بلاگ

باری کا خوف اور زمینی حقائق

zahir shah nigar

آج جب مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگی ماحول کی لپیٹ میں ہے تو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایک بار پھر یہ جملہ شدت سے دہرایا جا رہا ہے کہ ”ایران کے بعد اب پاکستان کی باری ہے“ ۔ غزہ سے بیروت تک پھیلی ہوئی اس جنگی فضا کو بنیاد بنا کر پاکستان میں خوف کا ایک ایسا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے جو سنجیدہ تجزیے سے زیادہ ہیجان اور قیاس آرائی پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سیاست کسی قطار میں کھڑی بس نہیں کہ ایک ملک کے بعد دوسرا خود بخود اگلی نشست سنبھال لے۔ فیصلے طاقت کے توازن، معاشی مفادات، عسکری تیاری اور سفارتی حکمت عملی کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ نہ کہ سوشل میڈیا کے جذباتی نعروں پر۔

شہید بھٹو نے جس سوچ اور فکر کے ساتھ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا اس کا واحد مقصد یہ تھا کہ کوئی بھی ملک پاکستان کو میلی انکھ سے نہ دیکھ سکے۔ اس طرح پاکستان کی دوسری سیاسی قیادت نے بھی بین الاقوامی طاقتوں کی معاشی پابندیاں اس لیے برداشت کیں کہ کوئی یہ سوچ بھی نہ لے کہ پاکستان بنانا ریپبلک کی طرح قابل تسخیر ہے۔ فوجی قیادت نے کسی غیر ملکی دباؤ کے سامنے گھٹنے اس لیے ٹیک نہیں دیے کیونکہ ملکی دفاع میں وہ ایٹمی ہتھیار کی اہمیت سے خوب واقف تھے۔

پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے جس کی دفاعی پالیسی اور علانیہ ایٹمی صلاحیت اسے خطے میں منفرد اور مضبوط مقام دیتی ہے۔ یہ صلاحیت محض عسکری علامت نہیں بلکہ ایک تزویراتی توازن ہے جو ممکنہ جارحیت کے سامنے رکاوٹ کا کردار ادا کرتی ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ کا امکان سرے سے ختم ہو جاتا ہے۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی بھی فریق ہولناک نتائج کو نظر انداز کر کے مہم جوئی کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ایک ”آسان ہدف“ سمجھنا زمینی حقائق سے صریحاً انکار ہو گا۔ ایران اور پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں زمین آسمان کا فرق ہے ؛ جہاں ایران برسوں سے سخت عالمی پابندیوں کا شکار ہے، وہیں پاکستان ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ ایٹمی قوت ہے جس کا دفاعی نیٹ ورک جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔

اس سارے معاملے میں ایک اہم پہلو ”ہائبرڈ وارفیئر“ کا بھی ہے۔ جدید دور میں دشمن صرف سرحدوں پر حملہ نہیں کرتا بلکہ وہ عوام کے ذہنوں میں عدم تحفظ کا بیج بوتا ہے۔ جب ہم ”باری آنے“ کے بیانیے کو بغیر سوچے سمجھے فروغ دیتے ہیں، تو ہم لاشعوری طور پر دشمن کے اس ایجنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں جس کا مقصد قوم کے مورال کو گرانا اور ریاست کے اداروں پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ خوف کا یہ منجن دراصل نفسیاتی شکست کی تمہید ہوتا ہے، جس سے بچنا ہر ذمہ دار شہری کی ضرورت ہے۔

الیکٹرانک یا سوشل میڈیا پر جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان کو کون نشانہ بنا سکتا ہے تو اکثر انگلیاں امریکہ کی طرف اٹھتی ہیں۔ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ واشنگٹن یا بعض دیگر طاقتیں اس لیے پاکستان سے نالاں ہیں کیونکہ وہ ایک ایٹمی ریاست ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر ایسا کوئی باضابطہ اعلان یا واضح پالیسی موجود نہیں جس میں پاکستان کے خلاف کسی فوری فوجی مہم کا ذکر ہو۔ بین الاقوامی تعلقات مفادات کے تابع ہوتے ہیں، نظریاتی مفروضوں کے نہیں۔

خطے میں بھارت ایک بڑی عسکری اور معاشی قوت ہے جس کی اپنی سکیورٹی ترجیحات ہیں۔ مگر جدید دور میں کوئی بھی ریاست مکمل عسکری برتری کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ جنگ کے نتائج غیر یقینی ہوتے ہیں، معاشی نقصان وسیع ہوتا ہے اور عالمی سفارتی دباؤ کسی بھی بڑے تصادم کو محدود رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے شدید کشیدگی کے باوجود حالات اکثر تیزی سے قابو میں آ جاتے ہیں۔

کچھ تجزیوں میں علاقائی سیاست کو اسرائیل کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے، گویا خطے کے تمام مہرے کسی ایک مشترکہ اسکرپٹ کے تحت حرکت کر رہے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال کسی تیسرے ملک کے کنٹرول میں نہیں۔ ہر ریاست اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہے، لہٰذا ہر مقامی بحران کو عالمی سازش کا رنگ دینا درست تجزیہ نہیں۔

حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے دو بنیادی حقائق واضح کر دیے ہیں۔ اول یہ کہ دونوں فریق بھرپور عسکری صلاحیت رکھتے ہیں اور براہِ راست تصادم کی صورت میں تباہی کا امکان حقیقی ہے۔ دوم یہ کہ فوری فائر بندی اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیاسی و عسکری قیادتیں صورتحال کو مکمل جنگ کی طرف لے جانے کے حق میں نہیں تھیں۔ اگر طاقت بے لگام ہوتی تو اسے روکنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو یا مبہم دعویٰ چند منٹوں میں ”حقیقت“ کا درجہ اختیار کر لیتا ہے، مگر ریاستی امور اس رفتار سے نہیں چلتے۔ دفاعی پالیسی، سفارتی تعلقات اور جنگ و امن جیسے حساس فیصلے طویل مشاورت اور گہری حکمت عملی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ افواہیں کبھی بھی ریاستی حقائق کا متبادل نہیں بن سکتیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول توازن اور خودمختاری ہے۔ جہاں ایک طرف وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ عملی روابط برقرار رکھتا ہے، وہیں علاقائی ممالک کے ساتھ معاشی و سفارتی تعلقات کی مضبوطی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ یہ توازن اسے عالمی تنہائی سے بچاتا ہے اور فیصلہ سازی میں آسانی فراہم کرتا ہے۔ تزویراتی گہرائی اور سی پیک جیسے بڑے معاشی منصوبے پاکستان کو عالمی معیشت کے ساتھ اس طرح جوڑ دیتے ہیں کہ پاکستان کا عدم استحکام دنیا کے بڑے کھلاڑیوں کے لیے بھی ناقابلِ قبول ہو جاتا ہے۔

​تاہم، یہاں ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کا اصل دفاع صرف ٹینکوں اور میزائلوں سے نہیں، بلکہ اس کے داخلی استحکام اور معاشی خود انحصاری سے ہوتا ہے۔ اگر ہم اندرونی طور پر سیاسی انتشار کا شکار رہیں گے یا ہماری معیشت کمزور ہو گی، تو بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع ملے گا۔ لہٰذا، اصل خطرہ ”کسی کی باری“ آنے کا نہیں، بلکہ اپنے گھر کو درست نہ رکھنے کا ہے۔ مضبوط معیشت ہی وہ ڈھال ہے جو کسی بھی ایٹمی طاقت کو ناقابلِ تسخیر بناتی ہے۔

​خلاصہ یہ کہ عالمی سیاست میں کسی ملک کی کوئی طے شدہ ”باری“ نہیں ہوتی۔ وہاں فہرستیں نہیں، بلکہ مفادات کا حساب کتاب چلتا ہے۔ جب تک دفاعی ڈھانچہ مضبوط، سفارت کاری متوازن اور داخلی استحکام قائم ہے، تب تک کوئی بھی طاقت پاکستان کو آسان ہدف بنانے کا رسک نہیں لے گی۔

اصل بحث یہ نہیں کہ جنگ کب ہو گی، بلکہ سوال یہ ہے کہ خوف کیوں پھیلایا جاتا ہے؟ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ افواہوں کو دلیل کی روشنی میں پرکھا جائے اور عوام کو ہیجانی بیانیوں کے بجائے حقیقی تصویر دکھائی جائے۔ خوف وقتی شور پیدا کرتا ہے، مگر فیصلہ ہمیشہ زمینی حقائق کا ہوتا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW