میرے مطابق

مالاکنڈ کے فنکار اور ہنرمند: اسلم سالک کی شخصیت اور فن کا تجزیہ

zahir shah nigar

اللہ تعالیٰ نے ضلع مالاکنڈ کو قدرتی حسن سے اس قدر نوازا ہے کہ یہ علاقہ اپنے بلند و بالا پہاڑوں، بہتے دریاؤں اور سرسبز و شاداب وادیوں کی وجہ سے ایک جنت نظیر منظر پیش کرتا ہے۔ فطرت کی یہی دلکشی اور خاموش خوبصورتی کسی بھی حساس دل رکھنے والے انسان کے اندر تخلیقی جوہر کو جگانے کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالاکنڈ کی سرزمین نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد پیدا کیے۔ خصوصاً فن اور موسیقی کے میدان میں یہاں کے فنکاروں نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ انہی نمایاں فنکاروں میں ایک نام اسلم سالک کا ہے، جن کے بغیر مالاکنڈ کے فن و موسیقی کا تذکرہ ادھورا محسوس ہوتا ہے۔

فن دراصل ایک چشمے کی مانند ہے، جو بظاہر زمین کے نیچے پوشیدہ رہتا ہے، مگر جب اسے راستہ ملتا ہے تو پوری قوت کے ساتھ اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ فنکار کی فطری صلاحیتیں بھی کچھ اسی طرح ہوتی ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے اندر چھپی صلاحیتوں سے خود بھی ناواقف ہوتا ہے، مگر زندگی کے کسی موڑ پر وہ صلاحیتیں خود کو منوانے لگتی ہیں۔ اسلم سالک کی زندگی بھی اسی حقیقت کی عکاس ہے۔

اسلم سالک، جن کا اصل نام محمد اسلم خان ہے، یکم جولائی 1977 ء کو بٹ خیلہ، ضلع مالاکنڈ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا جہاں معاشی مسائل نے ان کی تعلیمی پیش رفت کو محدود کر دیا اور وہ جماعت ہشتم کے بعد اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ تاہم، تعلیم کا یہ تعطل ان کے اندر چھپی تخلیقی صلاحیتوں کو دبا نہ سکا۔

اسلم سالک کے فن کا باقاعدہ آغاز ایک غیر متوقع مگر معنی خیز انداز میں ہوا۔ جب مالاکنڈ اور سوات کے علاقے دہشت گردی کی لپیٹ میں تھے اور کرفیو کے باعث زندگی مفلوج ہو چکی تھی، تو نوجوان گھروں اور محلوں تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ انہی حالات میں محلے کے نوجوان ایک جگہ جمع ہو کر اپنے حالات پر گفتگو کرتے اور دل کا بوجھ ہلکا کرتے تھے۔ اسلم سالک، جو فطری طور پر ایک حساس شاعر ہیں، نے ان حالات کی عکاسی کرتے ہوئے ایک نظم تخلیق کی۔ جب انہوں نے یہ نظم دوستوں کی محفل میں سنائی تو اسے بے حد پذیرائی ملی۔

لوگوں کے اصرار پر اسلم سالک نے اس نظم کو ریڈیو پاکستان میں ریکارڈ کروایا، اور یوں ان کے فن کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اگرچہ انہوں نے 2009 ء میں گلوکاری کا عملی سفر شروع کیا، مگر ان کے اندازِ گائیکی کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ برسوں سے ریاضت میں مصروف رہے ہوں۔ سُر اور تال پر ان کی گرفت اس بات کا ثبوت ہے کہ فن محض سیکھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے۔

اسلم سالک کی گائیکی کا ایک اہم پہلو ان کا کلاسیکی موسیقی سے گہرا لگاؤ ہے۔ انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر حنیف خلیل کی ایک غزل کو جس انداز میں گایا ہے، وہ ان کے فنی شعور اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کہ تور لباس کعبہ غوندی سینګار کړے لالیھ
ګمراہ د زمانے بہ ہم پہ لار کړے لالیھ

اردو ترجمہ: اگر محبوب نے کعبہ کے طرح کالے رنگ کا لباس پہن لیا تو بڑے بڑے گمراہ کو اپنی طرف متوجہ کر کے راہ راست پر لائیں گے۔

ان کی آواز میں وہ ٹھہراؤ، مٹھاس اور اثر پذیری موجود ہے جو کسی بھی سنجیدہ گلوکار کی پہچان ہوتی ہے۔ ان کی گائیکی سن کر بسا اوقات یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کا تعلق کسی بڑے کلاسیکی گھرانے سے ہے یا وہ کسی بڑے استاد کے زیرِ تربیت رہے ہیں۔

جب اسلم سالک گاتے ہیں تو ان کے جسم کی حرکات و سکنات بھی ان کے فن کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا پورا وجود موسیقی میں ڈھل گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گائیکی سامعین پر ایک وجدانی کیفیت طاری کر دیتی ہے اور سننے والے خود کو ایک نئی دنیا میں محسوس کرتے ہیں۔ کسی فنکار کے لیے یہ ایک بڑی خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے سامعین کو اپنے ساتھ ایک روحانی سفر پر لے جائے، اور اسلم سالک اس وصف سے مالا مال ہیں۔

ایک سنجیدہ فنکار کی پہچان اس کے کلام کے انتخاب سے بھی ہوتی ہے۔ اسلم سالک نے ہمیشہ ایسے کلام کا انتخاب کیا ہے جو نہ صرف موجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ معاشرے کو ایک مثبت پیغام بھی دیتا ہے۔ انہوں نے اباسین یوسفزئی کی نظم ”تاسو کښی پښتو چرتہ، ایمان چرتہ دے“ کو جس انداز میں پیش کیا، وہ پشتون معاشرے کے زوال پذیر اقدار کی طرف ایک نرم مگر موثر اشارہ ہے۔

اسی طرح انہوں نے انقلابی شاعری کو بھی اپنی آواز کا حصہ بنایا۔ بخت زمین نگار کی نظم ”راځئی چی اعلانونہ سر عام و کړو باغیان شو“ کو انہوں نے جس جوش اور جذبے سے گایا، وہ سننے والوں کے دلوں میں بیداری کی ایک لہر جگاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے فیض احمد فیض، رحمت شاہ سائل، سیف الرحمٰن سلیم اور رضوان اللہ شمال جیسے شعراء کے کلام کو بھی اپنی آواز کے ذریعے عوام تک پہنچایا، جو ان کے فکری شعور اور سماجی ذمہ داری کا واضح ثبوت ہے۔

اسلم سالک کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ان کا صوفیانہ رجحان ہے۔ وہ رحمان بابا، خوشحال خان خٹک، حمزہ بابا اور دیگر صوفی شعراء کے کلام کو نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ اسے اپنی گائیکی کا حصہ بھی بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک فن کا مقصد صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ انسان کو اس کی اصل پہچان سے روشناس کروانا بھی ہے۔

ان کی عاجزی اور انکساری بھی ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ہے۔ 2017 ء میں ایک نجی محفل میں، شدید بیماری کے باوجود، انہوں نے محض اپنے دوست کی خاطر شرکت کی اور اپنی بہترین کارکردگی پیش کی۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کی دوستی کی قدر کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ وابستگی اور فن سے محبت کا بھی عکاس ہے۔

اسلم سالک نہ صرف ایک گلوکار اور شاعر ہیں بلکہ وہ ادبی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ وہ مالاکنڈ کی ایک ادبی تنظیم ”مل“ کے فعال رکن ہیں اور اس کے مشاعروں اور تنقیدی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں۔ ان محفلوں میں ان کی ترنم سے بھرپور پیشکش کا سامعین بے چینی سے انتظار کرتے ہیں، اور یہی چیز ان کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔

سماجی مسائل کے حوالے سے بھی اسلم سالک کی حساسیت قابلِ ذکر ہے۔ 2020 ء میں کورونا وبا کے دوران انہوں نے اپنی نظموں کے ذریعے لوگوں میں حوصلہ اور امید پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح انہوں نے منشیات جیسے سنگین مسئلے پر بھی آواز اٹھائی اور ایک خاتون شاعرہ عطیہ ہدایت کی ایک موثر نظم کے ذریعے معاشرے کو اس کے نقصانات سے آگاہ کیا۔ یہ نظم نہ صرف سالک کے فن کی مہارت اور پختگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ان کے اندر انسانی تکلیف اور درد کے احساس کا طبعی ثبوت بھی ہے۔

اسلم سالک کی گائیکی میں سُر، تال، جذبہ اور پیغام کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کی آواز میں نہ صرف موسیقی کی مٹھاس ہے بلکہ اس میں ایک درد، ایک سچائی اور ایک مقصد بھی جھلکتا ہے۔ وہ ان فنکاروں میں شامل ہیں جو موسیقی کو محض ایک فن نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

بلاشبہ، اسلم سالک ضلع مالاکنڈ کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کا فن نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ وسیع تر حلقوں میں بھی سراہا جا رہا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنے فن کے ذریعے نہ صرف مالاکنڈ بلکہ پورے ملک کا نام روشن کرتے رہیں گے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW