میرے مطابق

پروفیسر ڈاکٹر رابعہ سرفراز کی نثری نظموں کی فکری و فنی جہتیں

hafiza zaryab fatima

اردو ادب میں نثری نظم نے اظہار کے ایک ایسے وسیلے کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے جس میں داخلی کرب، عصری شعور اور فکری پیچیدگی کو بغیر کسی عروضی پابندی کے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی روایت میں ڈاکٹر رابعہ سرفراز کی نثری نظمیں ایک اہم اور نمایاں اضافہ ہیں۔ ان کے دو مجموعے ”شبنم سے مکالمہ“ اور ”محبت زمانہ ساز نہیں“ نہ صرف ان کے تخلیقی شعور کے آئینہ دار ہیں بلکہ معاصر اردو نثری نظم کے رجحانات کو بھی واضح کرتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر رابعہ سرفراز کی نثری نظموں کا بنیادی حوالہ ان کی داخلی کائنات ہے، جہاں وہ خودکلامی کے ذریعے اپنے وجود کے مختلف پہلوؤں کو دریافت کرتی ہیں۔ ان کی نظموں میں ایک خاموش مکالمہ جاری رہتا ہے جو بظاہر سادہ مگر معنوی اعتبار سے نہایت گہرا ہے۔ ”شبنم سے مکالمہ“ میں یہ داخلی کیفیت ایک لطیف علامتی نظام کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ شبنم کی علامت زندگی کی عارضی حیثیت، احساس کی نزاکت اور وجود کی ناپائیداری کو ظاہر کرتی ہے۔ اس مجموعے کی ایک نظم میں وہ کہتی ہیں :

”میں نے شبنم سے پوچھا۔ کیا تم بھی سورج سے پہلے ختم ہو جاتی ہو“

زندگی کی ناپائیداری اور انسانی احساس کی کمزوری کو نہایت موثر انداز میں ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی مجموعے میں تنہائی ایک مستقل اور گہرا موضوع ہے۔ شاعرہ تنہائی کو محض خارجی صورتحال کے طور پر نہیں بلکہ ایک داخلی تجربے کے طور پر پیش کرتی ہیں :

”میرے اندر ایک ویران شہر آباد ہے۔ جہاں صرف یادیں رہتی ہیں“

یہ نثم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان اپنے ہی وجود میں اجنبیت محسوس کر سکتا ہے۔ رابعہ سرفراز کی یہی داخلی بصیرت ان کی نظموں کو عام جذباتی اظہار سے بلند کر کے ایک فکری تجربہ بنا دیتی ہے۔

ان کی نثری نظموں میں نسائی شعور بھی ایک اہم جہت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ عورت کے تجربے کو نہایت سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ ایک نظم میں وہ کہتی ہیں :

”میں نے اپنے خواب راکھ میں چھپا دیے۔ تاکہ کوئی انہیں جلا نہ دے“

یہ نثم عورت کی مجبوری، اس کے خوابوں کی شکست اور معاشرتی دباؤ کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے۔ رابعہ سرفراز کے ہاں عورت محض ایک مظلوم کردار نہیں بلکہ ایک شعور رکھنے والی ہستی ہے جو اپنی کیفیت کو سمجھتی بھی ہے اور بیان بھی کرتی ہے۔

دوسرے مجموعے ”محبت زمانہ ساز نہیں“ میں موضوعاتی سطح پر ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں محبت کو ایک رومانوی جذبے کے بجائے ایک پیچیدہ اور بعض اوقات تکلیف دہ تجربے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس مجموعے کی ایک نظم میں وہ لکھتی ہیں :

”محبت نے مجھے مجھ سے جدا کر دیا۔ اب میں خود کو پہچانتی نہیں“

یہ الفاظ محبت کے اس پہلو کو اجاگر کرتے ہیں جہاں انسان اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔
اسی طرح محبت کے بارے میں ان کا ایک اور اظہار خاصا معنی خیز ہے :

”محبت زمانہ ساز نہیں۔ یہ صرف دل کو توڑتی ہے“

یہاں شاعرہ محبت کے روایتی تصور کو رد کرتی نظر آتی ہیں اور اسے ایک غیر مثالی تجربہ قرار دیتی ہیں۔ ان کی یہ حقیقت پسندانہ سوچ انہیں معاصر شاعرات میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔

محبت کے ساتھ وابستہ یاد اور فراموشی کی کشمکش بھی ان کی نظموں کا اہم حصہ ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتی ہیں :

”میں تمہیں بھولنا چاہتی ہوں۔ مگر ہر یاد تمہاری طرف لے جاتی ہے“

یہ نثم انسانی جذبات کی پیچیدگی اور محبت کی ناقابلِ فراموش کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔

ڈاکٹر رابعہ سرفراز کی نثری نظموں کا اسلوب ان کے فکری پہلوؤں کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے۔ وہ سادہ اور رواں زبان استعمال کرتی ہیں، مگر اس سادگی میں ایک گہری معنویت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان کی نظموں میں تصویریت کا عنصر بھی نمایاں ہے، جیسا کہ ایک جگہ وہ بارش کو اداسی کے استعارے کے طور پر پیش کرتی ہیں :

”بارش کی بوندیں کھڑکی پر اداسی لکھتی رہیں“

یہ انداز قاری کو ایک بصری اور جذباتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔

ان کی نظموں میں وقت اور یاد کا تعلق بھی نہایت گہرا ہے۔ ماضی ان کے ہاں محض گزر جانے والا وقت نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے جو حال کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح وقت ایک ایسی قوت کے طور پر سامنے آتا ہے جو ہر شے کو بدل دیتا ہے، مگر یادوں کو مکمل طور پر مٹا نہیں پاتا۔

اگر دونوں مجموعوں کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ”شبنم سے مکالمہ“ زیادہ علامتی، نرم اور داخلی نوعیت کا مجموعہ ہے، جبکہ ”محبت زمانہ ساز نہیں“ میں جذبات کی شدت، تلخی اور حقیقت پسندی زیادہ نمایاں ہے۔ تاہم دونوں میں ایک مشترکہ عنصر ان کی داخلی صداقت اور اظہار کی سچائی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رابعہ سرفراز کی نثری نظمیں اردو شعر و ادب میں ایک اہم اضافہ ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف احساس کی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ وہ نثری نظم کو ایک ایسے وسیلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں جہاں ذاتی تجربہ اجتماعی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔

ان کی تخلیقات کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ سادہ زبان میں گہرے معانی پیدا کرتی ہیں اور اپنے قاری کے ساتھ ایک ایسا تعلق قائم کرتی ہیں جو محض ادبی نہیں بلکہ وجودی سطح پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہی خصوصیات انہیں معاصر اردو نثری نظم نگاروں میں ایک منفرد اور معتبر مقام عطا کرتی ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW