بلاگ

مامتا کی تلاش

arshad shahid

جاپان کے شہر اچیکاوا کے چڑیا گھر سے ماں کی مامتا سے محروم ایک بندر کے بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس کی معصومیت نے پوری دنیا کو رلا کر رکھ دیا ہے۔ وائرل ہونے والے اس بندر کے بچے کا نام پنچ ہے جو گزشتہ سال پیدا ہوا تھا اور پیدائش کے کچھ ہی دنوں بعد اس کی ماں نے اسے اپنانے سے انکار کر دیا تھا۔ اپنی پیدائش کے ابتدائی کچھ مہینوں میں پنچ نے انکلوژر میں موجود دوسرے بندروں سے دوستی کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی خاص کامیابی نہ ملی۔ چڑیا گھر انتظامیہ نے ماں کی مامتا سے محروم بندر کے اس بچے کے اکیلے پن کو دور کرنے کے لئے بندر کی شکل والا ایک کھلونا دیا جسے وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ اس کھلونے کے ذریعے وہ اپنی ماں کی کھوئی ہوئی مامتا کو تلاش کر رہا ہے۔ پنچ اس کھلونے کو اپنی ماں سمجھ کر کبھی اس سے لاڈ پیار کرتا ہے تو کبھی اس کی آغوش میں چھپنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب دوسرے بندر اس کو مارتے ہیں تو یہ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے اس کھلونے کی گود میں اپنا سر رکھ کر اپنے غم سناتا، دکھ بانٹتا ہوا مامتا کی تلاش میں سسکتا اور بلکتا ہوا نظر آتا ہے۔ ماں کی مامتا سے محروم بندر کے اس بچے کی جذباتی ویڈیو نے پوری دنیا کے ہر صاحب دل شخص کو رلا دیا ہے اور بچپن میں اپنی ماں کی مامتا کی یاد کو تازہ کر دیا ہے۔

ماں کائنات میں خلوص و وفا کا پیکر، محبت کا ضمیر، خُدا کا رحم، جنت کی سفیر، نشانِ تقدیس آدمیت، نعمتِ عظیم، عقل و شعور کی پہلی درسگاہ اور عکس خُدا ہے۔ ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی محبت، ٹھنڈک، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں اس کا دستِ شفقت شجرِ سایہ دار کی طرح سائبان بن کر سکون کا احساس دلاتا ہے۔ اس کی گرم گود سردی کا احساس نہیں ہونے دیتی اور زمانے بھر کے دکھ سمیٹ لیتی ہے۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے۔ اِس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی، آندھی چلے یا طوفان آئے، اس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاور کرتی رہتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح لامحدود اور ہر وقت مَوجزَن رہتی ہے۔ ماں اپنے بچوں کے لیے ایک دُعا ہے جو ہر وقت ربّ رحیم کے آگے دامن پھیلائے رکھتی ہے اور قدم قدم پر اُن کی حفاظت کرتی ہے۔ دنیا کے ہر رشتے میں خود غرضی شامل ہو سکتی ہے مگر ماں کے رشتے میں کبھی کوئی خود غرضی شامل نہیں ہوتی۔ ماں ایک ایسا رشتہ ہے جو دُنیا میں سب سے زیادہ بے لَوْث اور پُرخلوص ہے اس کی زندگی کا محور صرف اور صرف اس کی اولاد ہوتی ہے۔ دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں اس کی دُعائیں سائے کی طرح پیچھا کرتی ہیں اور اس کی دُعاؤں سے بڑی سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے۔ ماں کی بے قراری خُدا کے عرش کو بھی ہلا دیتی ہے۔

ماں میں مامتا کا جو جذبہ ہے وہ کسی بھی اور انسان میں نہیں ہو سکتا۔ رب کائنات نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے اپنی خاص رحمت، محبت، خلوص، وفا، صبر، تحمل، عظمت، حوصلے اور ہمت سے مزین کیا۔ ماں کی محبت دنیا میں خدا کی محبت کی پہچان ہے۔ ماں دنیا میں خدا کی اپنی مخلوق کے ساتھ محبت کا ایک خوبصورت روپ ہے۔ خدا نے اپنی خاص محبت جو وہ اپنے بندوں سے کرتا ہے، اس میں سے ایک حصہ ماں کو عطا کیا ہے۔ اس لیے خالق کائنات کی اپنی مخلوق کے ساتھ محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہ دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق سے اپنی ماؤں سے بھی ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہے۔ یوں ماں قدرت کا بہترین تحفہ اور نعمت ہے جس کی قدر ہم پر فرض ہے۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جس نے اپنے جسم سے ہمارے جسم کی تعمیر کی اور اپنے خون کا ایک ایک قطرہ سینچ کر ہمارے جسم کی تکمیل کی۔ اپنی تمام توانائیاں ہمارے نام کیں، اپنی راحتیں ہم پر نثار کیں، اپنا آرام ہم پر قربان کیا، اپنی نیندیں ہم پر وار کیں، اپنا پیار، محبت، شفقت اور تن مَن دَھن ہم پر فدا کیا۔ ہماری پیدائش کے بعد ایک وقت ایسا تھا کہ ہم چل نہ سکتے تھے وہ ہمارے پاؤں بن گئی۔ ہم پکڑ نہ سکتے تھے وہ ہمارے ہاتھ بن گئی۔ ہم دیکھ نہ سکتے تھے وہ ہماری آنکھیں بن گئی۔ ہم سن نہ سکتے تھے وہ ہمارے کان بن گئی۔ ہم بول نہ سکتے تھے وہ ہماری زبان بن گئی۔ ہم سمجھ نہ سکتے تھے وہ ہمارا شعور بن گئی۔ ہماری ایک ایک سسکی پر وہ مچل جایا کرتی تھی اور ہمارے ایک ایک آنسو پر وہ تڑپ جایا کرتی تھی۔ ہماری آہیں اسے گھائل کر دیتی تھیں اور ہماری تکلیف اسے رلایا دیتی تھی۔ ہم تو آرام سے سو جایا کرتے تھے اور وہ ساری ساری رات جاگ کر ہمارا خیال رکھتی تھی کہ کہیں میرا لختِ جگر جاگ نہ جائے اور اس کی نیند خراب نہ ہو جائے۔ اس لیے دنیا میں سوائے خدا کے ماں کا اور کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ بقولِ شاعر:

بس اک خدا نہیں ہوتی
ورنہ ماں کیا نہیں ہوتی

ماہرین نفسیات کے مطابق، ماں کی مامتا انسان سمیت ہر ذی روح کی بنیادی ضرورت ہے جو ہر جانور کی فطرت اور جبلت میں شامل ہوتی ہے۔ انسان خواہ کتنا ہی بوڑھا ہو جائے لیکن غیر شعوری طور پر ساری زندگی اپنی ماں کی مامتا اور اس کی بے لوث محبت کو یاد کرتا ہے اور اس کی تلاش جاری رکھتا ہے۔ ماں کی مامتا انسان کو تحفظ، اعتماد، اور محبت کا احساس دیتی ہے جو اس کی شخصیت کی بنیاد بنتی ہے۔ ماں کی محبت کی کمی انسان کو اضطراب، افسردگی، اور اعتماد کی کمی جیسے نفسیاتی مسائل کا شکار بنا سکتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق انسان پوری زندگی اپنی لائف کے مختلف حوالوں، جہتوں اور پہلوؤں میں اپنی ماں کی مامتا اور اس کی پرخلوص محبت کی تلاش جاری رکھتا ہے چاہے وہ رشتے داریاں ہوں یا دوستیاں، رومانوی تعلقات ہوں یا کاروباری رابطے۔ انسان ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ بہت جلد فرینک اور دوستانہ ہو جاتا ہے جو اسے ماں کی مامتا جیسا پیار، محبت اور خلوص کا احساس دیتے ہیں۔ بقولِ شاعر ماں کو خوبصورت خراجِ عقیدت:

ہم جگنو تھے، ہم تتلی تھے
ہم رنگ برنگے پنچھی تھے
کچھ ماہ و سال کی جنت میں
ماں! ہم دونوں بھی سانجھی تھے
میں چھوٹا سا اک بچہ تھا
تیری انگلی تھام کے چلتا تھا
تو دور نظر سے ہوتی تھی
میں آنسو آنسو روتا تھا
اک خوابوں کا روشن بستہ
تو روز مجھے پہناتی تھی
جب ڈرتا تھا میں راتوں کو
تو اپنے ساتھ سلاتی تھی
ماں! تو نے کتنے برسوں تک
اس پھول کو سینچا ہاتھوں سے
جیون کے گہرے بھیدوں کو
میں سمجھا تیری باتوں سے
میں تیرے ہاتھ کے تکیے پر
اب بھی راتوں کو سوتا ہوں
ماں! میں چھوٹا سا اک بچہ
تیری یاد میں اب بھی روتا ہوں

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW