بلاگ

قلعہ پھروالہ: تاریخ، روایت اور سرکاری بیانیہ

(پوٹھوہار کے تاریخی تسلسل میں صدیوں پر محیط خلا کا تحقیقی جائزہ)

habib gohar

عالمی یومِ ورثہ ( 18 اپریل) کے حوالے سے میری ایک تحریر 21 اپریل کو ”قلعہ پھروالہ: ہند اسلامی تہذیب کا ایک نظر انداز نگینہ“ کے عنوان سے ”ہم سب“ پر شائع ہوئی۔ اس پر ڈاکٹر رمیض اسلام نے بجا طور پر توجہ دلائی کہ محض سرکاری بورڈ پر اعتراض کرنے کے بجائے ”درست تاریخ“ کی ایک جھلک بھی پیش کی جانی چاہیے تھی۔ اسی نکتے پر مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے چند گزارشات پیش ہیں۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اصل تاریخ کی جھلک پیش کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ ”اصل تاریخ“ کا تعین کن اصولوں اور کن ماخذات کی بنیاد پر کیا جائے؟

میری تحریر کا مدعا دراصل اس طریقۂ کار پر سوال اٹھانا تھا جس کے تحت ”کہا جاتا ہے کہ یہ قلعہ سلطان محمود غزنوی کے ایک ساتھی کائی گوہر نے گیارہویں صدی کے اوائل میں تعمیر کروایا“ جیسی غیر مصدقہ روایت کو سرکاری سطح پر تاریخ کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔

”کہا جاتا ہے“ جیسی غیر معین تعبیر کو نقطۂ آغاز بنا کر گیارہویں اور سولہویں صدی کے درمیان تقریباً پانچ سو برس کا زمانی خلا بغیر کسی واضح توضیح کے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس عرصے میں پیش آنے والے بڑے تاریخی واقعات۔ غوری عہد کی کشمکش، خوارزم شاہ کی آمد، منگول حملے اور تیموری یلغار۔ قلعہ پھروالہ کے بیانیے سے عملاً غائب ہیں۔ اس زمانی خلا کی نشاندہی دراصل اسی ”درست تاریخ“ کی تلاش کا ابتدائی مرحلہ ہے جس کی طرف معترض نے اشارہ کیا ہے۔

اس خطے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ یہ صدیوں تک عسکری اور سیاسی کشمکش کا مرکز رہا۔ چنانچہ معتبر مورخین البیرونی، بیہقی، گردیزی، کلہن، جوزجانی، نساوی، جوینی، برنی، خسرو، عصامی، جونا راجہ اور دیگر کی تحریروں میں اس خطے کا ذکر ملتا ہے، مگر بابر سے قبل گکھڑوں کا کوئی حوالہ سامنے نہیں آتا۔ اس کے برعکس کوہِ جود، جبلِ جودی، نندونہ، بلالہ، نکالہ؛ اور کھوکھر، کوکر، بنی کوکر، کو کری، ککر؛ ہندو، ہندوان، کافران وغیرہ جیسی اصطلاحات مسلسل سامنے آتی ہیں، جو اس دور کی علاقائی و مذہبی شناخت اور مرکزیت کی نشاندہی کرتی ہیں۔

گکھڑوں کا واضح اور باضابطہ ظہور بابر کے عہد میں دکھائی دیتا ہے۔ بابر نامہ اور بعد کے ماخذات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ سولہویں صدی کے اوائل میں ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر کشمیر کی پہاڑیوں سے لے کر ہزارہ تک اپنی پوزیشن مستحکم کرتے ہیں۔ بابر کے ہاں ملک ہست خان کی شکایت بھی ماضیِ قریب میں ہاتھی خان کے ہاتھوں اس کے والد کے قتل اور اس کے قلعے پر قبضے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اکبر نامہ، تحفۃ الاحباب اور کیگوہر نامہ بھی اسی امر کی تائید کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

• اکبر نامہ ( 1592 ء) : ”یہ بات پوشیدہ نہ رہنی چاہیے کہ گکھڑوں کے بہت سے قبیلے ہیں اور وہ جہلم اور سندھ کے درمیان رہتے ہیں۔ سلطان زین الدین کشمیری کے دور میں ملک کد (جو غزنی کے امرا میں سے تھا) نے یہ جگہ کشمیریوں سے زبردستی چھین لی۔“

• تحفۃ الاحباب ( 1641 ء) : ”میر شمس الدین اراکی 1481 ء میں دان کلہ کی حدود سے گکھڑ ولایت میں داخل ہوئے۔“

• کیگوہر نامہ ( 1725 ء) : ”جس زمانے میں ہاتھی خان نے ملک پوٹھوہار کو زیرِنگین کیا، اسی دوران بابر نے تیسری مرتبہ کابل سے ہندوستان پر یورش کی۔“

دنی چند کے ایک اور بیان ”سلطان ہاتھی نے شہر دانگلی سے اٹھ کر درویش خان جنجوعہ سے ملک پوٹھوہار خالی کرایا اور بعد ازاں بابر کے دربار سے سلطانی خطاب حاصل کیا“ کو اگر ان حوالوں اور زمینی حقائق کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ قرینہ ابھرتا ہے کہ پوٹھوہار کے اس دو آبہ میں گیارہویں سے سولہویں صدی تک طاقت کا مرکز کوہستانِ نمک اور اس سے وابستہ قبائل رہے۔ معتبر اور معاصر شہادتیں اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ غوری عہد سے لے کر تیموری دور تک بیرونی قوتوں کی معاملت انہی قبائل کے ساتھ طے پاتی رہی، جبکہ دہلی کی مرکزی حکومت ان پر بارہا عسکری مہمات بھیجتی رہی۔ امیر خسرو مفتاح الفتوح میں سلطان جلال الدین فیروز شاہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ: ”میں نے جنجوعہ کا خون اس طرح بہایا ہے کہ کوۂ جود سے کشتی پھسل سکتی تھی۔ خود ہندو بھی اس کا تصور نہیں کر سکتے کہ میں نے جہنم کو کس طرح بھر دیا ہے۔“

اسی تناظر میں پھروالہ، دانگلی اور تغلو جیسے مقامات کو ایک وسیع تر دفاعی و تہذیبی عمل یعنی ہند اسلامی تہذیب کے ارتقائی تسلسل کے تحت سمجھنا زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک غیر منقطع قبائلی روایت کے سادہ تسلسل کے طور پر۔

ان شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قلعہ پھروالہ کے سرکاری بورڈ پر پیش کیا گیا بیانیہ زیادہ تر روایتی دعوؤں پر مبنی ہے، جس میں آثارِ قدیمہ، معاصر تحریری ماخذات اور خطے کے وسیع تر تاریخی تناظر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ اگر اس بیانیے کو گکھڑ عہد کی نمائندگی کے طور پر بھی قبول کر لیا جائے تو بھی اس میں توازن کا فقدان نمایاں ہے۔ چند منتخب واقعات کو اجاگر کیا گیا ہے، جب کہ اسی دور کے اہم واقعات کامران کی گرفتاری، نیازی عمائدین کے حالات، اسلام شاہ سوری کی مہمات، کمال خان اور آدم خان کی کشمکش، اور سکھ عہد کی تبدیلیاں یکسر غائب ہیں۔ یوں معاملہ محض اختصار کا نہیں، بلکہ تاریخ کے انتخاب اور تشکیل کا بن جاتا ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ بحث کسی ایک گروہ کی نفی یا اثبات کے لیے نہیں، بلکہ ایک اصولی سوال کے لیے ہے : کیا تاریخ کو غیر مصدقہ روایات پر استوار کیا جا سکتا ہے، یا اسے شواہد، تنقید اور تحقیق کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے؟

اسی تناظر میں قلعہ پھروالہ کی اہمیت محض ایک مقامی قلعے تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا محلِ وقوع، دفاعی ساخت اور جغرافیائی حیثیت اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ دہلی سلطنت کے شمال مغربی دفاعی نظام کی ایک کڑی رہا ہو۔ اس زاویے سے تحقیق اس کی تاریخی معنویت کو کہیں زیادہ وسیع اور بامعنی بنا سکتی ہے۔

محکمۂ آثارِ قدیمہ سے توقع ہے کہ وہ ثقافتی ورثے کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہوئے روایت کے بجائے تحقیق، مفروضے کے بجائے شواہد، اور تکرار کے بجائے تنقید کو ترجیح دے۔ ہمارا مدعا کسی ”حتمی تاریخ“ کا دعویٰ نہیں، بلکہ اسی اصول کی یاد دہانی ہے کہ تاریخ سوال سے جنم لیتی ہے۔ اور یہی سوال آگے تحقیق کا راستہ کھولتے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW