میرے مطابق

زہریلا گھریلو ماحول اور بچوں پر اس کے اثرات

Samra Waqar

گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں ہوتا۔ گھر وہ جگہ ہوتی ہے جہاں بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے، جہاں اسے محبت ملتی ہے، جہاں وہ سکون سے سانس لیتا ہے۔ لیکن جب اسی گھر میں روز روز کے جھگڑے، چیخ و پکار اور تلخ الفاظ گونجنے لگیں تو سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دل بچوں کا ہوتا ہے۔

بچے سب کچھ محسوس کرتے ہیں

اکثر والدین یہ سوچتے ہیں کہ بچے چھوٹے ہیں، انہیں کیا سمجھ آئے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچے صرف سنتے نہیں، وہ ہر جذبہ محسوس بھی کرتے ہیں۔ ماں باپ کی اونچی آواز، غصہ، رونا یا دروازہ زور سے بند کرنا۔ یہ سب چیزیں بچے کے دل میں خوف پیدا کرتی ہیں۔

جھگڑوں کا بچوں کی ذہنی صحت پر اثر

مسلسل لڑائی جھگڑے بچوں میں بے چینی پیدا کر دیتے ہیں۔ بچہ سوچتا ہے شاید اس کی وجہ سے جھگڑا ہوا۔ وہ خود کو قصوروار سمجھنے لگتا ہے۔ یہ احساس اسے اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ کچھ بچے خاموش ہو جاتے ہیں، اپنے کمرے میں بند رہنے لگتے ہیں۔ کچھ ہر وقت ڈرے ڈرے رہتے ہیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، سانس کا گھٹنا، اچانک رونا آ جانا۔ یہ سب اینگزائٹی اٹیک کی علامات ہو سکتی ہیں۔

رشتوں کے بارے میں غلط تصور

جب بچہ روز اپنے والدین کو لڑتے دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ تصور بن جاتا ہے کہ رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ تلخ، تکلیف دہ اور چیخوں سے بھرے ہوئے۔ بڑے ہو کر وہ یا تو بہت ڈرپوک بن جاتا ہے یا پھر غصہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

والدین کے لیے ایک لمحہ سوچنے کا

ہر گھر میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن اختلاف اور توہین میں فرق ہوتا ہے۔ بحث کرنا غلط نہیں، مگر بچوں کے سامنے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا، چیخنا چلانا اور نفرت بھرے الفاظ استعمال کرنا ان کے معصوم ذہن پر گہرا زخم چھوڑ دیتا ہے۔ بچوں کو ایک پرسکون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں یہ یقین چاہیے ہوتا ہے کہ ان کے ماں باپ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مضبوط، پراعتماد اور ذہنی طور پر صحت مند بنیں تو ہمیں اپنے رویوں پر نظر ڈالنی ہو گی۔ گھر کو جنگ کا میدان نہیں، امن کی پناہ گاہ بنانا ہو گا کیونکہ بچے الفاظ نہیں بھولتے، وہ لہجہ یاد رکھتے ہیں، وہ ماحول یاد رکھتے ہیں اور وہی ماحول ان کی پوری شخصیت کی بنیاد بن جاتا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW