انسان کا سب کے درمیان ہو کر بھی اکیلا ہونا
انسان کا سب کے درمیان ہو کر بھی اکیلا ہونا ایک ایسا احساس ہے جو بظاہر بہت سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر ایک پوری کائنات چھپی ہوتی ہے۔ یہ اکیلا پن ہجوم کی کمی سے نہیں، بلکہ دل کے خلا سے پیدا ہوتا ہے۔ بسا اوقات انسان محفلوں میں بیٹھا ہوتا ہے، قہقہے گونج رہے ہوتے ہیں، باتیں جاری ہوتی ہیں، مگر اس کے اندر ایک خاموشی بسی ہوتی ہے۔ ایسی خاموشی جو کسی کو سنائی نہیں دیتی۔
اصل میں انسان صرف روحوں کا ساتھ چاہتا ہے۔ جب دل کی بات کہنے والا کوئی نہ ہو، جب احساسات کو سمجھنے والا کوئی نہ ملے، تو سینکڑوں لوگوں کی موجودگی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان کے اندر ایک چیخ ہوتی ہے، مگر ہونٹ خاموش رہتے ہیں۔ وہ مسکراتا ہے، مگر اس کی مسکراہٹ میں اداسی کی ہلکی سی پرچھائیں چھپی ہوتی ہے۔
انسان کے اندر ایک گہرا سمندر ہوتا ہے۔ خیالات کا، خوابوں کا، خوف کا اور خواہشوں کا۔ ہر کوئی اس سمندر تک نہیں پہنچ پاتا۔ اکثر لوگ صرف سطح کو دیکھتے ہیں، گہرائی میں اترنے کی زحمت نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنے ہی اندر ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ کوئی اسے مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا، اور شاید یہی احساس اسے دوسروں سے دور کر دیتا ہے، چاہے وہ جسمانی طور پر کتنا ہی قریب کیوں نہ ہوں۔
اکیلا پن دراصل خود سے دوری کا بھی نام ہے۔ جب انسان اپنی حقیقت، اپنے احساسات، اور اپنی کمزوریوں کو قبول نہیں کرتا، تو وہ خود سے بھی کٹ جاتا ہے۔ اور جو خود سے کٹ جائے، وہ دنیا سے کیسے جڑ سکتا ہے؟ پھر وہ دوسروں میں وہ سکون ڈھونڈتا ہے جو اسے اپنے اندر پیدا کرنا تھا۔ جب وہ سکون نہیں ملتا، تو اس کا اکیلا پن اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ آج کے دور میں تعلقات کی نوعیت بدل گئی ہے۔ بات چیت زیادہ ہے، مگر سمجھ کم ہے۔ رابطے آسان ہیں، مگر رشتے کمزور ہو رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے خود کو کبھی نہیں پہچانا خود کو کبھی نہیں سمجھا تو جو انسان اپنے اندر کی آواز کو نہیں سمجھ سکتا اپنے اپ کو نہیں پہچان سکتا اس کو لوگ کیسے پہچانیں گے اس کو لوگ کیسے سمجھیں گے لہذا انسان کا بہترین ساتھی اس کا اپنا وجود خود ہے جب وہ خود سے دوستی کر لیتا ہے اور خود کو سمجھ لیتا ہے تو وہ ایک مطمئن زندگی بسر کرتا ہے ایسی زندگی جس میں اسے کسی وقتی سہارے کی محتاجی کی ضرورت نہیں ہے جب انسان خود پر یقین کرتا ہے اور اللہ سے دوستی کر لیتا ہے اور اپنی تنہائی کو اپنے اوپر سوار کرنے کی بجائے اور اذیت سمجھنے کے بجائے خود اپنی ذات میں سکون تلاش کرتا ہے اور اپنی ذات کے ساتھ ایک رابطہ مضبوط کر لیتا ہے تو وہ اپنی زندگی کو ایک پرسکون زندگی بنا لیتا ہے۔

