مولانا طارق جمیل اور بچے سے مصافحے والا معاملہ

انسان کی طبیعت اور مزاج ایک سا نہیں رہتا، دن بھر میں کئی بار موڈ سوئنگ کا تناسب اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو کام آپ متواتر کرتے رہتے ہیں اس میں بھی دلچسپی کبھی کبھار کم زیادہ ہونے لگتی ہے، کچھ بھی ایک سا، جامد یا مستقل نہیں ہوتا اور اسی بنیاد پر کسی بھی مسئلے یا رویے پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں جا سکتی۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ ایک مبلغ کی حیثیت سے لوگوں کی اصلاح اور تربیت کا بیڑا اٹھاتے ہیں اور بڑی اعلیٰ معیار کی مثالیں عوام کے سامنے رکھتے ہیں تو خود کو آئیڈیل فریم میں ایڈجسٹ کرنا بھی آپ پر لازم ہو جاتا ہے۔
مولانا طارق جمیل اپنے کنڈکٹ اور میل ملاپ میں بالکل آزاد ہیں، وہ جو رویہ بھی اختیار کرنا چاہیں کر سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مہا بیانیے کے ان لازموں و تقدسات کا کیا کریں جس کا جزوِ لاینفک ہی عاجزی و انکساری اور زہد و تقویٰ ہے، مخلوق خدا سے قلبی محبت رکھنا اور یہ مقام مخلوق خدا کے دلوں میں اترے بنا حاصل نہیں ہو سکتا، ظالم نفس کے تکبر زدہ پھن کو کچلنے کے لیے وہ سب تو کرنا پڑتا ہے جو طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔
معاملہ بچے سے مصافحہ کرنے کا تھا، جسے مولانا نے نظر انداز کیا اور آگے بڑھ گئے، اس طرح کی رائے قائم کر لینا زیادتی ہو گی کہ مولانا نے تکبر کا مظاہرہ کیا ہے، دراصل یہ دور کیمرے کا ہے، اب کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں رہ سکتا، عین ممکن ہے اگر مولانا کو پتا ہوتا کہ ان کی ویڈیو بن رہی ہے عین ممکن ہے وہ اس طرح کا رویہ اختیار نہ کرتے، سوال تو یہ ہے کہ قول و فعل میں تضاد تو ویسے بھی مذہب میں ایک ناپسندیدہ عمل کے طور پر جانا جاتا ہے تو اس بنیاد پر مولانا سے اس قسم کی کوتاہی یا غفلت کی توقع نہیں رکھی جا سکتی، ذرا سی غفلت نے محبان مولانا کو طرح طرح کی وضاحتیں اور جواز گھڑنے پر مجبور کر دیا، ہم مخلصین کا دکھ سمجھ سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مولانا کے اس کنڈکٹ سے محض اس بنیاد پر صرف نظر کیا جا سکتا ہے کہ ان کی تبلیغی خدمات بہت زیادہ ہیں؟
مولانا کی ذات کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی خاطر یہ جواز انصاف پر مبنی ہو گا کہ جابجا لوگ غلطیاں کرتے ہیں، اداروں میں کوتاہیاں ہوتی ہیں، اسکرین کی چمک لوگوں کے کردار پر اثر انداز ہو رہی ہے، ان پر کوئی بات نہیں کرتا اور مولانا کی ذرا سی کوتاہی کو ہائی لائٹ کر کے ان کی بے ادبی کی جا رہی ہے، محبت کی حد تک تو اس طرح سے سوچنا یا رائے قائم کر لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ روایتی تسلسل کے مطابق تو یہی کہا جاتا ہے،
” عالم اور جاہل کبھی برابر نہیں ہوسکتے“
” عالم کی نیند بھی عبادت تصور ہوتی ہے“
تو کیا اس طرح کی روشن تعلیمات کے تناظر میں ایک عام آدمی کی حرکات و سکنات کا موازنہ ایک عالم کے ساتھ کیا جا سکتا ہے؟
