کم عمری کی شادی کیوں ؟

کم سنی میں شادی پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جہاں اکثر لڑکیاں 16 سال کی عمر سے پہلے ہی شادی کے لیے مجبور ہو جاتی ہیں۔ ملک میں ہونے والی تحقیق کے مطابق تقریباً 21 فیصد لڑکیاں 18 سال سے پہلے شادی کر لیتی ہیں اور دیہی علاقوں میں یہ تناسب کہیں زیادہ ہے ایک اندازے کے مطابق 30 فیصد تک یہ لڑکیاں جسمانی طور پر بالغ تو ہوتی ہیں لیکن ذہنی طور پر وہ اتنی پختہ نہیں ہوتیں کہ ان کی شادی کردی جائے جس کے نتیجے میں وہ جسمانی، نفسیاتی اور معاشرتی طور پر شدید مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کم عمر شادی کے نتیجے میں پاکستان میں لڑکیوں میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن، اضطراب، اور خود اعتمادی کی کمی کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور یونیسف کے مطابق ہر سال تقریباً 37 فیصد کم عمر شادی شدہ لڑکیاں ذہنی دباو¿ اور احساس کمتری کی شکایات کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں۔
کم عمر شادی نہ صرف ذہنی دباو پیدا کرتی ہے بلکہ لڑکیوں پر جسمانی اور نفسیاتی ظلم کے امکانات بھی بڑھا دیتی ہے۔ پاکستان میں خواتین کے حقوق پر ہونے والی تحقیق کے مطابق تقریباً 50 فیصد کم عمر شادی شدہ لڑکیاں ازدواجی زندگی میں جسمانی یا نفسیاتی تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ اس تشدد کی وجہ سے اضطراب اور خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ اکثر لڑکیاں اپنی مرضی کے بغیر حاملہ ہو جاتی ہیں یا اپنے شریک حیات کی توقعات کو پورا کرنے کے لیے جذباتی دباو محسوس کرتی ہیں۔ کم عمر شادی شدہ لڑکیاں جو جسمانی طور پر بالغ ہو چکی ہوتی ہیں، مگر ذہنی اور جذباتی طور پر پختہ نہیں ہوتیں، اکثر ازدواجی زندگی کے دباو کو برداشت نہیں کر پاتیں، جس کے نتیجے میں نفسیاتی بیماریاں ان کو گھیر لیتی ہیں اور ان کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہوتا۔
تعلیم کی کمی بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد کم عمر شادی شدہ لڑکیاں سکول مکمل نہیں کر پاتیں، جس سے نہ صرف ان کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ معاشرتی اور اقتصادی طور پر بھی کمزور رہ جاتی ہیں۔ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ نہیں ہوتیں اور زیادہ تر خاندانی یا معاشرتی دباو کے سامنے مجبور رہتی ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق کم عمر شادی شدہ لڑکیوں میں فیصلہ سازی کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہیں اور وہ مستقل دباو میں ہیں۔
کم عمر شادی کے نفسیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ والدین، معاشرہ اور حکومت مل کر اقدامات کریں۔ والدین کو یہ سمجھنا ہو گا کہ جسمانی بطور پر بالغ کا مطلب ذہنی بلوغت نہیں ہے اور بچوں کو اپنی عمر کے مطابق جذباتی اور ذہنی طور پر تیار ہونے کا موقع دینا چاہیے۔ حکومت کو قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے اور کمیونٹی سطح پر آگاہی پھیلانی چاہیے تاکہ والدین اور معاشرہ سمجھیں کہ ہر لڑکی کا حق ہے تعلیم مکمل کرنے ،محفوظ زندگی گزارنے اور اپنی شناخت بنانے کا۔ نفسیاتی مشاورت، سپورٹ گروپس اور تعلیمی پروگرام ایسے لڑکیوں کو جذباتی اور ذہنی صحت سنبھالنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں تاکہ وہ کم عمر شادی کے منفی اثرات سے محفوظ رہیں۔
کم عمر شادی، جسمانی بالغ ہونے کے باوجود نفسیاتی اور جذباتی بلوغت کی کمی کا باعث بنتی ہے، اور پاکستان میں لڑکیوں پر ہونے والے جسمانی و نفسیاتی ظلم کے اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ بچوں اور نوجوان لڑکیوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ، والدین اور حکومت سب مل کر اقدامات کریں۔
مذہبی حلقوں کو کم عمری کی شادی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس معاملے میں حکومت اور معاشرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ کم سنی کی شادی کو جب مذہب کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے تو اصل میں دین کی روح کے بجائے رسم اور روایت کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ ایک ذہنی طور پر نابالغ بچی نہ ماں بننے کے قابل ہوتی ہے نہ ازدواجی دباو جھیلنے کے، اور نہ ہی فیصلے کرنے کی پختگی رکھتی ہے اس کے باوجود جب مذہبی بیانیہ اس عمل کو "جائز” کہہ کر پیش کرتا ہے تو ریاستی قوانین کمزور پڑ جاتے ہیں اور ظلم کو اخلاقی جواز مل جاتا ہے۔ مذہبی قیادت اگر واقعی خیرخواہ ہے تو اسے حکومت کے بنائے گئے کم از کم عمر کے قوانین کی تائید کرنی چاہیے کیونکہ یہ قوانین مغرب کی نقالی نہیں بلکہ بچوں کے حقِ تعلیم، صحت اور باعزت زندگی کے تحفظ کے لیے ہیں۔ دین کا مقصد انسان کو نقصان سے بچانا ہے نہ کہ نقصان کو تقدس دے دینا۔ اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی حلقے کم عمری کی شادی کے دفاع کے بجائے اس کے خلاف واضح موقف اختیار کریں اور ریاست کے ساتھ مل کر بچیوں کو بچپن، تعلیم اور محفوظ مستقبل دینے میں کردار ادا کریں۔
