میرے مطابق

حرمتِ انسانیت

arshad shahid

”حرمتِ انسانیت“ محض ایک سماجی ضابطہ یا اخلاقی کلمہ نہیں بلکہ کائنات کے اس عظیم کارخانے کی وہ روحِ رواں ہے جس کے دم سے بندگی کا حسن سلامت ہے۔ یہ اس ازلی میثاق کی تجدید ہے جو خالق کائنات نے اپنی بہترین تخلیق کے ساتھ کیا۔ جب ہم انسانی وقار کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم رب کریم کے اس ارشاد ”نفخت فیہ من روحی“ (میں نے اس میں اپنی روح پھونکی) کے تقدس کی پاسبانی کر رہے ہوتے ہیں جو ہر سینے میں دھڑک رہا ہے۔ حرمتِ انسانیت ہر پرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس سے مراد ہر فرد کی عزت، جان، مال اور آبرو کا بلا امتیاز تحفظ ہے جسے خالقِ کائنات نے انسان کا پیدائشی حق قرار دیا ہے۔

اسلامی فکر کے افق پر انسانی زندگی کا سورج اس آب و تاب سے چمکتا ہے کہ ایک بے گناہ کا لہو پورے عالمِ انسانیت کے قتلِ عام کے مترادف ٹھہرا۔ یہ محض قانونی سزا نہیں بلکہ ایک جمالیاتی اور روحانی تنبیہ ہے کہ انسان مٹی کا ڈھیر نہیں بلکہ خالق کائنات کا عظیم تخلیقی شاہکار ہے۔ بقول شاعر مشرق علامہ محمد اقبال:

برتر از گردوں مقام آدم است
اصل تہذیب احترام آدم است

خطبہ حجۃ الوداع کی گونج آج بھی تاریخ کے ایوانوں میں عدل و مساوات کا وہ نغمہ ہے جس نے حسب و نسب کے تمام مصنوعی بتوں کو پاش پاش کر دیا۔ انسانی وقار کا یہ منشور کسی جغرافیائی حد کا پابند ہے نہ کسی لسانی عصبیت کا اسیر۔ یہ تو وہ آفاقی سچائی ہے جو بتاتی ہے کہ ”کالے کو گورے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں“ ۔ فضیلت کا اصل معیار تو صرف وہ ’تقویٰ‘ ہے جو انسان کو دوسرے انسان کے سامنے جھکنے نہیں دیتا بلکہ اسے دوسروں کے دکھ بانٹنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔

آدمیت، احترامِ آدم است
باخبر شو از مقامِ آدم است

آج جب مادیت کی دھول نے بصیرت کے آئینے دھندلا دیے ہیں اور بارود کی بو نے گلشنِ انسانیت کو مرجھا دیا ہے، ”حرمتِ انسانیت“ کے اس گم گشتہ سبق کو پھر سے دہرانا ناگزیر ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ عبادت صرف جبینِ نیاز کو خاک پر رکھنے کا نام نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے، سسکتی ہوئی آبروؤں کو ڈھانپنے اور بھوکے لبوں پر مسکراہٹ لانے کا نام ہے۔

کشمیر، فلسطین اور ایران کی خاک سے اٹھتی ہوئی معصوم بچوں کی سسکیاں، خواتین کی آہ و بکا اور بے گناہ شہریوں کا ناحق بہتا لہو آج ہر حساس دل کے لیے ایک نوحہ بن چکا ہے۔ جب ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کا خون ناحق بہتا ہے تو یہ محض ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ پوری انسانیت کی روح کا قتلِ عام ہے۔ ظلم کے اس مہیب سائے میں خاموشی بھی ایک جرم ہے۔ اگر آج ہم نے رنگ، نسل اور جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہو کر اس بربریت کے خلاف آواز بلند نہ کی تو تاریخ ہمیں تماشائی نہیں بلکہ اس ظلم کا برابر کا شریک لکھے گی۔ ”حرمتِ انسانیت“ کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کی تمام اقوام متحد ہو کر اس وحشت کی مذمت کریں کیونکہ جب ضمیر مر جائے تو پھر معاشرے نہیں بلکہ قبرستان بسا کرتے ہیں۔

انسانیت کا احترام ہی دراصل خالق کی صناعی کا اعتراف ہے۔ جب تک ہم دوسرے انسان کے وجود کو اپنے وجود کا حصہ تسلیم نہیں کریں گے اور دوسرے انسان کے درد کو اپنا درد نہیں سمجھیں گے، امن کی فاختہ ہمارے آنگن میں کبھی نہیں اترے گی۔ تہذیبِ بندگی کا وقار اسی میں ہے کہ ہم ”حرمتِ انسانیت“ کو ’موضوع‘ نہیں بلکہ ’مقصد حیات‘ بنائیں۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW