پاکستان کا معاشی عدم استحکام اور انارکی

پاکستان اس وقت محض معاشی بحران کا شکار نہیں، بلکہ اپنی بقا کی ایک نازک حد پر کھڑا ہے۔ یہ صورتحال کسی قدرتی آفت یا اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط سیاسی فیصلوں، طاقت کے ارتکاز اور معاشی ترجیحات کی ایک ایسی ترتیب کا حاصل ہے جس میں عوامی مفاد بتدریج پس منظر میں چلا گیا۔ ریاست کے ستون کمزور ہوئے، ادارے شخصیات کے تابع ہوئے، اور پالیسی سازی کا محور طویل المدتی قومی مفاد کے بجائے قلیل المدتی اقتدار بن گیا۔
آج کا پاکستان ایک ایسی معیشت میں تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے جسے بعض ماہرین ”وار اکانومی“ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جہاں سیکیورٹی اخراجات بڑھتے ہیں، عدم استحکام برقرار رہتا ہے، اور معاشی سرگرمیوں کا بڑا حصہ غیر پیداواری شعبوں میں جکڑا رہتا ہے۔ اس صورتحال کا بوجھ عام شہری اور نچلے درجے کے سرکاری اہلکار اٹھاتے ہیں، جبکہ پالیسی کے ثمرات محدود حلقوں تک سمٹ جاتے ہیں۔
پارلیمنٹ، جو عوامی نمائندگی اور قانون سازی کا سب سے بڑا فورم ہے، اس پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی متعدد قانون سازیاں ایسی رہی ہیں جن پر ناقدین نے یہ اعتراض کیا کہ ان کا فائدہ وسیع عوامی طبقے کے بجائے مخصوص کاروباری یا سیاسی مفادات کو ہوا۔ ٹیکس چھوٹ، ایمنسٹی اسکیمیں، اور ریگولیٹری تبدیلیاں، یہ سب اقدامات قانونی دائرے میں ضرور تھے، مگر ان کے اثرات نے معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے کئی حوالوں سے بڑھایا۔
قومی اداروں کی نجکاری، پی آئی اے جیسے اثاثوں کی فروخت کی کوششیں، یا معدنی وسائل کے ٹھیکوں کا معاملہ ہو۔ ان سب میں شفافیت اور احتساب کی بحث بار بار سامنے آتی رہی ہے۔ مسئلہ نجکاری یا سرمایہ کاری بذاتِ خود نہیں، بلکہ وہ سوال ہے کہ کیا ریاستی فیصلے واقعی مسابقتی اور منصفانہ طریقے سے ہو رہے ہیں یا نہیں؟
اسی تناظر میں آئی پی پیز (Independent Power Producers) کے معاہدے عوامی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت capacity payments کا نظام رائج ہے، جس کے مطابق بجلی پیدا نہ ہونے کی صورت میں بھی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے عوض ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ اصولی طور پر یہ ماڈل سرمایہ کار کو تحفظ دینے کے لیے ہوتا ہے تاکہ توانائی کا شعبہ پرکشش رہے۔ مگر پاکستان میں اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گردشی قرضہ بڑھتا گیا اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ متعدد رپورٹس اور سرکاری کمیٹیوں نے ان معاہدوں پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہے کہ ان منصوبوں میں مقامی با اثر کاروباری گروہ بھی شامل رہے، جس سے مفادات کے ٹکراؤ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پاکستان کو قرض دیتے ہیں، مگر ان قرضوں کے ساتھ سخت شرائط منسلک ہوتی ہیں۔ سبسڈیز میں کمی، ٹیکسوں میں اضافہ، بجلی و ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، یہ سب اقدامات مالی استحکام کے نام پر کیے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اصلاحات کا بوجھ متوازن طور پر تقسیم ہو رہا ہے؟ یا پھر کمزور طبقات ہی اس کا اصل ہدف بنتے ہیں؟ متوسط طبقہ تیزی سے سکڑ رہا ہے، اور غربت کی شرح میں اضافہ معاشرتی بے چینی کو جنم دے رہا ہے۔
جب ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کمزور ہوتا ہے تو اظہارِ رائے کے قوانین بھی بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔ پیکا ایکٹ پر بھی یہی بحث جاری ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ قانون سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے ہے، جبکہ ناقدین اسے آزادی اظہار پر قدغن سمجھتے ہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں قانون کا اصل امتحان اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ کہ آیا وہ تحفظ دیتا ہے یا خوف پیدا کرتا ہے۔
مایوسی کا ایک اور مظہر برین ڈرین ہے۔ لاکھوں نوجوان، ڈاکٹرز، انجینئرز اور ہنرمند بیرونِ ملک مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ یہ صرف بہتر تنخواہ کی تلاش نہیں، بلکہ نظام پر اعتماد کے بحران کی علامت بھی ہے۔ جب میرٹ پر سوال اٹھیں اور مواقع محدود ہوں، تو ہجرت ایک منطقی انتخاب بن جاتی ہے۔ اس کا طویل المدتی اثر معیشت اور فکری سرمائے دونوں پر پڑتا ہے۔
علاقائی سیاست داخلی استحکام سے جڑی ہوتی ہے۔ سی پیک جیسے منصوبے پاکستان کے لیے معاشی امکانات رکھتے ہیں، مگر علاقائی کشیدگی اور داخلی بدامنی ان کی رفتار متاثر کرتی ہے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ بیرونی طاقتیں عدم استحکام چاہتی ہیں، مگر داخلی کمزوریاں بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں۔ افغانستان کی صورتحال، سرحدی کشیدگی، اور شدت پسند گروہوں کی موجودگی، یہ سب عوامل سیکیورٹی اخراجات اور معاشی دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور اسلحے تک غیر ریاستی عناصر کی رسائی نے خطرات کی نوعیت بدل دی ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی محض دو ہمسایہ ریاستوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے خطے کی جغرافیائی سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ چین کی وسطی ایشیا تک رسائی، سی پیک کی توسیع، اور خطے میں توانائی راہداریوں کا مستقبل اسی پٹی سے ہو کر گزرتا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس خطے میں مسلسل بدامنی محض داخلی کمزوریوں کا نتیجہ ہے یا اس میں عالمی طاقتوں کے مفادات بھی کارفرما ہو سکتے ہیں؟ ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے علاقائی عدم استحکام کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ موجودہ بدامنی مکمل طور پر کسی بیرونی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، لیکن یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس صورتحال سے بعض عالمی قوتوں کو تزویراتی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں داخلی استحکام ہی اصل دفاع بن سکتا ہے۔
دنیا پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت کے طور پر دیکھتی ہے جس کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے مگر معاشی بنیادیں کمزور ہیں۔ عالمی اداروں کی مدد بقا کو یقینی بناتی ہے، مگر پائیدار استحکام اندرونی اصلاحات سے ہی آئے گا۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ معاشرے اس وقت خطرناک موڑ لیتے ہیں جب نا انصافی کا احساس اجتماعی شعور بن جائے۔ انقلاب صرف بھوک سے نہیں، بلکہ اس یقین سے جنم لیتا ہے کہ نظام سننے کو تیار نہیں۔ اگر مہنگائی، بے روزگاری، اور اعتماد کے بحران کو بروقت سنبھالا نہ گیا تو معاشرتی بے چینی انارکی کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ ترجیحات بدلی جائیں۔ اصلاحات کا بوجھ منصفانہ ہو۔ طاقت اور احتساب ایک ہی اصول کے تابع ہوں۔ وقتی ریلیف پیکجز یا چند ہزار روپے کی امداد وقتی سکون تو دے سکتی ہے، مگر منظم ترقی اور باعزت روزگار ہی ریاست اور شہری کے تعلق کو بحال کر سکتے ہیں۔
