بلاگروپ، رنگ اور روشنی

مراکش کے گاؤں : تہذیب کا منبع یا ٹھگوں کی دکانیں

dr usama bin zubair

تاریخ نے کس موڑ پہ جغرافیے کے کان میں سرگوشی کی اور اس کو گاؤں اور شہر میں تقسیم کیا؛ اس کا سراغ تاریخ نویس اور جغرافیے کے طالبعلم لگائیں گے۔ پر جس طرح انسان اور انسانی تہذیب افریقہ کی گلیوں سے پروان چڑھ کر یونان، ایشیا اور امریکہ تک جست لگا پائے ہیں ؛ انسانیت کے گاؤں سے شہر تک کے سفر میں بھی کچھ کنٹریبیوشن تو افریقہ کا ہو گا۔ اسی واسطے مراکش کے اس دورے میں کچھ پرانے گاؤں کھنگالنا تو بنتا تھا۔

گاؤں آعت بن حدو افریقہ کی ریت اور مٹی میں گیارہ سو سال پرانی ایک تہذیب کی نشانی ہے۔ ہمارے اسلام سے 400 برس چھوٹا ہے یہ گاؤں۔ آج کل اسے صرف فلموں کی شوٹنگ اور ماضی کو یاد کرنے کے واسطے رکھ چھوڑا ہے۔ زیادہ لوگ دریا پار نئے گاؤں میں منتقل ہو چکے ہیں جہاں پانی و بجلی فراہم ہے۔ دور سے مٹی کے گھر نظر آ جاتے ہیں جو اک دوسرے میں جانے کس لیپ کے استعمال سے مدغم ہیں کہ صدیاں بیت گئی ہیں پر جدا ہو کے ایک دوسرے کو ڈھنے نہیں دیتے۔ پرانے لوگوں میں سے تین خاندان اور چالیس افراد بچے ہیں۔ یہاں پہ کچھ اونچائی پر ایک احاطہ ہو اور چار چھوٹے مینار ہوں تو وہ قصبہ کہلاتا ہے۔ دریا پار کر کے نئے گاؤں سے پرانے گاؤں آں ے کے لئے کوئی باقاعدہ پل نہیں ہے۔ اطلس کی پہاڑیوں کا نمک والا پانی لئے واد ملاح دریا کو عارضی لکڑی اور بوریوں کے پل سے پاٹا گیا ہے کہ سیاح اس 1100 سال پرانے گاؤں کی یاترا کر سکیں۔ اس صدیوں پرانے مٹی کے گاؤں میں پرنس آف پرشیا، گیم آف تھو رنز، انڈیانا جانز، گلیڈی ایٹر، اوڈائسی، دا ممی اور نجانے کتنی فلموں کی شوٹنگ 1954 سے اب تک ہوئی ہے۔ ہمارا ٹور گائیڈ بھی سٹنٹ مین نکلا جو پچھلے دس سال کی کئی فلموں میں گھوڑوں کے سٹنٹوں میں فلم کی مرکزی کاسٹ کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔ وہاں فوٹو گیلری میں اس کی اپنی تصاویر بھی تھیں۔ ہمیں ہمارے پیتھالوجی کے پروفیسر وحید الزماں طارق یاد آ گئے جن کے لیکچر میں وائرس کی کم اور ان کی تصاویر زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ اطلس سٹوڈیو میں زعفران اور چائے کی پتی سے کاغذ پر پینٹ کر کے اسے آگ پہ رکھ کہ پینٹنگ مکمل کی جا رہی تھی۔ اس عمل سے تیار شدہ پینٹنگز کی باقاعدہ نمائش اور فروخت بھی جاری تھی۔

شروع میں یہاں کے رہنے والے بیشتر لوگ یہودی مذہب کے تھے اور قوم کے بربر تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ بربر ہونا تو ٹھہر گیا پر یہودیت اسلام میں ڈھل گئی۔ یہاں بد دیانتی کی بربریت جانے کہاں سے در آئی اور پھر آج تک جاری ہے۔ سیاحوں سے ہر طریقے سے پیسے نکلوانا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ بربریت کا لفظ زیادہ ظلم کے ساتھ آتا ہے اور اس کے مترادف کے طور پہ بھی استعمال ہوتا ہے ورنہ پہلے اس سے مراد باہر سے آنے والے ہوتے تھے۔ اس سرزمین پر یہ بربر صدیوں سے آباد ہیں اور عربوں کی نسبت موسیقی اور ثقافت ان کے یہاں بہتر بھی ہے اور موثر بھی ہے۔ کتنی ڈھیٹ مٹی ہے یہاں کی یا مٹی کے ڈھیروں کو جوڑنے والا گارا بہت پائیدار ہے۔ نیچے بہتے دریا میں بھی اتار چڑھاؤ آتے رہے ہوں گے۔ قدرت اور انسان نے ان سینکڑوں سالوں میں کیا کیا ستم نہیں ڈھائے ہوں گے پر یہ مکان جوں کے توں رہے۔ یہ افریقہ ہے۔ کتنی نسلیں جو عظیم ترین اور بہترین ہوں گی فنا ہو گئیں پر یہ مکان اور نیچے بہتا دریا فنا کی دیوی کو منہ چڑاتے رہے۔ پورے گاؤں کا دورہ کرتے ہوئے ہل ٹاپ پہ پہنچنا بھی ایک کام تھا۔ درمیان میں گاؤں کا ٹیرس تھا جس سے سانپ کی دھاری کے مانند دریا، آس پاس جھاڑی نما درخت اور دور مٹی کے ٹیلے منظر کو مکمل کر رہے تھے۔ بہت سے سیاحوں نے تو یہاں ہی ٹھیکی لی کہ اس سے اوپر جانے کے لئے ٹانگوں کی کمزوری، ریت کے طوفان اور برفیلی ہوا سے اک جنگ مقصود تھی۔ ہل ٹاپ پہ اتنی تیز ہوا مٹی کو اپنی مٹھی میں لئے دھکے دے رہی تھی کہ زیادہ دیر وہاں کھڑے ہو کے انسان کی بے ثباتی پہ بے چین ہونا ممکن نہ تھا۔ خود کو سنبھالنا، قدم جمانا، ریت کو آنکھوں میں جانے سے بچانا، سیلفی لیتے ہوئے کیمرے کو تھامنا؛ سب بہت بڑے ٹاسک تھے۔ ہوا کے ہاتھ میں ریت زیادہ خطرناک ہتھیار ہے یا ٹھنڈک، یہ فیصلہ کرنا بھی دوبھر ہوا تھا۔ سو انہی گھروں میں سے ہوتے ہوئے، اسی نمکین دریا کو بوری والے پل سے پار کیا اور نئے گاؤں میں ایک ہوٹل کے ہاتھوں سیاح ہونے کی وجہ سے لٹ کر پیٹ کا دوزخ بھرا۔

مراکش کے ٹھگوں کی کہانیاں سن رکھی تھیں، شہروں میں تو ان سے بچے رہے پر گاؤں میں مشکل ہو گیا۔ دو بندوں کے پہرے میں ہوٹل کے سیاحوں والے حصے میں لے جایا گیا کہ کہیں اس کے باہر عام نرخوں کا پتا نہ چل جائے۔ کھانے کی چوائسز کو بالکل محدود کر کے تین گنا قیمت پہ کھانا کھلایا گیا۔ افریقہ کا فلم سٹوڈیو بھی پاس ہی تھا۔ اطلس سٹوڈیو کی وجہ سے پاس ہوائی اڈہ بھی بنا رکھا ہے۔ فلموں کی شوٹنگ سے خوب پیسے بھی کمائے جاتے ہیں۔ سٹوڈیو کے ساتھ ہی افریقہ کا واحد سولر انرجی کا پلانٹ بھی موجود ہے۔ وادی مکون سے ہوتے ہوئے روز ویلی سٹی سے گزرے۔ یہاں گلابوں کی کاشت اور ایکسپورٹ ہوتی ہے۔ عرق گلاب بھی مشہور ہے۔ جگہ جگہ گلاب کے باغات ہیں اور سال میں تین روز گلاب میلہ بھی سجتا ہے۔ افریقہ غریب ہے، بربر شاید اب بھی مروجہ تہذیب اور تعلیم سے کچھ دور ہیں مگر زندگی کچھ الگ ڈگر پر ہی سہی بہرحال رواں دواں ہے۔ لوکل کلچر کے حساب سے کچھ کچے، کچھ پکے گھر ساتھ رہے۔ کچھ نیم پوش علاقے بھی آئے اور ہم پہنچ گئے شہر دادیس میں۔ کیسے عجیب پہاڑ اور درخت ہیں۔ سرخ رنگ کے گول اور بیضوی پتھر یوں اک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے کہ ابھی ان میں کوئی روح پھونکی جائے گی اور یہ چل پڑیں گے۔ وادی کے دامن میں خزاں زدہ چاندی کے درخت جیسے اپنے ہی آنسؤں میں لتھڑے ہوئے ہوں۔ اس شہر سے صحرا میں ٹور جاتے ہیں سو آبادی میں بہت سے ہوٹل ہیں۔

افریقہ کا ایک اور گاؤں جو ہمارے سفر کا حصہ بنا وہ 900 سال پرانا گاؤں امزیلان تھا۔ ایسے 65 گاؤں آس پاس موجود تھے جن میں صرف 20 فیصد جگہ پہ لوگ بستے ہیں۔ باقی سب لوگ ہجرت کر گئے ہیں۔ اس گاؤں کے نام کا ترجمہ بلیک سمتھ ہے سو یہاں لوہے کے اوزار بنائے جاتے ہیں۔ اطلس پہاڑوں اور صحرا کو ملانے والا دریا کب کا خشک ہو چکا ہے۔ ایک اور ندی ہے جس پہ ہفتے میں دو دن ہر گاؤں کو پانی بھرنے کے واسطے ملتے ہیں۔ جو لوگ صرف زیتون اور کھجور اگاتے ہیں ان کا پانی کا حصہ کم ہوتا ہے اور جو مختلف طرح کی فصلوں میں وقت اور انرجی لگاتے ان کا پانی کا حصہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ درختوں کی بیماریوں کا علاج بھی بربریت سے بھرا ہوا ہے۔ کھجور کے درخت کی بیماری کا علاج یہاں آگ اور صرف آگ ہے۔ جو درخت بیمار ہونے کی گستاخی کرتا ہے اس کو جلا دیا جاتا ہے اور آس پاس کے گل بوٹے بھی ساتھ ہی ستی ہو جاتے ہیں۔ 900 سال سے یہ لوگ ایک سی زندگی جی رہے ہیں اور زندگی سے بہت نالاں اور خدا سے شکوہ کناں بھی نہیں لگتے ہیں۔ شاید باہر کی دنیا سے بہت کم سامنا ہونا اس کی وجہ ہے۔ شاید ہم ٹورسٹ بھی انہیں کوئی دوسری دنیا کی مخلوق لگتے ہیں اور انہوں نے یہ مان لیا ہے کہ وہ ہم سے نہیں ہوسکتے یا ہم جیسی زندگی نہیں جی سکتے۔ بجلی ابھی یہاں کچھ ماہ پہلے ہی آئی ہے۔ زیادہ کام ہاتھ سے ہی ہوتے ہیں چاہے وہ گھر کے ہوں یا باہر کے۔ ارد گرد افریقی بچے پتوں سے جہاز بنا کر سیاحوں سے کرنسی کی امید کرتے ہیں۔ گدھے، بکریاں اور کتے سیاحوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ زیادہ تر مکان صرف کھنڈر کے طور پر ہی موجود ہیں۔ کہیں کوئی چھت باقی ہے تو کہیں دیواریں اپنے ماضی پہ نوحہ کناں ہیں۔ مٹی بھرتی چلی رہی ہے۔ وقت گزر رہا ہے۔ 900 سال بہت ہوتے ہیں شکست و ریخت کے بعد ایک نئے خدا کے ساتھ ایک نیا زمانہ جننے کو۔

ایک کتا تو بھونک بھونک کر ساتھ ہی چلتا رہا۔ پتا لگا کہ یہ گاؤں کا محافظ ہے اور بچوں کو سیاحوں کے شر سے بچاتا ہے۔ مٹی کی عمارت پہ لکڑی کی چھتوں نے نجانے کن کن آفات سے بچانا ہے ان افریقیوں کو۔ پر بچانے کے لیے خدا ہے ناں، دیواریں تو مغرب والوں کو بچاتی ہیں۔ ایک تہہ خانے میں مسجد کے ساتھ ایک کنواں ہے جس کا پانی صدیوں سے لوگوں کی پیاس بھی بجھا رہا ہے اور گھروں کی لیپائی کے کام بھی آ رہا ہے۔ اس کنویں سے فیضیاب ہونے والے کچھ امریکہ اور یورپ پہنچ کر اپنے گھروں کی قسمت بدل گئے اور کچھ یہاں ہی زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہے ہیں۔ یہ کنواں ہیئت کے اعتبار سے ہماری کنوؤں سے مختلف تھا۔ ایک گرے رنگ کی مختصر صراحی نما شے بنی تھی جس کے اوپر نیلے رنگ کی رسی کے دونوں طرف کالے مشکیزے لگے ہوئے تھے۔ ایک اندر پانی لینے کے واسطے اور دوسرا باہر۔ ساتھ ہی اک طرف وضو کی جگہ تو دوسری طرف مسجد کا دروازہ ہے۔ کوئی تو ہے جو اس قدیم علاقے میں بھی نظام ہستی گھسیٹ رہا ہے۔ پہلے وہ یہودیوں کا خدا ہوا کرتا تھا۔ پھر مسلمانوں کا آ گیا اور بہت سال یہاں امن و آشتی سے مکس کلچر چلتا اور پلتا رہا یہاں تک کہ یہودی کوچ کرنے لگے اور آخری خاندان بھی اس صدیوں پرانے گاؤں کو 67 سال پہلے الودارع کہہ کر رخصت ہو گیا۔

انہی مٹی کے کھنڈروں میں سے گزر کر جب نئے گاؤں کے قریب ہوئے تو کچے مکانوں میں پکی زندگی نظر آئی۔ عورتیں جھاڑو دے رہی ہیں اور بچے گلی میں گھوم رہے ہیں۔ ہمارے گاؤں سے ملتا جلتا منظر ہے، سندھ یا بلوچستان کے کسی گاؤں کا۔ پنجاب کے گاؤں تو اس کے مقابلے میں یورپ ہی سمجھیے۔ کلاس ڈیفرنس بھی نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ جو اس گاؤں سے باہر کام کر رہا ہے، اس کا گھر بڑا اور پکا ہے۔ جو جتنا دور کام کر رہا ہے گھر بھی اتنا ہی بڑا ہے۔ ابھی یہاں ماضی کی کچھ اقدار باقی ہیں۔ اقدار تو شاید ہوتی ہی ماضی کی ہیں۔ حال کی تو رفتار ہوتی ہے جسے اقدار قابو میں رکھتی ہیں۔ یہاں پانچ پانچ نسلیں بھی اک گھر میں ساتھ رہتی ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ گھر کا ہر فرد مختلف کام کرتا اور گھر کی گاڑی چلانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ عورتوں کے چہرے اور تھوڑی پہ بنا ٹیٹو بتلاتا کہ یہ کنواری، شادی شدہ یا بچوں کی ماں ہے۔ گلے میں اک خاص طرح کا ہار پہنا ہو تو دوسرے شوہر کی تلاش میں سمجھیے۔ کسی عورت کا گلا ہمیں اس ہار کے ساتھ نہ ملا۔ طلاق کی شرح بہت کم ہے۔ پہلے پہل جس گھر میں کنواری لڑکی ہوتی تھی دروازے پہ خاص نشان لگ جاتا تھا اور بڑے آپس میں مل کر رشتہ کر دیتے تھے جو زیادہ تر نبھ بھی جاتا تھا۔ اب لوگ لو میرج کرنے لگے ہیں اور شرح طلاق بھی بڑھ گئی ہے۔ اک لوہار کی دکان پہ بھی دم لیا جس کے پیشے کے نام پہ گاؤں کا نام ہے۔ کیسے سب محنت کشوں کے ہاتھ اور شکلیں ایک سی ہوتی ہیں۔ سوال پھر وہی ہے کہ پہلے سے ہوتی ہیں اور وہ محنت کش بنتے ہیں یا سالوں کی محنت چہرے پہ آ جاتی ہے۔ پھر چاہے وہ افریقہ ہو یا ایشیا۔ آخر میں گاؤں کے جدید کونے پہ غار اند غار پھیلی ہوئی عورتوں کی تنظیم کی کارپٹ کی دکان تھی۔ یہاں کوئی عورت خود موجود نہ تھی مگر ان کے ہاتھ کا کام موجود تھا۔ چار طرح کے بربر قبیلے ہیں اور سب کا قالین بافی کا کام مختلف ہے۔ ہر قالین اک دوجے سے جدا ہے۔ آپ چاہیں بھی تو دو ایک جیسے نہیں بن سکتے ہیں۔ 95 فیصد قیمت عورتوں کی فلاح کے لئے جاتی ہے۔ قالین خریدنے پہ کوئی زور نہیں دیتا مگر خریدے بنا آپ رہ نہیں پاتے ہیں۔ اگلا پڑاؤ سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ اک چشمہ تھا جس کے ساتھ غاروں میں انسان بستے تھے۔ غار پرانے تھے پر انسان نئے تھے۔ چشمے پہ پہنچتے پہنچتے برفباری اتنی تیز ہو گئی کہ غاروں میں رہتے لوگوں کو دیکھنے کا خیال خواب بن گیا۔ ہاں سنگلاخ پہاڑ جو آسمان سے زمین کی باتیں کہتے محسوس ہوتے ہیں ان کے درمیان برفباری آسمان سے ان کا تحفہ لگتی ہے جو ہماری مخبری پہ ملتا ہے۔

آبادی سے دور اور صحرا کے بیچ و بیچ خانہ بدوشوں کا قدرے کم قدیم پر انتہائی سادہ گاؤں دیکھنا بھی صحرا سے واپسی پر ہمارے سفر میں شامل تھا۔ صبح چھ بجے، جبکہ ابھی پو پھٹنے میں بھی دو گھنٹے باقی تھے ٹور گائیڈز نے اٹھنے کا حکم صادر کر دیا۔ ناشتہ کر کے پہلے خانہ بدوشوں سے ان کے گاؤں میں ملنا تھا اور پھر صحرا میں سورج اگتے دیکھ کر اس دورے کو سماپت کرنا تھا۔ ناشتہ کر کے تیار ہونے کے بجائے تارے دیکھتے دیکھتے صحرا میں آ گئے۔ کہیں کہیں کیمپ کی ٹمٹماتی روشنی تھی ورنہ گھپ اندھیرا تھا۔ تارے آسمان پہ یوں جمع تھے جیسے باراتی سہرا بندی پہ آئے ہوں۔ شہروں میں دھند اور آلودگی میں جانے یہ کہاں کھو جاتے ہیں۔ سردی تھی پر ہوا بالکل تھمی ہوئی تھی۔ فریدہ خانم بیک گراؤنڈ میں غزل سرا تھیں۔ دیدہ و دل کو سنبھالو کہ سر شام فراق۔ کیمپ کی لالٹین کی روشنی میں اپنے ہی سائے کے ساتھ سیلفی بنوائی۔ لاکھان کی مرر سٹیج یاد آئی۔ دل تھا کہ اندھیرے، ریت اور تاروں میں ہی رہنا چاہتا تھا پر جس طرح ہم مریضوں کو سمجھاتے ہیں کہ ہمیشہ جو آپ چاہتے ہیں وہ نہیں ہوتا، دل کو بھی سمجھا لیا۔ خانہ بدوشوں کے گاؤں کی سواریاں زیادہ تھیں اور ٹرانسپورٹ کم تھی۔ ایک جیپ تھی اور ایک ڈالا تھا۔ ہمیں کہتے کے دو اور سیاحوں کے ساتھ ڈالے کے پیچھے بیٹھ جاؤ اور کمبل اوڑھ لو۔ پندرہ منٹ کا ہی راستہ ہے۔ بہت چوں چرا کی، دیے گئے پیسوں کا حوالہ بھی دیا، انہیں چور ڈاکو بھی کہا مگر وہ اپنی بات سے نہ ہلے اور کہنے لگے کہ جانا ہے تو بیٹھو وگرنہ یہاں ہی رہو۔ یوں ماتھے پہ آنکھیں رکھیں کہ کوئی شناسائی ہی نہ ہو۔ چار و ناچار دو گوروں اور ایک پاکستانی کے ساتھ پیچھے لد کے ملگجا سا گلابی کمبل اوڑھ لیا۔ یوں لگا کہ کوئی اغوا کر کے خرکار کیمپ لے جا رہا ہے۔ خانہ بدوشوں کو تو پیسے دے کر ہم ایسے سیاحوں کو دیکھنا چاہیے۔

گھپ اندھیرے میں ہی ڈالے کے پیچھے دس منٹ کی اتھل پتھل کے بعد خانہ بدوشوں کے کچھ گھر آ گئے۔ اسے گاؤں تو کیا بستی کہنا بھی مناسب نہیں ہے۔ گنتی کے تین سے چار گھر تھے۔ پہلے گھر میں ایک درمیانی عمر کی عورت سر پہ ہیڈ لائٹ لگائے ہمارے لئے بربر چائے بنانے میں مصروف تھی۔ یہ خانہ بدوش تین سے چار سال ایک جگہ قیام کرتے ہیں۔ پانی اور جانوروں کے چارے کا حصول انہیں لئے لئے پھرتا ہے۔ باورچی خانے کے باہر ہی قالین کی کھڈی بھی لگی تھی جن سے بنا کارپٹ ان کا صرف پیٹ ہی بھرتا ہو گا اور وہ بھی آدھا اور چاندی ہوتی ہو گی دکاندار کی یا مڈل مین کی۔ وہی ایشیائی مسئلے ہیں یہاں بھی۔ امیر اور غریب کے درمیان ایک خوفناک فاصلہ ہے پر غریب اور اس کی جورو اس فاصلے سے یا تو بے خبر ہیں یا اس کے ساتھ صبر کیے ہوئے ہیں۔ جھونپڑیوں کے باہر لکڑی کے ایک فریم میں بکری کی کھال کا مشکیزہ لٹک رہا تھا جس میں یہ بکری ہی کا دودھ بھر کر رکھتے ہیں اور آتے جاتے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے استعمال بھی کرتے ہیں۔ دوزخ کی آگ نجانے بکری کے اس دودھ سے بجھتی بھی ہے یا نہیں۔ کچھ فاصلے پہ اونٹ کی کھال کا اک خیمہ تھا جو بہت خاص اور گرم ہوتا ہے اور ایک چھوٹی بستی میں ایک ہی ہوتا ہے۔ ایک لکڑی کے فریم میں بربر جھنڈا بھی لگا ہے جس میں تین رنگ اور ایک ٹیٹو ہے۔ ہائے اس غربت میں بھی وطن، قوم اور مذہب نہیں بھولتا یا شاید یہی غریبی کا سہارا ہوتے ہیں۔ یہاں قوم پرستی وطن اور مذہب دونوں پہ حاوی نظر آتی ہے۔ اییک طرف جانوروں کا باڑہ تھا جس میں بکریاں اور مرغیاں باہمی سلوک اور اتفاق سے رہ رہے تھے۔ پاس ہی اک چھوٹا خیمہ لیٹرین کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ پانی کے لئے قریب ہی کنویں پر انحصار تھا اور جب جب وہ خشک ہوتا ہے تو سیاحتی کیمپوں والے سیاحوں کے لئے سیاحت کے پیکج کا حصہ بننے کے عوض انہیں پیاسا مرنے سے بچا لیتے ہیں۔ صحرا میں اکثر ہی کنواں خشک ہوتا ہو گا۔ ہمیں چائے پلانے کے بعد انہوں نے خود بھی بربر ناشتہ تناول کیا جو پودینے والی بربر چائے اور انڈے پر مشتمل تھا۔ ابھی تک اندھیرا تھا اور خاتون خانہ کی ہیڈ لائٹ جل رہی تھی۔ صحرا کے ایک کونے پہ آگے پہاڑوں کے پیچھے ملٹری پوسٹ تھی اور پھر الجیریا تھا۔ ہم سے زیادہ کون سمجھتا ہے کہ جب لکیریں کنچھتی ہیں تو پھر درخت، ریت، برف اور پہاڑ سب بٹتے ہیں۔ انسان بھی بٹتے ہیں۔ لکیر کے ادھر مراکن اور ادھر الجیرین۔ پر بربر اپنی ملکی شناخت کے ساتھ ساتھ اپنی قومی شناخت بھی برقرار رکھ کے چلتے ہیں۔

افریقہ کے ایک ٹورسٹی ملک کے ان تین گاؤں کو دیکھ کر ماضی کا نوحہ پڑھنا ہے، انسانیت کی بے ثباتی پہ ماتم کرنا ہے، قدرت کی وسائل کی عدم تقسیم پہ شکوہ کناں ہونا ہے ہے، ایشیا اور افریقہ کی مماثلت پہ حیران ہونا ہے یا پھر گزرتے وقت کے ساتھ انسان کی بربریت میں اضافے اور دنیا کے غیر محفوظ ہونے کو مان کر باقی ماندہ وقت گزارنا ہے ؛ یہ فیصلہ مل کر کرتے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW