پاکستان: فولادی دیوار

دنیا اس وقت ایک نازک اور غیر یقینی جغرافیائی سیاسی دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ اور عالمی طاقتوں کی مداخلت نے پورے خطے کو ایک نئے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے حالات میں سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایران کے بعد اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے؟
یہ سوال بظاہر سنسنی خیز ضرور ہے، لیکن اس کا جواب دینے کے لیے جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ تجزیہ ضروری ہے۔
سب سے پہلے یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ ایران ایک مضبوط علاقائی طاقت ہے اور اس کے باوجود اسرائیل اس کے ساتھ مکمل اور فیصلہ کن جنگ میں داخل ہونے سے گریز کرتا رہا ہے۔ محدود نوعیت کے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باوجود دونوں ممالک اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ براہِ راست جنگ پورے خطے کو تباہ کن بحران میں دھکیل سکتی ہے۔
اب اگر پاکستان کی بات کی جائے تو صورتحال مزید مختلف اور پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان صرف ایک عام ریاست نہیں بلکہ ایک ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت دراصل خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔ یہی وہ قوت ہے جس نے ماضی میں بھی دشمنوں کو پاکستان کے خلاف کسی بڑے اقدام سے باز رکھا۔
لیکن پاکستان کی اصل طاقت صرف اس کے ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ اس کی بہادر، پیشہ ور اور قربانیاں دینے والی مسلح افواج ہیں۔ پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ نے ہر دور میں ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا سرحدی دفاع، پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں سے پوری دنیا میں اپنا مقام بنایا ہے۔ پاکستان کی فوج کا نظم و ضبط، جدید حکمت عملی اور دفاعی تیاری وہ عوامل ہیں جو کسی بھی دشمن کو پاکستان کے خلاف جارحیت سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
تاہم پاکستان کی تاریخ کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی دفاعی طاقت کو مضبوط بنانے اور اسے ایٹمی قوت بنانے میں جمہوری قیادت بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ یہ حقیقت تاریخ کا حصہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی۔ انہوں نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ اگر ہمیں گھاس بھی کھانی پڑے تو ہم ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ یہی وہ ویژن تھا جس نے پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی ریاست بنانے کی بنیاد رکھی۔ بعد میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے ادوار میں پاکستان کے دفاعی اداروں کو مضبوط بنانے اور قومی سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف جمہوریت کو مضبوط کیا بلکہ دفاعی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کو بھی برقرار رکھا۔ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کا بیانیہ یہی ہے کہ مضبوط جمہوریت اور مضبوط دفاع ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ایک مستحکم جمہوری نظام ہی ریاستی اداروں کو مضبوط بناتا ہے اور قومی سلامتی کو یقینی بناتا ہے۔
جغرافیائی حقیقت بھی اس بحث میں اہم ہے۔ اسرائیل اور پاکستان کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور دونوں ممالک کی براہِ راست سرحد بھی نہیں ملتی۔ کسی بھی ملک کے لیے اتنے فاصلے پر واقع ایک ایٹمی طاقت کے خلاف جنگ چھیڑنا نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور سفارتی لحاظ سے بھی انتہائی پیچیدہ فیصلہ ہو گا۔
اسی طرح پاکستان کی فوج کو اپنی قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کو بیرونی خطرات کا سامنا ہوا، پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہو گئی۔ یہی قومی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ایران کے بعد اسرائیل پاکستان کے خلاف جنگ کرے گا، زیادہ تر قیاس آرائیوں اور سوشل میڈیا کی افواہوں پر مبنی بات لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک مضبوط دفاعی نظام، ایٹمی صلاحیت اور پیشہ ور مسلح افواج رکھنے والا ملک ہے، جس کے خلاف جنگ کا تصور بھی کسی کے لیے آسان نہیں۔
پاکستان کی سلامتی کا راز مضبوط دفاع، بہادر مسلح افواج، قومی اتحاد اور جمہوری استحکام میں پوشیدہ ہے۔ جب تک یہ ستون مضبوط ہیں، پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا خواب دیکھنے والوں کو ہمیشہ مایوسی ہی ہو گی۔
