میرے مطابق

بلوچستان: زرعی صلاحیت اور چیلنجز

farooq rind

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قدرتی معدنی وسائل کے ساتھ ساتھ زرعی اعتبار سے بھی خودکفیل بنایا ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع زراعت کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ نصیرآباد کو زرعی گرین بیلٹ کہا جاتا ہے۔ جھل مگسی، جعفر آباد، خضدار، قلات، لورالائی، پنجگور اور تربت کی کھجوریں نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی مقبول ہیں۔ ان علاقوں کے بیشتر افراد کا پیشہ زراعت ہے۔ یہاں ہر موسم میں مختلف فصلیں کاشت کی جاتی ہیں، جن میں گندم، چاول، کپاس، گنا اور دیگر شامل ہیں۔ جعفر آباد میں زرعی نظام پٹ فیڈر کینال اور دیگر نہروں سے پانی حاصل کرتا ہے، جبکہ جھل مگسی میں نہری نظام اور زیرزمین پانی سے کاشتکاری کی جاتی ہے۔ خضدار اور دیگر علاقوں میں انگور، ، زیتون اور دیگر پھل پیدا ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہاں کی زمین زیادہ تر پہاڑی اور نیم بنجر ہے، لیکن کچھ علاقے انتہائی زرخیز ہیں۔ قلات میں سیب، انگور، بادام، اخروٹ اور آڑو کی کاشت ہوتی ہے۔ یہاں سردیوں میں برفباری اور گرمیوں میں خوشگوار موسم زراعت کے لیے موزوں ہے۔ بلوچستان کے سرد علاقے میوہ جات کی پیداوار کے لیے انتہائی مناسب ہیں۔ لورالائی بھی زرعی لحاظ سے نمایاں ہے۔ یہاں سیب، خوبانی، انگور، گندم اور دیگر فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ پانی کے ذرائع میں چشمے، بارشیں اور ٹیوب ویلز شامل ہیں۔

بلوچستان کی زرعی زمین کا بڑا حصہ بارانی (بارش پر منحصر) ہے۔ زمینداروں کو پانی کی قلت، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی کمی اور مارکیٹ تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ نصیرآباد، جو سندھ کی سرحد کے قریب واقع ہے، زرعی بیلٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ رخشان ڈویژن کے اضلاع نوشکی، خاران، چاغی اور و اشک میں بھی زیادہ تر لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ ہزاروں افراد کا ذریعہ معاش زراعت ہے۔ یہ زمیندار دو موسمی کاشتکاری کے ذریعے نہ صرف قریبی اضلاع بلکہ بڑی منڈیوں تک اپنی فصلیں پہنچاتے ہیں۔ خاران اور نوشکی رخشان ڈویژن میں زرعی لحاظ سے نمایاں ہیں۔ یہاں کے زمیندار پہلے بجلی سے آبپاشی کرتے تھے، لیکن اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سولر سسٹم کی فراہمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ چاغی میں زمیندار زیادہ تر اپنی مدد آپ کے تحت زراعت کرتے ہیں۔ یہاں کے بیشتر زمیندار بجلی سے منسلک نہیں ہیں اور کچھ جنریٹر استعمال کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تر سولر سسٹم سے فصلیں اگاتے ہیں۔ چاغی میں سردی اور گرمی دونوں موسموں میں کاشتکاری کی جاتی ہے۔ چاغی کی مختلف تحصیلوں میں لوگ اپنی استطاعت کے مطابق زراعت کرتے ہیں، لیکن امین آباد کو زرعی گرین بیلٹ کا درجہ حاصل ہے۔

امین آباد کے ایک مشہور زمیندار نے بتایا: ’صدیوں سے ہمارا پیشہ زمینداری ہے۔ ہم اپنی مدد آپ کے تحت زمینیں آباد کرتے ہیں۔ یہاں بارشیں کم ہوتی ہیں، اس لیے زیادہ تر لوگ سولر سسٹم استعمال کرتے ہیں۔ امین آباد چاغی کے تربوز اور خربوزے گرمیوں میں پورے پاکستان اور عالمی منڈیوں میں جاتے ہیں۔ ہم بھنڈی، توری، ٹینڈے، کدو اور کھیرا (جسے عام زبان میں بادرنگ کہتے ہیں ) بھی اگاتے ہیں، جو رخشان ڈویژن سے کوئٹہ کی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔ ‘

اس وقت چاغی میں 15 سے 20 ہزار سے زائد افراد زراعت سے وابستہ ہیں، اور ہر زمیندار کے ساتھ 15 سے 20 افراد کام کرتے ہیں۔ امین آباد، شے سالار، شادی شیف، لشکراب، چہتر، پدگ، چارسر اور مزنگ، تالاپ جیسے علاقوں کے تمام افراد کا ذریعہ معاش زراعت ہے۔ بدقسمتی سے محکمہ زراعت یہاں مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ زرعی دفاتر اکثر بند رہتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے زمینداروں سے ایڈوانس رقم لے کر بلڈوزر کے گھنٹوں کی فراہمی کا وعدہ کیا جاتا ہے، لیکن وہ بھی پورا نہیں ہوتا۔ ٹیوب ویلز، تالاب اور بیج کے حوالے سے بھی زمیندار محروم ہیں۔ گزشتہ سال ایک طوفان نے فصلوں کو تباہ کر دیا۔ ضلع کو آفت زدہ قرار دیا گیا، لیکن آج تک کوئی امداد نہیں ملی۔

ایک اور زمیندار نے کہا : چاغی کی زمین معدنی وسائل کی طرح زرعی اعتبار سے بھی زرخیز ہے۔ اگر حکومت محکمہ زراعت کو فعال کرے، زمینداروں کو کم خرچ میں جدید ٹیکنالوجی، ڈرپ ایریگیشن اور ٹنل فارمنگ متعارف کروائے اور بلڈوزر کے گھنٹے فراہم کرے تو چاغی زرعی انقلاب بھی لا سکتا ہے۔

چاغی میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں مقامی زمینداروں کے ساتھ تعاون کریں تو چاغی نہ صرف بلوچستان بلکہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ حکومت بلوچستان کو زراعت پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ زمیندار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW