تمبر دا سوٹا

تاریخ کے بعض ادوار میں عوام اپنے دکھ درد کا مداوا الفاظ سے نہیں بلکہ علامتوں سے بیان کرتے ہیں۔ کہیں ایک خالی برتن احتجاج کی آواز بن جاتا ہے، کہیں ایک موم بتی مزاحمت کا استعارہ ٹھہرتی ہے اور کبھی ایک معمولی سا ”تمبر کا سوٹا“ پورے نظام کے خلاف عوامی بے چینی کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ ذمہ داران کے لیے سوچ اور فکر کا مقام ہے۔
صحن تک آ چکی تھی بربادی
اور وہ، سو رہا تھا، کمرے میں
آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کا ظہور اچانک نہیں ہوا۔ یہ کسی ایک دن، ایک جلسے یا ایک مطالبے کی پیداوار نہیں ہے۔ یہ دراصل ان تلخیوں کا نتیجہ ہے جو دہائیوں سے عوام کے سینوں میں جمع ہوتی رہی تھیں۔ مہنگی بجلی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، محدود معاشی مواقع اور ریاستی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے عام آدمی کو اس مقام پر لا کھڑا کیا جہاں خاموش رہنا ممکن نہ رہا۔ جب ادارے عوام کی آواز سننے سے گریز کرنے لگیں تو پھر سڑکیں بولنا شروع کر دیتی ہیں، اور جب سڑکیں بولتی ہیں تو اقتدار کے ایوانوں کی دیواریں بھی لرزنے لگتی ہیں۔
آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں نظریات سے زیادہ شخصیات اور عوامی خدمت سے زیادہ اقتدار کی سیاست کو اہمیت دی گئی۔ سفارش، اقربا پروری اور سیاسی وابستگیوں نے میرٹ کا گلا اس طرح گھونٹا کہ ریاست کا نوجوان اپنی ہی بستی میں اجنبی محسوس کرنے لگا۔ سرکاری ملازمتوں سے لے کر ترقیاتی منصوبوں تک، اکثر یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ قابلیت سے زیادہ ”تعلقات“ اہم ہیں۔ نتیجتاً عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑتا گیا۔
اسی تناظر میں مہاجرین جموں و کشمیر کی بارہ نشستوں پر بھی ایک سنجیدہ بحث جنم لے رہی ہے۔ ان نشستوں کا قیام ایک تاریخی ضرورت کے تحت عمل میں آیا تھا تاکہ ہجرت کرنے والے اور قربانیاں دینے والے کشمیریوں کی سیاسی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان نشستوں کے کردار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین کے نزدیک یہ بارہ نشستیں اپنے اصل مقصد سے زیادہ اقتدار کے کھیل کا حصہ بنتی چلی گئیں اور ان کا ریاستی سیاست میں وجود مرکزی حکومت کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی تک محدود ہو گیا کہ جب اقتدار کا وقت بدلنا مقصود ہو تو گھڑی دیکھی جاتی ہے اور جب سیاسی سمت متعین کرنی ہو تو چھڑی حرکت میں آ جاتی ہے۔ حکومتوں کی تشکیل ہو یا ان کے خاتمے کا مرحلہ، اکثر یہی نشستیں فیصلہ کن حیثیت اختیار کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج عوامی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ نشستیں اپنے اصل تاریخی مقصد کی ترجمان ہیں یا محض اقتدار کے ایوانوں میں عددی اکثریت پیدا کرنے کا ایک ذریعہ بن چکی ہیں۔
موجودہ کشمیر اسمبلی جہاں ابتدا میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تھی، بلے والوں کے پاس 52 میں سے تیس سے زائد نشستوں کی واضح برتری تھی۔ پہلے مرحلے میں اپنے ہی وزیر اعظم قیوم نیازی کو ہٹا کر سردار تنویر الیاس کو لایا گیا، دوسرے مرحلے میں سردار صاحب کو عدالت سے چھٹی مل گئی، تیسرے مرحلے میں حکومت و اپوزیشن کے مشترکہ جناب انوار الحق بڑی نشست پر آئے۔ تاہم جب وفاق سے ”اتحادی لوگ“ اقتدار میں آئے اور تحریک خود ”آپ اپنا شکار“ ہوئی، تو نتیجتاً مرکزی اتحادیوں نے وزیر اعظم پی پی پی کا نامزد کیا اور اس کے اتحادی نواز لیگ تھی، جو یہ کہتی رہی کہ ہم فیصل ممتاز راٹھور کو ووٹ تو دے رہے ہیں مگر بیٹھیں گے اپوزیشن بینچوں پر، اللہ ہی جانے ”سکھائے کس نے اسمعٰیل کو یہ آداب فرزندی۔“ ایک ہی دور میں چار وزیر اعظموں کی تبدیلی۔ یہ تھی تحریک آزادی کے ”بیس کیمپ کی سیاسی حالتِ زار۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی اسمبلی میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے لیے چوبیس علامتی نشستیں مختص تھیں ( 90 + 24 = 114 ) ۔ اگرچہ ان نشستوں پر کبھی انتخابات نہیں ہوئے اور نہ ہی ان پر عملاً کوئی نمائندہ منتخب ہوا، تاہم یہ نشستیں اس تاریخی حقیقت کی علامت تھیں کہ جموں و کشمیر کی سابق ریاست ایک متنازع اور نامکمل سیاسی اکائی ہے۔ 2019 کے بعد بھارت کی آئینی و انتظامی تبدیلیوں کے تسلسل میں ان نشستوں کو بھی ختم/محدود کر دیا گیا۔ یہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی، سیاسی اور آئینی بیانیے میں ایک اہم تبدیلی تھی۔
یہی صورتحال ہمیں گلگت بلتستان کی حالیہ سیاست اور انتخابات میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ وہاں جاری سیاسی شغل میلہ، وفاداریوں کی تبدیلی، اقتدار کی بساط اور انتخابی جوڑ توڑ ایک بنیادی سوال کو جنم دے رہے ہیں کہ کیا جمہوریت واقعی تمام سیاسی قوتوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کر رہی ہے؟ تحریک انصاف جو ملک کی بڑی عوامی سیاسی قوتوں میں شمار ہوتی ہو، اسے کسی بھی شکل میں سیاسی عمل سے دور کرنا یا اس کے لیے انتخابی میدان کو محدود کر دینا جمہوری اقدار کے لیے نیک شگون نہیں سمجھا جا سکتا۔
ذرا بنگلہ دیش کی مثال سامنے رکھیے۔ وہاں کا نوجوان بھی میرٹ کی پامالی، کوٹہ سسٹم کی خرابیوں، معاشی ابتری اور حکومت پر بڑھتا ہوا عدمِ اعتماد کا شکار تھا۔ ان عوامل کے خلاف اُٹھنے والی احتجاجی تحریک اور اس کے بعد ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اور انتخابات سے آپ سب بخوبی واقف ہیں۔ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک بھی اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ صرف بجلی کے بلوں یا آٹے کی قیمت کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ریاستی نظام پر عوام کے کمزور ہوتے اعتماد کا اعلان تھا۔ یہ ان نوجوانوں کی آواز تھی جو میرٹ چاہتے ہیں۔ یہ ان مزدوروں کی فریاد تھی جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ یہ ان بزرگوں کی امید تھی جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ وعدے سنتے ہوئے گزار دیا۔ ریاستیں بندوقوں، قوانین اور سرکاری عمارتوں سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔
”تمبر دا سوٹا“ دراصل ایک لکڑی نہیں، ایک سوال ہے، ایک ایسا سوال جو ریاست کے ہر ایوان، ہر دفتر اور ہر سیاسی جماعت کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یہ سوال میرٹ کا ہے، انصاف کا ہے، عوامی نمائندگی کا ہے۔ ہر احتجاج کو ”دشمن کی سازش“ قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہر آواز کو مسئلہ کشمیر کو ”کمزور“ کرنے سے نتھی کیا جا سکتا ہے۔
تمبر کے ڈنڈے جو کشمیری نوجوانوں کے ہاتھ میں ہیں، یہ ایک سادہ سی لکڑی ہے جو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں پائی جاتی ہے۔ اس پر پھول بھی اگتے ہیں اور باریک نوکدار کانٹے بھی۔ عالمی مارکیٹ میں اس کا استعمال بے شمار صنعتوں میں ہوتا ہے۔ چنداں مسواک کرنے یا کبھی کبھی کان کھجانے کے لیے ہی ہر گز نہیں۔