وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے
یوں لگتا ہے کہ مملکت خداداد میں کاروبار زندگی چند مخصوص لوگوں یا اداروں کے ہاتھ ہے لیکن یہاں کے باسی آج تک نہ جان سکے کہ اس ملک کو اصل میں چلا کون رہا ہے۔ بظاہر تو ایک حکومت ہوتی ہے جس کی مرکزی، صوبائی اور مقامی شاخیں ہوتی ہیں اور ملک کا انتظام و انصرام ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ خیال کسی اور کا ہوتا ہے جسے سوچتا کوئی اور ہے۔ پس پردہ ایک ایسی مقتدر قوت ہے جسے سب جانتے ہیں لیکن کھل کر نام نہیں لیتے ( ویسے آج کل کچھ لوگ کھل کر نام بھی لیتے ہیں اور تبرہ بازی بھی کرتے ہیں لیکن ان کی بات میں دم یوں نہیں ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کل اسی نظام کے پروردہ تھے اور انہی کے گن گانے میں سب سے آگے تھے، جو اس خلائی مخلوق کی انگلی کے اشارے کے منتظر رہتے تھے۔ خیر یہ بات نکلی تو پھر دور تلک جائے گی۔ مجھے کچھ کہنے کی ضرورت بھی نہیں، سب جانتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو جان کر بھی انجان رہنا چاہتے ہیں تو ہم بھی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں ) ۔
پھر ایک اور قوت ہے جو موقع بہ موقع اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ کام تو اس کا انصاف کرنا اور بے انصافی پر نظر رکھنا ہے لیکن کبھی یہ اپنی فصیل سے باہر نکل کر بھی حملے کرتی ہے۔ کبھی اس کا بول بالا ہوتا ہے تو کبھی کوئی اس کی سنی ان سنی کر دیتا ہے۔
لیکن ایک طاقت یا گروہ ایسا ہے جو اس سارے کارخانے کے کل پرزے چلا رہا ہے۔ نیک نامی یا بدنامی اول الذکر و ثانی الذکر طاقتوں کے حصے میں آتی ہے جس کے نتیجے میں ان پر عروج اور زوال آتے ہیں۔ لیکن یہ گروہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ اس دیدہ اور نادیدہ قوت کو عرف عام میں نوکر شاہی یا افسر شاہی کہا جاتا ہے۔ حکومتیں، سپہ سالار، منصف اعلیٰ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ یہ ہر نظام سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن اپنے آپ کو آگ کے شعلوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ حکمرانوں کے لئے یہ دیدہ و دل فرش راہ کیے رہتے ہیں اور بریشم کی طرح نرم ہوتے ہیں لیکن رعایا کے لئے مانند فولاد ہوتے ہیں اور ان تک رسائی ہم جیسے عامیوں کے بس کی بات نہیں۔
یہ جب اپنی بادشاہت سے فارغ ہو جاتے ہیں تو اپنے آپ کو پرہیز گاری اور نیکو کاری کی چادر میں لپیٹ لیتے ہیں پھر ہم قدرت اللہ شہاب، الطاف گوہر، روئیداد خان وغیرہ کی باتیں سنتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے ارباب اختیار کو راہ راست پر رکھنے کی کوشش کی لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ البتہ ہر اچھے کام کا سہرا وہ اپنے سر باندھ لیتے ہیں۔ الطاف گوہر صاحب وہی ہیں جنہوں نے سن پینسٹھ کی جنگ میں ایوب خان کی مشہور تقریر لکھی تھی۔ ایوب خان کی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز، عرف ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی کے مصنف بھی الطاف گوہر ہی بتائے جاتے ہیں۔
قدرت اللہ شہاب اپنی لکھنے لکھانے کی قدرت کے باعث نیک نام ہوئے لیکن ایک ایسی حکومت کا نفس ناطقہ بنے رہے جس نے ملک کے عمرانی اور جمہوری نظام کا تیاپانچہ کیا اور عوامی آزادی کے تابوت میں پہلی کیل ٹھونکی۔ حفیظ جالندھری صاحب نے پھبتی کسی کہ
جب کہیں انقلاب ہوتا ہے
قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے
لیکن حفیظ صاحب بھی وہی کچھ کرتے رہے اور ایوب صاحب کو مشورے دیتے رہے
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
(حبیب جالب)
شہاب صاحب کے لئے ان کے دوست سید محمد جعفری بھی کہے بنا نہ رہ سکے
یہ سوال و جواب کیا کہنا
صدر عالی جناب کیا کہنا
کیا سکھایا ہے کیا پڑھایا ہے
قدرت اللہ شہاب کیا کہنا
ان کارپردازوں کی باتیں ایک چھوٹے سے مضمون میں نہیں سما سکتیں۔ انہوں نے خود اپنے بارے میں کتابیں لکھی ہیں اور علم کے دریا بہا دیے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ ان میں کچھ ہستیاں بھی ایسی گزری ہیں جو ”ث۔ ب۔ ت اس۔ ت بر جریدہ عال۔ م دوام ما“ کی تفسیر بنے رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت اور ان سے جڑے ایک واقعہ کا حال یاروں کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔
یہ تھے جناب اے ٹی نقوی یا ابو طالب نقوی صاحب جو کراچی کے پہلے چیف کمشنر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ایک نستعلیق خاندان کے چشم و چراغ نقوی صاحب انڈین پولیس سروس سے پاکستان سول سروس (سی ایس پی) میں آئے اور بعض انتظامی معاملات میں نیک نامی بھی کمائی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک جری، ایماندار، راست گو اور قابل افسر تھے۔ حضرت جوش نے ان کا ذکر بڑی اپنائیت سے کیا ہے اور یہ نقوی صاحب ہی تھے جن کے ایما پر جوش صاحب پاکستان تشریف لائے اور صدر اسکندر مرزا سے کہہ کر ان کا وظیفہ چار ہزار روپے ماہانہ مقرر کروایا۔ اور پھر یہ ہی نقوی صاحب تھے کہ وزیراعظم چودھری محمد علی سے ناچاقی کے باعث ان کا زوال ہوا اور نتیجے میں جوش صاحب بھی رل گئے۔
یوں کراچی میں ہوں جیسے کوفے میں حسین
سب شہادت کے ہیں آثار، چنا جور گرم
ہمارے خاندان اور رشتہ داروں میں البتہ نقوی صاحب ایک ولن کے روپ میں جانے جاتے ہیں۔ میں ہمیشہ ان کا ذکر ہمارے ایک عزیز کے حوالے سے سنتا جو پریس فوٹوگرافر تھے ( شاید اے پی پی کے لئے کام کرتے تھے۔ ملازمت کے بعد وہ اخبار میں گلیکسوز ڈی اور ٹی وی پر ڈالڈا کے اشتہار میں بھی آتے تھے )۔ نام ان کا رفیق صاحب تھا۔ جب بھی ان کی بات ہوتی تو اس واقعے کا ذکر ہوتا کہ کیسے انہوں نے وزیر داخلہ (یا شاید وزیر تعلیم) نواب مشتاق احمد گورمانی کی موٹر کار کی تصویر لینے کی کوشش کی جسے طلباء آگ لگا رہے تھے اور پولیس نے رفیق بھائی کو گرفتار کر لیا تھا۔ ساتھ ہی بھی بتایا جاتا کہ ان طلباء پر فائرنگ ”اے ٹی نقوی، کے حکم سے ہوئی جو کمشنر کراچی تھے۔ برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ گورمانی صاحب کی گاڑی کو آگ لگانے والے طلباء میں ہمارے پیارے اور ہردلعزیز سرجن ادیب رضوی بھی شامل تھے۔
نواب گورمانی اور اے ٹی نقوی صاحب کا قصہ فی الحال یہیں چھوڑتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اصل واقعہ کیا تھا۔ یہ واقعہ بیان کرنے کی تحریک یوں ہوئی کہ کل ہی ہمارے محترم اور پیارے دوست ڈاکٹر عقیل عباس جعفری صاحب نے اے ٹی نقوی صاحب کے بارے میں اپنی ایک پرانی پوسٹ لگائی جس پر کچھ احباب نے اظہار رائے بھی کیا جن میں یہ ناچیز بھی شامل تھا۔ اسی گفتگو میں طلبہ والا واقعہ بھی سامنے آیا۔ بدقسمتی سے میں اور عقیل بھائی دونوں اس دنیا میں اس واقعے کے بعد وارد ہوئے۔ اس واقعے کی تفصیل بڑی مشکل سے ملتی ہے۔ عینی شاہدین یا تو اس دنیا میں نہیں رہے یا ان کی ذہنی حالت اس طرح کی نہیں ہے کہ ان واقعات کو صحت کے ساتھ بیان کرسکیں۔ سرجن رضوی اور جناب امر جلیل شاید کچھ بتا سکیں لیکن مجھ گمنام اور غریب الوطن کی ان تک رسائی نہیں ہے۔
میں اپنے طور پر اس واقعے کو بیان اس لئے بھی کرنا چاہتا ہوں کہ کراچی کی تاریخ کو محفوظ رکھنے کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں ہے۔ جو بچی کھچی یادیں ہیں انہیں کسی طور بیان اور محفوظ کرنا چاہیے تاکہ اگلی نسل تک کچھ تو پہنچے۔
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو
۔
پڑھنے والوں کے نام
وہ جو اصحاب طبل و علم
کے دروں پر کتاب اور قلم
کا تقاضا لیے ہاتھ پھیلائے
پہنچے، مگر لوٹ کر گھر نہ آئے
وہ معصوم جو بھولے پن میں
وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن
لے کے پہنچے جہاں
بٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ بے انت راتوں کے سائے
(فیض احمد فیض)
قیام پاکستان کے بعد نوزائیدہ مملکت کے پاس مسائل کا انبار تھا۔ سب سے بڑا مسئلہ تو مہاجرین کی آباد کاری کا تھا۔ کئی اور ایسے مسائل تھے جو فوری طور پر توجہ طلب تھے۔ جہاں کئی معاملات پر توجہ دی گئی وہیں بہت سے مسائل کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا انہیں ترجیح نہیں دی گئی۔ نئی ریاست کی کچھ مجبوریاں تھیں تو کچھ غلطیاں بھی ہوئیں جن میں اکثریت کی زبان بنگالی کو قومی زبان قرار نہ دینے والی فاش غلطی بھی شامل تھی۔ قائد اعظم گو کہ آئینی ذہن رکھتے تھے لیکن انہوں نے بھی نوکر شاہی کو سیاسی عہدے رکھنے کی اجازت دی۔
ادھر طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل تھے جن پر کماحقہ توجہ نہیں دی جا رہی تھی۔ 1949 میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے کچھ طلباء نے لائنز ایریا کے ایک ہوٹل میں ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی۔ حسین نقی، منہاج برنا، فتحیاب علی خان، محمد سرور، مرزا محمد کاظم اور کئی دوسرے طالب علم رہنماء اس میں شامل تھے۔ ڈی جے کالج ان تمام سرگرمیوں کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ ڈی ایس ایف کے کئی رہنماء کمیونسٹ پارٹی کے بھی رکن یا ہمدرد تھے اور ان کا واضح جھکاؤ سویت یونین کی جانب تھا۔ ادھر نوزائیدہ جامعہ کراچی جو سول ہسپتال کے عقب میں دو گھروں میں قائم کی گئی تھی اور پروفیسر اے بی اے حلیم جس کے وائس چانسلر تھے اور جن کی سرپرستی میں ورلڈ یونیورسٹی سروس قائم کی گئی جو امریکہ کے زیراثر تھی۔
1951۔ 52 میں ڈی ایس ایف نے کیٹرک ہال میں کنونشن منعقد کیا جس میں ناقص تعلیمی سہولتوں کی جانب توجہ دلائی گئی۔ یہیں سے اس تحریک کا آغاز ہوا جو 7 سے 9 جنوری 1953 کے خون آشام واقعات پر منتج ہوئی۔
طلباء کے مطالبے سیدھے سادھے، ضروری اور برحق تھے۔ یہ طلباء ان مہاجرین کی اولاد تھے جو نوزائیدہ مملکت میں زندگی کے تار و پود کو قائم رکھنے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ طلباء فیسوں میں کمی، تعلیمی اداروں میں لائبریری اور تجربہ گاہوں کے قیام، باقاعدہ یونیورسٹی، طبی سہولتوں اور روزگار کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
یہ ایسے مطالبات تھے جو کسی بھی تہذیب یافتہ سوسائٹی میں کیے جا سکتے ہیں اور جن پر ہمدردی اور شائستگی سے غور کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ابتداء سے ہی مملکت خداداد کے ارباب اختیار کے خمیر میں تانا شاہی، جبر اور نخوت جیسے اجزاء شامل رہے ہیں اور کسی بھی معقول مطالبے کو حکمرانہ اور افسرانہ طنطنے کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ اس وقت کے وزیر تعلیم فضل الرحمٰن نے نہ صرف مطالبے ماننے سے انکار کیا بلکہ طلبہ سے بات چیت کی درخواست کو بھی ٹھکرا دیا۔
اب یہ لاوا اندر ہی اندر پکتا رہا۔ طلبہ خاموش نہیں رہ سکتے تھے کہ یہ تمام مطالبات ان کی بنیادی ضرورت تھے۔ 7 جنوری 1953 کو طلبہ ڈی جے کالج کے احاطے میں جمع ہوئے۔ طلبہ پرامن اور غیر مسلح تھے۔ ان کے پاس لاٹھی تک نہیں تھی۔ پولیس نے کالج کے احاطے کو گھیر لیا لیکن لڑکوں نے ناکہ بندی توڑ دی اور باہر نکل کر وزیر تعلیم کی کوٹھی کی جانب پیش قدمی کی۔ پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس سے انہیں روکنے کی کوشش لیکن لڑکے آگے بڑھتے ہی رہے۔ صدر اور شہر کے وسطی علاقوں میں آباد پارسی اور اینگلو انڈین برادری کے لوگوں نے بھی طلبہ کو اپنے گھروں میں پناہ دی اور آنسو گیس کے شکار بچوں کی آنکھوں پر پانی کی پٹیاں رکھیں۔
پیراڈائز سنیما کے پاس کسی نے وزیرداخلہ نواب مشتاق گورمانی کی موٹر کار کو آگ لگا دی۔ مظاہرین کو روکنے کے لئے کمشنر کراچی اے ٹی نقوی کے حکم پر فائر کھول دیا گیا۔ ایلفی ( ایلفنسٹن، اور اب زیب النساء اسٹریٹ) پر فائرنگ میں سات طلبہ جن میں اسکول کے دو نوعمر طالب علم بھی شامل تھے جان بحق ہوئے۔ محمد سرور، مرزا محمد کاظم اور کئی طلباء رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ ان گرفتار لڑکوں میں اسلامی جمعیت طلباء کے لڑکے شامل تھے جو ڈی ایس ایف کے نظریاتی حریف تھے لیکن اس دن سارا کراچی ایک تھا۔
اگلے دن یعنی آٹھ جنوری کو طلبہ پھر اکٹھے ہوئے اب عوام بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے تھے۔ 7 سے 9 جنوری کے درمیان 29 مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔ پورے پاکستان میں اس کا شدید رد عمل ہوا۔ لاہور اور ڈھاکہ میں 20، 20 ؛ہزار لوگوں نے جلوس نکالا، راولپنڈی، لائلپور، منٹگمری، حیدرآباد، پشاور ہر جگہ زبردست احتجاج ہوا۔ پوسٹ مین یونین، مزدور یونینیں سندھی ادبی سنگت اور کئی تنظیمیں اس احتجاج میں شامل ہوئیں۔
کہتے ہیں فیض، مصطفے ٰ زیدی، سرور بارہ بنکوی، حمایت علی شاعر اور دوسرے کئی اہل قلم نے اس پر شدید رد عمل دیا اور نظمیں لکھیں۔ جیسا میں نے عرض کیا کہ یہ سارے واقعات میری پیدائش سے قبل کے ہیں اور ساری باتیں سنی سنائی ہیں۔ اگر انور سین رائے، غازی صلاح الدین، رضا علی عابدی، مہناز رحمٰن، اقبال احمد اور انور جاوید ہاشمی جیسے اہل علم اس پر روشنی ڈالیں تو نئی نسل کی رہنمائی ہو سکتی ہے۔
سرکاری افسران جنہوں نے شروع میں مخاصمانہ رویہ اپنایا تھا اب مفاہمت پر اتر آئے اور طلبہ کو ملاقات کی دعوت دی لیکن کہا جاتا ہے کہ یہاں بھی نقوی صاحب کے طمطراق اور نخوت آمیز رویے کی وجہ سے بات چیت کامیاب نہ ہو سکی اور طلبا رہنما احتجاجاً باہر آ گئے۔
اے ٹی نقوی سے ناکام ملاقات کے بعد اس وقت کے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے لڑکوں سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ خواجہ صاحب ایک شریف النفس شخصیت تھے۔ انہوں نے لڑکوں کو اپنا ”لخت جگر“ قرار دیا اور ان کے مطالبات پر ہم دردی سے غور کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن اس دوران ان کی حکومت ہی چلی گئی اور میکسیکو میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ نے تخت سنبھالا۔
سنا ہے اس کے بعد ہی جامعہ کراچی کی باقاعدہ تعمیر شروع ہوئی اور دوسری جانب دارالحکومت کو پنڈی منتقل کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔
یہ ساری باتیں سنی سنائی ہیں۔ مجھے اپنی معلومات کی صحت پر بالکل اصرار نہیں ہے۔ میرے سینئر دوست بابر زمان، ڈاکٹر نصیر اختر، امجد سلیم علوی صاحبان اگر اس بارے میں مزید بتانا چاہیں تو نوجوان نسل ان کی شکرگزار رہے گی۔
(اس مضمون میں شامل تصاویر ”فرائیڈے ٹائمز“ مورخہ 8 جنوری 2016 میں محترمہ بینا سرور کے مضمون سے لی گئی ہیں۔ )





آپ کے خیالات بھی اہم ہیں ،مجھے یاد ہے محسن بھوپالی کی ایک نظم بھی ہے آٹھ جنوری کے سانحے پہ
بہترین ایک سچائی