
لکھنو میں پہلی بار بلدیہ کے انتخابات ہوئے تو اپنے وقت کی مشہور طوائف دلربا جان چوک سے امیدوار بنی۔ اس کے خلاف الیکشن لڑنے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ ان دنوں ایک مشہور طبیب تھے حکیم شمس الدین جن کا چوک میں مطب تھا اور بڑے با عزت و نیک نام تھے۔ دوستوں نے زبردستی ان کو دلربا جان کے مقابلے پر کھڑا کر دیا۔ دلربا کی انتخابی مہم نے زور پکڑا روزانہ سر شام چوک میں محفلیں سجنے لگیں۔ جدن بائی جیسی اپنے زمانے کی مشہور رقاصاؤں کے پروگرام ہونے لگے اور محفلوں میں بے تحاشا بھیڑ ہونے لگی۔ اس وقت حکیم صاحب کے ساتھ چند دوست ہوا کرتے تھے جنہوں نے ان کو الیکشن میں جھونک دیا تھا۔ اب حکیم صاحب کو غصہ آیا کہ تم لوگوں نے مجھے مار دیا میری شکست یقینی ہے۔ دوستوں نے ہمت نہیں ہاری اور نعرہ دیا:
ہے ہدایت چوک کے ہر ووٹر شوقین کو دل دیجئے دلربا کو مگر ووٹ شمس الدین کو
اس کے جواب میں دلربا نے یہ نعرہ دیا:
ہے ہدایت چوک کے ہر ووٹر شوقین کو دلربا کو ووٹ دیجئے، نبض شمس الدین کو
خوش قسمتی سے حکیم صاحب کا نعرہ کامیاب ہوا اور وہ الیکشن جیت گئے۔ لکھنؤ کی تہذیب کے مطابق دلربا جان نے حکیم صاحب کو گھر پر جا کر مبارکباد دیتے ہوئے کہا: میں الیکشن ہار گئی، آپ جیت گئے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آپ کی جیت سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ لکھنؤ میں مرد کم اور مریض زیادہ ہیں۔
جب ایران اور برصغیر میں فارسی کا دور دورہ تھا تو ایران کے ایک شہزادے کے ذہن میں ایک مصرعہ آیا:
در ابلق کسے کم دیدہ موجود ( چتکبرا موتی (ابلق) کسی نے نہیں دیکھا
شہزادے نے شعراء سے کہا کہ دوسرا مصرعہ لگاؤ لیکن ایران کے سارے شعراء مصرعہ لگانے میں ناکام رہے۔ شہزادہ بہت برہم ہوا۔ پھر اس مصرعے کو بادشاہ جہانگیر کے دربار میں بھیجا گیا جہاں بڑے باکمال شاعر موجود تھے۔ بادشاہ نے کہا کہ ایران کے ایک شہزادے نے مصرعہ بھیجا ہے اس پر مصرعہ لگاؤ مگر وہ بھی ناکام رہے۔ جہانگیر کی بیٹی زیب النساء بھی شاعرہ تھی۔ جب بات اس تک پہنچی تو اس نے بھی کوشش کی، بہت غور و فکر کیا۔ پھر ایک روز شہزادی بناؤ سنگار کے لئے بیٹھ گئی، اس کے بعد اس نے آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ سرمہ لگاتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکا اور شہزادی کے ذہن میں دوسرا مصرعہ آ گیا۔ کیونکہ آنکھ سے نکلا ہوا پانی آنسو کی شکل میں پلکوں کے اوپر تھا جو کہ چتکبرا موتی کی مانند جھلک رہا تھا۔ شہزادی گنگنا اٹھی
در ابلق کسے کم دیدہ موجود مگر اشک بتان سرمہ آلود
چتکبرا موتی (یعنی در ابلق) کسی نے نہیں دیکھا مگر محبوب کی آنکھ کا وہ آنسو جو سرمہ لگا ہوا ہو (وہ موتی میں نے دیکھا ہے )
شعر مکمل ہو گیا تو جہانگیر نے نے شہزادی کا یہ مصرعہ ایران شہزادے کو ارسال کر دیا۔ ایرانی شہزادے نے شاعر سے ملنا چاہا مگر کسی غیر محرم کا دربار میں جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ زیب النساء نے درج ذیل شعر لکھ بھیجا
در سخن مخفی منم چوں بوئے گل در برگ گل ہر کی دیدن میل دارد در سخن بیند مرا
یعنی میں اپنے کلام میں اس طرح پوشیدہ ہوں جس طرح پھول کی خوشبو اس کی پنکھٹریوں میں پوشیدہ ہوتی ہے کوئی مجھے دیکھنا چاہے تو میرے کلام کو دیکھ لے۔ یعنی دیکھنے کا خواہش مند میرے کلام کو پڑھ لے جب وہ میرا کلام پڑھے گا تو زیب النساء کو دیکھ لے گا۔
اور واقعہ میں ایسا ہی ہے جب کسی شاعر کا کلام پڑھا جاتا تو اس میں وہی نظر آتا ہے اور پڑھنے کے دوران صاحب کلام سے ملاقات بھی ہوجاتی ہے۔
کلکتہ کے بلکہ پورے ہندوستان کی مشہور مغنیہ گوہر جان ( جس نے شادی نہیں کی تھی) ایک مرتبہ اکبر الہ آبادی کی زیارت کے لئے آئی اور ان سے اپنے لئے شعر کی فرمائش کی۔ اکبر نے کہا: زہے نصیب، میں نہ نبی ہوں نہ امام نہ ولی، بہرحال ایک شعر حاضر ہے :
خوش نصیب آج بھلا کون ہے گو ہر کے سوا سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا
فقہا (پلاؤ کے شوقین) سے پیشگی معذرت کے ساتھ:۔
درج ذیل عبارت میں فقہا سے مراد پلاؤ کے شوقین، اس کا علم رکھنے والے اور اس کے تحقیقی مسائل پر عبور رکھنے والے مراد ہیں۔
فقہاء پلاؤ میں برابر کے گوشت کے قائل ہیں نیز اس بات پر بھی اجماع ہے کہ پلاؤ صرف گوشت کی یخنی میں پکے چاول کو کہا جاتا ہے۔ مصالحے دار چاول، جن پر ایک دو بوٹیاں ڈال کر آج کل پلاؤ کہنے کا رواج ہے علماء طعام کی اکثریت اسے بدعت کے باب میں رکھتی ہے۔
”متقدمین“ پلاؤ میں بکرے کے گوشت یا مجبوری کی حالت میں بڑے گوشت کے جواز کے قائل تھے اور صرف اسی کو پلاؤ کہتے تھے۔ البتہ ”متاخرین“ مرغی کے گوشت کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی بین العلماء متفق علیہ ہے کہ مٹر کی طاہری یا چنے کی قبولی کو مٹر پلاؤ یا چنا پلاؤ کہنے والے جاہل و گمراہ ہیں۔ یہ ایک طرح کے توہین کے زمرے میں آتا ہے۔
فقہاء (پلاؤ کے شوقین) نے اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ جمعہ کو پلاؤ کھانا اس کی اصل عزت ہے۔ بعض غالی قسم کے عوام یہ کہتے ہیں کہ پلاؤ کے آگے سارے کھانے ہیچ ہیں۔ کچھ فقہاء اس بیان کی تائید نہیں کرتے، ان کے نزدیک طاہری، دال چاول، چنا چاول وغیرہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔
اور آداب پلاؤ میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اگر پرتکلف کے بعد عمدہ قہوہ نہ ملے تو سب اکارت گیا۔
ڈاکٹر فیلن Dr۔ S۔ W۔ Fallon ( 1817۔ 1880 ) جس نے ہندوستانی انگلش ڈکشنری بنارس چار سال میں 1879 میں تالیف کی تھی اسے گھمنڈ تھا کہ اس کو اہل زبان سے زیادہ اردو آ گئی ہے۔ مولوی سید احمد صاحب دہلوی مصنف فرہنگ آصفیہ ( 1901 ) نے اس کو بتایا کہ دلی کے شرفاء کا تو ذکر ہی کیا آپ یہاں کے کمینوں جتنی بھی اردو نہیں جانتے۔ اتنے میں ایک مہترانی اپنا ٹوکرا اٹھائے سامنے سے گزری۔ سید صاحب نے کہا ذرا اسی سے بات کر لیجیے۔ ڈاکٹر فیلن نے کہا اس کو بلاؤ، اور اس سے کہا تم ہم سے کچھ پوچھو۔ وہ سٹپٹائی کہ یہ گورا آخر ہم سے کیا چاہتا ہے؟ سید صاحب نے کہا ان سے تم کسی محاورے کے معنی پوچھو۔ مہترانی نے کہا:
اچھا میں اسے ذرا ڈلاؤ پر ڈال آؤں تو پوچھوں گی، یہ بغلیں جھانکتے رہ جائیں گے۔
ڈاکٹر فیلن کے کان کھڑے ہوئے کہ ایک مہترانی ایک ہی فقرے میں دو باتیں کہہ گئی جو مجھے معلوم نہیں ہیں۔ کیوں مولوی صاحب ڈلاؤ کس کو بولتے ہیں اور بغلیں جھانکنا کیا ہوتا ہے؟ مولوی صاحب نے کہا ابھی تو یہ دیکھئے کہ وہ واپس آ کر کیا پوچھتی ہے۔
مہترانی نے کہا ہاں صاحب یہ بتاؤ۔ ”اگن کے بچے کھجوروں میں بتانا“ ( یعنی کچھ کا کچھ بتانا زمین کو پوچھنے پر آسمان کی کہنا) اس کا کیا مطلب ہے؟ ڈاکٹر صاحب واقعی بغلیں جھانکنے لگے۔ مہترانی نے کہا ”بس ہو گئی ترکی تمام“ ۔ ڈاکٹر صاحب کی ساری قابلیت ہوا ہو گئی اور اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
شاہد احمد دہلوی 1906۔ 1967 (ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے ) کے مضمون ”۔ اجڑے دیار کی آخری بہار سی“ اقتباس:
دلی والے بڑے چٹورے مشہور تھے در اصل وہ خوب کماتے اور خوب کھاتے تھے۔ خوش باش اور بے فکرے تھے۔ جز رس اور کنجوس آدمی کو منحوس سمجھتے تھے اور اس کی شکل تک دیکھنے کو روادار نہیں تھے۔ کبھی صبح ہی صبح اگر کسی ایسے کی شکل اتفاقاً نظر آ جاتی تو اندیشہ کرتے کہ دیکھئے آج کیا افتاد پڑتی ہے۔ اکثر ہوتا بھی یہی تھا کہ ان کے وہم کی وجہ سے کوئی نہ کوئی پریشانی آ جاتی تھی۔
کہتے ہیں کہ بادشاہ کے زمانے میں ایک ایسا ہی منحوس شخص شہر میں تھا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اگر اس کی صورت دیکھ لی جائے تو دن بھر روٹی نہیں ملتی تھی۔ بادشاہ تک اس کی شکایت پہنچی تو اس نے کہا: کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے؟ شکایت کرنے والوں نے کہا حضور ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ تجربہ کر کے دیکھئے۔
چنانچہ ایک دن صبح کو بادشاہ برآمد ہوئے تو اس شخص کو بادشاہ کی نظر دے گزار دیا گیا۔ اللہ کی شان اس دن دو ایک مقدمے ایسے آ کر اڑے کہ دن کا تیسرا پہر ہو گیا اور بادشاہ کا تناول فرمانے کا وقت نکل گیا۔ بادشاہ سلامت کو جب جتایا گیا تو بولے۔ : اماں ہاں، یہ شخص تو واقعی منحوس ہے پیش کرو اس کو ہمارے حضور میں۔ اس غریب کر عصا بردار کشاں کشاں لے آئے تو بادشاہ نے کہا: تم منحوس ہو جو تمہیں دیکھ لیتا ہے اسے روٹی نہیں ملتی۔ اس لئے تمہیں موت کی سزا دی جاتی ہے۔
آدمی حاضر جواب تھا بولا۔ حضور میں اتنا منحوس ہوں کہ جو مجھے دیکھ لیتا ہے اسے روٹی نہیں ملتی مگر میں نے آج آپ کے دیدار کیے تو اپنی جان ہی سے چلا۔ بادشاہ ہنس پڑے اور اسے معاف کر دیا۔
فراق کے پاس ایک نیا شاعر اصلاح لینے کے لئے آیا۔ اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میری غزلیں ہندوستان کے تمام معروف رسالوں میں شائع ہوتی ہیں آپ نے یقیناً پڑھی ہوں گی۔ فراق نے شاعر کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا: تمام رسالوں میں تو بواسیر کی دوائیوں کے اشتہار بھی شائع ہوتے ہیں۔ کیا توقع رکھتے ہو کہ میں انہیں بھی پڑھتا ہوں گا۔
جوش ملیح آبادی بے تکلف دوستوں میں بیٹھے جوانی کی محبوباؤں کا تذکرہ کر رہے تھے کہ فرط جذبات سے آنکھیں نم ہو گئیں۔ اسی اثنا میں بیگم کمرے میں داخل ہوئیں اور رونے کا سبب پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا : بس اماں مرحومہ یاد آ گئیں۔
ایک شام جوش صاحب حسب معمول شام کے وقت چہل قدمی کے بعد گھر سے قریب کسی چوک پر کھڑے تھے۔ ان کے مداح نے انہیں دیکھ کر اپنی گاڑی روکی اور کہا: آئیے جوش صاحب آپ کو چھوڑ دوں۔ جوش نے جواب دیا میاں داشتہ چھوڑی جاتی ہے، کتے اور کبوتر چھوڑے جاتے ہیں، آدمی کو پہنچایا جاتا ہے۔
ایک لڑکی نے فیض صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مجھ میں بڑا تکبر ہے اور میں انا کی بہت ماری ہوئی ہوں۔ جب صبح شیشہ دیکھتی ہوں تو میں سمجھتی ہوں کہ مجھ سے زیادہ دنیا میں کوئی اور خوب صورت نہیں ہے۔ فیض صاحب نے جواب دیا: بی بی یہ تکبر اور انا ہرگز نہیں بلکہ غلط فہمی ہے۔
سوز شاہجہان پوری ایک دن لکھنؤ کافی ہاؤس گئے اور مجاز کی میز پر جا بیٹھے۔ کہنے لگے مجاز بھائی میں نے اپنا مجموعہ کلام مرتب کر لیا ہے اب اس کے لئے کسی موزوں نام کی تلاش میں ہوں کوئی ایسا نیا نام جو نیا بھی ہو اور جس میں میرے نام کی رعایت بھی ہو۔
مجاز نے برجستہ جواب دیا: سوزاک رکھ لو۔
ممتاز مفتی کی کتاب ”لبیک“ سے اقتباس:
میں قدرت اللہ شہاب کے ساتھ مسجد الحرام کے صحن میں بیٹھا تھا کہ اچانک قدرت نے پوچھا : یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟ یہ کاپی ہے۔ یہ کیسی کاپی ہے؟ اس میں دعائیں لکھی ہیں میرے کئی ایک دوستوں نے کہا تھا کہ خانہ کعبہ میں ہمارے لئے دعا مانگنا۔ میں نے وہ سب دعائیں اس کاپی میں لکھ لی تھیں۔ دھیان کرنا، وہ بولے یہاں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے۔ کیا مطلب؟ میری ہنسی نکل گئی کیا دعا قبول ہو جانے کا خطرہ ہے۔ ہاں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دعا قبول ہو جائے۔
میں نے حیرت سے قدرت اللہ کی طرف دیکھا، بولے : اسلام آباد میں ایک ڈائریکٹر ہیں عرصہ دراز سے انہیں بخار ہو جاتا تھا ڈاکٹر، حکیم، وید، ہومیو سب کا علاج کر دیکھا۔ مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ سوکھ کر کانٹا ہو گئے۔ آخر چار پائی پر ڈال کر کسی درگاہ پر لے گئے وہاں ایک مست بابا جی سے کہا دعا کرو اس کو بخار نہ چڑھے۔ اس کے بعد انہیں آج تک کبھی بخار نہیں چڑھا۔
اب چند سال سے ان کی گردن کے پٹھے اکڑے ہوئے ہیں اپنی گردن ادھر ادھر ہلا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ مرض صرف اسی صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ انہیں بخار چڑھے۔ انہیں بخار چڑھنے کی دوائیاں کھلائی جا رہی ہیں مگر ان کو بخار نہیں چڑھتا۔
دعاؤں کی کاپی میرے ہاتھ سے گر پڑی میں نے اللہ کے گھر کی طرف دیکھا: میرے اللہ کیا کسی نے تیرا بھید پایا ہے؟
پطرس بخاری (اصل نام سید احمد شاہ بخاری 1898۔ 1958 ) نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے ایک تقریر ریکارڈ کروائی۔ جب سنی تو پتہ چلا کہ ایک جگہ پر تلفظ میں غلطی ہو گئی ہے۔ اس زمانے میں ایسی سہولیات میسر نہیں تھیں کہ آسانی سے غلطی کو درست کر لیا جاتا۔ تقریر کو دوبارہ ریکارڈ کروانا ضروری تھا۔ انجنیئر نے جان چھڑوانے کے لئے کہا : بخاری صاحب ایک لفظ سے کیا فرق پڑتا ہے۔ چالیس کروڑ ہندوستانیوں میں سے کوئی ایک ہی یہ غلطی پکڑے گا۔ پطرس نے جواب دیا: مجھے اسی ایک حرامزادے سے ڈٖر لگتا ہے۔
لکھنؤ ادب کا شہر ہے۔ کہتے ہیں کہ لکھنؤ کے لوگ جب لڑتے تب بھی ادب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ قصہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ لکھنؤ کے دو بچوں کے مابین پھوٹ پڑ گئی۔ ایک بچہ عالم رنج و غصہ میں دوسرے فریق بچے پر برس پڑا۔
”عالی جاہ ہماری دیرینہ قلبی حسرت ہے کہ آپ کے رخ روشن پر ایسا زناٹے دار طمانچہ رسید کریں کہ آپ کے چہرے پر ہماری انگلیوں کے نشان ابد تک ثبت ہوجائیں اور آپ تا حیات اس ذلت کے نشان کو لے کر کوچہ کوچہ قریہ قریہ اور بستی بستی گھوما کریں۔ “
دوسرا فریق بچہ بھی لکھنؤ شہر سے متعلق تھا وہ یوں گویا ہوا: ”جان عزیز ایسی لاحاصل خواہشات کو اپنے دل نادار میں جگانے پر گویا ہم محض مسکرا ہی سکتے ہیں۔ ہم چاہتے تو اس رن بے تاب میں لفظی رسہ کشی کرتے ہوئے آپ کی عزیزم ہمشیرگان اور آپ کی والدہ محترمہ کی شان عالی شان میں غیر شرعی اضافتیں کر سکتے تھے۔ مگر ہمارے والد بزرگوار نے ہمیں ہر دم اخلاقیات کا دامن، قوی تر پکڑے رہنے کا حکم دیا تھا ورنہ ایسے نا شائستہ اور نازیبا کلمات ادا کرنے پر ہمارے ایک ہی ہاتھ سے آپ کا رخسار مثل گلاب لال ہو جاتا۔ مگر قربان جائیں ہماری بے مثال تربیت پر جو آڑے آ جاتی ہے۔ “
ایک دفعہ عبد المجید سالک (ایڈیٹر انقلاب 1894۔ 1959 ) اور حکیم فقیر محمد چشتی صاحب موچی دروازے لاہور کے اندر ایک امام باڑے میں میر بہادر حسین ارم لکھنوی کا مرثیہ سننے گئے۔ ابھی مجلس شروع نہ ہوئی تھی اور ایک جانب کچھ طوائفیں جمع ہو رہی تھیں۔ ان میں سب سے نمایاں نجو طوائف تھی۔ کھلا ہوا چمپئی رنگ، سر پر ایک سفید ریشمی دوپٹہ جس کے کنارے چوڑا نقرئی لپہ لگا ہوا تھا۔
سالک نے حکیم صاحب سے کہا: ملاحظہ فرمایا آپ نے ڈبیا کا انگور ہے۔
تشبیہ تام تھی۔ حکیم صاحب نے بہت داد دی۔ پھر حکیم صاحب نے فرمایا : میری بھی سن۔ سالک نے عرض کیا: فرمائیے۔
فرمایا خمیرہ گاؤ زبان، بہ ورق نقرہ پیچیدہ۔ سالک اس تشبیہ پر پھڑک اٹھے۔
یہی نجو ایک روز حکیم صاحب کے مطب میں بیٹھی ہوئی تھی۔ سالک جب پہنچے تو حکیم صاحب نے اس سے کہا: یہ تمہارے شہر کے بہت بڑے شاعر اور ادیب سالک صاحب ہیں۔ آداب بجا لاؤ۔ وہ سرو قد اٹھ کھڑی ہوئی اور جھک کر آداب بجا لائی۔ پھر حکیم صاحب نے سالک سے کہا: یہ لاہور کی مشہور طوائف نجو ہیں۔ آپ اس کوچے سے نابلد سہی لیکن نام تو سنا ہو گا۔ سالک نے کہا : جی ہاں نام تو سنا ہے لیکن نجو بھلا کیا نام ہوا؟ حکیم صاحب نے فرمایا: لوگ نجو نجو کہہ کر پکارتے ہیں لیکن پورا نام نجات المومنین ہے۔ (اندھیر نگری از سعادت حسن) ۔
جوش صاحب نے ایک بار بہت بڑے وزیر کو اردو میں خط لکھا، لیکن اس کا جواب انگریزی میں ارسال فرمایا۔ جواب الجواب میں جوش نے ان کو لکھا: جناب والا میں نے تو آپ کو خط اپنی مادری زبان میں لکھا تھا مگر آپ نے اس کا جواب پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔
چراغ حسن حسرت (ایڈیٹر شیرازہ لاہور) کا قد لمبا تھا۔ ایک روز بازار گئے، آموں کا موسم تھا۔ دکاندار سے آموں کا بھاؤ پوچھا۔ دکاندار نے جواب دیا پانچ آنے سیر۔ حسرت نے کہا میاں آم تو بہت چھوٹے ہیں۔ دکاندار نے کہا: میاں نیچے بیٹھ کر دیکھو آم چھوٹے ہیں یا بڑے، قطب مینار سے تو ہر شے چھوٹی ہی نظر آتی ہے۔
چند شعراء میں پیروڈیوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ ایک شاعر کہنے لگے پیروڈیوں کا اصل لطف یہ ہے کہ پیروڈی میں ایک آدھے لفظ کی ترمیم سے نئی بات پیدا کرنی چاہیے، عبد الحمید عدم کا ایک شعر ہے
شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں
میں نے اس کی پیروڈی یوں کی ہے :
شاید مجھے نکال کے کچھ کھا رہے ہوں آپ محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں
