کالم۔

نفسیاتی مریضوں کا علاج۔ کارل ینگ کے مضمون کا ترجمہ اور تلخیص

dr khalid sohail

کارل ینگ لکھتے ہیں

میں نے جب ایک نفسیاتی ہسپتال میں کام کرنا شروع کیا تو میرے ذہن میں ایک تجسس تھا۔ میں نفسیاتی مریضوں کی داخلی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ بیماری کے دوران ان کے دل پر کیا بیتتی ہے؟ بدقسمتی کی بات یہ تھی کہ میرے دور کے ماہرین نفسیات سطحی باتیں کرتے تھے۔ وہ مریضوں کے عوارض دیکھ کر پہلے تشخیص اور پھر علاج کرتے تھے لیکن مریضوں سے کبھی نہ پوچھتے تھے کہ ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہے؟ وہ مریض سے زیادہ مرض میں دلچسپی رکھتے تھے۔

اس دور میں جب میں نے سگمنڈ فرائڈ کی تخلیقات پڑھیں تو مجھے بہت مسرت ہوئی کیونکہ فرائڈ ذہنی مریضوں کی نفسیات پر کام کر رہے تھے۔ فرائڈ سائیکاٹری اور سائیکالوجی کے علوم کے درمیان ایک پل تعمیر کر رہے تھے۔ وہ ہسٹیریا کے مریضوں اور خوابوں کی نفسیات پر تحقیق کر رہے تھے۔

میرے کام اور فرائڈ کے کام میں ایک قدر مشترک تھی۔ ہم دونوں اپنی مریضاؤں کے علاج کے دوران ان کے لاشعور کو بہت اہمیت دیتے تھے۔

میں نے اپنی مریضاؤں کے علاج کے لیے ایک ٹیسٹ وضع کیا تھا جسے میں نے
WORD ASSOCIATION TEST
کا نام دیا تھا۔ میں مریضہ کو ایک لفظ دیتا تھا۔ مثال کے طور پر
ماں
اور مریضہ سے کہتا تھا کہ اس لفظ کو سننے کے بعد اس کے ذہن میں جو بھی لفظ آئے وہ کہہ دے۔ اس ٹیسٹ سے میری اپنی مریضہ کے لاشعور تک رسائی ہو جاتی تھی اور میں اس تضاد اور اس کمپلیکس تک پہنچ جاتا تھا جو مریضہ کے لاشعور میں چھپا ہوتا تھا اور اس کی بیماری کا باعث ہوتا تھا۔ اس ٹیسٹ سے جب لاشعور میں چھپا تضاد شعور کی سطح پر ابھرتا تھا تو پھر ہم اس تضاد کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے تھے اور مریض صحتمند ہو جاتا تھا۔ میرا یہ ٹیسٹ بہت مشہور ہوا اور میری مقبولیت کا باعث بنا۔ میرے اس ٹیسٹ کو سگمنڈ فرائڈ نے بھی سراہا جس کی مجھے بہت خوشی ہوئی۔

میں نے نفسیاتی ہسپتال میں کام کرنے کے دوران جن مریضاؤں کا علاج کیا میں ان میں سے چند ایک کی کہانیاں رقم کرتا ہوں تا کہ آپ کو میری سوچ، میرے انداز فکر اور میرے طریقہ علاج کا اندازہ ہو سکے۔

پہلی مریضہ کی کہانی

میرے ہسپتال میں ایک مریضہ تھی جسے دوسرے ڈاکٹروں نے سکزوفرینیا کی تشخیص دے رکھی تھی اور فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ لاعلاج ہے لیکن میرا خیال تھا کہ وہ مالیخولیا کی مریضہ ہے۔ اور اس کا علاج ممکن ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ صحتیاب ہو کر ایک دن گھر جا سکتی ہے۔

چنانچہ میں نے اپنے طریقے سے اس مریضہ کا علاج شروع کیا۔ میں نے اس کی ماضی کی کہانی سنی اور اس کے خوابوں کے بارے میں اس سے مکالمہ کیا۔

جب اس نے مجھے اپنی ماضی کی کہانی سنائی تو مجھے پتہ چلا کہ شادی سے پہلے وہ ایک مالدار مرد کو جانتی تھی اور اسے پسند بھی کرتی تھی۔ وہ اس سے شادی کرنے کے خواب بھی دیکھتی تھی۔ چونکہ وہ مرد مالدار بھی تھا اور وجیہہ بھی تھا اس لیے اس کے گرد بہت سی خواتین منڈلاتی رہتی تھیں۔ میری مریضہ کا خیال تھا کہ چونکہ وہ حسین ہے اس لیے وہ مرد اسے پسند کر لے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ جب میری مریضہ کو یقین ہو گیا کہ وہ مرد اس میں دلچسپی نہیں رکھتا تو اس نے کسی اور مرد سے شادی کر لی اور اس شادی سے اس کے دو بچے بھی ہو گئے۔

شادی کے پانچ سال بعد میری مریضہ کی اپنے ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی اور اس دوست نے میری مریضہ کو بتایا کہ جب اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ مالدار مرد بہت افسردہ ہو گیا تھا۔ یہ خبر سن کر میری مریضہ اداس رہنے لگی تھی۔

اس مکالمے کے چند ہفتے بعد اسے ایک اور بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ میری مریضہ ایک گاؤں میں رہتی تھی جہاں لوگ چشمے کا صاف پانی پیتے تھے اور دریا کے گدلے پانی سے نہاتے اور کپڑے دھوتے تھے۔ اس سہ پہر میری مریضہ اپنی چار سالہ بیٹی اور دو سالہ بیٹے کو گاؤں کے دریا پر غسل دے رہی تھی کہ اس نے دیکھا کہ اس کی چار سالہ بیٹی سفنج سے گدلا پانی چوس رہی ہے۔ مریضہ نے نہ صرف اسے منع نہیں کیا بلکہ بے دھیانی میں اپنے بیٹے کو گدلے پانی کا ایک گلاس پلا بھی دیا۔ وہ ان دنوں اتنی اداس و غمگین رہتی تھی کہ بے دھیانی میں وہ چند ایسے کام کر دیتی تھی جو اسے نہیں کرنے چاہئیں تھے۔

چند دن بعد اس کی بیٹی ٹائیفائڈ سے اتنی بیمار ہوئی کہ فوت ہو گئی۔

بیٹی کی موت کا اس پر اتنا برا اثر ہوا کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی اور اسے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔

میں نے جب اس کے لاشعور میں جھانکا تو پتہ چلا کہ اس نے اپنا ایک راز خود سے بھی چھپا رکھا ہے۔ وہ لاشعوری طور پر سمجھتی تھی کہ وہ قاتل ہے اور اس نے اپنی بیٹی کو قتل کیا ہے۔ اس کا لاشعوری احساس گناہ اتنا شدید تھا کہ وہ نفسیاتی طور پر بیمار ہو گئی تھی۔

مریضہ کا لاشعوری راز جاننے کے بعد میں ایک گہری سوچ میں ڈوب گیا
کیا میں اسے بتاؤں یا نہ بتاؤں کہ وہ قاتل ہے؟

میں اپنے رفقائے کار سے بھی مشورہ نہ کر سکتا تھا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ وہ کہیں گے کہ خاموش رہو۔ بعض یہ بھی کہیں گے کہ ایسا کرنے سے اس کی صحت بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہو جائے گی۔

میں نے کافی سوچ بچار کے بعد اسے ایک سیشن میں بتا دیا کہ تم نے اپنے لاشعور میں یہ راز چھپا رکھا ہے۔

میری باتیں سن کر پہلے وہ پشیمان و پریشان ہوئی لیکن چند دنوں کے بعد وہ بہتر ہونے لگی اور وہ ہفتے کے بعد صحتمند ہو کر گھر چلی گئی۔

میں نے اس کے جانے کے بعد بھی وہ راز کسی کو نہیں بتایا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی پولیس کو بتائے اور اسے سزا دلوائے۔ وہ بیچاری خود ہی اپنے آپ کو ڈپریشن کا شکار کر کے بہت سزا بھگت چکی تھی۔

دوسرے مریض کی کہانی

جب میری مقبولیت بڑھنے لگی تو مجھے دور دور سے ڈاکٹر اپنے مشکل مریض بھیجنے لگے۔ مجھے امریکہ سے ایک ڈاکٹر نے ایک مریض بھیجا جو حد سے زیادہ شراب پیتا تھا۔

میں نے اس کا انٹرویو لیا تو مجھے پتہ چلا کہ اس کی ماں جسمانی اور جذباتی طور پر ایک طاقتور عورت تھی اور اپنے جوان بیٹے کو نفسیاتی طور پر کنٹرول کرتی تھی۔ وہ بیٹا ایک فرماں بردار بیٹا تھا جو ماں کی خدمت بھی کرتا تھا اور اس کا کاروبار بھی چلاتا تھا لیکن دل میں دکھی رہتا تھا اور اپنے غم اور دکھ اپنی شراب میں انڈیل کر پی جاتا تھا۔

میں جب اس کی ماں سے ملا تو میں نے اسے کہا کہ اس کا بیٹا اتنا بیمار ہے کہ وہ کام نہیں کر سکتا۔
اس کی ماں نے اسے گھر اور کاروبار سے نکال دیا۔

پہلے تو وہ مریض مجھ سے ناراض ہوا کہ میں نے اس کی ماں کو ایسا کیوں کہا لیکن جب وہ ماں سے علیحدہ رہنے لگا اور کہیں اور کام کرنے لگا تو وہ بہتر ہونے لگا۔ اس کی بیوی بہت خوش تھی کیونکہ وہ ظالم و جابر ساس سے دور رہنے لگی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ میرے مریض نے شراب پینی بھی چھوڑ دی تھی اور وہ صحتیاب بھی ہو گیا تھا۔

تیسری مریضہ کی کہانی

ایک ڈاکٹر نے مجھے ایک مریضہ بھیجی جو بہت دراز قد اور بہت مالدار تھی۔ لوگ اس کے رعب سے ڈرتے تھے۔ وہ باتیں کرتے ہوئے بے قابو ہو جاتی تھی اور اپنے سامنے کھڑے مرد یا عورت کو تھپڑ مار دیتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے اپنے ڈاکٹر کو بھی تھپڑ مار دیا اور ڈاکٹر نے یہ سمجھ کر اسے معاف کر دیا کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہے۔

مجھ سے علاج کے دوران ایک دن جب میں نے اس کی رائے سے اختلاف کیا تو وہ غصے میں کھڑی ہو گئی۔
میں بھی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا

کہنے لگی میں تمہیں ایک تھپڑ مار دوں گی
میں نے سخت لہجے میں کہا
اگر تم تھپڑ مارو گی تو پھر میرا تھپڑ کھانے کے لیے بھی تیار رہنا۔

میں نے ایسے لہجے میں کہا کہ وہ سمجھ گئی کہ میں مذاق نہیں کر رہا
میری بات سن کر وہ بیٹھ گئی میں بھی کرسی پر بیٹھ گیا
نہ اس نے مجھے تھپڑ مارا اور نہ میں نے اسے تھپڑ مارا۔

لیکن اس شدید مکالمے کے بعد وہ صحتمند ہونے لگی اور پھر اس نے کسی بھی دوست یا رشتہ دار کو تھپڑ نہیں مارا۔

میں نے جب ذہنی مریضاؤں کا علاج کرنا شارع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا لاشعور ان کے نفسیاتی مسائل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ بعض دفعہ ایک تھیرپسٹ کو ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو غیر مقبول ہوتے ہیں لیکن علاج کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ نئے اور ناتجربہ کار تھیرپسٹ ایسے فیصلے کرنے سے ہچکچاتے اور گھبراتے ہیں لیکن خود اعتماد اور تجربہ کار تھراپسٹ ایسے غیر روایتی فیصلے آسانی سے کر لیتے ہیں اور ایسے فیصلوں سے مریض صحتمند ہو جاتے ہیں۔

میں نے نفسیاتی مریضوں کے علاج سے نہ صرف ان کی شخصیت، نفسیات اور لاشعور کے بارے میں بہت کچھ جانا بلکہ اس عمل میں اپنی شخصیت اپنی نفسیات اور اپنے لاشعور کے بارے میں بھی بہت کچھ سیکھا۔

نوٹ: اگلا کالم کارل ینگ کے انسان کی علامتوں اور لاشعور کے مضمون کا ترجمہ اور تلخیص ہو گا۔
۔

Loading

Facebook Comments Box

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW