کالم۔منتخب تحریریں

برن آؤٹ، کرانک فٹیگ سینڈروم اور ڈپریشن : تقابلی مطالعہ

shabnum gul

معاشرتی دباؤ، تیز رفتار زندگی، مقابلے کا رجحان اور معاشی پریشانیاں اس بات کا باعث بن رہی ہیں کہ ہر دوسرا فرد اپنے آپ کو ڈپریشن کا مریض سمجھنے لگتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان، پیشہ ور افراد اور خواتین اس کیفیت سے زیادہ متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ ہر وقت تھکن، دل کا بوجھل رہنا، بے خوابی، بے چینی یا دلچسپیوں کا ختم ہونا فوراً ڈپریشن کی علامتیں سمجھی جاتی ہیں، حالانکہ یہ کیفیت ہمیشہ کلینیکل ڈپریشن نہیں ہوتی۔

ذہنی اور جسمانی صحت کا گہرا رشتہ ہے اور انسانی زندگی کے توازن کے لیے دونوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔ اگر جسم متاثر ہو تو ذہن پر دباؤ اور افسردگی پیدا ہو سکتی ہے، اور اگر ذہنی صحت کمزور ہو تو نیند، ہاضمہ، دل کی دھڑکن اور مدافعتی نظام

متاثر ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ نئی نفسیاتی اور جسمانی پیچیدگیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ کچھ مسائل بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں مگر اپنی نوعیت میں مختلف ہیں، جیسے برن آؤٹ (Burn Out) ، کرانک فٹیگ سینڈروم (Chronic Fatigue Syndrome) اور ڈپریشن (Depression) وغیرہ۔ یہ تینوں کیفیات اس قدر قریب ہیں کہ اکثر مریض اور معالج دونوں ہی اصل مسئلے کی پہچان میں الجھ جاتے ہیں، لیکن گہرائی میں دیکھیں تو فرق واضح ہے۔ ان کو سمجھنا نہ صرف علمی لحاظ سے بلکہ عملی زندگی میں بقا، کارکردگی اور تعلقات کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

برن آؤٹ کام سے وابستہ ذہنی تھکن اور جذباتی کمزوری ہے جو زیادہ تر ملازمت یا ذمہ داریوں کے دباؤ سے پیدا ہوتی ہے۔ جب فرد اپنی توانائی سے بڑھ کر کام کرے، مسلسل دباؤ برداشت کرے اور بدلے میں سکون یا اعتراف نہ ملے تو رفتہ رفتہ برن آؤٹ طاری ہو جاتا ہے۔ اس میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور ہر چیز بوجھ محسوس ہوتی ہے۔ یہ اصطلاح سب سے پہلے ماہرِ نفسیات ہیربرٹ فرائیڈنبرگر (Herbert Freudenberger) نے 1974 میں استعمال کی، جب انہوں نے دیکھا کہ سماجی کارکن اور نرسیں مسلسل دباؤ کے نتیجے میں شدید ذہنی تھکن کا شکار ہو رہی ہیں۔

دوسری جانب کرانک فٹیگ سینڈروم ایک طبی و حیاتیاتی بیماری ہے جس کی بنیادی علامت ایسی نقاہت ہے جو آرام یا نیند کے باوجود ختم نہیں ہوتی۔ یہ برسوں تک مریض کو متاثر رکھتی ہے اور اس کی وجوہات ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔ کچھ ماہرین اسے مدافعتی نظام کی خرابی، اعصابی تبدیلی یا وائرل انفیکشن سے جوڑتے ہیں۔ سی ایف ایس کے مریض روزمرہ کی چھوٹی سرگرمیوں سے بھی تھک جاتے ہیں اور ان کی زندگی کا معیار سخت متاثر ہوتا ہے۔

اس پر ابتدائی سائنسی تحقیق 1980 کی دہائی میں امریکی ”Centers for Disease Control and Prevention (CDC)“ نے کی، جس نے اس بیماری کو ایک واضح تشخیصی نام دیا۔ بعد ازاں ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر انتھونی کومرفورد اور برطانیہ کے ڈاکٹر سائمن ویسلے نے نمایاں تحقیقات کیں اور اسے صرف نفسیاتی نہیں بلکہ حیاتیاتی اور مدافعتی نظام سے تعلق رکھنے والی کیفیت قرار دیا۔ جدید دور میں جاپان، کینیڈا اور یورپ کے اداروں نے بھی کلینیکل ٹرائلز اور جینیاتی سطح پر تحقیق کی ہے تاکہ بہتر علاج سامنے لایا جا سکے۔

ان تینوں بیماریوں کی کئی علامات ایک جیسی ہیں، مثلاً مستقل سستی، نیند کی بے ترتیبی اور کارکردگی میں کمی، لیکن ان کے مخصوص پہلو مختلف ہیں۔ برن آؤٹ کی وجہ زیادہ تر پیشہ ورانہ ماحول اور سماجی دباؤ سے ہے۔ جبکہ سی ایف ایس میں جسمانی توانائی ختم ہو جاتی ہے، البتہ ڈپریشن ایک نفسیاتی و کیمیائی عارضہ ہے جو دماغ کے ہارمونز اور سوچ کو متاثر کرتا ہے۔ ڈپریشن میں اداسی، مایوسی، دلچسپی کا خاتمہ اور خود اعتمادی کی کمی شامل ہے۔ یہ صرف وقتی اداسی نہیں بلکہ ایک ایسی مستقل کیفیت ہے جو سوچ، رویے، فیصلوں اور جسمانی صحت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ اس کے شکار افراد زندگی کو بے رنگ محسوس کرتے ہیں، مسائل کو بڑھا چڑھا کر دیکھتے ہیں اور بعض اوقات خودکشی کے خیالات تک پہنچ جاتے ہیں۔

ڈپریشن پر سب سے پہلے منظم طور پر یونانی طبیب ہپوکریٹس نے ”Melancholia“ کے نام سے بحث کی۔ بعد ازاں ابنِ سینا نے اپنی کتاب القانون فی الطب میں

اس کے ذہنی و جسمانی اثرات بیان کیے۔ جدید دور میں ایمل کرپلین (Emil Kraepelin) اور سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) نے اسے نفسیاتی عارضہ قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ کرپلین نے اسے ”موڈ ڈس آرڈر“ کے طور پر درجہ بند کیا جبکہ فرائڈ نے لاشعوری محرکات سے جوڑ کر اس کی نفسیاتی بنیادیں فراہم کیں۔

مثال کے طور پر ایک استاد جو مسلسل پڑھاتا رہے اور طلبہ و انتظامیہ کی بے رخی دیکھے تو برن آؤٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایک نوجوان لڑکی جو کسی وائرس کے بعد مسلسل کمزوری محسوس کرے اور توانائی بحال نہ کر سکے تو اسے سی ایف ایس ہو سکتا ہے۔ جبکہ ایک کاروباری شخص جو مالی نقصان کے بعد مایوسی رہنے لگے اور کسی سرگرمی میں حصہ نہ لے تو وہ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ پیچیدگی تب پیدا ہوتی ہے جب معالج بھی علامات کی مماثلت دیکھ کر سی ایف ایس یا برن آؤٹ کو ڈپریشن سمجھ لیتے ہیں۔ یوں اکثر اینٹی ڈپریسنٹ دوائیں تجویز ہو جاتی ہیں، جو وقتی بہتری تو دیتی ہیں لیکن بنیادی مسئلہ حل نہیں کر پاتیں۔

برن آؤٹ یا سی ایف ایس کے علاج میں ادویات کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی کی تبدیلی، آرام اور نفسیاتی معاونت ضروری ہے۔ برن آؤٹ میں کام اور ذاتی زندگی کا توازن، مناسب نیند، آرام دہ سرگرمیاں اور حدود کا تعین بنیادی اقدامات ہیں۔ ورزش، متوازن خوراک اور ریلیکسیشن تھراپی اعصاب کو سکون دیتی ہیں۔ بعض صورتوں میں مشاورت یا کوگنیٹیو بیہیویئرل تھراپی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ سی ایف ایس کے علاج میں نیند کے معمولات درست کرنا، ہلکی ورزش اور غذائی پرہیز کے ساتھ مخصوص دوائیں بھی شامل ہیں۔ ڈپریشن کے علاج میں دواؤں، سائیکو تھراپی اور سماجی تعاون کا امتزاج موثر سمجھا جاتا ہے۔ مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے احساسات شیئر کرے، مثبت سرگرمیوں میں وقت گزارے اور ماہرین کی رہنمائی سے علاج جاری رکھے۔

بیماری کو مسلط کرنے کے بجائے حقیقت پسندی سے دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اکثر ہم بیماری کو اپنی پوری شناخت پر طاری کرلیتے ہیں اور یوں وہ ہماری سوچ، جذبات اور رویّوں کو قابو میں لے لیتی ہے۔ حقیقت پسندی کا مطلب یہ ہے کہ ہم بیماری کو اپنی زندگی کا ایک حصہ سمجھیں، نہ کہ پوری زندگی۔ اگر اسے درست تناظر میں دیکھا جائے تو نہ صرف اس کا علاج اور دیکھ بھال آسان ہو جاتے ہیں بلکہ ذہنی سکون بھی قائم رہتا ہے۔ بیماری پر قابو پانے کے لیے سب سے پہلے اسے قبول کرنا ضروری ہے، تاکہ ہم اپنی توانائی علاج، مثبت عادات اور صحت مند طرزِ زندگی پر مرکوز کر سکیں۔ اس طرح بیماری ہمیں شکست دینے کے بجائے ہمیں زندگی کی قدر اور مضبوطی کا سبق دیتی ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW