نیا وزیر اعلیٰ اور تحریکِ انصاف کی مشکلات

خیبرپختونخوا اسمبلی میں نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی تیاریاں جاری ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ برس تک علی امین گنڈاپور ارکانِ اسمبلی سے لڑتے، پارٹی
کارکنوں کو سمجھاتے، عمران خان کو وضاحتیں دیتے، اور اسٹیبلشمنٹ کے آگے حاضریاں لگاتے، وقت گزارتے رہے۔ لیکن آخر میں وہ بھی خان صاحب کی طرح ”ڈٹ کر کھڑے ”نہ ہونے کی پاداش میں خلد وزارت اعلیٰ سے بے آبرو ہو کر نکل چکے ہیں۔ سچ تو یہی ہے کہ تحریکِ انصاف نے علی امین گنڈاپور کو اس لیے رخصت کیا کہ وہ عمران خان کی مرضی کے مطابق صوبے میں دہشتگردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کی نا مذمت کر رہے ہیں نہ ہی مزاحمت۔ گنڈاپور کو ہٹانے کی اصل وجہ خود خان صاحب کے اس بیان میں موجود ہے۔
افغانستان کے حوالے سے پالیسی پر بھی خان صاحب نے کھل کر بات کی۔ ان کا فرمان ہے کہ ”ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی، باوجود اس کے کہ اشرف غنی بھارت نواز حکومت چلا رہے تھے۔ میں خود کابل گیا، دعوت دی، تعلقات بہتر کیے، نتیجہ یہ نکلا کہ بم دھماکے کم ہوئے۔ اب موجودہ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ افغان مہاجرین کو ذلیل کر کے نکال دیا۔ بلاول بھٹو وزارتِ خارجہ میں تھے مگر کابل جانے کی زحمت نہیں کی۔ ”
اب ان سے کوئی پوچھے کہ جب آپ کے اپنے ارکانِ پارلیمنٹ کو بل و بجٹ منظوری تک کرنل لیاقت چلا رہے تھے، تو آپ کے ہاتھ میں کون سی گیدڑ سنگھی تھی جو آپ آزاد خارجہ پالیسی ترتیب دے رہے تھے؟ تحریکِ انصاف کی افغان پالیسی تو بس یہ ہی رہی کہ طالبان جنگجوؤں پر ہاتھ ہولا رکھنا، ان کو صوبے میں آباد کرنا، افغانستان اور صوبے میں آوت جاوت کے راستے اور سہولت پیدا کر کے دینا اور دہشتگردوں کے خلاف ڈرون حملوں پر احتجاج کرنا اور دھرنے دینا۔
خان صاحب کو ”طالبان خان“ یوں ہی نہیں کہا جاتا۔ ان کے دل میں طالبان کے لیے صرف نرم گوشہ نہیں، بلکہ ایسی نشست ہے جو کبھی برخاست نہیں ہوئی۔ فیض حمید صاحب کے کابل ہوٹل والے دورے یاد ہیں؟ چائے کا مگ، مسکراہٹ، طالبان رہنما، اور پس منظر میں پاکستانی ریاست کے ”نئے تعلقات“ ۔ تب عمران خان حکومت میں تھے، اور انہی دنوں ان طالبان کو قبائلی علاقوں میں دوبارہ آباد کیا گیا۔
عوامی نیشنل پارٹی نے چیخ کر کہا تھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے خلاف ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن ہوئے تھے۔ مگر خان صاحب تب بھی مطمئن تھے۔ ”یہ اپنے ہی لوگ ہیں۔“ آج وہی ”اپنے لوگ“ روز سرحد پار سے حملہ کرتے ہیں، اور ملک دہشتگردی کے دباؤ میں ہے۔ اسی
منظر نامے اور پس منظر میں اب خیبرپختونخوا میں نیا وزیر اعلیٰ منتخب کیا جا رہا ہے۔
یہ سوال عام ہے کہ آخر یہ کون صاحب ہیں جن کے سر پر اقتدار کا ہما اچانک آ بیٹھا ہے؟ اور انہیں کن مقاصد کے لیے صوبے کا سیاسی و انتظامی سربراہ لگایا جا رہا ہے؟ اگر علی امین گنڈاپور کو اس لیے ہٹایا گیا کہ وہ آپریشن کی مخالفت نہیں کر رہے تھے، تو پھر لازمی بات ہے کہ نئے وزیر اعلیٰ پر جماعت کی یہ ”ڈیوٹی“ ہو گی کہ وہ طالبان دہشتگردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کی مذمت یا مزاحمت کرے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں کے پی کا وزیر اعلیٰ ”اینٹی آپریشن ”یا“ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ”بن سکتا ہے؟ یہاں آئی ایس پی آر کے سربراہ
کی پشاور میں کی گئی وہ پریس کانفرنس یاد آتی ہے، جس میں انہوں نے صاف کہا تھا۔ ”دہشتگردوں کے سہولت کار کسی بھی عہدے پر ہوں، انہیں نہیں چھوڑا جائے گا۔ ”
اب سہیل آفریدی اگر خود کو اسٹیبلشمنٹ کا مخالف سمجھتے ہیں تو وزیر اعلیٰ بننا ان کے لیے اتنا ہی ممکن ہے جتنا زمین پر کھڑے ہو کر آسمان میں جہاز اڑانا۔ کچھ بھی ہو، عمران خان کی خواہش کے عین مطابق ”سولو فلائٹ“ یہاں ممکن نہیں۔ تحریکِ انصاف کی ایک اور مشکل یہ ہے کہ طالبان، آپریشن، اور فوج کے معاملے پر اس کا بیانیہ بالکل متضاد ہے۔ اب تو صاف لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور تحریکِ انصاف دو متوازی لکیریں ہیں۔ جو کبھی نہیں ملتیں۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو جماعت، کارکنان، اور خود خان صاحب کو چاہے پسند ہوں، مگر سیاست، تعلقات اور حکمرانی کے اصولوں کے لحاظ سے ناپسندیدہ ہیں۔ سہیل آفریدی کا لہجہ، پس منظر، اور نسلی حوالہ بھی ”قبائلی سیاست“ کے خانے میں لکھا جا رہا ہے۔ اوپر سے وہ پارٹی کے سخت گیر گروپ، یعنی مراد سعید کے قریب ہیں۔ ایک پہلے ہی مشکل میں ہے، دوسرے کو بھی اسی کنویں میں دھکیلنے کی پوری تیاری ہے۔
اب اگر صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے دوران تحریکِ انصاف کا کوئی حامی رکن ”ادھر اُدھر“ ہو جائے تو پارٹی کچھ نہیں کر سکتی، نہ ریفرنس، نہ نا اہلی، نہ وفاداری کا جھگڑا۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ گنڈاپور کی غیرموجودگی میں مقامی قیادت ایسے لگتی ہے جیسے پتوار کے بغیر کشتی۔ وہ سب کو ساتھ لے کر چل رہے تھے، اب ان کا دھڑا الگ، علیمہ خان الگ، اور سہیل آفریدی بیچ منجدھار میں۔ سیاست کا اصول بڑا سادہ ہے، جسے کرسی پر بٹھاؤ، وہ کرسی کسی اور کی ہو جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کے لیے یہ صرف وزیر اعلیٰ کا
انتخاب نہیں، بلکہ اپنی سیاسی سانسوں کا امتحان ہے۔ جو جماعت کبھی ”ریاستِ مدینہ ”کے خواب دکھاتی تھی، وہ آج دہشتگردی، آپریشن، اور اقتدار کی بارات کے بیچ میں دلہا تلاش کر رہی ہے۔ خان صاحب شاید اب بھی سمجھتے ہیں کہ طالبان ان کے نظریاتی کزن ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کزنوں کے پاس اب بندوق ہے، اور خان صاحب کے پاس صرف بیان۔
