بلاگگوشہ ادب

اردو ادب میں خاکہ نگاری کی تاریخ اور اصول

zakaria virk

خاکہ نگاری انگلش کے لفظ Sketch Portrait کا ترجمہ ہے۔ قلمی تصویر کے لئے انگلش میں Pen Portrait کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ خاکے کے لئے مرقع، قلمی تصویر، اور شخصی مرقع بھی مروج ہیں۔ خاکے کو شخصیت کا مطالعہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کی کردار نگاری کی جائے تو یہ اس کا خاکہ کھینچنا ہوا۔ اور اگر کسی شخص کی کردار نگاری میں تمسخر اور مزاح ہوتو یہ خاکہ اڑانا کہلاتا ہے۔ کسی کی خوبی یا کمزوری بیان کر نے کے لئے ضروری ہے کہ قلمکار کے ذہن میں رواداری ہو۔

خاکہ نگار کو ایک پینٹر کی طرح قلمی لکیروں Strokes سے تصویر بنانا ہوتی مگر یہ تصویر خیالی نہیں ہوتی ہے۔ خاکہ میں کوئی شخصیت پیش کی جاتی ہے۔ خاکہ تاثراتی ہوتا اور سوانح کی طرح معلوماتی نہیں ہوتا ہے۔ سوانح کی طرح خاکہ بھی حقیقت پر مبنی ہوتا۔ اچھے خاکے میں کسی شخص کی صورت پیش کی جاتی، جیسے چہرے کے خط و خال، کان، آنکھ، بال، ناک، ہونٹ، چشمہ اور دانت۔ اس کی زندگی پیش نظر نہیں ہوتی۔ سوانحی مضمون فرد کی پیدائش اور موت کے درمیان محدود ہوتا جبکہ خاکہ کسی انسان کی زندگی کا اجمالی تعارف اور اس کے چند اہم پہلوؤں کی جھلک پیش کرتا ہے۔

خاکہ ایک ایسا تخلیقی مضمون ہے جس میں کسی فرد کی شخصیت کے اہم پہلوؤں کو ذاتی حوالے سے اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا جاتا ہو۔ خاکہ نگاری کے لئے چھ لوازم ہیں : اختصار، شخصیت سے قربت، واقعہ نگاری، کردار نگاری، منظر کشی، حلیہ نگاری یا سراپا نگاری۔ سراپا نگاری میں محمد حسین آزاد، فرحت اللہ بیگ، شاہد احمد دہلوی اور شورش کاشمیری کو کمال حاصل تھا۔

خاکوں کی کئی ایک اقسام ہیں جیسے سوانحی خاکہ، طنزیہ خاکہ، فکاہی خاکہ، افسانوی خاکہ، مزاحیہ خاکہ اور شخصیتی خاکہ۔ خاکہ Sketch اور مضحکہ خاکہ Caricature میں فرق کرنا ضروری ہے۔ ان دونوں میں وہی فرق ہے جو تصویر اور کارٹون میں ہوتا ہے۔ کارٹون میں اصل شکل کے نقوش کو بگاڑ کر یا ضرورت سے زیادہ ابھار کر مزاحیہ پہلو پیدا کیا جاتا ہے۔

اردو میں پہلا بہترین خاکہ

اردو کی تاریخ میں سب سے بہترین خاکہ ریاست حیدر آباد کے جج مرزا فرحت اللہ بیگ 1983۔ 1947 نے شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد ( 1833۔ 1912 ) کا زیب قرطاس کیا تھا۔ ”ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی، کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی“ ، اس تخلیقی شاہکار سے اردو میں خاکہ نویسی کی ابتدا 1928 میں ہوئی تھی۔ چھپن صفحات کے اس خاکے میں ایک شاگرد نے اپنے قابل احترام استاد کی سوانح اور خاکہ مزاح لطیف، شوخی بیاں اور حسن ظرافت سے قلم بند کیا ہے۔ نذیر احمد اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں، جیتی جاگتی، چلتی پھرتی تصاویر کے ساتھ زندگی میں جیسے تھے ویسے ہی نظر آتے ہیں۔ شاگرد نے اس خاکے سے اپنے استاد کی شخصیت کو اردو ادب میں زندہ جاوید کر دیا تھا۔

ڈپٹی صاحب کا حلیہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”آنکھیں چھوٹی چھوٹی مگر ذرا اندر کو دھنسی ہوئی، بھنویں گھنی اور آنکھوں کے اوپر سایہ فگن تھیں۔ آنکھوں میں غضب کی چمک تھی وہ چمک نہیں جو غصہ کے وقت نمودار ہوتی ہے بلکہ یہ وہ چمک تھی جس میں شوخی اور ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اگر میں ان کو مسکراتی ہوئی آنکھیں کہوں تو بے جا نہ ہو گا۔ کلہ، جبڑا بڑا زبردست پایا تھا چونکہ دہانہ بھی بڑا تھا اور پیٹ کے محیط نے سانس کے لئے گنجائش بڑھا دی تھی اس لئے اونچی آواز میں بغیر سانس کھینچے بہت کچھ کہہ جاتے تھے۔ آواز میں گرج تھی مگر لوچ کے ساتھ کوئی دور سے سنے تو یہ سمجھے مولوی صاحب کسی کو ڈانٹ رہے ہیں۔ ناک کسی قدر چھوٹی تھی اور نتھنے بھاری، ایسی ناک کو گنواروں کی اصطلاح میں گاجر اور دہلی والوں کی بول چال میں پھلکی کہا جاتا ہے۔ داڑھی بہت چھدری تھی ایک ایک بال گنا جا سکتا تھا۔ داڑھی کی وضع قدرت نے خود فرنچ فیشن بنا دی تھی۔ گردن چھوٹی مگر موٹی تھی۔ لیجیے یہ ہیں مولوی نذیر احمد خانصاحب۔ ”۔ (ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی صفحہ 12 )

خاکہ نگاری میں اگر کچھ تنقید اور تحسین کے پہلو نمایاں ہوتے ہیں تو یہ اپنی جگہ نہایت موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ اسی طرح بابائے اردو مولوی عبد الحق کے خاکوں میں نام دیو مالی کا خاکہ اپنی مثال آپ ہے۔ رشید احمد صدیقی ( 1892۔ 1977 ) کی گنج ہائے گراں مایہ پیکر تراشی کے ضمن میں نہ بھولنے والی مثال ہے۔ خاکہ نگاری یا سوانحی مضمون جس میں کسی نامور شخص کی ادبی، سیاسی، فنی، سماجی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہو، اکثر لکھنے والے اس میں فرق محسوس نہیں کرتے۔ لیکن خاکہ نگاری سوانحی مضمون نہیں ہے۔ لکھنے والا جب کسی شخص کو موضوع بناتا ہے تو وہ سوانح، خارجی واقعات، حالات کے ساتھ اپنے تاثرات سے بھی مدد لیتا ہے۔ کامیاب خاکہ نگا ر وہ ہوتا جو واقعات کی اوپر کی سطح کے نیچے پوشیدہ حقائق پر بھی روشنی ڈالتا جن پر عام لوگوں کی نظر نہیں پڑتی۔

خاکہ کے لئے مواد

خاکہ نگاری کے لئے مواد خطوط، دوستوں سے بات چیت، ممدوح کی شاعری، ذاتی معلومات، تصانیف، حکایات، ای میلز، فون کالز اور اقوال سے حاصل ہوتا ہے۔ خاکہ نگار ایک چابک دست مصور ہوتا ہے جو الفاظ کے وسیلے سے ایک چلتی پھرتی تصویر لفظوں میں اتار دیتا ہے۔ خاکہ نگار کا کام نہ بت گری ہے نہ بت شکنی۔ خاکہ قلم سے بنائی ہوئی کاغذ پر ایک شبیہ ہے جو بے جان یا ساکت نہیں ہوتی۔ یہ بولتی ہوئی جاندار تصویر ہوتی ہے۔ خاکوں میں کوئی چہرہ متبسم نظر آتا ہے۔

خاکہ نگار کا کام صورت گری ہے۔ صورت بنانے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ چابک دست خاکہ نگار کسی شخص کو معمولی سے غیر معمولی اور غیر معمولی کو معمولی بنا دیتا ہے۔ خاکہ نگار کو شش کرتا کہ اس کی نظر موصوف کے اوصاف کے ساتھ ساتھ اس کی کمزوریوں پر بھی ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ خاکہ نگار کا لب و لہجہ شخصیت کے مطابق ہو۔ اگر کسی سنجیدہ ذات کا خاکہ لکھنا مقصود ہے تو لب و لہجہ میں سنجیدگی ہو، اور اگر کسی مزاحیہ انسان کا خاکہ ہے تو مزاحیہ زبان استعمال کی جائے۔ خاکہ نگاری کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ خاکہ کش اور جس کی خاکہ کشی کی جا رہی ہو دونوں ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیں۔ خاکہ ایسی شخصیت کا لکھا جاتا ہے جس سے لکھنے والے سے خاص تعلق خاطر ہو۔ خاکہ نگاری میں خاکہ نگار کی شخصیت ہمیشہ پس منظر میں رہنی چاہیے۔

کتاب آب حیات کی خوبیاں

محمد حسین آزاد کی ’آب حیات‘ خاکہ نگاری کے ضمن میں ایک اہم مرقع ہے جس میں اردو تذکرے، تنقید، اردو میں ادبی تاریخ نویسی ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے استاد ذوق، میر تقی میر، آتش اور انشا کی قلمی تصویریں پیش کی ہیں۔ انہوں نے لفظوں کی تاریخ کا قصہ اس رنگ میں قلم بند کیا جیسے وہ جیتے جاگتے کرداروں کی آپ بیتی بیان کر رہے ہوں۔ انہوں نے چند لفظوں میں پوری تصویر کھینچ دی۔ شکل، صورت، لباس، عادات اور خصائل کا بیان وہ اس رنگ میں کرتے ہیں کہ جس پر قلم اٹھا یا گیا اس کی شخصیت جاگ اٹھتی ہے۔ اکثر شاعروں کا حلیہ، عادات و اطوار، عقائد و نظریات، ان کی خوبیاں اور خرابیاں اس رنگ میں بیان کیں کہ ان کی شخصیت ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ انشا االلہ خاں انشا نے دریائے لطافت میں چند شاعروں کا حلیہ اس طور پر بیان کیا کہ ہم ان کو اردو کے اولین خاکے کہہ سکتے ہیں۔ اکبر الہ آبادی نے آدمی نامہ میں انسان کے حسن و معائب اس طرح بیان کیے کہ یہ نظم انسان کا خاکہ بن گئی ہے۔

خاکہ نگاری کے نمونے بعض دفعہ سوانح عمریوں میں بھی مل جاتے ہیں۔ یادگار غالب، سیرت النبی، الفاروق، سیرت النعمان، حیات سعدی، اور حیات جاوید میں ان باکمال شخصیتوں کے جلوے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ بیتی بھی مصنف کے احوال بیان کرنے کے ساتھ دوسروں کی سرگزشت بیان کرتی ہے۔ ایسی آپ بیتیاں جو دوسروں کے ذکر سے خالی ہوں زیادہ پسند نہیں کی جاتیں۔ سفر نامہ، سوانحی افسانہ، سوانحی ناول، کسی نہ کسی حد تک اپنی شخصیت کا بیان ہی ہوتی ہے۔

جو ادیب اور مصنف خاکہ نگار کے طور پر اتھارٹی تسلیم کیے گئے ان کی طاقت تحریر کا اظہار نثر کی دیگر اصناف طنز و مزاح، انشائیہ، ناول، افسانہ، سوانح، سفر نامہ میں بھی ہوا ہے۔ خاکہ نگار جتنا بردبار، حلیم اور ذی علم ہو گا اس کے خاکے بھی اتنے ہی با ذوق اور جاندار ہوں گے۔ خاکہ نگاری میں قلمی تصویریں ایسے کھینچی جاتیں گویا پڑھنے والے نے قلمی چہرے کو دیکھا ہے۔

مرزا فرحت اللہ بیگ کے بعد جو نامی گرامی لکھاری خاکہ نگاری کے میدان میں اعلیٰ و ارفع جانے گئے ان میں خواجہ حسن نظامی، مولوی عبد الحق، شاہد احمد دہلوی۔ رشید احمد صدیقی، سردار دیوان سنگھ مفتون، جوش ملیح آبادی، خواجہ محمد شفیع، مالک رام، منٹو، شوکت تھانوی، محمد طفیل، کنہیا لال کپور، عبد الکریم شورش، فکر تونسوی، قرہ العین حیدر، انتظار حسین، چراغ حسن حسرت، بیگم صالحہ حسین، مجید لاہوری، کرشن چندر، بیدی، ظ انصاری، ابراہیم جلیس، اور بلونت سنگھ شامل ہیں۔ احمد بشیر چار خاکوں یعنی منٹو، میرا جی، احسان دانش، اور ظہیر کاشمیری کی وجہ سے مشہور ہو گئے۔ پاکستان میں ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید ضمیر جعفری، اور قدرت اللہ شہاب کے خاکے اعلیٰ درجے کی مثال ہیں۔

کالم نویسی بھی خاکہ نگاری کی عمدہ مثال ہے۔ انتظار حسین اور خامہ بگوش نے اپنے کالموں میں کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ باتیں بیان کی ہیں۔ دونوں نے بہت سی ہم عصر شخصیتوں پر خامہ فرسائی کی۔ اور چند لفظوں میں ایسے خاکے سپرد قلم کر دیے کہ پوری تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ ہندوستان میں متعدد خاکہ نگار جو اپنے فن میں یکتا ہیں ان میں فکر تونسوی، مجتبیٰ حسین، نریش کمار اور یوسف ناظم (اردو کے منتخب خاکے ) کے نام لئے جا سکتے ہیں۔

شیخ محمد اسماعیل کا خاکہ

معروف ادیب اور قلمکار محمد طفیل، سو سے زیادہ کتابوں کے مصنف شیخ محمد اسماعیل پانی پتی کا خاکہ یوں صفحہ قرطاس پر اتارتے ہیں :

”شیخ صاحب کا قد چھوٹا تھا۔ جسم بھی قدرے اکہرا تھا۔ آنکھیں بڑی بڑی، سر پر ترکی ٹوپی، باتیں تیزی سے کرتے تھے۔ شیخ صاحب عمر کے اس حصے میں تھے جب آنکھیں جواب دے جاتی ہیں مگر شیخ صاحب کی بینائی میں بڑی جان تھی۔ وہ بڑی خوش خط تھا اور باریک باریک لکھتے تھے۔ سطریں بالکل سیدھی، جیسے کوئی فوجی کھڑا ہو۔ ہماری دوستی عجیب تھی۔ وہ بزرگ میں جوان، ( 1951 ) وہ ساٹھ کے پیٹے میں اور میں جوانی کی دہلیز پر ۔ وہ جید عالم میں ادب کا ایک معمولی طالب علم۔

وہ اخلاق کا مجسمہ، میں تند خو اور سرکش، وہ کٹر مذہبی میں ترقی پسند ادب کا دلدادہ۔ غرض کہ کوئی قدر مشترک نہ تھی۔ شیخ صاحب میں حس مزاح بہت تھی۔ بڑھاپے میں تو اولاد بھی والدین سے بھاگتی ہے مگر یہ ایسے بزرگ تھے جن سے دور بھاگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہمدرد، مشفق، پرائے دکھ اپنانے والے، اپنے دوستوں کے ہی نہیں بدخواہوں کے بھی کام آنے والے، کوئی بھی فرمائش کردے بس ان کے بس میں ہو گا تو کر گزریں گے۔ چاہے ان کا بھرکس ہی نہ نکل جائے۔

شیخ صاحب کا حس مزاح کا واقعہ پیش ہے۔ شیخ صاحب شکر کا استعمال زیادہ کرتے تھے۔ ہم ان سے پوچھتے چائے میں چینی کتنی؟ کہتے تین چار چمچے، ایسا ایک بار نہیں کئی بار ایسا ہوا۔ ایک روز ہم شیخ صاحب کے گھر بیٹھے تھے، وہاں کچھ خوش آمدی لوگ بھی تھے۔ چائے آئی میں نے سوچا چائے بنانے کی سعادت میں حاصل کروں۔ چنانچہ حسب عادت میں نے پوچھا، چینی کتنی؟ فرمایا ایک چمچہ۔ میں نے کہا شیخ صاحب کیا بات ہے دوسروں کے گھر میں چائے پیتے تو آپ کہتے ڈال دو ، چار پانچ چمچے، مگر اپنے گھر میں ایک چمچہ۔ جواب دیا میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں چمچے جتنے بھی کم ہوں بہتر ہے۔ (محمد طفیل کی یادداشتوں سے )

خاکہ نویسی کی کتابیں

خاکہ نویسی کے موضوع پر بہت ساری دل چسپ کتابیں موجود ہیں جیسے :ڈاکٹر بشیر سیفی کی کتاب خاکہ نگاری (فن تنقید) ، ڈاکٹر صابرہ سعید کا مقالہ اردو ادب میں خاکہ نگاری، ڈاکٹر محمد عباس کا مقالہ پاکستان میں خاکہ نگاری، تحقیق و تنقید، گل ناز بانو کا مقالہ صوبہ سر حد میں خاکہ نگاری، شمیم حنفی نے آزادی کے بعد دہلی میں اردو خاکہ میں خاکہ نگاروں کی طویل فہرست دی ہے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کی سات کتابیں ( 58 خاکے ) ، پروفیسر اسلم فرخی کی چھ کتابیں ( 65 خاکے ) ، ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کی پانچ کتابیں ( 395 خاکے ) ۔ اسلم فرخی نے اپنی مرصع نثر میں بعض مرحومین کے خاکے زیب قرطاس کر کے انہیں گویا زندہ کر دیا۔ حامد جلال نے منٹو ماموں لکھ کر خود کو مستند خاکہ نگار تسلیم کر وا لیا۔ مبارک مونگیری، ضیا ء الحق قاسمی اور خالد عرفان نے منظوم خاکہ نگاری کے ضمن میں روشن نام ہیں۔

شاہد احمد دہلوی نے عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ نہایت شستہ اور صاف زبان میں یوں کھینچا ہے : ”چغتائی صاحب چونکہ پیدا ہی کمزور ہوئے تھے اس لئے والدین کی توجہ ان کی طرف زیادہ رہتی تھی۔ لاڈ پیار میں پلے، کچھ گھر میں پڑھا کچھ اٹاوہ کے سکول میں۔ اس کے بعد علی گڑھ سے بی اے، ایل ایل بی کے امتحانات پاس کیے ۔ جسمانی کمزوری کی تلافی دماغی قوت سے ہو گئی تھی۔ کالج کے زمانے میں اسلامی تاریخ کے سلسلے میں مذہب کا بھی مطالعہ کر ڈالا۔ اور حدیث و فقہ سب چاٹ گئے۔ علی گڑھ والوں کی طرح ّآزاد خیالی اور مغربیت کے دلدادہ تھے۔ قدامت پسندوں اور مذہبی خیال والوں سے ان کے مباحثے رہنے لگے۔ انہیں اس میں مزہ آتا تھا دوسروں کو چھیڑیں، ستائیں اور جلائیں۔

مالک رام کا خاکہ

ڈاکٹر اسلم فرخی، مالک رام کے بارے میں خامہ فرسائی کرتے ہیں : ”میرے خیال میں بر صغیر کا شاید ہی کوئی قابل ذکر ادیب، شاعر یا مصنف ہو گا جسے وہ اچھی طرح سے نہ جانتے ہوں۔ ادھر آپ نے کسی کا نام لیا اور ادھر بڑی محبت اور خلوص سے اس کے کارنامے اور خاندانی حالات بیان کر دیے۔ لطف یہ کہ نکات سخن اس بیان میں زور محاسن پر ہی ہوتا تھا۔ معائب کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا تھا۔ حالات بڑی تفصیل سے بیان کرتے تھے۔ یاد داشت اور حافظہ غیر معمولی۔

معلومات کے دریا بہاتے۔ سب کچھ از بر تھا۔ گفتگو میں بعض اوقات یہ محسوس ہو تا کہ بات چیت نہیں ہو رہی انسائیکلو پیڈیا کھلی ہوئی ہے۔ ( صفحہ 38 ) ۔ مالک رام صاحب بڑے و ضع دار انسان تھے۔ منکسر المزاج مگر رکھ رکھاؤ کے بھی قائل۔ نہایت متواضع تھے میں جب بھی ان کے یہاں گیا بڑی خاطر کی۔ سال میں ایک دفعہ ضرور جانا ہوتا تھا۔ نام لکھی ہوئی کتابیں پہلے سے پیکٹ میں بند تیار ہوتی تھیں۔ چلتے وقت پیکٹ اس طرح پیش کرتے جیسے ہم اس کو قبول کر کے ان پر احسان کریں گے“ ۔ (آنگن میں ستارے صفحہ 40 )

مولانا الطاف حسین حالی کے شمائل بیان کرتے ہوئے مولوی عبد الحق لکھتے ہیں :مرحوم ہماری قدیم تہذیب کا بے مثل نمونہ تھے۔ شرافت اور نیک نفسی ان پر ختم تھی۔ چہرے سے شرافت، ہمدردی، اور شفقت ٹپکتی تھی۔ اور دل کو ان کی طرف کشش ہوتی تھی۔ ان کے پاس بیٹھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی چیز ہم پر اثر کر رہی ہے۔ در گزر کا یہ عالم تھا کی کوئی ان کے کیسی ہی بد معاملگی اور بد سلو کی کیوں نہ کرے، ان کے تعلقات میں فرق نہ آتا۔ (چند ہم عصر صفحہ 125 )

رشید احمد صدیقی (وفات 1977 ) کا تحریر کردہ سید سلیمان ندوی کا خاکہ: ”شکل صورت، وضع قطع، چال ڈھال، بات چیت اور ہر ایک اعتبار سے سید صاحب کی شخصیت بڑی دل آویز اور قابل احترام تھی۔ ان کو دیکھ کر اور اور بات کر کے ایک طرح کی تقویت محسوس ہوتی تھی کہ وہ شفقت کریں گے رسوا نہ کریں گے۔ اور جب تک ساتھ رہیں گے زند گی میں بڑائی اور حلاوت محسوس ہوگی۔ وہ ہمیشہ صاف ستھرے رہتے تھے۔ ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے۔ کلام پاک اور دو وظائف کی کتاب بڑے ستھرے اور خوبصورت جزدان میں ہوتی تھی۔ عبادت ہمیشہ چھپ کر کرتے اور مہمان کے لئے کوئی تحفہ ضرور لے کر جاتے“ ۔ (ہم نفسان رفتہ، دار المصنفین اعظم گڑھ صفحہ 43 )

شاہد احمد دہلوی نے شوکت تھانوی کے خد و خال کی تصویر یوں کھینچی ہے گویا وہ آپ کے سامنے کھڑے ہوں : میں نے سر سے پاؤں تک ان کو دیکھا، آڑی مانگ، کسی قدر تنگ پیشانی، گول چہرہ، آنکھوں پر سنہرے فریم کا چشمہ، شریر بے قرار آنکھیں، موزوں بینی، ہونٹوں پر پان کی سرخی، ترشی ہوئی مونچھیں، ڈاڑھی گھٹی ہوئی، بے شکن اچکن، چست پاجامہ، وارنش کا پمپ شو، داہنے ہاتھ میں پتلی سی چھڑی، میں نے ان کی تصویر دیکھ رکھی تھی۔ میں نے کہا شوکت تھانوی، مسکرا کر بولے آپ نے ٹھیک پہچانا۔ (بزم خوش نفساں صفحہ 61 )

اسی طرح میر ناصر علی کے بارے میں لکھتے ہیں : صورت سے قلندر معلوم ہوتے تھے۔ جب بولنے پر آتے تو سمندر بن جاتے، ادب، فلسفہ، مذہب، تاریخ، کے جوار بھاٹے آنے لگتے، اپنے آگے کسی کو نہ گردانتے تھے۔ سب کو طفل مکتب جانتے تھے۔ مزاج کے کڑوے تھے اور باتیں اکثر کسیلی کرتے تھے۔ اتنے جئے کہ ہم عمروں میں کوئی باقی نہ رہا۔ شاید اسی وجہ سے چڑچڑے ہو گئے تھے۔ لباس صاف ستھرا ہوتا، کھانا من بھاتا کھاتے تھے۔ (دلی جو ایک شہر تھا، صفحہ 152 )

پاکستان میں خاکہ نویسی

نقوش کے مدیر محمد طفیل نے 1955 میں رسالے کا شخصیات نمبر زیور طبع سے آراستہ کیا تھا۔ وہ پہلے قلم کار ہیں جنہوں نے اس صنف کو اپنا یا اور صرف خاکے ہی قلم بند کیے ۔ ان کے خاکوں کے آٹھ مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن میں سے دو صاحب اور محبی قابل ذکر ہیں۔ نقوش میں جن لوگوں کے خاکے (سکیچ) پیش کیے گئے ان میں عصمت چغتائی، عند لیب شادانی، حفیظ جالندھری، منٹو، سید عابد علی عابد، مولانا صلاح الدین احمد، چوہدری محمد علی رودلوی، کے اسمائے گرامی قا بل ذکر ہیں۔ یہ خاص شمارہ اردو خاکہ نگاری کی تاریخ میں سنگ میل تھا۔

شاہد احمد دہلوی کے خاکوں کا مجموعہ گنجینہ گوہر 1962 میں منظر عام پر آیا تھا۔ انہوں نے خواجہ حسن نظامی، عظیم بیگ چغتائی، میرا جی، منٹو، شوکت تھانوی، بے خود دہلوی، اور حفیظ جالندھری کے خا کے قلم بند کیے جس کی وجہ سے وہ خاکہ نگاروں کی صف اول میں نظر آتے ہیں۔ حلیہ نگاری میں شاہد احمد کو جو کمال حاصل تھا وہ کسی اور خاکہ نگار کو نصیب نہیں ہوا۔ جگر مراد آبادی کا حلیہ یوں بیان کرتے ہیں : ”کا لا گھٹا ہوا رنگ، اس میں سفید کوڑیوں کی طرح چمکتی ہوئی آنکھیں، سر پر الجھے ہوئے پٹے، گول چہرہ، چہرے کے رقبے کے مقابلے میں ناک کسی قدر چھوٹی، اور منہ کسی قدر بڑا، کثرت پان خوری کے باعث منہ اگال دان، دانت شریفے کے بیج، اور لب کلیجے کی دو بوٹیاں، بھرواں کالی داڑھی، ایڈورڈ فیشن کی سر پر ترکی ٹوپی، بر میں اچکن، آڑا پاجامہ، نیم ساق تک چوڑیاں پڑی ہوئیں، پاؤں میں پیٹنٹ کی گرگابی، بائیں ہاتھ میں میانہ قدو قامت کا ایک اٹیچی کیس“ (گنجینہ گوہر 155 )

ممتاز مفتی بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں لیکن ان کے 13 خاکوں کا مجموعہ پیاز کے چھلکے 1968 میں منصہ شہود پر آیا تھا۔ مفتی کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ظاہری شخصیت کو ہی مدنظر نہیں رکھتے بلکہ کردار کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کے بھی کوشش کرتے ہیں۔

کتابیات

۔ رشید احمد صدیقی، گنج ہائے گراں مایہ، علی گڑھ 1924
۔ رشید احمد صدیقی، ہم نفسان رفتہ، علی گڑھ، 1966 (سات شخصی خاکے سب سے دلچسپ پطرس بخاری کا ہے )
۔ ڈاکٹر صابرہ سعید، اردو ادب میں خاکہ نگاری، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علیگڑھ 2017

۔ انیس صدیقی، خاکہ نگاری اردو ادب میں، عرشیہ پبلی کیشنز دہلی 2016۔ مصنف نے 300 خاکہ نگاروں اور 700 خاکوں کی

کتابوں کی فہرست آخر پر دی گئی ہے۔

۔ ڈاکٹر صنم نسیم، اردو میں خاکہ نگاری قیام پاکستان کے بعد ، پی ایچ ڈی مقالہ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور 2017

۔ ڈاکٹر زریں فاطمہ، اردو ادب میں خاکہ نگاری کی اہمیت، پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ، 2013

۔ آغا عبد الکریم شورش، چہرے، بندر روڈ کراچی 1965 ( 93 نامی گرامی افراد کے ایک ایک صفحہ کے خاکے دیے گئے ہیں )

۔ شاہد احمد دہلوی، بزم خوش نفساں، 28 شخصی خاکے کراچی 1985۔ دلی جو ایک شہر تھا، کتابی دنیا دہلی
۔ ڈاکٹر اسلم فرخی، آنگن میں ستارے کراچی 2001

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW