میرے مطابق

زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے شعبہ ویٹرنری میڈیسن کے طلبا کا مستقبل داؤ پر

Faheem Ahmad Khan

پاکستان میں تعلیم ایک بنیادی حق ہے، جو آئین کے آرٹیکل 25 اور 37 کے تحت ہر شہری کو مساوی اور معیاری تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن، زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (DVM) پروگرام کے طلباء و طالبات کے لیے یہ حق ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ان طلباء نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور وفاقی محتسب کو ایک درخواست ارسال کی ہے، جس میں انہوں نے اپنے پروگرام کی پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (PVMC) سے منظوری نہ ہونے کے سنگین مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف ان طلباء کے مستقبل سے جڑا ہے بلکہ پاکستانی تعلیمی نظام کی بدانتظامی کی ایک واضح مثال بھی ہے۔

زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان 2018 ء میں گومل یونیورسٹی کے شعبہ زراعت کو اپ گریڈ کر کے قائم کی گئی تھی۔ اس دوران DVM پروگرام کو گومل یونیورسٹی سے زرعی یونیورسٹی میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن اداروں کے مابین تنازعات نے اس منتقلی کو ممکن نہ ہونے دیا۔ نتیجتاً، یہ پروگرام PVMC سے رجسٹریشن کے بغیر چل رہا ہے، جو کہ ویٹرنری تعلیم کے لیے لازمی ہے۔ 2021 ء اور 2022 ء میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سرور الہٰی کی یقین دہانیوں پر طلباء نے داخلوں کے لیے اپنی محنت اور مالی وسائل لگائے، لیکن ان وعدوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ 2023 ء میں نئے وائس چانسلر ڈاکٹر شکیب اللہ کی تعیناتی کے بعد بھی صورتِ حال جوں کی توں رہی، اور اب تقریباً 100 طلباء کی ڈگریاں غیر تسلیم شدہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

یہ صورتِ حال نہ صرف طلباء کے مالی اور تعلیمی نقصانات کا باعث بن رہی ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی کا تحفظ) کی بھی خلاف ورزی ہے۔ PVMC کے قوانین کے تحت ویٹرنری پروگرام کے لیے پانچ سالہ نصاب، مناسب لیبارٹریز، اور معیاری فیکلٹی ضروری ہے، لیکن زرعی یونیورسٹی ان معیارات پر پورا نہیں اتر رہی۔ طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) ، اور PVMC سے بارہا رجوع کیا، مگر کوئی ٹھوس حل نہ مل سکا۔

گزشتہ روز طلباء نے مجھے اپنی درخواست میں تین اہم مطالبات پیش کیے ہیں :

1۔ DVM پروگرام کو فوری طور پر PVMC سے منظوری دلائی جائے، جس میں نصاب، فیکلٹی، اور انفراسٹرکچر کی تصدیق شامل ہو۔

2۔ اگر منظوری ممکن نہ ہو، تو طلباء کو کسی PVMC رجسٹرڈ ادارے (جیسے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا ) میں منتقل کیا جائے تاکہ ان کی تعلیم جاری رہے۔

3۔ تاخیر سے ہونے والے مالی اور تعلیمی نقصانات کی تلافی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

یہ درخواست وفاقی محتسب ایکٹ 1983 ء کے سیکشن 9 کے تحت بدانتظامی کی شکایت کے طور پر دائر کی گئی ہے، جو وفاقی اداروں کے خلاف شکایات سننے کا اختیار رکھتا ہے۔ طلباء کی یہ فریاد ایک ایسی چیخ ہے جو پاکستانی تعلیمی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔

یہ معاملہ صرف زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان تک محدود نہیں۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام کی مجموعی بدحالی کی عکاسی کرتا ہے۔ غیر تسلیم شدہ پروگراموں میں داخلے، اداروں کے مابین تنازعات، اور انتظامی نا اہلی پاکستانی طلباء کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ PVMC اور HEC جیسے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی معیارات کو یقینی بنائیں، مگر ان کی خاموشی یا سست روی طلباء کے خوابوں کو چکناچور کر رہی ہے۔

اس مسئلے کا فوری حل ناگزیر ہے۔ وفاقی محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں۔ اگر زرعی یونیورسٹی PVMC کے معیارات پر پورا نہیں اتر سکتی، تو طلباء کو کسی رجسٹرڈ ادارے میں منتقل کرنا ایک عملی حل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنی ناکامیوں کا جواب دہ ہونا چاہیے، اور طلباء کے مالی نقصانات کی تلافی کے لیے ایک جامع پالیسی بنائی جانی چاہیے۔

زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے طلباء کی یہ داستان ہر اس پاکستانی طالب علم کی آواز ہے جو اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہمارے ادارے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور تعلیم کے اس بنیادی حق کو یقینی بنائیں۔ اگر آج ان طلباء کی آواز دبا دی گئی، تو کل کوئی اور ادارہ اسی طرح کے وعدوں کے ساتھ نئی نسل کے خوابوں کو روند سکتا ہے۔ اس لیے، یہ معاملہ نہ صرف ان 100 طلباء کا ہے بلکہ پورے نظام کی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ کیا ہمارے ادارے اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں؟ وقت ہی بتائے گا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW