میرے مطابق

دوست یا صرف وقتی سہارا؟

hafiza zaryab fatima

یہ سوال بظاہر سادہ ہے، مگر اس کے اندر انسانی رشتوں کی سب سے گہری سچائیاں چھپی ہوتی ہیں۔ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ رشتوں کے سہارے جینا سیکھتا ہے۔ کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں، اور کچھ دل کے۔ مگر ہر وہ شخص جو ہمارے مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہو، ضروری نہیں کہ وہ ”دوست“ ہی ہو۔ کبھی کبھی وہ صرف ایک وقتی سہارا ہوتا ہے، جو آتا ہے، ہمیں سنبھالتا ہے، اور پھر خاموشی سے چلا جاتا ہے۔

اصل دوست وہ ہوتا ہے جو وقت کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔ وہ صرف خوشیوں کا شریک نہیں ہوتا بلکہ دکھوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے۔ دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کی خاموشی کو بھی سمجھ لے، جو آپ کے چہرے کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے درد کو پڑھ لے۔ وہ آپ کے ساتھ اس وقت بھی کھڑا رہتا ہے جب پوری دنیا آپ سے منہ موڑ لے۔ دوست وہ نہیں جو صرف محفلوں میں آپ کے ساتھ ہنسے، بلکہ وہ ہے جو تنہائی میں آپ کے آنسوؤں کو محسوس کرے۔

مگر زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی آتے ہیں جو بظاہر دوست لگتے ہیں، مگر درحقیقت وہ صرف وقتی سہارا ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی زندگی میں اس وقت داخل ہوتے ہیں جب آپ کمزور ہوتے ہیں، جب آپ کو کسی کے کندھے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ آپ کو سنبھالتے ہیں، آپ کو حوصلہ دیتے ہیں، اور آپ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ مگر جیسے ہی حالات بدلتے ہیں، جیسے ہی آپ خود کو سنبھال لیتے ہیں، وہ لوگ آہستہ آہستہ دور ہو جاتے ہیں۔ ان کی موجودگی ایک خواب کی طرح ہوتی ہے۔ خوبصورت، مگر عارضی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وقتی سہارا ہونا بری بات ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ بعض اوقات زندگی میں وقتی سہارے بھی بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں ٹوٹنے سے بچاتے ہیں، ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہم خود اپنے لیے کیسے مضبوط بن سکتے ہیں۔ وقتی سہارا بھی ایک نعمت ہے، مگر اسے دوستی کا نام دینا شاید خود سے ایک دھوکہ ہے۔

اصل تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب ہم وقتی سہارے کو مستقل دوست سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہم اپنی امیدیں، اپنے خواب، اور اپنے جذبات اس شخص سے وابستہ کر لیتے ہیں، جو درحقیقت ہماری زندگی میں صرف ایک مختصر کردار ادا کرنے آیا ہوتا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے، تو ہمیں صرف اس کی جدائی کا دکھ نہیں ہوتا بلکہ اپنے فیصلے پر بھی افسوس ہوتا ہے۔ ہم خود سے سوال کرتے ہیں کہ ہم نے پہچانا کیوں نہیں؟ ہم نے سمجھا کیوں نہیں؟

دوستی اور وقتی سہارے میں فرق سمجھنا زندگی کی سب سے بڑی دانائی ہے۔ دوست وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے، جبکہ وقتی سہارا وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتا ہے۔ دوست آپ کی زندگی کا مستقل حصہ بن جاتا ہے، جبکہ وقتی سہارا ایک یاد بن کر رہ جاتا ہے۔ دوست آپ کو آپ کی حقیقت کے ساتھ قبول کرتا ہے، جبکہ وقتی سہارا اکثر صرف ایک خاص وقت یا حالت تک محدود ہوتا ہے۔

لیکن شاید زندگی کا حسن بھی اسی میں ہے کہ ہمیں ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں۔ کچھ ہمیں سکھانے کے لیے آتے ہیں، کچھ ہمیں سنبھالنے کے لیے، اور کچھ ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ چلنے کے لیے۔ ہمیں ہر رشتے کو اس کی حقیقت کے مطابق قبول کرنا چاہیے۔ اگر کوئی وقتی سہارا ہے، تو اسے وقتی سہارا ہی سمجھنا چاہیے، اور اگر کوئی سچا دوست ہے، تو اس کی قدر کرنی چاہیے۔

آخر میں، انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ سب سے مضبوط سہارا وہ خود ہوتا ہے۔ لوگ آئیں گے، جائیں گے، کچھ دیر کے لیے ٹھہریں گے، اور کچھ ہمیشہ کے لیے رک جائیں گے۔ مگر اپنی ذات کے ساتھ جو رشتہ ہے، وہی سب سے مستقل ہے۔ اگر آپ خود کو سنبھالنا سیکھ جائیں، تو نہ وقتی سہاروں کی کمی محسوس ہو گی، اور نہ ہی جھوٹی دوستیوں کا دکھ۔

دوست وہ نہیں جو صرف وقت گزارے، بلکہ وہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ چلتا رہے۔ اور وقتی سہارا وہ ہے جو آپ کو گرنے سے بچا لے، مگر آپ کے ساتھ چلنے کا وعدہ نہ کرے۔ زندگی انہی دو کے درمیان توازن کا نام ہے۔ سمجھنے کا، قبول کرنے کا، اور آگے بڑھنے کا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW