مجے بھیا

ہائے آج یہ کون یاد آیا۔
مجے بھیا دراصل منجھلے بھیا تھے۔ کثرت استعمال اور امتداد زمانہ سے ن ھ اور ل ان ان کے نام سے جھڑ گئے تھے۔ جھڑ تو مجے بھیا بھی اچھے خاصے گئے تھے۔ چہرہ جو کبھی بہت ہی خوبصورت ہوا کرتا تھا اب لٹکی ہوئی جلد کا ڈھیر تھا جس میں ان کی افیم کی پینک میں ڈوبی نیم باز آنکھیں عجیب ہی تاثر دیتیں۔ آخری عمر میں بے حد مغلوب الغضب ہو گئے تھے۔ آنکھیں ہر وقت چنگاریاں برساتیں۔ ہمہ وقت چڑے چڑے اور جلے جلے سے رہتے اور وہی چہرہ جسے دیکھ کر کبھی حسینائیں دل تھام لیتی تھیں اب نحوست کی آماجگاہ نظر آتا۔
بھیا بے شمار خوبیوں اور خصوصیات کے حامل تھے ان میں سے ایک تو یہ تھی کہ انھوں نے خود کو تمام تر خوبیوں کا مالک سمجھ رکھا تھا لیکن یہ خوبیاں اپنے علاوہ انہیں کسی میں نظر نہ آتیں۔ ان کے مصاحبین کا گروہ بھی انہیں یہی باور کراتا اور وہ اس پر یقین کامل رکھتے۔ مصاحبین مجے بھیا سے اچھی طرح واقف تھے اور ان کے سامنے جس قدر خوشامد اور چاپلوسی کرتے، ان کی غیر موجودگی میں ان کا جی بھر کر مذاق اڑاتے۔
مجے بھیا نے زندگی بھر کوئی کام نہیں کیا لیکن انہیں یار دوستوں سے کام لینا خوب آتا تھا۔ انہوں نے دوستی بھی صرف ان سے رکھی تھی جو ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتے۔ انہوں نے خود زندگی بھر کوئی محنت نہیں کی۔ تمام تر آمدنی کا انحصار ہمیشہ دوستوں پر رہا۔ لیکن بھیا ہمیشہ ٹھاٹ سے رہے۔ ان کا طرز زندگی، جہاں کہیں وہ رہے، شاہانہ رہا۔ ان کی پہلی شادی نواب صاحب کملا پور کی جواں سال بیٹی سے ہوئی جو بھیا سے تقریباً آدھی عمر کی تھیں۔ نواب صاحب نے بھیا کے لئے ریاست میں ایک پرفضا مقام پر ایک بڑی ساری خوبصورت سی حویلی بنوا دی تھی۔
بھیا کا زیادہ وقت دوستوں اور مصاحبوں میں گزرتا۔ نئی نویلی بھابی صاحبہ نے بہت دن ان کی بیرونی سرگرمیاں برداشت کیں لیکن ایک دن تنگ آ کر اپنے بچوں کو لے کر میکے لوٹ گئیں۔ نواب صاحب کملا پور ایک ایسے فرقے سے تعلق رکھتے تھے جو اکثریت کے نزدیک سخت ناپسندیدہ تھا۔ بھیا نے البتہ نواب صاحب کے احسانات کا ہمیشہ پاس رکھا۔ ان کے سالے کملا پور میونسپلٹی کے مدارالمہام کے انتخاب کے لیے کھڑے ہوئے تو بھیا نے بھابی سے علیحدگی کے باوجود اپنے سالے کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔
کھانے کا بھیا کو بہت شوق تھا۔ گوشت ان کی پسندیدہ ترین غذا تھی۔ ایک ایک وقت میں ڈیڑھ دو سیر گوشت کھا جاتے۔ گوشت چاہے جیسا بھی ہو بھیا کو بہت پسند تھا۔ اس میں کچے، پکے، گرم، ٹھنڈے، چھوٹے بڑے کی کوئی تخصیص نہیں تھی۔ یہ کوہستانی خون کا اثر تھا یا صحبت کا نتیجہ، بھیا کو ایرانی مشاغل سے بھی بڑی دلچسپی تھی۔ کھانا بھیا یوں کھاتے گویا کوئی مقابلہ ہو رہا ہے اور وہ خم ٹھونک کر بیٹھے ہوں۔ ویسے کھانے کا مقابلہ ہو یا گفتگو ہو یا کھیل ہو۔ انہیں مخالف کو شکست دینے سے زیادہ مزہ اسے ذلیل کرنے میں آتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بہترین درسگاہوں میں پڑھنے کے باوجود بھیا کی زبان روزمرہ کی اور بازاری ہی رہی۔
کھانے کا مجے بھیا کو جس قدر ہو کا تھا کھلانے کے معاملے میں اسی قدر خسیس تھے۔ گھر آئے مہمان کو پھوٹے منہ بھی نہ پوچھتے۔ مہمان یا کوئی بے تکلف دوست کبھی اصرار کرتا تو چائے یا شربت پر ٹال دیتے۔ انہوں نے شاید ہی کبھی یار دوستوں کی دعوت کی ہو۔ البتہ ایک آدھ بار جب کچھ زمینوں کا جھگڑا تھا تو بھیا نے کچھ مصاحبین کو اپنے گھر مدعو کیا تھا۔
بھیا ہر ایرے غیرے کو منہ نہ لگاتے تھے اس کے باوجود مصاحبین اور خوشامدیوں کا ایک گروہ انہیں ہمیشہ گھیرے رکھتا۔ دراصل بھیا کو اپنی تعریف سننے کا شوق حد سے کچھ زیادہ ہی تھا۔ ان کفش بردار احباب نے انہیں یقین دلایا ہوا تھا کہ چہار دانگ عالم میں ان کے جیسا خوبرو، زیرک، معاملہ فہم اور ذہین کوئی نہیں۔ دوسروں کی تعریف البتہ بھیا کے منہ سے کبھی نہیں سنی۔ ان کے نزدیک ان کے اپنے علاوہ دیگر لوگوں کی اکثریت بدقماش، بد اطوار اور بدعنوان تھی۔ یہی وجہ تھی کی دوسرے بھی ان پر تبرا بھیجنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ بھیا کی ساری عمر ایسے ہی لوگوں سے نبردآزما ہونے میں گزری۔ یہی کشاکش تھی کہ بھیا کا خوبصورت چہرہ، کھنچاؤ اور تناؤ کے سبب کریہہ ہوتا جا رہا تھا۔ ان کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی۔ گفتگو میں شائستگی اور نرمی کے وہ پہلے ہی قائل نہیں تھے۔ اب تو اور ہی جھنجھلاہٹ اور چڑچڑے پن کا شکار رہتے۔
مجے بھیا کی دوسری بیگم ایک چلتا پرزہ خاتون تھیں جنہوں نے کچھ عرصہ تو بھیا کے مشاغل اور مصروفیات میں بھیا کا خوب ساتھ دیا۔ لیکن زمانہ کا چلن خوب جانتی تھیں۔ بھیا سے ان کی زیادہ دیر نہیں نبھی اور آخر کار وہ بھی بھیا کو چھوڑ گئیں۔
بیویوں کے معاملے میں بھیا کے معاملات ذرا یونہی سے تھے۔ البتہ باندیوں اور لونڈیوں سے بھیا کی اچھی بنی رہی۔ باندیوں سے ہونے والی اولاد اور نکاحی بیویوں کے بچوں میں بھیا نے کوئی فرق نہیں رکھا۔ بھیا کی تیسری بیگم ایک صوفی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور خود بھی سلوک اور طریقت کے مدارج اور مراحل طے کر رہی تھیں۔ بھیا کا دل بھی ان سے عقد کے بعد بہت گداز سا رہنے لگا اور ان کا جھکاؤ بھی طریقت کی جانب ہونے لگا۔ نئی بھابی کے سامنے بھیا بڑے با ادب رہتے۔ وہ انہیں اٹھنے کہتیں تو اٹھ کھڑے ہوتے، بیٹھنے کہتیں تو بیٹھ جاتے۔ اس وقت بھیا پورے کاٹھ کے الو نظر آتے۔ لیکن بھیا ان بیگم سے بہت خوش تھے۔ وہ ان کے لئے بھاگو ان ثابت ہوئیں۔ بھابی سے شادی کے کچھ ہی دنوں بعد انہیں ان زمینوں کو قبضہ مل گیا جن کے لیے بھیا ایک طویل عرصے سے جان کھپائے ہوئے تھے۔
بھیا نے نہ صرف اپنی ریاست بلکہ لکھنؤ اور حیدرآباد کے اعلا تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔ دوران تعلیم بھیا کا زیادہ رجحان شطرنج اور گنجفہ جیسے کھیلوں کی جانب رہا۔ پڑھائی میں وہ زیادہ خاص نہیں تھے۔ لیکن شطرنج میں اپنی درسگاہ اور ریاست کے لیے خوب نام کمایا۔
بھیا کا مطالعہ کوئی زیادہ نہیں تھا لیکن مصاحبین نے انہیں یقین دلا رکھا تھا کہ بھیا کو تمام مشرقی و مغربی علوم پر عبور حاصل ہے خاص کر مغربی علوم پر تو ان کے پائے کا کوئی عالم دور دور تک نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ مجے بھیا تاریخ، جغرافیہ، سیاسیات، مذہب، معیشت، فلسفہ ہر موضوع پر بے تکان اور بے تکا بولتے۔ مصاحب البتہ ان کے ارشادات کی کوئی نہ کوئی توجیہ نکال لاتے۔
بھیا کی ریاست پالن نگر کے سالار اعلا کی بھیا پر خاص عنایت تھی۔ بھیا کے تمام معاملات کی نگرانی انہی سینا پتی نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ بھیا بھی ان سے بنائے رکھتے۔ اکثر و بیشتر انہیں گھر پر مدعو کرتے اور ان کی خاطر و مدارت میں کبھی کوئی کمی نہ ہونے دیتے۔
ہائے وہ بھی کیا دور تھا۔ راجے مہاراجے، نوا بین اور والیان ریاست کس طرح علم و ہنر اور فنون کی سرپرستی کرتے۔ شطرنج نے بھیا کو شہرت بخشی۔ نواب صاحب کملا پور بھی شطرنج کے شوقین تھے اور یہی شوق تھا جو انہیں بھیا کے قریب لے آیا تھا۔ پالن نگر کے سالار اعلا شمشیر زماں بھی شطرنج کے رسیا تھا۔ ان کا ہاتھ ہمیشہ بھیا کے سر پر رہا۔
شمشیر زماں نے اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے انہیں پالن نگر کی زمینوں کا نگراں بنا دیا۔ مجے بھیا اور ان کے مصاحبین کی گویا بن آئی۔ پالن نگر کا ہر وہ شخص جو مجے بھیا کا مخالف تھا، بھیا نے گن گن کر ہر ایک سے حساب چکایا۔ انہیں طرح طرح کے مقدموں میں الجھایا، جسے چاہا پکڑ کر بند کروا دیا۔ دو تین سال تو مجے بھیا کھل کھیلتے رہے لیکن ریاست کے معاملات بگاڑتے گئے۔ شمشیر زماں نے ان سے مایوس ہو کر انہیں ریاست کی نگرانی سے سبکدوش کر دیا۔ بھیا نے اس کا بہت برا منایا۔ وہ ہمیشہ سپہ سالار اور ریاست کے اکابرین کے نزدیک رہے لیکن اب شمشیر زماں کی بے وفائی انہیں ایک آنکھ نہ بھائی۔ سرعام شمشیر زماں کی ہجو کہتے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے مصاحبین نے بھی شمشیر زماں اور ان کے ساتھیوں پر تبرا بھیجنا شروع کر دیا۔
شمشیر زماں بھی بوڑھے ہوتے جا رہے تھے۔ انہوں نے زمام کار اپنے ایک قابل اعتماد نائب کو تھمائی اور گھر بیٹھ گئے۔ مجے بھیا اور ان کے ساتھی دن رات شمشیر زماں اور ان کے کارندوں پر دشنام طرازی میں مشغول رہتے۔ ادھر شمشیر زماں کے لوگوں نے مجے بھیا کی زندگی اجیرن کردی۔ وہ مجے بھیا کے ساتھیوں کو اٹھا کر لے جاتے۔ چند دن عقوبت خانوں میں رہ کر جب ساتھی باہر آتے تو مجے بھیا پر لعنت بھیج کر ان سے لا تعلق ہو جاتے۔ ساتھیوں کی بے وفائی کا مجے بھیا کو بہت قلق تھا۔
شمشیر زماں کا نگاہیں پھیر لینا اور ساتھیوں کی طوطا چشمی نے مجے بھیا کو بے حد دل برداشتہ کر دیا تھا۔ ان کی باتوں میں تلخی آتی گئی، چہرہ تناؤ اور کھنچاؤ کے باعث اور نحوست زدہ نظر آنے لگا۔ افیم کی مقدار بڑھ گئی۔ مجے بھیا ہوش و خرد سے بیگانے ہوتے چلے گئے۔ مجے بھیا اور ان کے ساتھیوں نے ایک دن نئے سپہ سالار کے گھر کے سامنے خوب شور شرابا کیا اور توڑ پھوڑ مچائی۔ سپہ سالار نے کوتوال سے کہہ کر مجے بھیا کو داخل زنداں کر دیا۔ ایک مدت تک مجے بھیا وہیں رہے۔
اب نہ وہ ریاستیں رہیں نہ مہاراجہ کملا نگر جیسا قدر دان اور نہ شمشیر زمان مرحوم جیسے دوست نما دشمن رہے۔
ہائے زمانہ کیسے کیسے نادر روزگار لوگوں کو کھا گیا۔ کیسے کیسے گوہر آب دار مٹی میں گم ہو گئے۔
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے۔

ہم سب فیملی میں خوش آمدید ۔
آپ کے مخصوص اسلوب میں ایک فکر انگیز تحریر۔