں خصوصاً گیس پائپ لائن کو فعال بنانا پاکستان کے لیے نہایت اہم ہو سکتا ہے۔

تیسرا، علاقائی امن پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ اگر ایران میں جنگ ہوتی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچیں گے، اس لیے ثالثی دراصل اپنی سلامتی اور معیشت کے تحفظ کی بھی ایک حکمتِ عملی ہے۔

چوتھا، اس عمل کے ذریعے پاکستان کو اپنی دفاعی اور اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرنا چاہیے۔ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی سطح پر مثبت کردار پاکستان کے امیج کو مزید مضبوط کرے گا اور مستقبل میں دفاعی و سفارتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

اس سارے عمل میں قومی یکجہتی سب سے اہم عنصر ہے۔ حکومت، اپوزیشن، اور ریاستی اداروں کو ایک پیج پر ہو کر کام کرنا ہو گا۔ یہاں پیپلز پارٹی جیسے سیاسی پلیٹ فارم کا مثبت کردار بھی اہم ہے، جو ہمیشہ مفاہمت اور جمہوری تسلسل کی بات کرتا ہے۔

ایران امریکہ کشیدگی کے اس دور میں پاکستان کا ثالثی کردار ایک سنہری موقع ہے۔ اگر اسے دانشمندی، توازن اور مضبوط قیادت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پاکستان نہ صرف ایک بڑے عالمی بحران کو ٹال سکتا ہے بلکہ اپنی عالمی حیثیت کو بھی نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان کو دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ وہ ایک مضبوط دفاعی قوت کے ساتھ ساتھ ایک سنجیدہ، باوقار اور امن پسند ریاست بھی ہے۔ اور اس سفر میں پاک فوج کی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر، کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW