مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی امن پسندی

بطور ایک محب وطن پاکستانی اور مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے ادنیٰ طالب علم کے، میرے لیے یہ خبریں انتہائی تشویش ناک ہیں کہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان تلخی اس حد تک بڑھ جائے کہ نوبت حملوں اور جانی و مالی نقصان تک جا پہنچے۔
سعودی عرب اور ایران، دونوں ہی عالمِ اسلام کے اہم ستون ہیں۔ ایک طرف حرمین شریفین کی مرکزیت ہے جس سے ہر مسلمان کا قلبی لگاؤ ہے، تو دوسری طرف ایک مضبوط اسلامی ریاست ہے جو امت کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان کسی بھی قسم کا ٹکراؤ درحقیقت پوری امتِ مسلمہ کے وجود پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اسی لئے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب کی اہم ترین تنصیبات پر ہونے والے حالیہ حملوں نے پوری دنیا کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ کٹھن ہوتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے صوبہ خوزستان کے سرحدی علاقوں سے داغے گئے ڈرونز اور میزائلوں نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ یہ صورتحال صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس نے پورے عالمِ اسلام اور عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
پاکستان ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مرکز رہا ہے۔ ہمارے لیے یہ صورتحال کسی امتحان سے کم نہیں کیونکہ ہماری عقیدت اور دفاعی وابستگی سعودی عرب کے استحکام سے جڑی ہے۔ ایران ہمارا پڑوسی اور برادر ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے گہرے ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں۔
آج جب دشمن ہماری صفوں میں دراڑیں ڈالنے کی تگ و دو میں ہے، تب ان دونوں عظیم ریاستوں کے درمیان محاذ آرائی صرف اور صرف اسلام دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت دے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی سخت ترین دھمکیاں ہیں، جس میں ایک ہی رات کے اندر ایرانی تہذیب اور اہم مراکز کو مٹانے کی بات کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف پاکستان کی قیادت اور عوام ہیں جو دن رات اس کوشش میں مگن ہیں کہ کسی بھی طرح اس ممکنہ تباہ کن جنگ کو روکا جا سکے۔ ایسے نازک وقت میں جب پوری دنیا کی نظریں سفارت کاری پر جمی تھیں، پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملہ درحقیقت اس قوت کا کام آسان کرنے کے مترادف ہے جو ہمیشہ سے ایران اور عرب ممالک کو دست و گریبان دیکھنا چاہتی ہے۔ اسرائیل کی یہ پہلی اور سب سے بڑی خواہش رہی ہے کہ اسلامی دنیا کے یہ دو اہم ستون آپس میں لڑ کر کمزور ہو جائیں تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد پورے کر سکے۔
ایران کی جانب سے سعودی عرب کی سالمیت پر یہ حملہ اور دوسری جانب سے امریکی صدر کی پیہم دھمکیاں، حالات کو اس نہج پر لے آئی ہیں جہاں انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ ہماری دفاعی اور قلبی وابستگی ہے جبکہ ایران ہمارا برادر ہمسایہ ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے کور کمانڈرز اور دفترِ خارجہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے سعودی عرب کی تنصیبات پر ہونے والے حملے کی نہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کی ہے بلکہ اسے خطے کے استحکام کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے مشکل مقام پر کھڑا ہے جہاں ہر گزرتا لمحہ سنسنی خیز ہوتا جا رہا ہے۔
اس نازک گھڑی میں بحیثیت محبِ وطن پاکستانی اور اتحادِ بین المسلمین کے داعی، میرا دل لرز رہا ہے۔ جب مسلمان ہی مسلمان کے سامنے صف آرا ہو جائے تو دشمن کو کسی محنت کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر یہ جنگ چھڑ گئی تو اس کا ایندھن صرف معصوم انسان اور مسلم ممالک کی معیشت بنے گی۔ اب وقت ہے کہ تہران اور ریاض اپنی قیادت کی بصیرت کو بروئے کار لائیں اور جذباتی فیصلوں کے بجائے امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں پیچھے ہٹیں۔ جنگ کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتی، بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے دونوں ممالک کی قیادت کو چاہیے کہ وہ جذبات کے بجائے بصیرت سے کام لیتے ہوئے کشیدگی کو کم کریں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بطور محب وطن پاکستانی مسلکی یا سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہونے کے بجائے ہمیں ایک ”جسدِ واحد“ کی طرح سوچنا ہو گا۔ اس موقع پر پاکستان میں مقیم تمام محبان پاکستان بالخصوص میں تمام مکتبہ فکر کے علماء، دانشوروں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کرتا ہوں کہ ایسی تحریروں اور بیانات سے گریز کریں جو اس آگ کو مزید بھڑکائیں۔ اس وقت ہمیں امن، صلح اور جوڑنے کی بات کرنی چاہیے۔ کیونکہ ریاست پاکستان نے ہمیشہ ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، لیکن جب طاقتور ممالک کی انا ٹکراتی ہے تو اسباب آسمان سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اس کڑے وقت میں اب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو فریقین کے دلوں میں رحم ڈال سکتی ہے اور انسانیت کو ایک بڑے حادثے سے بچا سکتی ہے۔
اے اللہ! تو ہی ہے جو اپنے بندوں کے بچاؤ کے لیے اسباب پیدا کر سکتا ہے اور امتِ مسلمہ کو اس آزمائش سے نکال سکتا ہے۔ اس لیے خداوندِ کریم سے دعا ہے کہ وہ حرمین شریفین سمیت تمام اسلامی ممالک کی سرحدوں کو محفوظ رکھے اور ہمیں آپس کے اختلافات ختم کر کے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
