میرے مطابق

ننھے جتھے کس کے ہتھے؟

ayesha imran dar

چائلڈ لیبر، بھیک مانگنے کے لیے بچوں کا استعمال، گھریلو تشدد کا شکار معصوم ملازم بچے، والدین کی غیر ذمہ دارانہ منصوبہ بندی، مذہب کے نام پر بچوں کی بے تحاشا پیدائش اور الیٹ کلاس کی منافقت یہ سب ہمارے معاشرے کی وہ تلخ حقیقتیں ہیں جو نہ صرف ہماری اجتماعی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر گہرا سوالیہ نشان بھی بن جاتی ہیں۔ ایک طرف ہم انسانی حقوق کے بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے شہروں، گلیوں، چوراہوں، ہوٹلوں، ورکشاپوں، بھٹوں اور گھروں میں معصوم بچے اپنی زندگی کا سب سے نازک حصہ مشقت، تشدد، بھوک، بے حسی اور استحصال کے سائے میں گزار رہے ہوتے ہیں۔

چائلڈ لیبر آج محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسے زخم کی صورت اختیار کر چکی ہے جو غربت، لاعلمی، حکومتی کمزوری، طاقتور طبقے کی بے رحمی اور معاشرے کی بے حسی سے مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ جب ایک بچہ کتاب کی جگہ اوزار تھام لے، جب اس کی انگلیاں کھیلنے کی بجائے سخت مشقت سے سوج جائیں، جب اس کی آنکھوں میں خوابوں کی جگہ تھکن اتر آئے تو یہ صرف ایک بچے کی ہار نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہوتی ہے۔ لیکن افسوس یہ کہ ہم اس کو دیکھنے، سمجھنے اور بدلنے کے لیے تیار نہیں۔

المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھکاری طبقہ جان بوجھ کر زیادہ بچے پیدا کرتا ہے تاکہ یہ بچے بھیک مانگنے کا ذریعہ بن سکیں۔ یہ بچے پیدائش ہی سے ایک ایسے میکانی نظام کا حصہ بنا دیے جاتے ہیں جس کا مقصد نہ ان کی پرورش ہوتا ہے نہ تعلیم بلکہ صرف کمائی۔ انہیں سڑکوں پر دھوپ، گرد، بارش اور خطرات کے بیچ گھمایا جاتا ہے۔ انہیں بیمار کمزور یا معذور بنا کر ہمدردی بٹوری جاتی ہے اور پیچھے ایک مکمل مافیا ان کی سانس تک کا مالک بنا بیٹھا ہوتا ہے۔ یہ بچے انسان کم اور ہمدردی کی تجارت کا سامان زیادہ بن جاتے ہیں جبکہ معاشرہ ترس کھا کر بھی اسی نظام کو مضبوط کرتا رہتا ہے۔ حکومت کی کمزور گرفت مناسب نگرانی کا فقدان اور عوام کی لاعلمی اس جرم کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔

ایک اور تضاد ایلیٹ کلاس کا ہے وہی طبقہ جو انسانی حقوق، مساوات اور بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا اور سڑکوں پر سب سے زیادہ آواز اٹھاتا ہے مگر افسوس یہ کہ انہی کے گھروں سے گھریلو ملازم بچوں کی تشدد زدہ لاشیں ملتی ہیں۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو کام کے نام پر غلام بنائے جاتے ہیں، جنہیں مناسب کھانا نہیں دیا جاتا، راتوں کی نیند چھین لی جاتی ہے، ذرا سی غلطی پر مارا جاتا ہے، اور پھر معافی کے نام پر ان کی موت کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ طاقتور لوگ قانون سے بچ نکلتے ہیں پیسے معاملات نمٹا دیتے ہیں، اور معصوم بچے قبر میں جا کر بھی انصاف کے منتظر رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ منافقت ہے جس نے ہمارے اخلاقی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

ساتھ ہی مذہب کے نام پر بغیر سوچے سمجھے بچوں میں اضافہ کرنے کا رجحان بھی چائلڈ لیبر اور استحصال کو مزید بڑھا رہا ہے۔ والدین یہ سوچے بغیر ایک کے بعد ایک بچہ پیدا کرتے جاتے ہیں کہ کیا وہ ان کی تعلیم، خوراک، صحت، تربیت اور تحفظ کی ذمہ داری پوری کر سکیں گے یا نہیں۔ ”رزق اللہ دیتا ہے“ کی آڑ میں وہ اپنی ذمہ داریوں سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مذہب والدین پر بچوں کی بہترین تربیت اور کفالت کو لازم قرار دیتا ہے۔ جب گھر میں اتنے بچے ہوں کہ ایک روٹی بھی سب میں برابر تقسیم نہ ہو سکے، جب والدین کی توجہ، محبت اور وسائل تقسیم ہوتے ہوتے ختم ہو جائیں، تو بچے مجبوری میں مزدوری، بھیک، تشدد، بیماری اور محرومی کا شکار بن جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کی پیدائش عبادت نہیں رہتی، بلکہ ظلم کے بوجھ میں بدل جاتی ہے۔ اور اس کا پہلا شکار وہی معصوم جانیں بنتی ہیں جنہیں ایک بہتر زندگی ملنی چاہیے تھی۔

اصل مسئلہ ہمارے معاشرے کی ترجیحات، سوچ اور نظام کی کمزوری ہے۔ ہم چائلڈ لیبر کو معمول سمجھ چکے ہیں، بھکاری بچوں کو دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، گھریلو ملازمین کے بچوں کو اپنا حق سمجھ کر رکھتے ہیں، مذہب کے نام پر ذمہ داری سے بھاگتے ہیں۔ جب تک ریاست سخت قوانین پر عمل نہ کروائے، جب تک والدین اپنی ذمہ داری کو عبادت نہ سمجھیں، جب تک معاشرہ استحصال کرنے والوں کا بائیکاٹ نہ کرے، جب تک ہم خود اپنے اردگرد موجود ظلم کو روکنے کی کوشش نہ کریں تب تک کوئی قانون، کوئی مہم، کوئی تقریر اس ظلم کا خاتمہ نہیں کر سکے گی۔

بچوں کے حقوق کی حفاظت صرف حکومت کا کام نہیں، یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے۔ ہر بچہ اس دنیا میں کھیلنے، پڑھنے، مسکرانے اور محفوظ رہنے کے لیے آتا ہے، نہ کہ بھوک، تشدد، مشقت اور بے حسی کے درمیان پلنے کے لیے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں معصوم ہاتھوں سے اوزار، بھیک کا پیالہ اور تشدد کا خوف چھین کر ان کے ہاتھ میں کتاب، تحفظ اور محبت کا حق واپس رکھنا ہو گا۔ کیونکہ بچے آج یا کل نہیں ہر دور کی وہ امید ہیں جو اگر ٹوٹ جائے تو قومیں صدیوں پیچھے رہ جاتی ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW