گوشہ ادبمیرے مطابق

تنہا: (33)

سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول

salma awan

دو دنوں کے یہ اڑتالیس گھنٹے اس پر بہت بھاری گزرے تھے۔ چاہنے پر بھی وہ آنکھ نہ جھپک سکی تھی۔ ہسپتال کی مخصوص فضا جنرل وارڈ کے مریضوں کی کراہیں، اس چھوٹے سے کمرے میں بستر پر لیٹی بیمار ماں اور ان کے رہنما لیڈر بیٹے کے ڈھیروں مداح اور کارکن۔ کوئی ایک گھڑی آرام کرے بھی تو کیسے؟ یوں ماں کو ہوش بھی ابھی تھوڑی دیر قبل ہی آیا تھا۔ ماں کی بیماری نے اس پر بہت سی باتوں کا انکشاف کیا تھا۔ وہ تو کبھی یہ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ ماں کا یہ لیڈر بیٹا جس کی بے ڈھنگی سرگرمیوں سے ماں اور بابا دونوں ہی عاجز رہتے تھے۔ عوام میں اس قدر ہر دلعزیز ہے۔ اسے تو بس اتنا ہی معلوم ہوا تھا کہ اس کی پارٹی ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبا کی سب سے بڑی تنظیم خیال کی جاتی ہے جو منظم بنیادوں پر قائم ہے۔ اس پارٹی میں لڑکیوں کی کثیر تعداد ہے جو پارٹی کے نظریے سے کہیں زیادہ اس کی شخصیت سے متاثر ہیں۔

اسے حیرت ہوئی تھی جب ”پاکستان آبزرور“ اور ”مارننگ نیوز“ میں اس نے ماں کی بیماری کے بارے میں تفصیلی پڑھا۔ بینو نے اسے بنگلہ اخباروں کے متعلق بھی بتایا تھا کہ ان میں ماں کی صحت اور درازی عمر کی دعائیں مانگنے کی اپیل کی گئی ہے۔ یوں سارا دن عورتوں، مردوں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی طلبا کا تانتا بندھا رہا۔ بس اس لمحے کی خوشی بے پایاں تھی۔ وہ جو تھکن سے چور چور تھی، پل بھر میں تازہ دم ہو گئی اور ہوا یوں تھا کہ چند لڑکیاں جو شلپی کی پارٹی کی سرگرم رکن تھیں۔ ماں کی عیادت کے لئے آئیں، ان میں وہ ٹیڑھی ٹانگوں والی سلمیٰ بھی تھی جو تھی تو اگرچہ اس کی کلاس فیلو پر معلوم نہیں اس سے ہر دم بیزار کیوں رہتی؟ شروع شروع کے دنوں میں اس نے اس سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی مقدور بھر کوشش کی، پر ٹانگوں کے ساتھ ساتھ اس کا دماغ بھی ٹیڑھا ہی تھا، کلاس اور کلاس سے باہر وہ نفرت کے اظہار کا کوئی موقع شاید ہی گنواتی۔

اس دن تو وہ سر تا پا سُلگ اٹھی، وہ چند لڑکیوں کے ساتھ ہیڈ سر کے کمرے میں جا رہی تھی۔ راستے میں اس ٹیڑھی ٹانگوں والی نے شیفو سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

”انہیں چلنے کے لئے کس نے کہا ہے؟“
”محترمہ! ہیڈ سر کیا آپ کے پرسنل سیکرٹری ہیں جو ہم اجازت کے لئے آپ کے پاس آتے؟“
اس کا خون کھول اٹھا تھا۔

معاملہ زیادہ طول پکڑ جاتا پر ساتھ کی لڑکیوں نے بات رفع دفع کرا دی۔ اس کا دل بہت کُڑھا، بار بار خود سے الجھتے ہوئے وہ اپنے آپ سے کہتی۔

” کیسی سٹوپڈ اور نان سینس لڑکی ہے! یوں دیکھتی ہے جیسے کچا ہی چبا جائے گی۔“

شام میں جب وہ پوکھر میں نوکا چلا رہی تھی اور جہاں آرا اس کے پاس بیٹھی تھی، اس نے اس کے رنج و غصے کو محسوس کیا تو بولی۔ ”سمیعہ! انفرادی اختلافات کو اگر تم سمجھنے کی کوشش کرو تو شاید ان کے Behaviour کے یہ مختلف انداز تمہیں تکلیف نہ پہنچائیں۔ دیکھو! وہ شلپی پر مرتی ہے اور تمہیں اس کے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ دیکھ چکی ہے، یقیناً اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس کا بابا تمہارا لوکل گارجین ہے اور اس کا خاندان تمہیں بے حد چاہتا ہے۔“

” پر سنو، یہ اگر اس پر مرتی ہے تو وہ اس کا دم نہیں بھرتا کیا؟“
جل بیل کے کاسنی پھولوں کی پتیاں نوچ نوچ کر پانی میں پھینکتے ہوئے اس نے کہا۔

” میری جان! تمہاری ماں کا بیٹا ایک نمبر خرانٹ، کنفرمڈ بیچلر ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ جب یہ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا تو کئی ایک اس کی دیوانی تھیں اور کئیوں پر یہ مرتا تھا، پر اس وقت اس کے نزدیک یہ سب خرافات ہیں کیونکہ وہ اب معاشرے میں بنگلہ قومیت کا زہر گھولنے اور سن آف دی سوئیل (Son of the Soil ) کا نعرہ لگانے میں بے حد مصروف ہے۔ ایسے میں لڑکیوں کو لفٹ کروانے کے لئے نہ تو اس کے پاس وقت ہے اور نہ ہی فرصت۔“

اور آج وہ آئی تھی، پیشانی پر چمکتی بندیا کے ساتھ۔ سمیعہ علی نے اپنی گردن اونچی کی۔

بے اعتنائی سے اسے دیکھا اور کام میں لگ گئی۔ وہ ماں کو پھلوں کا رس پلا رہی تھی۔ بلبل اس کے پاس کھڑا اس سے باتیں کر رہا تھا۔ بینو ٹفن اٹھائے اندر آیا اور بولا۔

” سومی آپا! آپ کھانا کھا لیں۔“

بابا اور فخر، ڈاکٹر کے ساتھ اندر آئے۔ ڈاکٹر نے ماں کو انجکشن دیا اور مسکرا کر انہیں آپریشن کے کامیاب ہونے کی مبارکباد دی۔

ڈاکٹر نے اس کٹے بالوں والی لڑکی کے متعلق پوچھا۔ بابا نے اسے بہت محبت سے دیکھا تھا۔ ”ہماری بیٹی ہے یہ!“ انہوں نے ڈاکٹر کو بتایا۔

” یہ بہت اچھی نرس ہے۔“ ڈاکٹر مسکرایا۔

وہ بابا اور ان کے تینوں بیٹوں کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی۔ وہ جو بنگالی نہ تھی۔ ملک کے دوسرے حصے سے آئی تھی، ان کے کتنے قریب ہو چکی تھی اور جتنی دیر وہ وہاں بیٹھی اُس نے اُس وقت کے ایک ایک لمحے سے تسکین پائی۔

اس نے کھانا کھایا، چائے پی اور ماں کے اصرار پر تھوڑی دیر آرام بھی کیا۔ شام ہو گئی تھی۔ ماں پر غنودگی طاری تھی۔ کمرے میں کوئی نہ تھا۔ جب وہ آیا پہلی نظر میں اسے نے اسے پہچانا ہی نہ۔ وہ سر تا پا بدلا ہوا تھا، کاڈرائے سوٹ اس کی شخصیت کو بہت نمایاں کر رہا تھا۔ وہ دھیمے دھیمے ماں سے کافی دیر باتیں کرتا رہا، ماں نے اس کی پیشانی پر طویل پیار کیا تھا۔ وہ تھوڑی دیر اور بیٹھا پھر چلا گیا۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو چمک گئے۔ اس نے جھک کر انہیں صاف کیا۔ وہ پوچھنا چاہتی تھی پر پوچھ نہ سکی۔ نو بجے بینو آیا تب اسے معلوم ہوا کہ وہ دو ماہ کے لئے امریکہ اور انگلینڈ گیا ہے۔

”سومی آپا!“ بینو نے شرارت سے آنکھیں نچائیں۔ ”آپ کا جھوٹ پکڑا گیا ہے۔“
وہ حیران ہوئی اور بولی۔ ”کیسا جھوٹ بھئی؟“

اور اس نے مسکراتے ہوئے تین تصویریں اس کے ہاتھ میں تھما دیں، وہ دنگ رہ گئی تھی، یہ ناٹک والے دن کی تصاویر تھیں جنہیں یونیورسٹی فوٹوگرافر نے کھینچا تھا۔ وہ گھاس پر آلتی پالتی مارے بیٹھی باقی لوگوں کی نسبت بہت نمایاں نظر آ رہی تھی۔

”یہ تو بہت برا ہوا۔“ اس نے دل میں کہا۔
” پر بینو! یہ تمہیں کیسے ملیں؟“ ”پہلے یقین کر لیجیے یہ آپ ہی ہیں نا؟“
”پر سومی آپا! آپ نے تو پروگرام دیکھا نہ تھا۔“ وہ اسے جلا رہا تھا۔
”باز نہیں آؤ گے بینو! میں تم سے کیا پوچھ رہی ہوں؟“ وہ کاٹ کھانے کو دوڑی۔
”یہ شلپی بھیا نے آپ کے لئے بھیجی ہیں۔“
”خدایا!“ اس نے سر پکڑا۔
”اور جھوٹ بولیے۔“ وہ بھی آج اسے چڑانے پر تلا ہوا تھا۔
”بینو اللہ کی قسم! تم آج مجھ سے پٹ جاؤ گے۔“
ماں بستر پر لیٹے لیٹے بولیں۔
” بینو! کیوں بہن کو تنگ کرتے ہو؟“

”ان تین کے علاوہ آپ اور بھی تصویروں میں ہیں۔ بس یوں لگتا ہے کہ فوٹو گرافر کو بس آپ ہی نظر آ رہی تھیں“ بینو اِٹھلایا۔

کس قدر کوفت ہو رہی تھی اسے صرف یہ سوچ سوچ کر کہ وہ کیا سوچتا ہو گا۔
جاری ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW