جوان نسل میں ذہنی امراض اور لمبے عرصے کی ادویات پر زور

دنیا اس وقت ایک ایسے سنجیدہ بحران سے گزر رہی ہے جس پر ترقی یافتہ ممالک
خاص طور پر گہری توجہ دے رہے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں اس پر وہ سنجیدگی نظر
نہیں آتی، وہ بحران نوجوانوں کے دماغ کا بحران ہے، ایک طرف یہ خبر سامنے
آ رہی ہے کہ امریکہ میں حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ نفسیاتی مریضوں
کو طویل عرصے سے دی جانے والی ادویات سے کس طرح محفوظ طریقے سے نجات
دلائی جائے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اور تشویشناک مسئلہ یہ ہے کہ دنیا
بھر میں نوجوان نسل تیزی سے ڈپریشن، ذہنی دباؤ، بے چینی اور مختلف
نفسیاتی عوارض و امراض کا شکار ہو رہی ہے۔
دنیا بیک وقت کئی سماجی، سیاسی یا معاشی بحرانوں سے گزرتی آگے بڑھ رہی
ہے لیکن جب انسانی دماغوں کا بحران اس کے سامنے ہو تو پھر اسے کسی نہ کسی
مقام پر سرینڈر کرنا پڑ جاتا ہے، کیوں کہ یہ بحران آنے والی نسلوں کو براہِ
راست متاثر کر رہا ہے۔ اسی لیے دنیا کے کئی ممالک نے ذہنی صحت کو اب
پرائمری تعلیم کا حصہ بنانا شروع کر دیا ہے تاکہ ابتدائی سطح پر ہی
نوجوانوں کو ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے طریقے سکھائے جا سکیں۔ میں نے مختلف
اخبارات اور ایجنسیوں کے ڈیٹا کو جمع کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یورپ یا
امریکہ میں نوجوان نسل کچھ زیادہ ہی حساس ہے جس کی وجہ سے وہاں ڈپریشن،
اینگزائٹی جیسے دباؤ یا عارضے زیادہ پل رہے ہیں۔ برطانیہ میں زیورخ
انشورنس کی جانب سے ویلیو آف مینٹل ہیلتھ کے عنوان سے شائع رپورٹ وہاں کے
ایک معتبر اخبار میں شائع ہوئی ہے، اس رپورٹ کے مطابق 15 سے 19 سال کی
عمر کے تقریباً 51 فیصد نوجوان کسی نہ کسی ذہنی یا رویّاتی عارضے بی
ہیوریل ڈس آرڈر کا شکار ہیں۔ جس میں ڈپریشن، اینگزائٹی، ADHD، رویّاتی
مسائل، سماجی اضطراب اور جذباتی عدم استحکام شامل ہیں۔
اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ہی صورتحال برقرار رہی تو 2030 تک یہ شرح
بڑھ کر 64 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، یعنی ہر تین میں سے دو نوجوان کسی نہ
کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہوں گے۔ اس وقت برطانیہ میں تقریباً 87 لاکھ
افراد اضطرابی کیفیت عرف عام بی چینی کا شکار ہیں، اور اندازہ ہے کہ
آئندہ دو برسوں میں یہ تعداد ایک کروڑ پانچ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ اب اس
کے پیچھے اسباب بھی بتائے گئے ہیں کہ وہ کون سے کامن سبب ہیں جس کی وجہ
سے نوجوان اس بیماری میں مبتلا ہیں، سب سے بڑی یا عام سی وجوہات مہنگائی،
بڑھتے ہوئے اخراجات، گھریلو دباؤ، سوشل میڈیا کا مسلسل نفسیاتی اثر اور
اس سے پیدا ہونے والا مقابلے کا کلچر، نوجوانوں پر بڑھتا ہوا تعلیمی
دباؤ، مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور خاندانی نظام کا کمزور
ہونا شامل ہیں۔ برطانوی حکومت کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو 2030 تک
معیشت کو سالانہ 170 بلین پاؤنڈ تک کا نقصان ہو سکتا ہے، جو مجموعی قومی
پیداوار کا تقریباً پانچ فیصد بنتا ہے۔
اب اگر جمہوری اور انسانی آزادیوں کے علمبردار امریکہ کی طرف دیکھیں تو
وہاں بھی صورتحال نازک ہی دکھائی دیتی ہے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل
ہیلتھ کے مطابق 18 سے 25 سال کے 36 فیصد نوجوان کسی نہ کسی ذہنی دباؤ یا
بیماری کا شکار ہیں۔ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی ایک رپورٹ
کے مطابق ہائی اسکول کے 40 فیصد طلبہ مسلسل اداسی یا مایوسی محسوس کرتے
ہیں، جبکہ 20 فیصد نوجوان کم از کم ایک بار خودکشی کے بارے میں سوچ چکے
ہیں۔ یہ شرح لڑکیوں اور بعض مخصوص کمیونٹیز میں مزید زیادہ ہے۔ اس کے
علاوہ 12 سے 17 سال کے نوجوانوں میں بھی اینگزائٹی، رویّاتی مسائل اور
دیگر ذہنی ڈس آرڈر، عوارض یا مسائل عام ہیں۔ امریکہ میں بھی اسباب
تقریباً وہی ہیں جو اسباب برطانیہ میں ظاہر ہوئے ہیں، سوشل میڈیا کا دباؤ،
سائبر بُلیئنگ، اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال، تعلیمی اور کیریئر کا دباؤ،
معاشی غیر یقینی اور خاندانی مسائل شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق 2030 تک
ایسے نوجوانوں کی تعداد میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اب فرانس
کی طرف چلتے ہیں فرانس میں پبلک ہیلتھ ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق 18 سے
30 سال کے نوجوانوں میں ڈپریشن کی علامات 38 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہو
چکی ہیں، جبکہ اینگزائٹی کی شرح 29 سے 39 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مزید
تشویشناک بات یہ ہے کہ 15 سے 35 سال کی عمر کے افراد میں موت کی بڑی
وجوہات میں خودکشی شامل ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر فرانس نے 2025
کو ذہنی صحت کا سال قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق اس کے اسباب میں کووڈ کے
بعد پیدا ہونے والا خوف، سماجی تنہائی، رہائش کے مسائل، معاشی غیر یقینی
اور مستقبل کا خوف شامل ہیں۔ جرمنی میں نوجوانوں کی ذہنی صحت پر ماحولیاتی
تبدیلیوں کا خوف بھی ایک اہم عنصر بن کر سامنے آیا ہے۔ موسمیاتی بحران کے
خدشات نوجوانوں میں اضطراب اور ذہنی دباؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ اگر ہم
پاکستان پر نظر ڈالیں تو ایسا نہیں کہ پورے یورپ امریکہ میں نوجوانوں کی
تباہی ہو رہی ہے اور ہم اس لئے بچے ہوئے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یا اس
ریاست میں بس رہے ہیں جس ریاست کا بھی ایک مذہب یا عقیدہ ہے، ایسا بالکل
نہیں ہماری تباہی سب سے زیادہ ہوئی ہے احساس اس لیے نہیں کہ ہم کلٹ،
فالوورز، جاہل کچھ زیادہ ہیں علم، عقل، استدلال، سمجھ سے ہمارا واسطہ نہیں
ڈائیگنوزڈ ہی نہیں نا اس چیز کا ادراک ہے بلکہ سادہ زبان میں یہ کہ ان
تمام مسائل کا مرکز دماغ ہوتا ہے جو سوچتا ہے ہمارے ہاں دونوں چیزیں نہیں
لیکن اس کے باوجود جو کچھ اسٹڈیز بتا رہیں ہیں وہ دنیا سے کم نہیں ہے۔ آغا
خان یونیورسٹی کی 2025 کی ایک تحقیق کے مطابق 15 سے 18 سال کے 53 فیصد
نوجوان ڈپریشن اور اینگزائٹی کا شکار ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق
پاکستان میں 24 سے 30 فیصد افراد کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں،
یعنی ہر ساتواں شخص اس مسئلے سے متاثر ہے۔ مزید یہ کہ جہاں دنیا میں ایک
لاکھ افراد کے لیے ایک ماہرِ نفسیات دستیاب ہوتا ہے، پاکستان میں تقریباً
تین لاکھ ساٹھ ہزار افراد پر ایک ماہر نفسیات موجود ہے۔ جنوبی ایشیا کے
دیگر ممالک جیسے بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا میں بھی صورتحال
کچھ مختلف نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے
والے وقت میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ذہنی بیماریوں کا شکار ہو سکتی ہے۔
اب اگلے ٹاپک پر آ جاتے ہیں، وہ بھی بڑا ہے اور یہ مسائل ہمارے ہاں بھی
ہیں، امریکہ میں ذہنی امراض کی ادویات کا استعمال کم کرنے پر غور ہو رہا
ہے، رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت، خاص طور پر ہیلتھ سیکریٹری رابرٹ ایف
کینیڈی جونیئر، اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ نفسیاتی ادویات کے زیادہ
استعمال کو کیسے کم کیا جائے۔ اس سلسلہ میں ماہرین نئی گائیڈ لائنز تیار
کر رہے ہیں تاکہ مریض محفوظ طریقے سے ادویات کم یا بند کر سکیں۔ کیونکہ
ایک بڑا مسئلہ یہ سامنے آیا ہے کہ بہت سے مریضوں کو ایسی ادویات دی جا
رہی ہیں جو اب ضروری یا موثر نہیں رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو
عموماً دوا شروع کرنے کی تربیت تو دی جاتی ہے، لیکن دوا بند کرنے کے اصول
کم سکھائے جاتے ہیں۔ اسی لیے بعض اوقات مریض طویل عرصے تک غیر ضروری
ادویات لیتے رہتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 1988 میں پہلی اینٹی ڈپریسنٹ دوا
پروزوک متعارف ہوئی، اور آج امریکہ میں ہر چھٹا شہری کسی نہ کسی نفسیاتی
دوا کا استعمال کر رہا ہے۔ بعض مریض ایک ہی وقت میں کئی ادویات لیتے ہیں،
جس سے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سی دوا موثر ہے، حقیقت یہ ہے کہ
ذہنی بیماریوں کا علاج صرف ادویات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہر مریض کو
اس کی حالت کے مطابق علاج ملنا ضروری ہے۔ ادویات بعض اوقات ناگزیر ہوتی
ہیں، لیکن ہر صورت میں نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات علاج
کے بجائے ادویات کی مقدار پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، جہاں مکمل تشخیص کے
بجائے لمبی نسخہ نویسی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے
کہ ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لیا جائے، خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے، کیونکہ یہی ہمارا مستقبل ہے۔
