رہائی کی کنجی: احتجاج یا مذاکرات؟

پاکستان کی سیاست اس وقت ایک ایسے سنگین دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بانیِ تحریکِ انصاف عمران خان کی طویل اسیری، پارٹی کی اندرونی صفوں میں پیدا ہونے والی توڑ پھوڑ اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات میں حائل خلیج نے صورتحال کو اس قدر گمبھیر بنا دیا ہے کہ مستقبل کا نقشہ دھندلا سا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے علی امین گنڈاپور کی رخصتی محض ایک انتظامی رد و بدل نہیں بلکہ سیاسی مبصرین اسے ایک سنہری سیاسی موقع کے ضیاع سے تعبیر کر رہے ہیں۔
اگرچہ علی امین گنڈاپور کو سیاسی حلقوں میں ایک جارح مزاج اور تند و تیز لہجے والے سیاست دان کے طور پر جانا جاتا ہے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ان معدودے چند رہنماؤں میں شامل تھے جن کے مقتدر حلقوں کے ساتھ ’ورکنگ ریلیشن شپ‘ کے امکانات ہمیشہ موجود رہے۔ ان کا اندازِ سیاست اگرچہ بظاہر مزاحمتی تھا لیکن وہ سیاسی بند گلی کے قائل ہرگز نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے دورِ اقتدار میں پسِ پردہ مذاکرات کی کھڑکیاں مکمل طور پر بند نہیں ہوئی تھیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک علی امین گنڈاپور صوبے کے انتظامی سربراہ رہے، عمران خان کے لیے جیل کی سختیوں میں ایک نوعیت کا توازن برقرار رہا۔ ملاقاتوں کا سلسلہ اگرچہ کڑا تھا مگر منقطع نہیں ہوا تھا۔ قانونی ماہرین اور سیاسی قیادت کے مابین رابطے کی ڈور سلامت تھی اور اقتدار کے گلیاروں میں مفاہمت کی سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں۔ یہ تمام اشارے اس بات کی غمازی کر رہے تھے کہ معاملات کو مکمل تصادم کی بھینٹ چڑھنے سے بچانے کی ایک خاموش کوشش جاری ہے۔
تاہم اس تبدیلی کے بعد منظرنامہ یکسر بدل گیا۔ عمران خان پر جیل میں پابندیاں سخت کر دی گئیں، ملاقاتوں کے مواقع سکڑتے چلے گئے اور وہ بات چیت جو کسی نہ کسی سطح پر سانس لے رہی تھی گویا دم توڑ گئی۔ اس سیاسی جمود نے اس تاثر کو تقویت بخشی ہے کہ تحریکِ انصاف نے عملیت پسندی کے بجائے غیر یقینی کا راستہ چن لیا ہے۔ بلاشبہ سہیل آفریدی ایک سنجیدہ فکر اور سلجھے ہوئے منتظم ہیں لیکن ان کا وہ سیاسی وزن نہیں ہے جو گنڈاپور کا خاصہ تھا۔ تحریکِ انصاف اس وقت انتظامی نظم و نسق سے زیادہ ایک بڑے ’سیاسی بریک تھرو‘ کی محتاج ہے جس کا واحد راستہ عمران خان کی رہائی سے ہو کر گزرتا ہے۔
بے جا نہ ہو گا اگر یہ کہا جائے کہ علی امین گنڈاپور عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ایک موثر رہنما ثابت ہو سکتے تھے۔ وہ خان کے معتمدِ خاص بھی تھے اور مقتدر حلقوں کے لیے ’ناقابلِ قبول‘ بھی نہیں تھے۔ یہی وہ توازن ہے جو کسی بھی سیاست دان کو ایک کامیاب مذاکرات کار بناتا ہے۔
وقت ابھی ہاتھ سے گیا نہیں ہے اگر تحریکِ انصاف واقعی اپنے قائد کی آزادی میں سنجیدہ ہے تو اسے جذباتی نعرہ بازی کے بجائے زمینی حقائق کی سیاست کی طرف لوٹنا ہو گا۔ علی امین گنڈاپور کو باضابطہ طور پر مذاکرات کا ٹاسک سونپنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہیں اختیار دیا جائے کہ وہ بیک چینل اور اوپن چینل دونوں محاذوں پر بات آگے بڑھائیں۔ ممکن ہے کہ جس بند تالے کو احتجاج اور دباؤ کی چابیاں نہ کھول سکیں وہ بامقصد بات چیت سے کھل جائے۔
یاد رکھیے! پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اصل فیصلے سڑکوں پر نہیں بلکہ بند کمروں کی سنجیدہ گفتگو میں طے پاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا تحریکِ انصاف اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے؟ وقت کم ہے اور داؤ بہت بڑا لگا ہوا ہے۔ عمران خان کی رہائی کے لیے ضروری ہے کہ دستک دوبارہ دی جائے مگر اس بار درست ہاتھ اور درست دروازے کا انتخاب کرنا ہو گا۔

مزاکرات ھی وہ واحد راستہ ھے جس پ بڑے بڑے بحران اواور تنازعات کا حل موجود ھے ۔ایاز صاحب اس نقطئہ کی طرف نہایت اھم توجہ دلا ئ۔