نیا حکم نامہ

آمر نے
ایک اور حکم نامہ جاری کیا ہے
کہ سورج
اب اس کی مرضی سے طلوع ہو گا
اور ہوا
صرف ادھر کو چلے گی
جدھر کا حکم ہو گا
پرندوں کو ہدایت ہے
کہ صبح کے گیت گانے سے پہلے
اجازت نامہ حاصل کریں،
اور درخت
اپنے سائے ناپ کر رکھیں
کہ کہیں وہ
عوام کو ٹھنڈی چھاؤں نہ دینے لگیں
آمر نے کہا ہے
لفظوں پر محصول لگے گا،
سوال پوچھنے والوں کے لیے
نئی قسم کی خاموشی ایجاد کی جائے گی
بحکم آمر آئین کا دیباچہ تبدیل کر دیا گیا ہے
اور اس میں
سنہری روشنائی سے لکھوا دیا گیا ہے :
”اطاعت ہی آزادی ہے“
شہر کے چوک میں
ایک بہت بڑا آئینہ نصب کیا گیا ہے،
جس میں ہر چہرے کو حکم ہے کہ
وہ آمر جیسا دکھائی دے
یا پھر دکھائی ہی نہ دے
تاریخ دانوں سے کہا گیا ہے
کہ وہ تاریخ کو
دوبارہ ترتیب دیں،
اور ماضی سے
وہ تمام دن حذف کر دیں
جب کسی نے انکار کیا تھا
آمر کا نیا حکم نامہ
دیواروں پر چسپاں ہے،
مگر دیواروں کی دراڑوں میں
ایک سرگوشی پل رہی ہے
کہ حکم نامے
ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے،
اور نہ ہی آمر

This is a beautiful poem but it is not about a person who resides in America,
He is not Trump or President Trump!
He is an elected leader.
I do not know his name but my all newspapers in England tell me he is a politician and President.
We all know his name, anyway!
But he is not a Trump!